certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

یہی معاملہ زندگی کے ساتھ بھی۔ ہم سب اس دنیاں میں کئی سالوں سے زندگی گذار رہے ہیں اور طرح طرح کی مشغولیات میں مصروف ہیں اور آخر کار اب ہماری زندگی کا سفر اختتام کو پہنچنے والا ہے ، لہٰذا، ایک طویل سفر پر نکلے ہوئے ٹرین کے ان مسافروں کی طرح جو اب اپنے منزل پر پہنچنے والے ہیں ، ہمیں بھی  ارد گرد بکھرے ہوئے اپنے ساز و سامان کو سمیٹنے کا عمل شروع کرنا ضروری ہے۔

 

عسکریت پسندوں کے بیانیہ میں ایک بات یہ بھی آتی ہے کہ وہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ذاتی طور پر سطح پر شدید ذلت اٹھا چکے ہیں۔ عیسی کے ساتھ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔ نہ ہی اسے کوئی اذیت پہنچائی گئی اور نہ ہی اس کا کبھی سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ تصادم کا کوئی معاملہ سامنے آیا ہے۔ لہٰذا، عسکریت پسند اسلام کی طرف اس کا رخ کرنا ایک مکمل ذاتی سطح پر مذہنی نظریہ میں تبدیلی کا نتیجہ ہے جو کہ وادیٔ کشمیر کے اندر بہت سے لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث رہاہے۔

 
Death Is an Inevitable Leap into the Unknown  موت ایک ناگزیر حقیقت ہے
Maulana Wahiduddin Khan
Death Is an Inevitable Leap into the Unknown موت ایک ناگزیر حقیقت ہے
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

شاید گراہم نے اسے دلاسہ دینے کے لئے کچھ حکمت بھرے الفاظ کہے ہوں گے اور اس کا المیہ ٹل گیا ہوگا، لیکن یہاں میں موت کا قرآنی نقطہ نظر پیش کرنا چاہوں گا۔ قرآن کے مطابق انسانی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے - موت سے پہلے کا مرحلہ اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کے مرحلے میں موجودہ دنیا کی زندگی شامل ہے۔ ایک سروے کے مطابق اس دنیا میں اوسطاًایک شخص کی زندگی 70 سال ہے۔ اور موت کے بعد کا دور زندگی کا ایک دوسرا مرحلہ ہے ، جو کہ ابدی ہو گی۔

 

گزشتہ چند سالوں کے دوران انتہائی عجیب و غریب خیالات کی حامل شدت پسند تنظیموں کی ایک نئی شکل جو کہ شمال ہند کے مسلم جماعتوں اور ان کے افکار و نظریات سے بالکل مختلف ہے، ظہور پذیر ہوئی ہے۔ کیرل میں "ندوۃ المجاھدین"، تامل ناڈو میں "جماعت التوحید"، حیدرآباد میں "جمعیت المفلحات" اور بنگلور میں "ڈسکور اسلام ٹرسٹ" اور ان کے علاوہ متعدد ایسی تنظیمیں وجود پذیر ہوئی ہیں، جن کا آن لائن مواد نظریاتی سطح پر انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے، جو کہ بغیر تحقیق و تفتیش کے مسلم نو جوانوں کو مسلسل فراہم کیا جارہا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ نے دہشت گردی کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اسے ایک مخصوص خطے سے منسوب کرنے کی بھی کوشش کی یہ فرض کرتے ہوئے کہ اس مخصوص خطے کے لوگ اسلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ دہشت گردی ایک ایسا فعل ہے جو اس کے فاعل یعنی انسان سے سرزرد ہوتا ہے اس سے قطع نظر کہ اس کا رنگ یا عقیدہ کیا ہے، یہ فعل بد نیتی اور فرسودہ انتخاب کا شاخسانہ ہے اور یہ صفات انسانی  ہیں اور بطور انسان سب میں پائی جاتی ہیں چاہے اس انسان کا تعلق کسی بھی نسلی گروہ، مذہب، جماعت یا فرقے سے ہو۔

 

بابری مسجد مقدمے کی کیفیت اب ایک ایسی کشتی کی ہے جس کے خدا کے فضل سے درجنوں کھیون ہار ہیں ، لیکن جس کے کسی ساحل سے لگنے کی امید نہیں لیکن کیونکہ ہر شخص ایک مختلف سمت میں چپو چلارہا ہے ۔ اب نہایت شدّت سے اس بات کی ضرورت کہ کچھ ذمہ دار قانون داں حضرات یا کوئی تنظیم اب تک کم از کم سپریم کورٹ میں ہوچکی کارروائی کو قوم کے سامنے لائے اور آئندہ کاروائی کو زیر جائرہ (monitor) کرے۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو  اکثر قیام فرماتے اور اللہ تعالی کی عبادت  میں مشغول رہا کرتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ترجمہ : ’’کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ (صحیح مسلم)

11/9 حادثے کے 17 سال بعد بھی اسلام کے نام پر دہشت گردی کے خاتمے کے کوئی آثار ظاہر نہیں ہوتے۔ عراق اور شام میں نام نہاد داعش کو اگر چہ شکست ملی ہے، لیکن افریقہ اور جنوبی ایشیا میں یہ فروغ پا رہا ہے۔ بہت سے طالبان دہشت گرد اب داعش میں شامل ہو کر افغانستان میں تباہی مچا رہے ہیں۔ مصر کی جدید تاریخ میں انجام دئے جانے والے ایک انتہائی شدید ترین حملے میں داعش کے دہشت گردوں نے نومبر 2017 کو ایک صوفی مسجد کو نشانہ بنایا جس میں صرف 800 آبادی والے شہر کے 305 افراد ہلاک ہوئے اور 128 افراد زخمی۔ اس حملے کا شکار ہونے والے لوگ بنیادی طور پر صوفی مسلمان تھے۔ صوفی مزارات اور ان کے زائرین کو دنیا بھر میں اسلام پسند دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں، اور خاص طور پر پاکستان، لیبیا، مالی اور ایران میں ہزاروں افراد کی جانیں تلف کر رہے ہیں اور مزارات مساجد اور لائبریریوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ان سب کے باوجود ہمیں مسلم لیڈروں سے اسلام پسند دہشت گردی کے خلاف صرف زبانی بیان بازیاں ہی سننے کو ملتی ہیں۔ اسلامی فقہی تعلیمات کو مطلق العنانیت ، دوسروں سے نفرت ، عدم روادار ی اور جارحانہ جہاد کے ذریعے اسلامی رقبے میں اضافہ کرنے کے ایک تاریخی محرک سے پاک کرنے کے لئے کوئی ٹھوس عمل قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ کم از کم صوفی مسلمان، جو ایک طویل عرصے سے جہادی نظریہ کا شکار رہے ہیں ، جو کہ جدید خارجی سلفیت کی ہی ایک شاخ ہے - اپنا محاسبہ کریں گے اور اپنی فقہی تعلیمات کا جائزہ لیں گے اور انہیں سیاسی اسلام کے عناصر سے پاک کریں گے۔

 

آیت 2:190 سے حاصل شدہ نکات کی تلخیص اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ آیت سب سے پہلی بار جنگ کی اجازت میں نازل ہوئی ہے۔ محکم آیت ہونے کی وجہ سے یہ دفاعی جنگ کے لئے اصول و ہدایات کا تعین کرتی ہے اور ہر قسم کے ظلم و زیادتی سے روکتی ہے۔ 21 ویں صدی میں لوگوں نے پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور امن معاہدوں کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ خاص قوانین وضع کر رکھے ہیں، لہٰذا، کسی بھی امن پسند کے خلاف جنگ شروع نہیں کی جانی چاہیے۔

 

لہذا، مسلم معاشرے کے دانشورانہ حلقے میں ان کے اس اہم بیان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ چنئی کے اسلامی فورم برائے فروغ اعتدال پسند نظریات کا کہنا ہے کہ : "ہندوستانی اسلام قرآنی اسلام کی بہترین تفسیر ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا ہمیشہ سے یہ ماننا رہا ہے کہ اسلام اتحاد پسند ہے۔ یہ کانفرنس اسی عقیدے یاددہانی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہی وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہندوستانی مسلمان بالکل ہی بنیاد پرستی کا شکار نہیں ہوئے ہیں۔"

 

مسلمانوں کو اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور انہیں اپنی سیاسی ترجیحات کے بارے میں گہرے تفکر و تدبر کے ساتھ کام لینا ہوگا۔ انہیں خود سے یہ سوال بھی کرنا ہو گا کہ آیا ان کے اس فقہی نظریہ میں کوئی خامی تو نہیں ہے جس پر وہ اب تک عمل پیرا ہیں۔ اگر مسلم معاشرہ جدیدیت کے بارے میں اپنے نوجوانوں کو تعلیم یافتہ کرنے میں تردد کا اظہار کرتا ہے اور لاکھوں چھوٹے بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتا ہے تو یقین کر لیں کے خامی خود ہمارے اندر ہے۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ خود ایک ملک کے نظریہ کے ساتھ مسلم فقہ کا تعلق پیچیدگی کا شکار ہے۔

 

جو شخص ان چار اسلامی فقہی مذاہب (حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی)، یا دو شیعی اسلامی فقہی مذاہب (جعفری اور زیدی)، یا عبادی یا ظاهري میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرتا ہے وہ مسلمان ہے۔ اس شخص کو مرتد قرار دینا ناجائز ہے۔ بے شک اس کا خون، اس کی عصمت اور ملکیت حرام ہے۔ اس کے علاوہ، شیخ الاظہر کے فتوی کے مطابق، یہ نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی جائز ہے کہ اشعری عقیدے کو ماننے والوں یا حقیقی تصوف پر عمل کرنے والوں کو مرتد قرار دیا جائے۔

 

اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے کہ ہندوستان متعدد مذہب و ثقافت کا روادار ہے وزیراعظم مودی نے کہا کہ ، "ہندوستان میں ہر مذہب کا جنم ہوا ہے اور یہاں اسے فروغ بھی حاصل ہوا ہے۔ ہر ہندوستانی کو اس پر فخر ہے، اس سے کوئی فرق نہیں کہ وہ کونسی زبان بولتا ہے، اس کا مذہب کیا ہے، وہ مندروں میں دیہ روشن کرتا ہے یا مسجدوں ، گرجا گھروں یا گرودواروں میں عبادت کرتا ہے۔"

 
Respecting All Religions  تمام مذاہب کو احترام سے نوازنے کا تصور
Maulana Wahiduddin Khan
Respecting All Religions تمام مذاہب کو احترام سے نوازنے کا تصور
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

دنیا میں ہزاروں دیگر مذہب اور فرقوں کے علاوہ تقریبا درجن بھر بڑے مذاہب بھی ہیں۔ اس صورت میں اختلافات اور عدم موافقت کا پیدا ہونا ناگزیر ہے جو کہ تنازعات کا باعث بنتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کس طرح ان تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک اتحاد کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں، تاکہ ہم سب امن اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں؟

 

‘‘اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور یہ بات صریحاً غلط ہوگی کہ دہشت گردی اور پر تشدد انتہا پسندی کے لئے کسی طور اسلام کو قصور وارٹھہرایا جائے۔ مذہب اسلام اپنے ماننے والوں کو امن اور سلامتی کا درس دیتاہے جبکہ دہشت گردی یا پرتشدد انتہا پسندی چند افراد کا ذاتی قبیح فعل ہے۔ یہ ذاتی عناصرہی ہیں جو مذہب کا نام لیکر دنیا میں تباہی، قتل عام اور بربادی پھیلارہے ہیں جس کی مذہب ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

 

سوچنے والے دماغ کے علاوہ ان کے پاس ایک حساس دل بھی تھا۔ وہ ایک بہتر وکیل تھیں کیونکہ وہ سن سکتی تھیں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے متاثرین کے درد کو محسوس کر سکتی تھیں۔ ان کی وراثت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی معاشرہ معاملہ فہم، با کردار اور نظریہ مساوات کے حامل افراد پیدا کرسکتا ہے۔

 

مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنی ثقافت کو فروغ دیں گے، مذہبی اور غیر مذہبی گانوں کو سنیں گے اور خوبصورت قوالیاں گنگنائیں گے۔ اسلام ان کو تعلیم دیتا ہے کہ فیصلہ کرنا صرف خدا کے اختیار میں ہے اور ہر مسلم اپنے اعمال کا ذاتی طور پر خود جوابدہ ہے۔ اگر خدا نے مسلمانوں کے معاملات کی نگرانی کرنے کے لئے علماء کو مامور نہیں کیا ہے تو وہ علماء خود کو اس پر مامور کرنے والے کون ہوتے ہیں؟

 

حالات حاضرہ میں طلاق ثلاثہ کا موضوع پورے ملک میں ہی چھایا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت اس بہانے ہمارے پرسنل لاء میں دخل دینے کے فراق میں ہے۔ لہٰذا اس کے سدباب کے لیے ہمیں اپنے اپنے مسلک و فرقہ سے اوپر اٹھ کر قرآن کی رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ نکاح ،طلاق اور وراثت کے معاملات چونکہ ہمارے اسلامی معاشرے سے سیدھے طور پر جڑے ہوئے ہیں، لہٰذا ان تینوں معاملات سے متعلق احکامات قرآن میں نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں۔ وراثت او رنکاح سے متعلق جہاں سورۃ نساء او رسورۃ نور میں مکمل تفصیل موجود ہے وہیں طلاق کے معاملہ کو سب سے اہم مانتے ہوئے اس کے لیے ’ سورۃ طلاق‘ نام کی ایک مکمل سورۃ قرآن میں موجود ہے۔ اس کی پہلی کچھ آیتوں کے مفہوم ملاحظہ فرمائیں۔

 

آج ازہر اور مصر کی وزارتِ اوقاف اس وہابی اسلامی بیانیے کو روکنے اور منبر کے خطبوں کی تجدید کے لیے کوشاں ہیں تاہم تین چوتھائی صدی گزرنے کے بعد تکفیری فکر کا پھیلاؤ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اس کا  خاتمہ کسی روایتی طریقے سے ممکن نظر نہیں آتا، مصر سمیت بیشتر عرب واسلامی ممالک میں لوگ غیر مسلموں کے لیے کی گئی بد دعاء نہ صرف سننے کے عادی ہوچکے ہیں بلکہ اس کے پیچھے ❞آمین❝ کہنا اب فرض سمجھنے لگے ہیں،۔

 

جدید آئینی ریاست مذہبی تنازعات کا تصفیہ نہیں کر سکتی اس لئے کہ وہ اس کے لئے مجاز نہیں ہے کیوں کہ وہ خدا نہیں ہے۔ اسے مذہب کو لوگوں کے لئے چھوڑدینا چاہیے اور لوگوں کے اپنے اپنے شعور کے مطابق ایمان و عقیدے کے انفرادی حق کا احترام کرنا چاہئے۔ دریں اثناء اسے انتخابی معاملہ بنانے سے صرف انسانی حقوق کے مسئلے میں تنازعات اور پیچیدگیوں کا اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں احمدی خوف و ہراس اور اکثر محاصرہ کی حالت میں رہتے ہیں۔

 
The Existence of God  خدا کا وجود
Maulana Wahiduddin Khan
The Existence of God خدا کا وجود
Maulana Wahiduddin Khan, Tr. New Age Islam

درحقیقت، خدا پر ایمان لانا کسی کے خود اپنے وجود کا یقین کرنے سے مختلف نہیں ہے۔ خدا پر ایمان لانا بے شک تخیل کی ایک غیر معمولی مہارت ہے، لیکن یہ انسان کے وجود کا اقرار کرنے سے زیادہ غیر معمولی نہیں ہے۔ ایک بار جب کسی نے ایک غیر معمولی رجحان کو قبول کر لیا تو ایک اور کو قبول کرنے سےکچھ بھی مانع نہیں ہے۔

 

ایک مسلم مفکر اور عوامی مقرر ڈاکٹر علی کلاسیکی حدود کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ "لوگوں کو نیکی " کی دعوت دینے کے ‘‘دوسرے طریقے بھی ہیں’’۔ اپنے یوٹیوب ویڈیو میں ہاتھ کاٹنے کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں:".....بہت سے لوگ یہ سوچیں گے..... کہ یہ قرآن میں بیان کردہ خدا کا قانون ہے۔ لہٰذا، اس کا انطباق ہر زمانے میں ضروری ہے۔ لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہے..... لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ جدید دور میں کہ جب انسانی جسم کی حفاظت پر اتنی توانائی صرف کی جا رہی ہے ...... اس طرح کے قانون کا نفاظ بے معنی ہوگا۔ "

 

مسلم لیڈروں کے مندرجہ بالا اور بہت سی دیگر عادتیں یہ تاثیر دیتی ہیں کہ مذہب اسلام ہی اس کے پیروکاروں کے درمیان اس برے کردار کا اصل سبب ہے۔ اور اگر مسلم ممالک میں اسلام کے نام پر مسلمانوں کی کارستانیوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس نقطہ نظر کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایسے عینی شواہد ہیں کہ جن سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

اللہ تعالی نے انسانوں کے باہمی تعلق کو الفت وبھائی چارے پر مبنی قرار دیا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ (مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں) الحجرات 10، اور اس تعلق کو تعصب، غصے اور نفرت سے پاک قرار دیا ہے: إِنَّ اللّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِيتَاء ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ (اللہ انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو خرچ سے مدد دینے کا حکم دیتا ہے۔ اور بےحیائی اور نامعقول کاموں سے اور سرکشی سے منع کرتا ہے) النحل 90، سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر مبنی تھی۔

 
A Different Perspective on Valentine  ویلنٹائن پر ایک مختلف نقطہ نظر
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam
A Different Perspective on Valentine ویلنٹائن پر ایک مختلف نقطہ نظر
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam

ان جماعتوں کے لئے پاک یا بے داغ محبت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی کے درمیان تعلق ہے خواہ وہ تعلق دوستی کا ہو، خواہ وہ کسی قسم کی رفاقت کا ہو یا وہ ہم منصب ساتھی ہوں؛ اس میں شہوت اور جسمانی لذت کا عنصر ضرور شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ محبت کے عوامی سطح پر اظہار پر مکمل طور پر پابندی لگا دیا جانا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ اخلاقی پولیس یا رومیو جولیٹ چیکنگ دستہ کے نام سے غنڈوں کی غیر منظم فوج کو اس بات کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ اگر وہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو عوامی مقامات پر گھومتے پھرتے ہوئے یا کسی ریستوران میں بات چیت کرتے ہوئے دیکھیں تو انہیں ہراساں کریں اور زد و کوب کریں ۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )