certifired_img

Books and Documents

Books and Documents

Historiography: The Irony of History  تاریخ نویسی:المیہ تاریخ

ہماری تاریخ نویسی کا سرمایہ اس وقت ہمارے پاس تین قسموں میں ہے۔ عہد سلاطین و عہد مغلیہ کی تاریخ نویسی، عہد برطانیہ کی تاریخ نویسی، اور برصغیر کی آزادی کے بعد کی تاریخ نویسی۔ ان تینوں قسموں کی تاریخ نویسی کی کیا کیا خصوصیات ہیں؟ او رانہیں کن رجحانات کے تحت لکھا گیا ہے؟ ان سوالات کا جواب دینے کے لئے ان کا مختصر تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔

Is Resuscitation of Doctrine Possible: The Irony of History  کیا نظریے کا احیاء ممکن ہے:المیہ تاریخ

انسانی تاریخ میں ہر نظریے کے ماننے والوں کی جانب سے یہ کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ وہ زوال پذیر ، فرسودہ اور مضمحل معاشرے کی ترقی کاخواب اسی میں دیکھتے ہیں کہ اپنے نظریے کا دوبارہ سےاحیاء کیا جائے۔ اس کی تعلیمات کو اسی شدت کےساتھ نافذ کیا جائے ۔ لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ایسی تمام تحریکیں چاہے ان کاتعلق کسی نظریے سے ہو ہمیشہ ناکام رہی ہیں ۔ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ آج تک کوئی نظریہ اپنی قوت و طاقت کھونے کےبعد دوبارہ اس قابل نہیں ہوا کہ اس کا احیاء کیا جاسکے ۔

Foreign Rule: The Irony of History  غیر ملکی اقتدار:المیہ تاریخ

انگریزی حکومت کے زمانے میں جو ذہنی و فکری تبدیلیاں یورپ میں ہورہی تھیں، اس سے ہندوستان بھی متاثر ہوا اور اس اثر سے یہاں اصلاحی تحریکیں شروع ہوئیں، جدید تعلیم کا آغاز ہوا اور اہل ہندوستان قدیم دور سےنکل کر جدید دور میں داخل ہوگئے یہ کہنا مشکل ہے کہ ہندوستان نے جو کچھ انگریزی اقتدار کے زمانے میں حاصل کیا یہی کچھ وہ آزادانہ طور پر کتنے عرصے میں اور کیا کیا قربانیاں دے کر حاصل کرتا ، یہ صحیح ہے کہ زمانے کی رفتار کو کوئی استبدادی نظام نہیں روک سکتا ، فروسودہ ادارے اور روایات ختم ہوکر رہتی ہیں ۔لیکن یہ عمل ترقی یافتہ غیر ملکی اقتدار کی صورت میں تیز ہوجاتا ہے۔

 

The Persians in India: The Irony of History  ہندوستان میں فارسی :المیہ تاریخ

تاریخ میں یہ اصول عام رہا ہے کہ جب کسی ملک پر غیرملکی قابض ہوجاتےہیں تو مفتوح قوم کا ایک طبقہ فاتح سےمفاہمت کرکے اس کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوجاتا ہے۔ چنانچہ سکندر لودھی کےزمانے میں کاسیتھوں نے فارسی زبان سیکھنی شروع کی تاکہ حکومت کی ملازمتیں انہیں مل سکیں ۔ ان کی فارسی زبان دانی کے باوجود بجائے سیکھنی شروع کی تاکہ حکومت کی ملازمتیں انہیں مل سکیں ۔ ان کی فارسی زبان دانی کے باوجود بجائے اس کے ان کی عذر ہوتی ، ان کا مذاق اڑایا گیا اور ان کی فارسی میں ہینگ کی بو آتی رہی ۔

 

People Accept the Methods of their Kings: The Irony of History  لوگ اپنے بادشاہوں کے طریقے اختیار کرتےہیں :المیہ تاریخ

معاشرےمیں خواص اور عوام کے مفادات ہمیشہ علیحدہ علیحدہ ہوتےہیں ۔ اس لئے ایک ایسے معاشرے میں جہاں بادشاہت ہو ، اور شخصی حکومت ہو وہاں حکمران کی طاقت لامحدود ہوتی ہے یہ اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ جسے چاہے نواز دے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کردے۔ اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ قانون ہوتاہے اور حکومت کے تمام ادارے اس کی مرضی و خواہش کے تابع ہوتے ہیں۔ اس لئے ایک ایسے معاشرے میں خواص کا طبقہ جس میں امراءفوج کے جنرل و افسر، دفتروں کے عہدیدار اور ملازمین شاملہ ہوتےہیں اپنے حکمران کی خوشنودی کے خواہاں رہتے ہیں۔

Moral Ethics and General Behavioural Norms: Chapter 19 And 20, Essential Message of Islam

With time, the Qur’an admonishes against various mundane as well as grave vices such as foul talk, miserliness, bearing a false witness, adultery (Zina)3 killing of innocent people, and all manners of abominable acts (Fawahishah),4 and reiterates its exhortation against unwedded relationships....

Architecture: The Irony of History  فن تعمیر:المیہ تاریخ

فن تعمیر کی اس تعریف کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ہم ہندوستان میں مسلمانوں کے عہد میں جو تعمیرات ہوئیں ان پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ فن تعمیر ، جس  تصور یا جس ذہن کی نمائندگی کرتاہے وہ بادشاہ کی الوہیت اور عظمت ہے اور اس کا اظہار صرف ایک طبقے کی ثقافت ہے اور یہ حکمران طبقہ حکمرانوں  امراء اور جاگیرداروں کا تھا ۔ ان تمام عمارات میں  جو انہوں نے تعمیر کرائیں ،ان میں ان کا محدود طبقاتی پس منظر اور ذہنیت موجود ہے۔

 

The Etiquette of an Assembly: The Irony of History  مجلس آداب :المیہ تاریخ

بادشاہ کے بعد امراء اور عہداروں کاطبقہ تھا جو اپنے مرتبے اور منصب کے لحاظ سے کئی درجوں میں تقسیم تھا اس درجے بندی کےتحت مجلسی آداب کی بھی تشکیل ہوئی ۔ مثلاً اگر ایک اعلیٰ درجے کے امیر اور اس سے کم درجے کے امیر کی ملاقات ہوتی تو اعلیٰ درجے والا اپنی نشست پر بیٹھا رہتا اور کھڑے ہوکر استقبال نہ کرتا جب کہ اگر مساوی درجے کاکوئی امیر آتا تو اس کاکھڑے ہوکر استقبال کیا جاتا اور اسے برابر اپنے ساتھ مسند پربٹھا تا اس کی مناسب خاطر تواضع کی جاتی اور رخصت کے وقت اسے دروازے تک چھوڑنے جاتا۔

 

Faithfulness: The Irony of History  نمک حلالی:المیہ تاریخ

ہندوستان میں مسلمانوں نےابتدائی زمانے میں مذہب کو ہندوؤں کے خلاف استعمال کیا۔ لیکن جب مسلمان جاگیر داروں اور امراء میں طاقت کے حصول کی خاطر جنگیں ہوئیں اور ان کی ملازمتوں میں ہندو اور مسلمان ساتھ ساتھ آئے تو پھر کسی ایسے نظریے کی تلاش ہوئی جسے ایک فرد یا خاندان کو ان کے لئے استعمال کیا جا سکے ۔ چنانچہ یہ وہ مخصوص حالات تھے جن میں نمک حلالی کا تصور ایک نئے انداز سےپیدا ہوا ۔ جس کے تحت ایک خادم یا ملازم کو اخلاقی طور پر اس کا پابند کیا گیا کہ وہ اپنے مالک یا آقا کے ساتھ وفادار رہے اور اس کے خاندان کی خدمت خلوص دل سے کرے۔

 

Generosity and Liberality: The Irony of History  فیاضی و سخاوت :المیہ تاریخ

شاہ جہاں کی دولت مندی اور خوشحالی کےتذکرے معاصرین کی تاریخ میں بہت ملتے ہیں اسی لئے اس عہد مغلیہ کا سنہری دور کہا جاتاہے اس سنہری دور کی مثالیں آج بھی تاج محل اور لال قلعہ کی شکل میں موجود ہیں جب کہ اس عہد میں مفلس و غریب عوام بھوک و فاقہ کے ہاتھوں خاموش سے زمین کی آغوش میں پنہا ں ہوکر مٹ گئے اور اپنی مفلسی کے نشانات بھی اپنے ساتھ لے گئے اس سنہری دور میں دکن اور گجرات میں جب قحط پڑا تو رحمدل بادشاہ نے برہان پور ، احمد آباد اور سورت میں لنگر خانے قائم کرائے اور دو شنبہ کو جو شاہ جہاں کی تخت نشینی کا دن ہونے کی وجہ سے مبارک تھا۔

 

Race, Family and Caste: The Irony of History  نسل ،خاندان اور ذات پات:المیہ تاریخ

مسلمانوں کی حکومت کے قیام سےدوسری تبدیلی یہ آئی کہ سیاسی و معاشی و سماجی وجوہات کی بنا پر یہاں کی مقامی آبادی میں کچھ لوگ مسلمان ہونا شروع ہوگئے ۔ ان کارد عمل اہل اقتدار طبقے پر یہ ہوا کہ اگر ان کےساتھ مساوات کاسلوک کیاجائے تو انہیں بھی اقتدار اور مراعات میں شامل کرنا پڑے گا اس لئے اقتدار اور مراعات سے محروم کرنے کےلئے اس طبقے کو نسلی اعتبار سےکمتر اور نیچا سمجھا گیا اور انہیں سماجی و معاشرتی و سیاسی زندگی میں برابر کا درجہ نہیں دیا گیا ۔

 

By The Side of the ‘First Muslim’

Without any hues of divine enlightenment, Lesley, a Jew settled in Seattle, talked of the Prophet as a boy who had very unusual and trying circumstances. A boy who had lost his father before he was born, he lost his mother when he was all of six. Brought up by his grandfather, his was a remarkable rise from the edges of the society to a reasonably well off and trusted business agent by the time he was getting into middle age. Except that all this paled when compared to what transpired on Mount Hira when he was 40, the moment he got the first revelation. It is here that Lesley rose above various biographers and put Muhammad’s reaction –– he was shaken to the bone –– in a dispassionate manner, casting aside various accounts of mythical peace and bliss…..

 

Moral and Cultural Values: The Irony of History  اخلاقی و ثقافتی اقدار:المیہ تاریخ

ہمارے معاشرے کی طبقاتی تقسیم میں مالک وملازم ’ آقا و خادم ، سرپرست و زیر دست اعلیٰ و ادنیٰ کی اخلاقی قدریں بھی جدا جدا ہیں ۔ مثلاًؑ ایک خادم اورملازم کےلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آقا کا وفادار ہو اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔ اس کے احکامات کےبے چوں چرا تعمیل کرے یہاں تک کہ ضرورت پڑنےپر اپنے آقا کی خاطر جان تک دے دے۔ خادم میں یہ احساسات و جذبات کیوں پیدا ہوتےہیں؟ اس حقیقت کو سمجھنے کےلئے آقا اور ملازم کی شخصیتوں کو دیکھا جائے :آقا وہ شخص ہے جو اپنے ملازم یا خادم کو معاش فراہم کرتاہے اس کی ضروریات زندگی پوری کرتا ہے ۔

A Searing Split: A New Look At the Terror That Accompanied the Birth of Pakistan

Jinnah’s paranoia led to Pakistan’s reckless first invasion of Kashmir, months after independence. The author concludes that it is the dispute over Kashmir, and that alone, which ensures a “violent, unbridgeable chasm” still divides India and Pakistan. He might have considered an alternative possibility: the idea that Pakistan’s army, and its supporters, keeps alive the dispute in Kashmir as a means of preserving its outsized claim on public resources and policymaking....

 

Foundation of Iqbal's Thoughts: The Irony of History   فکر اقبال کی بنیادیں : المیہ تاریخ

‘‘ اقبال نے ہندوستان کےمسلمانوں کےسامنےملت اسلامیہ کی ایک سیاسی شخصیت رکھی، جس کا دنیا میں کہیں وجود نہ تھا ۔ حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی کہ اگر اقبال کو ہندو مسلم متحدہ قومیت سے انکار تھا تو اس براعظم کی مسلمان آبادی کے گزشتہ آٹھ سو سال کی ہندی اسلامی فکر پر نظر ڈالتا اور اس کا احصاء اور تجزیہ کرتا، اس کی اساس پر اس سرزمین میں ہندی مسلم قومیت کی عمارت اٹھاتا ،لیکن وہ دوسرے مسلمان ملکوں کےشاندار ماضی ہی کےراگ الاپتا رہا اور اسلامی ہند کی تاریخی عظمتوں میں خال خال اسےکوئی پرکشش موضوع سخن ملا۔

 

Sir Syed and Reconciliation Policy: The Irony of History  سرسید اور مفاہمت کی پالیسی :المیہ تاریخ

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا عروج ہندوستان کی سیاست میں انتشار اور ناانصافی کی وجہ سے تھا کمپنی نے اس سیاسی صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور آہستہ آہستہ اپنے اقتدار کو یہاں تک بڑھایا کہ مغل بادشاہ بھی اس وظیفہ خوار ہوگیا ۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کےحکمراں طبقے نے خود کو انتہائی نا اہل اور نالائق ثابت کیا ان میں نہ تو اتنی فراست تھی کہ وہ کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر سیاسی نشیب و فراز کا اندازہ لگا لیتے اورنہ ہی ان میں اتنی دانش مندی تھی کہ وہ آپس کے جھگڑوں کو ختم کرکےاپنی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرلیتے ۔

 

Introduction: The Irony of History   تعارف:المیہ تاریخ

سرسید کے بارےمیں دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کوذلت و پستی سےنکالا اور ان میں تعلیم عام کی ان کے اس کارنامے کو بھی مبالغے کےساتھ پیش کیا جاتا ہے دراصل مسلمانوں کو پستی کا تصور ڈبلیو ہنٹر کی کتاب ‘‘ہمارے ہندستانی مسلمان’’ نے دیااس میں بنگال کے مسلمانوں کی پستی اور جہالت کاذکر ہے لیکن بعدمیں اس کو یورپی کے مسلمانوں پر لاگو کردیا ۔ جبکہ یوپی کے مسلمان پورے ہندوستان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال تھے اور تعلیم کےمیدان میں ہندوؤں سےبھی آگے تھے یہی حال سرکار ی ملازمتوں کا تھا ۔

 

Some Historical Misunderstandings: The Irony of History  چند تاریخی غلط فہمیاں: المیہ تاریخ

ہندوستان کو جن مسلمان حکمرانوں نے فتح کیا ان کے دائرہ عمل میں لوگوں کو مسلمان کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا ان کی فتوحات خالصتاً سیاسی مقاصد کے لئے تھیں یعنی سلطنت کی حدود بڑھانا اورذرائع آمدنی میں اضافے کرنا ۔ اگر مفتوح قوم میں سے کچھ نےاسلام قبول کرلیا تو ان کی ہمت افزائی ضرور کی گئی لیکن انہوں نے اس پالیسی کو اختیار نہیں کہ مفتوحین کو تبلیغ کے ذریعے یا جبر کے ذریعے مسلمان کیا جائے اس عمل میں کئی دقتیں تھیں : یہ نا ممکن تھا کہ تمام مفتوحہ علاقے کے لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا جاتا اور انکار کی صورت میں تمام آبادی کو قتل کردیا جاتا مذہب کی تبدیلی ویسے بھی اچانک نہیں ہوتی۔

 

Indian Society and English Governance: The Irony of History  ہندوستانی معاشرہ اور انگریزی اقتدار :المیہ تاریخ

جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوئی تو ان کا تعلق وسط ایشیا اور ایران  سےبھی رہا سیاسی و ثقافتی اثرات انہوں نے وسط ایشیاء اور ایران سے قبول کئے جب کہ مذہبی معاملات میں  وہ حجاز کےعلماء سےمتاثر تھے حجاز کی مذہبی درس گاہیں اسلام کی کلاسیکی تعلیمات کا مرکز تھیں اور زمانے کے تبدیلیوں سے دور اسلام کی تاویل  وتفسیر قدیم رجحانات کے ساتھ کرتی تھیں ہندوستان کےجو علماء ان درسگاہوں میں تربیت پاتے تھے وہ  واپس  ہندوستان آکر انہیں  مغربی رجحانات کو پھیلاتے تھے اس کی وجہ سےہمارے علماء اور مذہبی جماعتیں  متشدش اور بنیاد پرست ہوگئیں او رہندوستان کےسیاسی و سماجی حالات کو نہیں سمجھ سکیں۔

 

Reclaiming Jihad—A Qur’anic Critique of Terrorism

Qutb, Amin writes, misinterpreted the term Quwwah (power, strength) in this verse to mean force intended to subdue non-Muslims. Qutb claimed that the purpose of Quwwah was not just defence. He strongly propagated the use of offensive force, and claimed that Muslims were ordered to strike fear and disseminate terror in the hearts of the ‘enemies of God’. In Qutb’s misinterpretation of Quwwah, which Amin notes is not shared by many other exegetes of the Quran, the term shifts from being mere military preparedness for the purposes of deterrence to being an offensive tool whose purpose is to subdue others.....

The Society, Casteism and Mirzanama: The Irony of History (Chapter 13)  (معاشرہ ، ذات پات، اور مرزا نامہ :المیہ تاریخ  ( قسط ۔13

ہندوستان میں مسلمان معاشرے کی ذات پات اورنسل کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ایک نامعلوم مصنف کی کتاب ‘‘مرزانامہ’’ ہے یہ کتاب برٹش میوزم میں نسخہ نمبر 1817-16 AD میں درج ہے اور اندازاً یہ 1660 ء میں لکھی گئی تھی اس کتاب کا انگریزی میں خلاصہ عزیز احمد نے کیا تھا اور اسی سے اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جارہا ہے اگر چہ ‘‘مرزا نامہ ’’ کے عنوان سے اور کتابوں کا بھی پتہ چلتا ہے مگر اس میں جو تفصیل ہے وہ دوسری کتابوں میں نہیں ہے۔

 

Why We Need To Read ‘After the Prophet’ Amidst Today’s Shia-Sunni Divide

Born in a world where the Muslim community has been divided into two indefinite sects makes for a reality that we have come to accept and also overlook. The conflict between Sunnis and Shias is the news of everyday, but there has never been a proper, unbiased understanding of the real issue. Where did all of this animosity really stem from? The Sunnis have their version and the Shias have theirs.....

Jihad Movement: The Irony of History  جہاد تحریک : المیہ تاریخ

آٹھویں صدی اور انیسویں صدی کا ہندوستان سیاسی و معاشی اور معاشرتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا، مغل سلطنت کی مرکزیت ختم ہوچکی تھی۔ صوبائی طاقتیں خود مختار ہوکر خانہ جنگیوں میں مصروف تھیں ۔ انگریز آہستہ آہستہ ہندوستان میں اپنے قدم جمارے تھے ۔ مسلمان معاشرے میں امراء اور علماء اپنی مراعات کو کھونے کے بعد عدم تحفظ کاشکار تھے ۔اگر چہ ایک مسلمان کےلئے ان حالات نے کوئی تبدیلی نہیں کی تھی، وہ پہلے ہی سے سماجی طور پر پس ماندہ تھا اور اس کے پاس بگڑتے ہوئے حالات میں کھونے کے لئے کچھ نہ تھا ۔

 

Ulema and Issues: The Irony of History  علماء اور مسائل: المیہ تاریخ

انگریزوں کی فتح کے بعد علماء کےمسائل میں مزید اضافہ ہوا ۔ سب سے پہلا مسئلہ تو یہ پیدا ہوا کہ کیا ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالسلام ؟ اگر دارالحرب ہے تو پھر کیا اس ملک سے ہجرت کی جائے یا جہاد کیا جائے؟ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اگر ہجرت نہ کی جائے او ریہاں رہائش برقرار رکھی جائے تو کیا اس صورت میں انگریز کی ملازمت کی جائے؟ کیا انگریزی زبان کو سیکھا جائے؟ اور کیا انگریزی طور طریق اور آداب کو اختیار کیا جائے؟ یہ وہ مسائل تھے کہ جن پر علماء نےاپنےاپنے مفادات کی روشنی میں فتوے دیئے ۔ ولی اللہ خاندان کے سربراہ شاہ عبدالعزیز کا اس سلسلے میں یہ موقف تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے لیکن ہندوستان سےہجرت ضروری نہیں ۔

Ulema and Society and Jihad Movement: The Irony of History  علماء اور معاشرہ او ر جہاد تحریک: المیہ تاریخ

جب مغلوں کا زوال ہوا اور اس کے ساتھ علماء کے وظیفوں او رمدد معاش کی جاگیروں کا سلسلہ ختم ہونا شروع ہوا تو اس میں سے کچھ چھوٹی چھوٹی مسلمان ریاستوں میں پناہ لینی شروع کردی او رکچھ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت قبول کرلی ۔ مگر اکثریت کے لئے معاش کے دروازے بند ہوگئے، اس کا حل یہ نکالا گیا کہ جگہ جگہ مذہبی مدرسے قائم ہونا شروع ہوگئے اور چندوں کے ذریعے علماء نے اپنی گزر اوقات کا حل نکالا ، اس صورت میں ان کا تعلق  مسلمانوں کے اونچے طبقوں یعنی زمینداروں اور تعلقہ داروں سے ہوگیا ۔

1 2 3 4 5 6 7 8 9 ... 28 29 30


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • The depth study of both Shia and Sunni differences will not give you any chance to think about elimination of their differences, however ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Royalj may comment on this article.'
    ( By Naseer Ahmed )
  • The question that arises is that should there be an Shia Sunni in the first. The idea is artificially constructed.
    ( By Ikram Ahmed )
  • I cannot add more after Naseer Ahmed Saab. Completely agree with him. As many Muslims believe in Ghazwa e Hind as Hindus believe in Akhand ...
    ( By Kamran Khan )
  • Duniya ka sb s purana dhram sanatan dhram h or jitne b dhram h wo es s hi nikle h '
    ( By Rahul )
  • When there was no doctrine of Ghazwa-e-Mecca, how can there be a doctrine of Ghazwa-e-Hind? To get the concept clear, the Prophet was ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • “We are doomed. The west is doomed. The west is in its final stage of committing unrelenting suicide by sheer greed and monstrous aggressions and ...
    ( By Ghulam Ghaus Siddiqi غلام غوث الصديقي )
  • Lot of cockroaches here !'
    ( By Manzurul Haque )
  • All Muslims should know that Ghazwa-e-Hind is a false doctrine from...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Shias and Sunnis, instead of directing their wrath at each other, should...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • WHO DOES NOT KNOW THEIR RELIGION - BUT WANTS TO KILL. READ - PRACTICE - EXPERIENCE WITH OUT...
    ( By Kolipaka Sudeep Kumar )
  • We will lynch them mercilessly
    ( By Mahesh Choudhary )
  • Good , we need it badly , sooner the better , will solve a lot of our problems'.
    ( By Sanjay Sharda Prasad Upadhyay )
  • And we gonna perform ur funeral as per hindu rituals done by paying gays and hookers....
    ( By Abhilash Nambiar )
  • One small correction Richard Dawkins is an evolutionary Biologist not a philosopher.
    ( By Ikram Ahmed )
  • From all accounts it seems the new Crown Prince Mohammad bin Salman is bad news and will cause a lot of problems in the region.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hasn't Al-Qaeda done enough harm to Muslims in India, America and Europe already?...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Civil rights and equal protections under law must be guaranteed to citizens irrespective of their faith or lack of faith.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Islamic civilization has lived through its sectarian divisions without the violence between them reaching ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • The message of peace, nonviolence and reconciliation must ring loudly, clearly and unambiguously in a faith which calls itself "Peace".
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • slam Respects Local Customs and Cultures, Says Top Singapore Mufti". True Islam does not come to replace local customs and cultures. But mullhaish Islam does.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Manzurul, either you are having an unsuspecting innocent mind or a timid ۔۔۔
    ( By Royalj )
  • Dear Mukhtar Alam, My faith is based on the۔۔۔۔
    ( By muhammd yunus )
  • Eid Mubarak
    ( By Naseer Ahmed )
  • If the terrorist threat is real, why does the FBI have...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Eid Mubarak to all!
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • From my Facebook:- Many people apply their robust common sense and wonder why such violent terrorist events, that so logically...
    ( By Manzurul Haque )
  • Many people apply their robust common sense and wonder why...
    ( By Manzurul Haque )
  • I agree.
    ( By Manzurul Haque )
  • AND springing forth of Umblical Chord of spiritual connectivity to the...
    ( By Manzurul Haque )
  • Muhammad Yunus should learn about the chain of Fatimid khalifatullah in the posterity of prophet Muhammad salutations...
    ( By Muhammad Mukhtar Alam )
  • Change is the need of hour Change your books...
    ( By Oshok Dubey )
  • Thanks Naseer. I am really glad that you appreciate my comments. The wide spread gun shootings...
    ( By Royalj )
  • American exceptionalism, or the idea that the U.S. has a unique mission to transform the world, is plain and simple supremacism....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Idots finished nearly all minority that was existing now talking of inter-faith....
    ( By Aayina )
  • Good to see Maulana Abul Kalam Azad praised by a Pakistani writer in a Pakistani۔۔۔۔
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Royalj. Good to see you in your true colours. You must be lolling in the mud of US to write such paeans for that country, ...
    ( By Manzurul Haque )
  • Royalj, Listen to this video to know what the US wars in Afghanistan and ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Plz read respect 'for' in place of respect 'of' an 84 year old... , because the meaning changes substantially.'
    ( By Manzurul Haque )
  • Moving out today, so will revisit the topic again. I think Sultan Shahin sb must be having a lot to say on this. Hazrat Ali ...
    ( By Manzurul Haque )