certifired_img

Books and Documents

Books and Documents

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 28) جوگ بسشت: پرمان پرکرن: اودّیا کی اقسام
Yoga Vashishtha

اگست یعنی ستارہ سہیل پیدا ہوا اور پنڈت اور دانا  اور عارف ہوگیا او ربندھ پہاڑ اُس کی شاگرد ی سے منسوب ہوا سب دیوتا اگست کی خدمت  میں حاضر ہوئے اور التاس کی بندھ کو نصیحت فرمائیے کہ اپنی اصلی حالت پر جائے اگست اُس کے پاس گیا اور وہ تواضع کے سبب پست ہوگیا اگست نے کہا اسی طرح رہو تب تلک میں واپس آؤں بندّھ ویسا ہی  پست رہا  بھنڈ نے کہا کہ ایک بار مجھے یاد ہے کہ برہمن کو شراب حلا ل تھی او ر کمینوں کو حرام اور ایک  ایسا وقت تھا کہ عورت غیر سے صحبت رکھتی  اور اُسے پت برتا کہتے (اور پت برتا شوہر پرست کو کہتے ہیں )  اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بشن اور اندر اور سورج اور چاند کب وجود میں  آئے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

THE ESSENCE OF THE QURAN by Sant Vinoba Bhave - Part-4
THE ESSENCE OF THE QURAN

Men and women who have surrendered, believing men and believing women, obedient men and obedient women, truthful men and truthful women, enduring men and enduring women, humble men and humble women, men and women who give in charity, men who fast and women who fast, men and women who guard their private parts, men and women who remember God oft -- for them God has prepared forgiveness and a mighty wage.

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 27) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: کابل میں اکال
Yoga Vashishta

جنگل میں گیا او رعبادت کرنے لگا او رایک ہزار سال ریاضت کی اور سوُکھی پتی  درختوں کی کھاتا اس واسطے ہرماد نام پایا ( او رہرنادلغت میں سوکھی پتی  کھانے والے کو کہتے ہیں ) اور اس ریاضت کے طفیل معرفت کے مرتبہ کو پہونچا جب چاہتا  تھوڑی توجہ میں  آکاس او رپاتال چلا جاتا  اور ا س حالت میں راجہ گھر اُس کی ملاقات کو آیاہر مارنے اُس کی تواضع تعظیم کی او رکہا جتنی آپ نے بعنایت آلہی معرفت کی دولت پائی میں نے بھی پائی آپ فرمائیے کہ اب خاطر جمع سے دنیا کا کام کرتے ہو یا نہیں  رگھ نے جواب دیا کہ جو شخص معرفت کے درجہ کو پہونچا دنیا کے لاکھ کام ہوں اُس کی حضوری کو مانع نہیں۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

THE ESSENCE OF THE QURAN By Sant Vinoba Bhave - Part-3
THE ESSENCE OF THE QURAN

Hast thou not seen how to God bow all who are in the and all who are in the earth, heavens the sun and the moon, the stars and the mountains, the trees and the beasts, and many of mankind? And many merit the chastisement; and whom God abases, there is none to honour him. God does whatsoever He will.

For more than a thousand years, there has been a constant theological wrangling on the position of Sufis within Islam. Puritans have always argued that the tombs of Sufis that are converted into shrines (Dargahs) are locations where Islam is corrupted and where Biddat (innovation) creeps into the practice of the religion. The arguments in favour of the sacerdotal practices at Sufi shrines received a fillip in South Asia with the aggressive theological work of Ahmed Raza Khan Barelwi (1856-1921).....

 

THE ESSENCE OF THE QURAN By Sant Vinoba Bhave - Part-2
THE ESSENCE OF THE QURAN

People of the Book, go not beyond the bounds in your religion, and say not as to God but the truth. The Messiah, Jesus son of Mary, was only the Messenger of God, and His Word that He committed to Mary, and a Spirit from Him. So believe in God and His Messengers, and say not, 'Three.' Refrain; better is it for you. God is only One God. Glory be to Him -- That He should have a son! To Him belongs all that is in the heavens and in the earth; God suffices for a guardian.       

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 26) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: اودھ میں ایک برہمن کی حکایت
Yoga Vashishta

اے رام چند بات کہنے چپ رہنے جانے او رکھڑے ہونے پکڑ نے اور چھوڑنے دیکھنے اور کرنے اور آنکھ بند کرنے میں کسی وقت حضور حق سے غافل نہ ہو اور عالم کے تفرقوں پرنگاہ مت کر اور اُس کی خلاصہ حقیقت کو حاصل کر اور آرام چین سے بیٹھ ۔  اے رام چند پہچان کی لذت سے جب تو آشنا ہوگا دنیا کی  کی جو اعلے درجہ کی لذات ہیں بے مزہ بلکہ زہر کے موافق معلوم ہونگی اےرام چند دل سانپ کی مثال ہے اور دنیا کی خواہش ہو ا ہے اور لذات وشہوات دودھ کی مانند اور ہوا اور دودھ دونوں سانپ کی غذا ہیں جو شخص یہ غذائیں  دل کے سانپ کے لیے تیار کرتا ہے اس کو موٹا تازہ کرتا ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

‘Friends and enemies’: Jinnah vs. Gandhi
Jinnah and Gandhi

…Jinnah and Gandhi were public figures involved in national politics for more than 40 years. This brought them into close contact with literally thousands of people... Much of what we know about the two comes from the testimonies of these witnesses. The picture that emerges is, of course, unclear, because although politics may be about trying to win friends, the result is often the making of enemies. Gandhi, it must be said, left a much better impression on most of his contemporaries than Jinnah, and this has heavily tilted the verdict of history in as far as it is influenced by personal memoirs.....

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 25) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: راجہ بل کی حکایت
Yoga Vashishta

اور عجب یہ ہے کہ وہ وزیر کچھ نہیں جانتا  اور نہ کوئی کام اپنے واسطے کرتا ہے او رجو کچھ کرتاہے راجہ کے لیے کرتا ہے میں نے پوچھا کہ وہ ملک کہاں ہے او رکس طرح ہاتھ آئے اور کون شخص  ہے جو اُس ملک کو قابو میں لایا اُس ملک کا راجہ کون ہے او رہم نے تینوں لوک کو تسخیر کیا ہے کس واسطے اُس ملک کو نہ لیں اور وزیر وہ کون ہے  باپ نے جواب دیا وہ ملک مکت کا ملک ہے اور اس ملک کا راجہ جیو آتما  ہے اور وزیر  اسکا دل اور جیو آتما  جب اُس سے نجات پائی اوردل جو اُس کا وزیر ہے کوئی دیوویت اور آدمی لشکر اور سپاہ کے ساتھ اُس پر غالب نہیں آسکتا۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 24) جوگ بسشت: ایشم پرکرن: سدّھ کی باتیں
Yoga Vashishta
مایا یعنی آفرنیش عالم کی خواہش کہ باعث اُس کے ظہور کی ہے دوصفت رجوگن وتموگن  کے ساتھ کائنات کو پیدا کرتی ہے او رکائنات کا ایک ایک  ذرہ اُس کے ساتھ قائم ہے جیسے گھر ستون سے قائم ہوا اور یہ سب اودّیا ہے یعنی اثر غفلت کاکہ عارف کو اُس سے گذرنا  اور اس کو چھوڑنا چاہئے  اب رام چند آپ کو بھی چاہئے کہ جو مال متاع دنیا کا آپ کے پاس ہے اُس کے چھوڑنے میں زحمت برداشت نہ کرو کہ تمہارا غیر نہیں  ہے اور جو کچھ نہیں ہے   اُس کی تلاش میں کوشش نہ کرو کہ وہ تجھ سے الگ نہیں اور تیرے ساتھ ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 23) جوگ بسشت: استھت پرکرن: واشور برہمن کی حکایت
Yoga Vashishta

اور اُس نے آکاش میں شہر آباد کیا ہے کہ اُس کے  چودہ کوچہ ہیں اور ہرکوچہ  ہیں اور ہر کوچہ میں موتیوں کی مالائیں پڑی ہیں اور اُس کے ایک کوچے میں سات بڑے حوض اور ناف شہر میں جنگل اور باغ او رپہاڑ  بہت ہیں کہ دولت مند اور بادشاہوں کے عیش کامقام ہے اور راجہ کے تمام گھر تلہتے ہیں بعض اوپر بعض نیچے اور بعض درمیان او رہرگھر میں سفید لکڑی لگائی اور لکڑیاں مٹی گار ے میں رکھی ہیں اور ہر گھر میں پانچ چراغ روشن اور ہر ایک گھر میں نودروازہ اور کھڑیان بے شمار اور ہر ایک کا ایک چوکیدار مقرر ہے کہ گیان کی روشنی سے معلوم ہوتا ہے راجہ چوکیدار وں کے ساتھ ان گھروں میں سیر کرتا ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

Literary Brilliance: Highlighting the Plight of Women through Poetry
“Write Me in Red”

Describing her collection at the launching ceremony, noted writer and columnist Haris Khalique said, “The haunting imagery and the use of astounding similes capture the changing season of anguish in a woman’s life. But then the tone of personal suffering blends with hues of universal pain on an ever-expanding canvas.” Raza’s ability to mesh her personal hurdles with those of others makes her collection authentic and relatable....

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 22) جوگ بسشت: استھت پرکرن: اودّیا کا دور کرنا
Yoga Vashishta

اے رام چند عالم کا دریا باسنا کے پانی سے پرُ ہے جو دانائی کی ناؤ پر سوار ہوا صحیح سلامت اس دریا سے گذرگیا نہیں تو ڈوب گیا ۔ اے رام چند دانا اور آفتاب ایک ہیں کہ دونوں ہمیشہ راستہ چلتے اور سفر کرتے ہیں اور توشہ بغیر نہیں ٹھہرتے اور جو راستہ میں کوئی نعمت ملےتو اس کی طرف نہیں بھٹکتے ۔ رام چند یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا اور دل نے آرام پایا اور اپنی خاطر جمع سے سستا یا رام چند نے کہا کہ پیشتر آپ نے فرمایا ہے کہ برھما بشن کی ناف سے پیدا ہوا پھرکہا کہ آکاس سے پیدا ہوا اور آکاسح اس کا نام ہوا اب آپ فرماتے  ہیں کہ دل سے پیدا ہوا یہ اختلاف کس سبب سے ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 21) جوگ بسشت: استھت پرکرن: باسنا میں پھنسنا
Yoga Vashishta

بسشٹ نے فرمایا کہ بے پرم آتما کے حرکت او رسنکلپ سے مثل  ہمارے تمہارے پیدا ہوئے نہ ہمارا خارج میں وجود ہے نہ ان کا وہمی وجود ہیں ہمارے ان کے تفادت کچھ  نہیں یعنی تعینات اور تشخصات وجود کے معدوم مطلق ہیں اور وجود حقیقی خاصہ پرم آتما کا ہے اے رام چندر تمام عالم               آتما میں مندرج اور کھپا ہوا ہے او رظہور اس کا علم پرم آتما کے لوازم  سے ہے اور آتما سے باہر کوئی شے نہیں پس جس نے اپنے کو خر دیکھا اپنی صورت وہمی  میں بندھ گیا او رکہنے لگا کہ نہ میرے ملک ہے نہ مال اور افسوس لڑکا بھی نہیں  اس کی یہ مثل ہے کہ اپنے گھر میں خزانہ ہو اور نجانے اور فقیر کی حالت ہے کہ گلی درگلی پھرتا ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 20) جوگ بسشت: استھت پرکرن: شوکر کی حکایت
Yoga Vashishta

عالم ایک تصویر ہے جس کا  نقاش کوئی نہیں یعنی پیدا کرنے والا اُس کا کوئی نہیں اور یہ اشارہ توحید کے مسئلہ کی طرف ہےاس واسطے کہ آفرنیس مقتضی  دوتائی کی ہے نہ اُس کے رنگ ہے کہ پرم آتما کو دکھلا دیتا ہے اور پرم آتما بے رنگی سے نہیں نکلا ہے نہ اُس کے مکان ہے کہ پرم آتما کو دکھلا دیتا ہے اور پرم آتما کو مکان نہیں اور کوئی دیکھنے والا نہیں کہ دل کے سوا کوئی شے نہیں ہے کہ یہ وہمی صورتیں دیکھے اور دل بھی امر موم ہے پس دل عالم کا آئینہ ہے اور آتما دل کا آئینہ جس طرح صورت اپنی آئینہ میں دیکھے اور اُس آئینہ یو اپنی صورت کے ساتھ دوسرے آئینہ میں دیکھے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 18) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دل کی داستان
Yoga Vashishta

دائی بولی کہ خیال کے ملک میں جو راجہ ہے اُس کے تین بیٹے تھے  مردانگی اور دینداری میں بے نظیر اُن میں سے دو ایسے تھے کہ ماں کے پیٹ سے نہیں نکلے  تھے  اور ایک باپ کی پیٹھ سے جدانہ ہو تھا ایک دفعہ وہ تینوں بھائی ملک دیکھنے کے ارادہ سے چلے راہ میں میوہ دار ہرے درختوں کو دیکھا کہ آکاس کے باغ میں جمائے ہیں ایک ساعت اُس باغ میں آرام کر میوے کھا روانہ ہوئے پھر تین بڑے دریا دیکھے دو دریا میں پانی تھا اور ایک خشک تھا تینوں بھائی نے سوکھے دیا میں اشنان کیے اور پانی میں  کھیلے اور اُس کا میٹھا پانی  دودھ کے موافق تھا  پیا اور دبرن سے چلتے ہوئے پھر ایک شہر میں آئے کہ جہاں محلہ گھر اور کوچہ بازار اور آدمی نہ تھے اور شہر کے آدمیوں کا شور وغل سن کر علیحدہ مکان چاہتے تھے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 19) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دل کے وجود کا  سبب اودّیا
Yoga Vashishta
اگر کہیے کہ دل کے وجود کا  سبب اودّیا ہے یعنی  نادانی اور اددیا۱؎ ازلی ہے پس اددیا کے ہوتے ہوئے دل کا فانی ہونا کس طرح ممکن ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اددیا ہر چند ازلی ہے لیکن امر عدمی ہے اس کا نام ہے اسپرد لالت کرتا ہے اور ہر گاہ نادان سنتا ہے کہ اددّیا ازلی ہے تو اس کو خیال ہوتا ہے کہ خارج میں موجود ہے اور اُسے مضبوط پکرتا ہے اور دانا جب چاہتا ہے وہ ذہنی موجودات سے ہی فوراً اُسے ذہن سے نکالتا ہے اور موجود ذہنی ذہن سے گیا اور فنا ہوگیا اور جب اددیا فنا ہوئی دل جو اُس کا تابع ہے ضرور فنا ہوجائے گا ۲؎۔  رام چندر نے پوُچھا کہ اُستاد اددّیا گو خارج میں معدم ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 17) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: اندر اور اہلیا کی حکایت
Yoga Vashishta

آخر برھما اور سب دیوتا ؤکی سفارس سے گوتم اپنی نفرین سے باز آیا او رکہا کہ ہزار سوراخ جو اندر کے بدن میں ظاہر ہوئے ہیں ان کی ہزار آنکھ بن جائیں اندر ہزار آنکھ کا ہوکر پانی سے باہر نکلا گویا توگوتم کا اشارہ اس سے تھا کہ آسمان کا راجہ چاہے کہ ہزار آنکھ والا ہوتا کہ بینش  کے ساتھ کام کرے القصہ یہ حکایت سن کر اندر ۱؎ لوند ا ہلیا رانی پر عاشق ہوا اور رانی بھی یہ بات سن کراندر پرعاشق ہوگئی اور دونوں بحیلہ فائز المرام ہوئے یہ خبر راجہ کو پہنچی دونوں کوبہت تنبیہ کی لیکن یہ دونوں محبت کے باعث ان تنبیہوں کو اُٹھا کر اپنے کام سے باز نہ آئے او رہمیشہ ہنسی خوشی سے رہنے اور کوئی اثر درد اور تکلیف کاانہیں محسوس نہ ہوتا۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

The Unravelling:  Pakistan in the Age of Jihad
K V K Murthy

The real problem began after the Soviets left Afghanistan. What was originally meant as a proxy army against the Russians was turned by the Pakistan army and the ISI into an instrument of foreign policy in the furtherance of Pakistan’s objectives in Kashmir. The period of the ’90s saw considerable native insurgency in the Valley, and the now unemployed jihadists were funnelled there with obvious motives....

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 16) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: حکایت برھما
Yoga Vashishta

سب نے اسی پر اتفاق کیا کہ ایسی کوشش او رتلاش کیجئے کہ ہم سب برہما ہوجائیں بڑے بھائی نے کہا کہ چاہیےہم میں سے ہر ایک اپنے دل میں یہی تصور جمائے کہ میں برہما ہوں اور دنیا کی پیدائش میرے سپرد ہے سب برہمن زادوں نے ریاضت اور مجاہد ے شروع کیے جس طریقہ سے بڑے بھائی نے ہدایت کی چند روز میں سب کے سب برھما ہوگئے۱؎ اُن برہما ؤں نے دس برھمانڈ نکالے اور ہر ایک برھمانڈ میں ایک سورج ہے اور ایک برھمانڈ کا سورج میں ہوں اور چونکہ یہ سورج اسی برھما کے برہمانڈ اندر برہمن کے بیٹوں میں سے ایک ہے بسشٹ فرماتا ہے کہ  اے رام چندر یہی دل خالق ہے اور صاحب قدرت اور جو کچھ دل کرے وہی معتبر ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

Back from Islamist Extremism to a Democratic Awakening
Javed Anand

The year is 1992 and here’s a real-life scene from a street in Southend in Essex, UK, as recounted by Maajid, then all of 15 years old: “Oh shit, I’m surrounded. There’s five, six of them, around me on all sides. Knives, knuckledusters, clubs. There’s the Hitler salute again, pierced by more swearing: ‘F**king Paki’! ‘F**k off back to where you came from'! I can feel my fear rising up, my adrenaline pumping... They know there’s no escape for me now, and so do I.”...

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 15) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: دوسرے آکاس میں سرستی اور لیلا
Yoga Vashishta

اس درمیان سرستی اور لیلا راجہ کے خواب گاہ میں آئیں راجہ جاگ  اُٹھا جیسے مرُدہ آب حیات سےجی اُٹھے یکایک دیکھا کہ دوعورت دوتخت پر بیٹھی ہیں راجہ ہکّا بکّا ہوگیا کہ یے کون ہیں او ر کس راہ سے آئی ہیں اور اس محل میں کس طرح آسکیں بڑے تامل بعد سمجھا کہ نوع انسان نہیں دیبیاں ہیں نہایت حُسن اور لطافت میں ان کی تعظیم کے ارادہ خواب گاہ سے اُٹھا جیسے بشن سنگھ ناگہ کی پیٹھ سے اور ہاتھ میں پھول لے کر اُ ن کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اور اُن کی مدح اور ثنا کر پھول اُن کے پاؤں پر نچھاور کیے سرستی نے خیال کیا کہ وزیر راجہ کی پیدا ئش کی حقیقت مشرح بیان کرے تاکہ لیلا جانے کہ میں اسی راجہ کی بی بی ہوں سرستی نے راجہ سے کہا کہ اپنے وزیر کو حاضر کرو.... Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 14) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: راچھسنی یعنی شیطانہ کی حکایت
Yoga Vashishta
بسشٹ نے فرمایا کہ اے رام چندر لیلا کی حکایت میں نے تجھ سے بیا ن کی اس کو خوب سمجھ کر وہ بیماری کہ کثرت موہوم کے دیکھنے بھالنے سے او رمحسوسات میں جی لگانے سے پیدا ہوگئی ہے اپنے سے دورکرا ور تعینات کی کثافت کو ہر گز نہ دیکھنا اے رام چندر عالم کو بالکل چھوڑ او رحق میں لپٹ جا۔ چونکہ وجو دبڑی ہیبت اور جلال رکھتا ہے اکثر آدمی نامردی سے اس کے سامنے نہیں ہوسکتے تو اپنے وہم او رہراس کے سبب اُس سے الگ نہ ہونا اور خوب اُس کو پکڑنا کہ جو لپیٹتاہے اُس کے ساتھ وہ مہربانی اور نرمی کرتا ہے اور اُس کی ذات مقدس کی تھوڑی جنبش سے کہ اس کا منشا حب ذات ہے ہماری تمہاری اور تمام ارواح جزئی ظاہر ہوئی ہیں جس طرح دریا کی جنبش سے لہریں پس روح جزئی اسی جنبش سے مراد ہے۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 13) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: حکایت منڈپ پاکھان
Yoga Vashishta

