certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

دلچسب بات یہ ہے کہ علمائے دیوبند کہ جنہوں نےخالص توحید پرستی کے نام پر آفتاب رسالت حضور رحمت عالم محمد ﷺ کی شان اقدس میں زبردست گستاخیاں کی ہیں جس کا ثبوت اکابر علمائے دیوبند کی وہ کتابیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کفریہ عبارتوں سے بھری پڑی ہیں ، لیکن انہوں نے بھی ہمارے نبی ﷺ کے لئے رویت باری تعالیٰ کو جائز اور حق مانا ہے ، مناسب ہے کہ علمائے اہلسنت کا موقف بیان کرنے سے قبل علمائے دیوبند کا موقف بیان کر دیا جائے تاکہ اس میں کوئی شک و ارتیاب باقی نہ رہے کہ ہمارے بنی ﷺ کے حق میں رویت باری تعالیٰ کا جائز اور ثابت ہونا ایک امر مسلم ہے ۔ دیوبندی مسلک کے ایک ممتاز عالم دین مولانا الیاس گھمن سے رویت باری تعالیٰ کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس پر صحابہ کرام اور علمائے دیوبند کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے یہ صاف لکھا کہ صحابہ کرام کی اکثریت کا یہی موقف ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کو رویت باری تعالیٰ ہوئی اور علمائے دیوبند کا بھی یہی موقف ہے ، فتویٰ کی تفصیل حسب ذیل ہے ؛

 

دیکھی جانے والی شئی کی اگر کوئی حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والے کی نظر ان تمام حدود اور اطراف و نہایت کا احاطہ کر لے تو گویا اس کی نظر نے اس شئی کو گھیر لیا ۔ اور اسی طور پر دیکھنے کا نام”ادراک“ہے، لیکن اگر دیکھنے والے کی نظر دیکھی جانے والی شئی کے تمام اطراف و جوانب کا احاطہ نہ کر رہی ہو تو ایسا دیکھنا ادراک نہیں ہوتا۔ الحاصل ، دیکھنا ایک جنس ہے جس کے تحت دو انواع ہیں (یعنی دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے) ، ایک احاطے کے ساتھ دیکھنا اور دوسرا احاطہ کے بغیر دیکھنا اور صرف اسی کو (یعنی احاطے کے ساتھ دیکھنے کو ) ”ادراک“ کہا جاتا ہے۔ پس نفیٔ ادراک سے صرف دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوتی ہے اور ایک نوع کی نفی جنس کی نفی کو مستلزم نہیں ۔ پس اﷲ کے ”ادراک“ کی نفی اﷲ کی ”رویت“ کی نفی کو مستلزم نہیں۔ امام رازی

 

کیا رویت باری تعالیٰ ان مادی نگاہوں سے ممکن ہے ؟ کیا کوئی فرد بشر اس کا متحمل ہے کہ وہ اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کر سکے ؟ اس سلسلے میں متقدمین صحابہ کرام کے درمیان دو اقوال پائے جاتے ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ ان دنیاوی نگاہوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار سوائے ذات مصطفیٰ ﷺ کے تمام لوگوں کے لئے قطعا یقینا ناممکن اور امر محال ہے کہ یہ وصف خاص ہے ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ اور یہ واقع ہے آپ ﷺ کے حق میں کہ آپ ﷺ نے معراج کی رات اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کیا ، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ دنیاوی آنکھوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار کلیۃ ناممکن اور محال ہے۔جو اس کے کلیۃ ناممکن اور محال ہونے کا قول کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیتوں سے دلیل لاتے ہیں،

 

آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الٰہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَآءُ" (جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے

 

تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ؟ ارادہ و اختیار،تو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ۔صاحب اختیار ہوئے یا مضطر،مجبور،ناچار،صاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھا،یہ کہ وہ ارادہ و اختیار نہیں رکھتا اور تم میں اﷲ تعالٰی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیا،اسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے ؟ اﷲ تعالٰی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے (دیکھنے والے) ہوئے نہ کہ معاذ اﷲ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئے،نہ کہ الٹے مجبور۔

 

باایں ہمہ کسی کا خالق ہونا،یعنی ذات ہو یا صفت،فعل ہو یاحالت،کسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینا،یہ اسی (اللہ عز و جل) کاکام ہے ، یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھا،کہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیں (یعنی ان کی حقیقت معدوم ہونا ہے ، لیکن یہ موجود ہیں اس لئے کہ اللہ نے انہیں عارضی طور پر وجود بخشا ہے) ، ایك نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکے (یعنی جس کی حقیقت خود معدوم ہونا ہو وہ کیا کسی معدوم کو پیکر وجود عطاء کرے) ، ہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہے(یعنی اللہ عز و جل کا موجود ہونا حقیقی ، مستقل ، دائمی ، ازلی اور ابدی ہے وہ اپنے وجود اور بقا میں قطعاً کسی کا محتاج نہیں) ، ہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیر ے ،مولا تعالٰی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے۔

 

"اے محمد !ان اشخاص کو زیادہ ہدایت مت کرو،ان کےلئے اسلام کے واسطے مشیت ازلی نہیں ہے،یہ مسلمان نہ ہوں گے "۔اور ہر امر کے ثبوت میں اکثر آیات قرآنی موجود ہیں،تو پس کیونکر خلاف مشیت پروردگار کوئی امر ظہور پذیر ہوسکتا ہے،کیونکہ مشیت کے معنی ارادہ پروردگار عالم کے ہیں،تو جب کسی کام کا ارادہ اﷲ تعالٰی نے کیا تو بندہ اس کے خلاف کیونکر کرسکتا تھا۔اور اﷲ نے جب قبل پیدائش کسی بشر کے ارادہ اس کے کافر رکھنے کا کرلیا تھا توا ب وہ مسلمان کیونکر ہوسکتا ہے " یَہدِی مَن یَّشَآءُ"[1]۔ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۲ کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس امر کی طرف اس کی خواہش ہوگی وہ ہوگا۔پس انسان مجبور ہے اس سے باز پرس کیونکر ہوسکتی ہےکہ اس نے فلاں کام کیوں کیا،کیونکہ اس وقت اس کو ہدایت ازجانب باری عزاسمہ ہوگی وہ اختیار کرے گا۔علم اور ارادہ میں بین فرق ہے،یہاں من یشاء سے اس کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔

 

رسول اللہ نے جو صادق ومصدوق ہیں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رہتا ہے پھر یہ چالیس دن میں بستہ خون کی شکل میں ہوجاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیجتا ہے اور چار چیزوں یعنی رزق، موت، بدبخت یا نیک بخت ہونے کے متعلق لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے واللہ تم میں ایک یا فرمایا آدمی دوزخیوں کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ یا گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر کتاب (نوشتہ تقدیر) غالب آتی ہے پس وہ جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر کتاب غالب آجاتی ہے پس وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ (الحدیث)

 

سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے سراقہ نے عرض کیا پھر ہم عمل کیوں کریں؟ زہیر نے کہا پھر ابوالزبیر نے کوئی کلمہ ادا کیا لیکن میں اسے سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔ (الحدیث)

 

آپ نے دیکھا کہ کس طرح اول الذکر آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ کائنات کا ہر ذرہ تقدیر الٰہیہ کا پابند ہے اور کائنات میں ایک ورق بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا ، جبکہ ثانی الذکر آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ انسانوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کی بنیاد پر ثواب و عذاب کا حقدار ٹھہراتا ہے ۔ یہ ایک ایسا عقدہ ہے جسے حل کرنے سے بڑے بڑے اہل علم اور ارباب عقل و خرد عاجز ہیں ۔ بلکہ کتنے ہی اہل علم و دانش اس مسئلے میں اصابت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے گمراہی اور بدعقیدگی کی گھاٹیوں میں گم ہو کر رہ گئے ۔ اہل اسلام کے لیے بھی خاص طور پر یہ مسئلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا اسلامی عقیدے کا ایک جزو لاینفک ہے ۔

 

لیکن دوران مطالعہ جب میری نظروں سے پاکستان میں جہادیوں کے سرخیل بدنام زمانہ مولانا مسعود اظہر کی کتاب "جہاد ایک محکم اور قطعی فریضہ" کا حوالہ گزرا تو حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کیوں کہ اس کتاب میں اس نے جہاد کے حق میں قرآن کی 400 سے زائد آیتوں کو نقل کیا ہے ، جب میں نے ان آیتوں کا سرسری طورپر جائزہ لیا تو اس میں میری دلچسپی بڑھی اور میں نے انٹرنیٹ پر مزید مواد سرچ (search) کرنا شروع کیا تو یہ پایا کہ صرف تحریری ہی نہیں بلکہ تقریری طور پر بھی اپنے تمام تر جہادی مواد اس نے انٹرنیٹ پر ڈال رکھے ہیں۔

 
Abrogation in Quran, Part-8  مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-8 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

اگر غلام احمد پرویز  صاحب کی مذکورہ دلیل کو حق بجانب مان لیا جائے تو اس سے یہ بھی ماننا لازم آئے گا کہ عرب میں اسلام کے روز اول سے اب تک حالات کے اندر کوئی تبدیلی ہی واقع نہیں ہوئی اور بعد کے ادوار میں اسلام دنیا کے جن جن خطوں تک پہنچا وہاں اس زمانے سے لیکر اب تک حالات میں نہ تو کوئی تبدیلی پیدا ہوئی اور نہ ہی کوئی تغیر رونما ہوا ، لہٰذا احکام اسلام میں بھی نسخ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور یہ خیال سرا سر باطل ہے۔  اور لطف کی بات یہ ہے کہ غلام احمد پرویز اپنی اسی کتاب ‘‘لغات قرآن کے صفحہ 1609 کے آخری پیراگراف کی آخری سطر میں لکھتے ہیں ‘‘تنزیل وحی میں یہ اصول (یعنی بعض مسائل کی تنسیخ) بھی کار فرما رہا ہے۔(لغات القرآن ۔ ص 1609– مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام)’’ ،  اور پھر آگے خود ہی لکھتے ہیں ‘‘یہ حقیقت اپنی جگہ رہتی ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں جو منسوخ ہو ۔ اس غیر متبدل صحیفہ آسمانی کا ایک ایک حرف اپنے مقام پر اٹل ہے اوراٹل رہے گا (لغات القرآن ۔ص 1613)’’۔ شاید  ان کے نزدیک قرآن ‘‘وحی منزل’’ نہیں ۔  یا للعجب!

 
Abrogation in Quran, Part-7  مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-7 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

اپنی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر آیت تنسیخ کا معنیٰ بیان کرتے ہوئے غلام احمد پرویز صاحب لکھتے ہیں ؛ ‘‘سورت بقرہ میں سابقہ انبیائے کرام کے سلسلے میں وحی کے متعلق ہے مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا (البقرہ آیت نمبر 106)۔ ہم جس سابقہ حکم کو منسوخ کرتے ہیں تو اس کے بعد اس سے بہتر حکم دے دیتے ہیں اور جسےعلی حالہ چھوڑ دیتے ہیں تو اس جیسا حکم دوسرے نبی کی وحی میں دے دیتے ہیں ۔ اسی طرح سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَ (سورہ الاعلی آیت نمبر 6)کے معنیٰ یہ ہیں کہ ہم اس وحی کو اس طرح محفوظ رکھیں گے کہ تو اس میں سے کسی بات کو بھی چھوڑ نہیں سکے گا ۔ اس میں سے کچھ بھی چھوڑنے نہیں پائے گا ۔ سب ایک جگہ جمع ہو جائے گا۔ (صفحہ 1618-1617)انہوں نے قرآن کی ان آیات کریمہ کا یہ عجوبہ ترجمہ کیوں کیا اسے سمجھنے کے لئے ان کی درج ذیل تشریح بلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیں ؛

 

دت حسینی برہمن ، ہندو برہمنوں کا ایک ایسا طبقہ ہے جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی محبت اور عقیدت کا ثبوت میدان کربلا میں دیا اور شہادت حسین کے بعد یزیدکے خلاف مہموں میں سرگرم حصہ لیا اور یزیدیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے میں اہم حصہ ادا کیا مگر ان کی قربانیوں کو اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ انہیں اسلامی تاریخ میں قابل قدر مقام دیاجائے ۔ایک دت حسینی برہمن راہب دت نے اپنے سات بیٹوں کو کربلا میں قربان کردیا اور شہادت حسین کے بعد مختار ثقفی کے ساتھ یزیدیوں کے قلع قمع میں حصہ لیا۔

 
Abrogation in Quran, Part-6   مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-6 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

اسی سلسلے میں ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا (اور یہ اعتراض بڑا اہم تھا) کہ جب خدا نے انبیائے سابقین (مثلا حضرت موسیٰ علیہ السلام وغیرہ) پر اپنے احکام نازل کر دیے تھے ، اور وہ احکام تورات وغیرہ میں موجود ہیں۔ تو پھر ان کی موجودگی میں اس نئے رسول اور نئے نبی کی ضرورت کیا تھی؟ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ خدا کی طرف سے سلسلہ رشدوہدایت حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے سے مسلسل چلا آ رہا ہے۔ لیکن اسکی صورت یہ رہی ہے کہ مختلف انبیاء کی وساطت سے جو وحی بھیجی جاتی تھیں ان میں ایک حصہ ان احکامات پر مشتمل ہوتا تھا جو وقتی ہوتے تھے اور ان کا تعلق خاص اسی قوم سے ہوتا تھا جس کی طرف وہ احکام بھیجے جاتے تھے۔

 
Abrogation in Quran, Part -5  مسائل تنسیخ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part -5 مسائل تنسیخ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

نیز حرمت والے مہینوں میں قتال کا منسوخ ہونا ان آیات سے بھی واضح ہے،وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ترجمہ: ‘‘اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے’’۔ (سورہ التوبہ آیت نمبر 36) ۔(ترجمہ؛ کنز الایمان)  فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ ترجمہ: ‘‘تو مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ’’۔ (سورہ التوبہ آیت نمبر 5)۔ (ترجمہ؛ کنز الایمان) اس کی توضیح کرتے ہوئے آپ مزید لکھتے ہیں ، سورۃ توبہ کی پہلی آیت میں اشخاص کا ‏ عموم ہے اور دوسری آیت میں امکنہ (مقامات) کا عموم ہے، یعنی ہر مشرک کو ہر جگہ قتل کردو اور اشخاص اور امکنہ کا عموم ازمنہ (زمانوں) کے عموم کو بھی مستلزم ہے ، یعنی ہر وقت ہر زمانہ میں ان کو قتل کردو اور یہ آیات حرمت والے مہینوں میں قتال کی ممانعت کی ناسخ ہیں۔

 
Abrogation in Quran, Part-4   مسائل تنسیخ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-4 مسائل تنسیخ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

فن تفسیر میں یہ ایک بڑی معروف بات ہے کہ اکثر مستند اور معتمد مفسرین جہاں دیگر اکابر مفسرین ، محدثین اور اصولین کی تفاسیر سے استفادہ کرتے ہیں وہیں اپنے مبلغ علم ، اپنے موقف ، اپنے مسلک اور اپنے نظریات کے مطابق اپنی تفسیر میں دیگر مفسرین اور محدثین کی رائے کو ایک دوسرے پر دلائل کے ساتھ ترجیح بھی دیتے ہیں اور اپنا موقف بھی پیش کرتے ہیں ، حتیٰ کہ بعض مسائل اکابر سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا ایک منفرد نظریہ بھی قائم کرلیتے ہیں جنہیں اس فن میں ان کا تفرد مانا جاتا ہے یعنی وہ ان کا انفرادی نظریہ ہوتا ہے جسے دیگر مفسرین یا اہل علم چاہیں تو تسلیم کر لیں یا چاہیں تو ان سے اختلاف کریں یا پھر دلائل کے ساتھ ان کا رد کریں یا پھر اس پر توقف اختیار کریں۔

 

اسلام شرک کو پسند نہیں کرتا لیکن ساتھ ہی ساتھ قرآن نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ بت پرستوں اور مشرکوں کے ساتھ ہمارا کردارو اخلاق کیسا ہونا چاہیے۔  قرآن کہتا ہے: ‘‘اور انہیں گالی نہ دو وہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں کہ وہ اللہ کی شان میں بے ادبی کریں گے زیادتی اور جہالت سے یونہی ہم نے ہر اُمت کی نگاہ میں اس کے عمل بھلے کردیے ہیں پھر انہیں اپنے رب کی طرف پھرنا ہے اور وہ انہیں بتادے گا جو کرتے تھے۔’’(6:108)

 
Abrogation in Quran, Part-3   مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-3 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر مفسرین کے نزدیک آیت سیف ان ابتدائی مکی آیتوں کی ناسخ ہے جن میں کفار مکہ کی زیادتیوں پر صبر و ضبط کا حکم دیا گیا تھا۔ اپنے اپنے موقف پر ہر مفسر کی اپنی ایک دلیل ہےجنکا ہم انشاء اللہ اسی سیریز میں جائزہ لیں گے۔ علامہ غلام رسول سعیدی صاحب مزید لکھتے ہیں:‘‘ہمارے نزدیک قرآن مجید کی ان بارہ آیتوں کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور ان کے علاوہ وہ آیتیں ہیں جن میں بنوت کے ابتدائی دور میں کفار کی زیادتیوں کے مقابلے میں صبر و ضبط سے کام لینے کا حکم دیا گیا تھاپھر آیت سیف نازل ہونے کے بعد ان کا حکم منسوخ ہو گیا’’۔ (مقدمہ تبیان القرآن صفحہ 80)

اعلی حضرت اپنی کتاب مقال العرفا میں لکھتے ہیں: ‘‘امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : وما اتخذ اللہ ولیا جاھلا  یعنی اللہ نے کبھی کسی جاہل کو اپنا ولی نہ بنایا یعنی بنانا چاہا تو پہلے اسے علم دے دیا اس کے بعد ولی کیا کہ جو علم ظاہر نہیں رکھتا علم باطن کہ اس کا ثمرہ و نتیجہ ہے کیونکر پا سکتا ہے ،  حق سبحانہ تعالی کے متعلق بندوں کے لیے پانچ علم ہیں: علم ذات ، علم صٖفات، علم افعال ، علم اسماء، علم احکام ۔ ان میں ہر پہلا دوسرے سے مشکل تر ہے جو سب سے آسان علم احکام میں عاجز ہوگا سب سے مشکل علم ذات کیونکر پا سکے گا ۔۔۔’’

 

اس بڑھتی ہوئی اسلامزم کی  انتہا پرستی کے حوالے سے سرد مہری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کچھ اعلی تعلیم یافتہ مسلم اب یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ، ‘‘کیا ہوا اگر ایک سال کے اندر 86 ممالک سے تیس ہزار مسلمانوں نے اسلامی ریاست میں شمولیت اختیار کی؟ 1.7 بلین لوگوں کی برادری میں ان کی شرح کتنی ہے؟! اس قدر چھوٹی اور محدود تعداد کو بڑھتی ہوئی انتہاپسندی کے ثبوت کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے؟’’۔ عقل حیران ہے  کہ ایسے مفکرین اور اہل علم کو کیسے جواب دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان کو یہ لگتا ہے کہ ایک انسانی بم کی شکل میں مسجد کے اندر جانے اور خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو دوران نماز دھماکے سے اڑا دینے پر خدائی انعام حاصل ہوگا ، تو امت کے لیے یہ ضرور لمحہ فکریہ ہے  کہ ہمارے مذہب میں ایسا کیا ہے جس کی آڑ میں  دھشت گرد تنظیمیں اس طرح کے گھنونے جرائم کا ارتکاب کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، کیا ایسا کرکے وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔امت کے لیے یہ یقینا غور کا مقام ہے ۔ امت کو سوچنا چاہیے  کہ تشدد  میں نمایاں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، حتی کہ دہشت گردانہ جرائم  کے سینکڑوں واقعات کے باوجود بھی ہم بے حسی کی زندگی گزار رہے ہیں، ہر روز دنیا کے کسی نہ کسی حصہ سے  دہشت گردی کے واقعہ کی خبر ملتی ہے لیکن ہمیں اس کی فکر کہاں ، ہمیں تو بے حس ہی بنے رہنا ہے !!

 

آیت(60:8) کے بارے میں اکثر مفسرین کی مسلمہ رائے یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور یہ منسوخ نہیں ہوئی۔ ان آیتوں میں مسلمانوں کو مشرکوں اور کافروں سمیت تمام غیر مسلموں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے سے منع کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ مسلمانوں کو ان مشرکوں اور کافروں سمیت غیرمسلموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو مذہب کے معاملے میں مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتے اور مسلمانوں کے ساتھ امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔

 
Abrogation in Quran, Part-2   مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-2 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

دلیل کی تقریر یہ ہے کہ اگر سنت قرآن کی ناسخ ہو تو اس سے لازم آئے گا سنت قرآن کی مثل ہو یا اس سے افضل ہو، اور یہ محال ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ سنت کے الفاظ اور نظم قرآن کی مثل نہیں ہوسکتے اور سنت کے ناسخِ قرآن ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ قرآن کے عموم اور اطلاق کی تقیید کرتی ہے اور سنت متواترہ سے ثابت ہونے والا حکم بھی اسی طرح قطعی ہے جس طرح قرآن قطعی ہے۔ نیز ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ سنت بھی وحی الہی ہے، اس لیے درحقیقت منسوخ کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقط مبلغ اور معبر ہیں۔

 

اگر کوئی شخص صرف رضائے الہی کی خاطر اللہ کی عبادت کرے اس طرح کہ ا س کے خیال میں صرف اور صرف رضائے الہی کا حصول بس جائے اور مرتبہ سلوک کی اس منزل پر پہنچ جائے جہاں اسے رضائے الہی کے علاوہ کوئی دوسرا خیال نہ آتا ہو تو یہ ضرور بہتر ومستحسن ہے اور یہی عبادت کا اصل مقصود ہے ۔

 
Abrogation in Quran, Part-1   مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-1 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

نسخ سے متعلق عام مفسرین کے قول پر اعتماد نہیں کیا جائے گا اور نہ بغیر کسی نقل صریح کے مجتہدین کے اجتہاد پر عمل کیا جائے گا، کیوں کہ نسخ میں کسی ایسے حکم کو اٹھا لینا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ثابت تھا اور اس کی جگہ کسی دوسرے حکم کو ثابت کرنا ہے اور اس میں نقل اور تاریخ پر اعتماد کیا جاتا ہے نہ کہ رائے اور اجتہاد پر ، نسخ کے ثبوت میں علماء کا اختلاف ہے، بعض علماء کہتے ہیں کہ نسخ میں اخبار احاد صحیحہ بھی معتبر نہیں ہیں اور بعض علماء اس میں تساہل کر کے یہ کہتے ہیں کہ مفسر یا مجتہد کے قول سے نسخ ثابت ہو جاتا ہے ، اصل میں یہ دونوں قول افراط اور تفریط پر مبنی ہیں۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Naseer sb., The important thing is not whether you are quoting from the Bible.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • "The only solution is to liberalise Turkey, to make....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • What the Pakistanis did to Abdus Salam should put all Muslims to shame.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • True, we should respect all prophets equally. We should also listen....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Jesus – Was He God? Many times Jesus referred to His own deity, both....
    ( By jeff allen )
  • Now will be in their list.
    ( By KLD )
  • Not to despise wisdom, since Quran 2:269 mentions God is the one to grant wisdom and wealth to whom he wills....
    ( By zuma )
  • Muslims should treat those Muslim women who wear or do not wear hijabs with equal status. Muslim men....
    ( By zuma )
  • There is nothing new in GM sb’s comment. He is simply repeating himself as he always does. GM sb says ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Let's give a bad scenario that Quran 9:5 was written after the Meccans had converted to Muslims, Quran....
    ( By zuma )
  • AAP KHUD KO MANWAKAR SHARMINDA NAHI HO RAHE THE ....
    ( By Anjum )
  • Recently, the Secretary of the Publications (Tasneefi Academy) at Jamaat-e-Islami Hind Maulana Muhiuddin Ghazi...
    ( By GRD )
  • WHAT IS ZAIDI SHIA? WHAT IS ITHNA ASHARI SHIA?...
    ( By Tah )
  • There is no such thing as mentioned in Satish's comment.
    ( By GGS )
  • Mr. Satish you say, "9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam"....
    ( By GGS )
  • 9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam, so the question of fighting ...
    ( By Satish )
  • According to Quran 4:19, men cannot inherit women against their will. The following is the extract: An-Nisa (The Women....
    ( By zuma )
  • Quran 4:124 mentions clearly only those who believe in Allah and do good deeds to paradise instead...
    ( By zuma )
  • How about Quran 2:246. Al-Baqara (The Cow) - 2:246 [read in context] أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ ...
    ( By zuma )
  • Malaysia is already lost, one of my Buddist left Malaysia long long ago due to bad treatment to other faiths follower'
    ( By Aayina )
  • To Sultan Shahin & Zuma 100 chuhe Kha ke Billi haj Ko Chali. Forcefully...
    ( By Aayina )
  • Zuma do play interpretation interpretation game, Suktan Shahin does same, misleads to all other who are not believing in your book.' ...
    ( By Aayina )
  • Mr Zuma you are using the word fight though the Arabic word I'd jahd or jahadu or yujahiduna or ....
    ( By Arshad )
  • What would be the consequence if the word, fight, in Quran 2:193 to be....
    ( By zuma )
  • If the word, fight, in Quran 2:190 has to be confined to the word, struggling, what....
    ( By zuma )
  • Hats Off is now babbling utter nonsense! He never advances any rational....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A reasonable rebuttal of Jehadi attempts to hijack the Quran.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The article looks sarcastic and contemptuous.There...
    ( By Syed Mohamed )
  • @Syed Mohamed If you indeed consider concerns at the unduer harassment....
    ( By Abhijit Mukherjee )
  • @Syed Nizamuddin Kazmi A foolish article for cheap popularity
    ( By Syed Mohamed )
  • A sane Islamic voice at last.'
    ( By Radharao Gracias )
  • YE DAR ACHCHHA HAI.'
    ( By Gautam Ghosh )
  • Islam is religion of Terrorism see the history...
    ( By Prashant Surani )
  • @Paul Jeyaprakash what would you say about RSS hooliganism and Modi's views over Kashmir issue?....
    ( By Hafeez Niazi )
  • O fine let us discuss debate truth will come one day'..
    ( By Rafiqul Islam )
  • Holy BIBLE, Colossians 2: V 8. Beware lest anyone cheat you through....
    ( By Agnelo Diaz )
  • @Shaik Abdul Hameed yeah except you everyone is a fool that how...
    ( By Dominic Richard )
  • @Rajiv Engti I am very sorry. The whole system lives in Myth...
    ( By Shaik Abdul Hameed )
  • @ Shaik Abdul Hameed change your mentality...
    ( By Rajiv Engti )
  • Please think about world's terrorists activity, you will observe more or less....
    ( By Siddhartha Banerjee )