certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

لہذا خود کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی پھوٹ ڈالنے والی سیاست سے الگ رکھنا مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور انہیں یہ واضح کر دینا چاہئے کہ مشکلات کے باوجودوہ دار القضاۃ پر سیکولر ریاست کے قوانین کو فوقیت دیں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مزاحمت اس سوال سے شروع ہو جانی چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا انہیں کیا حق ہے۔ کیا وہ ایک منتخب ادارہ ہے؟ اگر نہیں، تو پھر کس نے انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ آواز بننے کا حق دیا ہے؟ کیا وہ ہندوستانی مسلمانوں کی تکثیریت کی مناسب طریقے سے نمائندگی کرتے ہیں؟

 

تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ متقی کہلانے کا حقدار وہی انسان ہے جو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور اپنے نفس کی خواہشات اور فریب کاریوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہو۔ اس لئے کہ جس نے خود کو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور خواہشات نفسانی کی غلاظتوں سے پاک نہیں کیا وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ‘‘وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا’’، ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو’’۔ تمام انسانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تاکہ (جہنم)تمرد و سرکشی میں پڑے رہنے والوں سے اپنا حصہ (بدلہ) لے لے ۔ پھر نیک اور متقیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا اور نفس پرستوں کو جہنم کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا ، یہی معنیٰ ہے اللہ کے اس فرمان کا ‘‘ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا’’، ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے’’۔

 

والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن و نماز وتدفین کو سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ ادا کریں ، ان کے لیے ہمیشہ دعاواستغفار کرتے رہیں ، صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کا ثواب انہیں ہمیشہ پہنچاتے رہیں ، اپنی نماز اور روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھیں اور ان کے واسطے بھی روزے رکھیں، والدین پر کوئی قرض ہو تو اسے جلدی ادا کریں ، ان پر کوئی فرض رہ گیا ہو تو بقدر قدرت اسے پورا کریں مثلا ان کی طرف سے حج بدل کرانا وغیرہ ، اگر والدین نے کوئی وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو تو اس کے نفاذ کی حتی المقدور کوشش کرنا ، ان کی قسم پوری کرنا ، ہر جمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یس شریف کی تلاوت کرنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا ، والدین کے رشتہ داروں، دوستوں کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کرنا اور ان کا اعزاز و اکرام کرنا ،اور اسی طرح کوئی گناہ کرکے انہیں قبر میں ایذا نہ پہنچانا وغیرہ ۔

ایک طرف سے دعویٰ تھا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل شریعت کی روشنی میں ہی طے کئے جائیں گے تومخالفت میں دھمکی دی جارہی تھی کہ ملک میں متوازی عدلیہ نظام قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔دونو ں ہی باتیں غلط ہیں ۔مسلمانوں کے عائلی معاملات شرعی احکا مات سے ہی طے ہوتے چلے آئے ہیں اور موجودہ آئین کی روشنی میں آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ۔ سلطنت دور (1206-1526) میں تو خلافت اسلامیہ کی تقریباً پورے طور پر پیروی کی گئی،تمام مغربی مورخین نے اس زمانے کے ہندوستان کو مذہبی ریاست (theocratic state) سے موسوم کی ہے۔

 

عالمِ توحید کے تمام منازل متقیوں کا مقدر ہیں۔ جنت کے تمام مقامات و محلات ،اس کی تمام نعمتیں متقیین کے لئے ہی آراستہ کی گئی ہیں۔ اور تقویٰ کے بغیر راہ سلوک و معرفت میں کوئی چارہ کار نہیں۔ نفس کی کدورتوں اور دل پر لگے معصیتوں کے دھبے ہم سے تقویٰ کا پانی مانگتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ہم تمام لوگوں کو جہنم کے اوپر سے گزاریں گے لیکن آخرت کی دنیا میں جس کے پاس تقویٰ کا لباس ہو گا وہ جہنم کے ساتوں طبقات سے ایسے گزر جائے گا جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔

 

شیخ ابن بیہ جو (فورم فار پرموٹنگ پیس ان مسلم سوسائٹی) کے چیئرمین بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کونسل "معاشرے ، شہریوں اور پوری دنیا کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے بدعنوان فتوں اور تخریبی اثر و رسوخ سے ملک کی حفاظت کرنے کی ہر ممکن کوشش کریگی"۔ انہوں نے کہا کہ "کونسل کا کردار علماء کے لئے اس مبارک ملک میں ایک اہم قدم ہوگا"۔

 

اس تحریر میں مکتوب شریف کے بعض مقامات کی مناسب تسہیل و تفصیل کے لئے بنیادی طور پر زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری علیہ (متوفى 465 ہجری) کی فن تصوف میں امہات الکتب میں شمار کی جانے والی ایک مایہ ناز تصنیف رسالہ قشیریہ اور حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 465 ہجری) کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب سے استفادہ کیا گیا ہے۔چونکہ آپ دونوں بزرگ ہم عصر ہیں اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری کا ذکر اپنی تصنیف لطیف کشف المحجوب میں بڑے ادب اور اونچے القاب کے ساتھ کیا ہے۔ نیز بعد کے تقریباً تمام صوفیائے کرام نے ان دو عظیم ہستیوں کی تصنیفات سے بھر پور استفادہ کیا ہے ،لہٰذا راقم الحروف نے بھی ان کے تحریری شہ پاروں سے استفادہ کر کے اپنی بات مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

(ذا غور کر کہ بارگاہ ایزدی میں) جب فرشتوں نے کہا کہ ہم ان (انسانوں) کے ذریعہ برپا کئے جانے والے فساد اور قتل و غارت گری کی تاب نہیں رکھتے ، تو ندائی آئی کہ (ٹھیک ہے) اگر میں انہیں تمہارے دَر پر بھیجوں تو لوٹا دینا اور انہیں تم سے فروخت کرنے آؤں تو مت خریدنا، اس ڈر سے کہ ان کی معصیت میری رحمت سے بڑھ جائے گی ، یا تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان (کے وجود)کی آلودگی میری تنزیہہ و تقدیس کے دامن پر دھبہ لگا دیگی۔ (ائے نوریوں سن لو!) یہ وہ مشت خاک ہیں جو میری بارگاہ میں مقبول و مقرب ہیں۔ اور جب میں نے انہیں (اپنی بارگاہ میں) شرف قبولیت بخش ہی دیا ہے تو ان کی معصیت اور آلودگیوں سے انہیں کیا نقصان!

 

 قرآن کریم کی آیات اور احادیث کریمہ سے خشوع اور تواضع کی اہمیت اور فخر و تکبر کی مذمت ثابت ہوتی ہے۔ فخر و تکبر ہماری روحانی خوبیوں کو مٹا دیتا ہے جبکہ خشوع و تواضع سے ہمیں روحانی کمال اور انسانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے اور نتیجۃً یہ قیام امن اور سکون کا مصدر بن جاتا ہے۔اور اس طرح خشوع و تواضع رضائے الٰہی کے حصول کا ایک سرچشمہ ہے۔

 

حضرت ابو نصر السراج فرماتے ہیں کہ سہیل بن عبد اللہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) مریدین و معترضین (مبتدئین) کے احوال کی طرف اشارہ کیا ہے ، کیوں کہ ان کے احوال کبھی ان کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) متحققین (عرفائے کاملین اور مقربان بارگاہ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ان کے قلوب پر اللہ کی عظمت و جلال کا غلبہ اور اس کے ذکر کو دوام حاصل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے گناہوں کو یاد کرنے کی مہلت ہی میسر نہیں ہوتی۔ اور اس کی مثال حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ جب آپ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘توبہ سے توبہ کر لینے کا نام ہی توبہ ہے’’۔

 

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ ھ‘‘ رحمۃ للعالمین’’ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہان کے لیے رحمت ہیں) کوئی ہو جن ہو یا انس مومن ہو یا کافر ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والوں کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لائے۔ مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیر عذاب ہوئی اور خسف، مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا دئے گئے۔

 

(توبہ کے حوالے سے) خواجہ سہیل تستری کا مسلک یہ ہے کہ (التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ کبھی فراموش نہ کرے اور ہمیشہ اس کی ندامت میں غرق رہے تاکہ تیرے اعمال (صالحہ) کی کثرت پر تیرے دل میں کبھی عجب اور تکبر پیدا نہ ہو۔ اور حضرت جنید بغدادی کا مسلک یہ ہے کہ (ان تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ بھول جائے۔ اور مذکورہ بالا دونوں اقوال کے درمیان تضاد صرف ظاہری ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی تضاد یا تناقص نہیں ہے۔ اس لئے کہ گناہ فراموش کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس گناہ کی حلاوت تیرے دل سے ایسی نکلے کہ تیری کیفیت یہ ہو جائے گو کہ تو نے کبھی اس گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

جب (توبہ کے بارے میں) یہ جان چکے تو تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ میں دوام شرط نہیں ہےکہ جس گناہ سے توبہ کی جائے اس کا ارتکاب زندگی بھر نہ ہو، (بلکہ بعد میں) اگر تائب بہک جائے اور وہ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو (دوبارہ گناہ کے ارتکاب سے قبل تک وہ تائب تھا اور اس مدت میں) اسے توبہ کا اجر ملے گا۔ اس جماعت (صوفیاء) میں بھی ایسے تائب ہو گزرے ہیں جو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد پھر گناہوں میں مبتلاء ہوئے اور پھر توبہ بجا لائے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے (اپنے گناہوں سے) ستر مرتبہ توبہ کی اور ہر بار (توبہ کے بعد) گناہوں میں مبتلا ہوتا رہا، یہاں تک کہ جب میں نے اکھترویں مرتبہ توبہ کی تو مجھے (اپنی توبہ پر) استقامت نصیب ہوئی اور اس کے بعد پھر گناہوں کی طرف میرے قدم نہیں اٹھے۔

 

مکتوب شریف کے اس اقتباس سے اب یہ بات متحقق ہو گئی کہ توبہ رجوع الی اللہ کا نام ہے۔ اور مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہر انسان کی توبہ مختلف ہوتی ہے۔ عوام کی توبہ دار المعصیت (گناہوں کی دنیا) سے دار الاطاعت (اطاعت و فرمانبرداری کی دنیا) کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ خواص یعنی نیک بندوں کی توبہ اللہ کے انعامات اور احسانات کے سامنے اپنے اعمال اور اپنی نیکیوں کو کمتر اور حقیر جاننا ہے۔ اور خواص الخاص یعنی مقربین بارگاہ کی توبہ ذات وحدہ لا شریک کے سامنے خود کو عاجز اور معدوم سمجھنا اور خود اپنے وجود کو ایک گناہ تصور کرنا ہے۔

 

اردوگان سے پہلے ترکی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی وحشیانہ زنجیر میں جکڑا ہوا تھا اورعالمی طاقتوں کی مداخلت کا اڈہ بن چکا تھا۔ اردوگان نے نہ صرف یہ کہ ان تمام قرضوں کو چکا یا بلکہ ان عالمی اداروں کو قرض بھی دیا۔اردوگان سے پہلے تاریخی شہراستنبول مفلسوں کا شہر بنا ہوا تھا، اردوگان نے اسے دنیا کا بہترین شہر بنا یا اور استنبول کی تاریخی عظمت کی واپسی کی۔

 

(اللہ کے فرمان) وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون کا راز یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سالک (ریاضت و مجاہدات کی سواری سے پراواز کر کے ) جس مقام پر کمند ڈالتا ہے (وہ اس کے سفر کی انتہاء نہیں ہے بلکہ ) اس سے بھی آگے ایک اعلیٰ مقام موجود ہے، اور (سالک کے لئے) اپنے موجودہ مقام سے نکلنا اور اس سے اعلیٰ مقام حاصل کرنا (راہِ سلوک و معرفت میں) فرض ہے ورنہ سفر ِسلوک (اور سیر الی اللہ) ناقص و ناتمام رہے گا۔

 

 لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری مسلم برادری سب سے پہلے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے تصور برادشت کو اختیار کرے اور پھر اس کے بعد دوسری برادریوں کو بھی ٹولیرینس کی دعوت دے ۔ اس کے لئے میں تمام مسلم دانشوروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ رواداری کے اقدار اور اس کی اہمیت پر ایک خاص نصاب تیار کریں اور اپنے مدرسوں ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مذہبی یا سیکولر اداروں میں اس کی تعلیم دیں۔ غیر مسلم تنظیمیں بھی لازمی طور پر ایسا ہی ایک نصاب تیار کریں تاکہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے اور ملک کے تمام طبقوں میں ٹولیرینس کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔

 

لہٰذا ، ایک بزرگ سے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ‘‘وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا’’، ‘‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو’’ اس کا کیا معنیٰ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تو بہ ہر لحظہ ہر فرد بشر پر فرض ہے؛ کافروں پر فرض ہے کہ کفر سے توبہ کریں اور ایمان لے آئیں ، گنہگاروں پر فرض ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کریں، محسنین (نیکوکارں اور متقیوں) پر فرض ہے کہ وہ (افعال) حسنہ سے احسن کی طرف قدم بڑھائیں ، عرفاء (واقفانِ اسرارِ الٰہیہ) پر فرض ہے کہ وہ اپنے ایک ہی مقام پر جمے نہ رہیں بلکہ (سالکان راہ حق کی) روش اختیار کریں (یعنی توبہ کے ذریعہ اپنے موجودہ مقام سے اعلیٰ مقام کی طرف ترقی کریں) اور آب و گِل کے مکینوں (انسانوں) پر فرض ہے کہ وہ پستی سے بلندی کی طرف پرواز کریں۔ جس سالک کو جو مقام حاصل ہو اس پر اس کا رکنا گناہ ہے جس سے اسے توبہ کرنا چاہئے۔

 

یہ اس مکتوب شریف کا صرف ایک ایمان افروز اقتباس ہے ۔ انشاء اللہ اس مکتوب شریف کو کئی حصوں میں اردو ترجمہ ، قرآن و حدیث کے استدلال اور اس کے باریک نکات کی پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ آپ قارئین کی خدمت میں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کو تسہیل و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا خیال اس لئے پیدا ہو کہ اب تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے  مکتوبات کے جو تراجم اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں وہ اس تسہیل و تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں اس لئے اردو کے ایک عام قاری کا اسے پڑھنا اور اس سے درست معنیٰ اخذ کرنا قدرے دشوار ہے ، البتہ علماء ان تراجم سے خوب سیرابی حاصل کرتے ہیں ۔

 
The Exigency of Muslim Reform  مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam
The Exigency of Muslim Reform مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam

دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے  شریعت کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو تعلیمات جو ذاتی ترقی، وسائل کی حصولیابی ، آزادی اور مختلف گروہوں کے ساتھ ہم آہنگی اور خوشیوں کی حتمی حصولیابی میں معاون ہیں صرف وہی اسلام کے حقیقی مقصد اور اس کی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ اب تک ان طلباء کے بارے میں خاموش ہے جنہیں یونیورسٹی کے مختلف ثقافتی کلبوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر ایک خبر کی طرح پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر مسلم برادری کی جانب سے ان طالب علموں کے خلاف ایک زبردست رد عمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں کفر و ارتداد کا مرتکب قرار دیکر قتل کر دیا جانا چاہئے۔ بہرحال وہ تینوں طالب علم اپنے فون بند کر کے ابھی چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیا ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج میں فرمایا کہ، "اے لوگوں، میں تمہیں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہوں کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کوئی سنگین واضح گناہ (فاحشة مبینة)نہ کر بیٹھیں۔ اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو ان سے اپنا بستر الگ کر لو اور ہلکی مار لگاؤ ، لیکن وہ باز آ جائیں تو ان کے خلاف حد سے تجاوز نہ کرو"۔

 

روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے رسول و نبی ہیں ان کا یہ معمول تھا کہ وہ بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مہمان ان کے دسترخوان پر نہیں ہوتا کھانا نہیں کھاتے لیکن ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ کے پاس کئی دنوں سے مہمان نہیں آ رہے تھے اور تلاش کرنے پر بھی کوئی نہیں مل رہا تھا، جب کئی دن گزر گئے تو آپ کو ایک بزرگ(بوڑھے) مسافر نظر آئے انہوں نے اس مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا اور اپنے گھر لے کر آئے کھانا کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا گیا پھر آپ اپنے مہمان کو لے کر دسترخوان پر بیٹھے آپ نے فرمایا: اللہ کے نام سے کھانا شروع کیجیے!

 

ایک زمانہ تھا جب، مدارس تحریک سےاجتماعی طور پر وجود میں آتے تھے۔ مقامی لوگوں کا معمولی چندہ بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ رمضان میں باقاعدگی سے گوشوارہ چھپتا تھا، جو عوامی جانچ پڑتال کی راہ کھول دیتا تھا۔ تب لوگ مدارس کو ملّی اثاثہ سمجھتے تھے اور موقع پڑنے پر اس کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔  1970کی دہائی سے رفتہ رفتہ، مدارس بھی، دُکان کی طرح ، افراد کی ملکیت بنتے گئےجن میں مہتمم کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ چندہ بھی ’’باہر ‘‘سے آنے لگا۔ گوشوارہ کی روایت اٹھادی گئی۔جب مقامی چندہ کم یا ختم کیا گیا تو مقامی بچّوں کا جھنجھٹ کیوں پالا جائے، جن کے والدین کبھی بھی آکر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔

 

کیا آر ایس ایس کو اس بات کا خطرہ ہونا چاہئے کہ جس شخص کو انہوں نے مدعو کیا اسی نے ان کی نظریاتی تردید کر دی اور جس مقصد کے پیش نظر انہیں بلایا گیا تھا وہ مقصد فوت ہو گیا؟ بہت سے تبصرہ نگاروں نے بھی یہی سمجھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی فرق تلاش کیا جائے تو جو آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا اور جو پرنب مکھرجی نے کہا ان دونوں کے درمیان بہت ادنیٰ فرق ہے۔ بلاشبہ ان دونوں کا تعلق مختلف سیاسی نظریات سے ہے لیکن جب قوم پرستی کی بات آتی ہے تو ان تمام کے بیان سے ایک وسیع پیمانے پر اتفاق رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ اب ہم اس نقطہ نظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • "The Mutazilite theologians argued that human free will was....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Excellent reply from Sultan Shaheen sahib to Zawahiri. However...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This Man should be removed from human rights council because....
    ( By Prabhakar Chitrala )
  • Sultan do you want spread terrorism by muslims.? World....
    ( By Prabhakar Chitrala )
  • Does Hats Off understand anything at all? It is not that the western....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Good article
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Whether Hamza Yusuf is included in or excluded from the U.S. Government's ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is not a freedom of religion issue. It is an equal rights issue.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • It's funny that women need a male guardian, women can drive and now can watch football matches....
    ( By Dr. D. Natarajan )
  • The efforts of Sultan Shahin are commendable.'
    ( By Amitabh Tripathi )
  • The issue is not defamation of Islam. The history of Islam is such that nobody ( non-Muslim ) ....
    ( By Biplab Sensarma )
  • How much do you know about Indian intolerance? # Angnao'
    ( By Sarajit Kumar Bairagi )
  • Indian people need loves each other such as Hindu, Christian, sikh, Muslim and others. If you....
    ( By Md Afuan )
  • @Kaushallya Hegde Kumblar Why are you supported pakistan Hindu, because they are not included...
    ( By Md Afuan )
  • @Kaushallya Hegde Kumblar Why are you supported pakistan Hindu, because they are not included ....
    ( By Md Afuan )
  • @Md Afuan Don’t be hypocrite,where is freedom of expression in Pakistan. The moment you write ....
    ( By Kaushallya Hegde Kumblar )
  • Very good attempt. All countries including India should be religiously tolerant'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Sarajit Kumar Bairagi because both are victims of intolerance.
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Abu Basim Khan Why are you adding the question of Dalit to question of Muslim?'
    ( By Sarajit Kumar Bairagi )
  • Any comment about Indian democracy, follow up and implementation of constitutions, atrocities...
    ( By Abu Basim Khan )
  • By zehadi intolerance Muslims are harming themselves. See isis .'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Md Afuan soudi arab is bombing Yemen'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Abu Basim Khan He is trying to legitimate robbery n killing of Iraq n Afghanistan.'
    ( By Mansoor Hakkim Ahamed )
  • @Mansoor Hakkim Ahamed yes, it is hired by Modi and party. Some financial tips, he get from...
    ( By Abu Basim Khan )
  • Sameera Latif Journalist
    ( By Paul Jeyaprakash )
  • What nonsense is he talking about in India thousands of mobs have been done by bjp and Congress ...
    ( By Aamir Shaban )
  • Which human rights council biggest criminal and theives are sitting in UN nations.'
    ( By Aamir Shaban )
  • @Jasrotia Jjames Aabraham True tand is the principal cause of strife the world over'
    ( By Randeep Singh )
  • @A.J. Philip Cash Prize is very less. Sounds like double hiran oil sponsored award in the village tournament.'
    ( By Mohammad Arif )
  • @Liyakhath Ali Does not it mean that "content " he raised is not truth/facts?
    ( By Ananda Padmanabhan )
  • The act that hindu extreamist doing it is inherited from islam. Hindus always the believer of secularism. ...
    ( By Raju Dev Nath )
  • @Manorsnjan Mishra Good explaination'
    ( By Raju Dev Nath )
  • Hindustan is place Hindus in world .In past many religions came, converted people, damaged most...
    ( By Manorsnjan Mishra )
  • Jehadi are most successful in their mission and misguide immature muslim youth to be a part of. ...
    ( By Sanesh Ram Maurya Maurya )
  • They burnt, shoot many journalist openly making the video viral, if they will feel that type of torture ....
    ( By Prativa Dash )
  • Mr.Mohammad Arif The author has invincibly enlisted many instances of terrorism in which....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Indian Muslims as far as possible drop Arabian tint , tilt and refrain from servitude to Arab world....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Genocide of Hindu- Khafirs is still in full swing in Bangaladesh...
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • "Laws of many Western democracies are more Islamic than the Sharia of Islamists." nothing can be ....
    ( By hats off! )
  • Even Sunnah also demands Muslims to love their enemies instead of promote hatred and yet Muslim extremists promote hatred with polytheists ....
    ( By zuma )