لیلارانی نے پہلے تو سرستی کو بہت سراہا اور کہا اے میری اور تمام جہاں کی مادر مہربان پیرانہ سالی اور موت جس  کی گرمی کی بردہشت آدمی کو نہیں  اس کے حق میں تو چاندنی ہے اور نادانی کی اندھیری جس میں زندگی موت برابر ہے اُس کے لیے تو سورج کی کرن ہے تجھ سے میں دوچیز مانگتی ہوں ایک تو یہ ہے کہ راجہ کی روح مرنے کے بعد نہ میرے گھر سے باہر اور نہ دوسرےکے بدن میں جائے۱؎ دوم یہ کہ جب کبھی تم سے میرا کام ہو اور تمہارا دیدار چاہوں اُن کی سعادت حاصل ہو سرستی نے اُس کی عرض سن کر فرمایا کہ دونوں مطلب ہم نے  تجھے بخشے اور یہ بشارتااُسے دیکھ پھر عالم غیب کو چلی جہاں  سے آئی تھی جس طرح لہر دریاسے اُٹھے اور پھر دریا میں  غائب ہوجائے لیلا رانی یہ خوشخبری سُنکر ایسی خوش ہوئی کہ گویا آب حیات  اُس پر برسا ۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

 

(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh - 12) جوگ بسشت: اتپت پرکرن: جیون مکُت کا گیان
Yoga Vashishta

بسشٹ نے فرمایا کہ جیون مکُت کانشان یہ ہے کہ جس کو یہ مکُت حاصل ہو وہ دنیا کے کاروبار سے دست بردار نہیں ہوتا اور تمام عالم میں حق کے سوا نہیں دیکھتا اور رنج وراحت میں رنگ روغن اُس کے چہرہ کا یکساں رہتا ہے اور اکثر اُس کے اوضاع واطوار اہل عالم کی راہ رسوم سے جدا گانہ ہوتے ہیں اور وہ سکھپت کی حالت میں بیدار جو اور جاگرت میں خوابیدہ (سکھپت بیہوشی یا غفلت کی نیند کو کہتے ہیں اور جاگرت بیداری کو) اور کوئی شخص اُس کی صحبت سے اور وہ کسی کی صحبت سے آرزو کی نہیں ہوتا خواہ کسی قدر صحبت کو طول ہو اور کسی دوست کے آنے سے خوش نہیں ہوتا اور نہ کسی دشمن کے دیکھنے سے رنجیدہ اور خوفناک چیزوں سے نہیں ڈرتا اور اپنے کاموں کو ایسا کرتا ہے جیسے کسی دوسرے کاکام کرتا ہو۔ Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

1 2 ..22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 ... 30 31 32


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • The basis and inseparable principle of Islam is the followers of Non-Arabic religions are Khafirs. As long as Khafir concept is exist, No ...
    ( By dr.A.Anburaj )
  • Hats Off's venom has always been directed more at moderate Muslims...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Although we do not want to join the Ahmadi sect we should certainly try to learn what makes them better exemplars of peacefulness...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • i know. you are one of the most moderate muslims since the prophet.....
    ( By hats off! )
  • To Mohmmad Rofiq. First I wish Mr sultan Shahin forward this to you. Indonesia and Malaysia ....
    ( By Aayina )
  • Historical Krishna or Mohmmad paigamber cannot be my ideal even Swami Ramdas says. This both had gave enough blunders in human life...
    ( By Aayina )
  • Article writer hiding its identity which tells thousand word how this Abrhamic tradition is hollow of non-violence had no example to ....
    ( By Aayina )
  • Abhrahmic violence technology is best why to use Dharmic relgions Non-violence notion when Abrhamic tradition and its God had establish it'd hegemony on ...
    ( By Aayina )
  • I do not need any anti-venom to spurn your hateful activity in this forum.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • so your anti-venom is just like snake-oil.'
    ( By hats off! )
  • The venom spewers are just a distraction here. The would fit in nicely in any apostate website.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • mr ghulam mohiyuddin comes to this forum to "spew" his anti-venom?
    ( By hats off! )
  • Iran and Saudi Arabia are equally to blame for the winds of war in the Middle East. We should condemn both equally.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Excellent article! Let us hope Malaysians heed it.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Islamophobics will always deny the existence of Islamophobia just as the worst racists deny the existence of racism. One's own....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats Off's bitter hate for Islam makes him blind to the whole person and the sum total of his achievements and makes him paint ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • yeah! caravan raiding is so generous. just like taking sex slaves is. also it was really generous of the prophet to to reserve....
    ( By hats off! )
  • Jehadi ideology has to be defeated. Using the holy platform of the mosque to spread such an ideology must be prohibited. Exposure...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I am hopeful Allah is with me." Zakir Musa. I would be very surprised if Allah is with you and your retrogressive ideas....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Comments of the PAS President and Hats Off are equally simplistic but the latter's comment is also mean-spirited.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • To fix the me and other you have to fix your "Quran" first which has highest notion of me and other on nearly every page.' ...
    ( By Aayina )
  • This is what happens when Urbanisim, and mordernity was imposed on the Tribal India. I am against of all this public place encroachment but we need ...
    ( By Aayina )
  • PAS President Tells Leaders, Politicians to Emulate Prophet Muhammad's Style of Leadership" that should be fine. now they all can start ghazwas, get mal-e-ghanimat....
    ( By hats off! )
  • Speaking up against anti-Semitism and against jihadism is always good but Hats Off has to demur because for him nothing....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • No where does it say in the Quran that men are not allowed to use their God-given intelligence....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • a full blown case of the "no true scotsman...."
    ( By hats off! )
  • Instead of blaming others, Pakistan's educational system should strive to eradicate all impediments to scientific....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats Off's comment is totally inappropriate. The article speaks of all fanciful aggrandizements of one's past propagated by ...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Struggling to defend the indefensible.
    ( By Ramachandrannair Kazhipurath )
  • but of course! muslims can keep yakking off about the nasty golden age of....
    ( By hats off! )
  • Courage to Chart New Paths" That is exactly what Islam needs today. How deeply or...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I don't agree with fear of islam equivalent to hatred of muslims because there are many types of muslims some are liberal and fundamentalist....
    ( By krishna )
  • Festivals which are conducted once in a year shall be tolerated.But on a daily or weedly basis show of strength should be banned. Public roads ...
    ( By dr.A.Anburaj )
  • It's Muslim arrogance that to separate place for worship and living, for highly populated India. The technology...
    ( By Aayina )
  • Whats the point of Article. Only one thing can be learn how to be cruel to be just, and give inspiration to hardliners to kill....
    ( By Aayina )
  • Denial of God is fundamental right, if person believes it. Looking at miserable situations of millions, especially when one minority ....
    ( By Aayina )
  • Potrait of Jinahh must remain in the hall, it's irrational demand of BJP goons. They reflect the historical fact that all political leadear had been ...
    ( By Aayina )
  • To Gulam Ghus Siddique. You showed the all grammatical need, other than it is hard to tell the intentions. Even keeping the word same meaning can be ...
    ( By Aayina )
  • Assalamaulakum Janab sawal-Kya phone par ijajat dene s nikha ho jata h'
    ( By Abdul wahab )
  • "All this can only deteriorate further unless we all demand that faith becomes strictly a personal matter out of the public domain – FOR EVERYBODY." I ...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )