certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

یہ زہریلے صہیونی پروپیگنڈے کا یہ نتیجہ تھا کہ امریکہ کی یہودی لابی نے امریکہ کو عراق پر حملہ کرنے پر راضی کرلیا۔ یہ مجروح مسلمان سوچ پر ایک اور ضرب تھی ۔دنیا بھر کے مسلمان خواہ صدام حسین کے ہمدردنہ بھی ہوں، لیکن انہیں یقین تھا کہ امریکہ کا  حملہ بالکل غلط اور غیر اخلاقی تھا۔ امریکہ اور مغربی دنیا سے مسلمانوں کی خفگی اور بڑھ گئی۔ بالکل اسی طرح عالمی پیمانہ پر مسلمانوں کی اکثریت جڑواں ٹاورس کی تباہی پر غمزدہ تھی اور اسے بالکل غلط اور ناعاقبت اندیشی پر محمول حرکت خیال کرتی تھی، لیکن  مغربی دنیا جس طرح اور جن نعروں کے ساتھ (صدر جارج بش نے اسے ‘‘صلیبی جنگ’’ تک کہہ دیا تھا)حملہ کیا تھا، مسلمان اس سے متفق نہیں تھے۔....

12ربیع الاول کو پوری دنیا میں جشن منایا جاتا ہے۔ اپنی عقیدتوں کے پھول اور محبت والفت کا اظہار برتی روشنی اور گھر ودیگر مقامات پر قمقمے لگا کر کرتےہیں۔ آپؐ کی مدح وثنا میں اپنی زبان کو ترکرنے اور آپ ؐ کی مقدس زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنانے کیلئے پوری دنیا میں فرزندان توحید اپنی عقیدت ومحبت کو اظہار کرنے کیلئے جلوس محمدیؐ نکا ل کر جشن مناتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح کرناٹک، تمل ناڈو، کیرالا سمیت دیگر ریاستوں میں بڑے ہی دھوم دھام سے 12ربیع الاول منایا جاتا ہے۔....

 

ہمارے ملک کے مختلف حصوں میں اپنے اپنے طریقہ سےجشن میلاد النبیؐ منایا جاتا ہے ان میں لکھنؤ اور پورے اودھ کا انداز جدا گانہ ہے۔ یہاں اس دن کچھ لوگ چراغاں بھی کرتے ہیں لیکن سڑکوں اور محلوں میں برقی قمقموں کو روشن کرنے کا عام رواج ہے۔ محافل میلاد کا اہتمام ہوتاہے تو گھروں میں درود وسلام کے نذر انے پیش کرنے کے علاوہ نعت پرھنے کا عام رواج ہے۔ ربیع الاول کا چاند نظر آتے ہی لکھنؤ کی فضائیں درود وسلام سے گونجنے لگتی ہیں۔ گھروں سے نعت پڑھنے کی آواز یں بلند ہونے لگتی ہیں۔....

 

میرے حساب سے برقع عورتوں کو تنہا کردیتا ہے یہ مذہب کی نہیں خواتین کی غلامی کی علامت ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ برقع تنازع کا مرکز بنا ہو چندسال قبل برطانوی وزیر جیک سٹرا نے اپنے مسلم ووٹرز سے کہا تھا کہ وہ خود کو نقاب کے پیچھے رکھنا ترک کردیں۔ برقع اور ہیڈ اسکارف متعدد یورپی ملکوں میں پہلے بھی باعث نزا ع بنا ہوا ہے اٹلی نے 2005میں اینٹی ٹیررزم کے تحت برقع پر پابندی لگاد ی تھی ، ترکی نے اسکولز ،کالج ، یونیورسٹیز اوردفاتر میں ہیڈ اسکارف کی ممانعت کی ہوئی ہے بلجیم کے پانچ شہروں میں اور جرمنی کی نوریاستوں میں ہیڈ اسکارف پر پابندی عائد ہے ۔اب جب کہ فرانس نے برقع پر مکمل پابندی کا قانون منظور کرلیا ہے تو میرے حساب سے تمام یورپ میں اس کے اثرات مرتب ہونے لازمی ہیں۔  اسد مفتی ایمسٹرڈم

 

ہم یہ بات پہلے بھی عرض کرچکے ہیں کہ 1813میں ہی برطانوی حکومت نے ایک لاکھ روپے سالانہ کی رقم ایسٹ انڈیا کمپنی کی پشت پناہی میں خرچ کرنی شروع کردی تھی اور یہ سلسلہ پھر نہیں رکا ،پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بھی 1955میں USAIDنے 10ملین ڈالر کے لگ بھگ پاکستان سے مشہور بزنس انسٹیٹیو ٹ کے بنیاد رکھی جس کا نام IBA ہے ۔ آج IBA کے طرز پر پاکستان میں بے شمار تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں جن کو مغرب کے فریب زدہ آنکھیں بڑی قابل ستائش نظروں سے دیکھتی ہیں۔....

 

بے شک جامعہ ایک عظیم جدید اور سیکولر ادارہ ہے۔ یہاں ہمیشہ سے لڑکے لڑکیاں، ہندو مسلمان اور امیر وغریب ہر طبقہ کے لوگ ساتھ ساتھ پڑھتے رہے ہیں ، لیکن آپ اگر سرکوزی سے سیکولر ازم اور عظمت کردار کا درس لے رہے ہیں اور لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ اختلاط او ر عریانیت اگر آپ کے نزدیک ماڈرن اور سیکولر ہونے کی لازمی شرط ہے، تو یہ جامعہ کی تاریخی عظمت کے منہ پر بھی طمانچہ ہے اور اس کے تابناک مستقبل کے لئے بھی خطرناک ۔ جامعہ عظیم اس لئے ہے کہ اس کا نصب العین عظیم ہے۔....

 

قوموں او رملکوں کو جنگی جنون میں مبتلا کردینا بہت آسان ہے لیکن انہیں امن وآشتی کا راستہ دکھانا ایک مشکل کام ہے۔ وہ لوگ جو آج کیمیائی ہتھیار وں یا ایٹمی اسلحے کی موجودگی پرفخر کرتے ہیں، یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق معاملات نہیں طے کیے گئے تو وہ ان ہتھیار وں کا استعمال کر گزر یں گے انہیں ذمہ دارانہ عہدوں پر نہیں، پاگل خانوں میں ہونا چاہئے۔....

 

جنگ ختم ہوئی تو جرمنی میں آئن اسٹائن کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر مہم چلائی گئی، جس میں اس کے نظر یہ اضافیت کو بھی رد کرتے ہوئے باطل قرار دیا گیا ۔ یہ صورت حال اس کے ساتھیوں اور  دوسرے پروفیسر وں کے لیے صدمے اور تکلیف کا سبب تھی۔ لیکن ا ن کی بزدلی آرے آئی اور وہ اس کے حق میں آواز اٹھانے کی ہمت نہ کرسکے۔ آئین اسٹائن کو ہجوم سے گھبرا ہٹ ہوتی تھی اور وہ لوگوں کو سامنا کرنے سے کتراتا تھا ۔....

 

پاگلوں کے اس وارڈ میں رہتے ہوئے بھی اگر ایتھر لے کا ذہنی توازن برقرار رہا اور اگر امریکی محکمۂ دفاع اسے آزاد کرنے پر مجبور ہوا تو اس کا سہرا آسٹریا کے فلسفی اور دانشور کنٹر اینڈ رز کے سر ہے جس نے امریکی ہفت روزہ ‘‘نیو ویک’’ میں ضمیر کی ملامت کے عذاب میں گرفتار میجر ایتھر لے کی قید کا قصہ پڑھا اور عالمی ضمیر کی عدالت میں اس کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا ۔کنٹر نے ایتھر لے کے نام پہلا خط 3جون؍ 1959کو اور آخری 11؍جولائی 1961کو تحریر کیا۔...

 

2009کا سال سوات ،مالا کنڈ ،دیر ،جنوبی وزیر ستان ،پشاور ،اسلام آباد، لاہور، پنڈی، اوکاڑہ، کامرہ اور دوسری متعدد بستیوں کو لاشوں کا تحفہ دیتا ہوا گزرا ہے۔ لیکن روز عاشور کراچی اور کراچی والوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ دہشت گر دوں کا ماسٹر اسٹروک ہے۔ انہوں نے جہاں شہر والوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ ادی ۔وہیں انہوں نے اس شہر کی اقتصادی اور معاشی سرگرمیوں پر بھی کاری ضرب لگائی۔ شہر خوف کے آسیب  کی گرفت سے تو شاید چنددنوں میں نکل آئے لیکن اس کی اقتصادی سرگرمیوں پر جو کاری ضرب  لگائی گئی ہے اس کے اثرات پہلے دن سے ملک کی معیشت پر مرتب ہونے لگے ہیں ۔...

ان دوشہروں کی ہلاکت کو 55؍برس گزرچکے ۔ جاپان اب دنیا کی عظیم صنعتی طاقت ہے۔ دونوں شہر دو بارہ سے بسائے جاچکے لیکن ہیروشیما میں ‘‘امن پارک’’ کے شمال میں وہ پسماندہ علاقہ ہے جو ‘‘ایٹمی جھونپڑپٹی’’ کہلاتا ہے۔ یہ جھونپڑپٹی دریائے اوتاتک پھیلی ہوئی ہےاور یہاں تقریباً ایک ہزار خاندان رہتے ہیں جو چار ہزار افراد پر مشتمل ہیں۔ اس جھونپڑ پٹی میں بیشتر وہ لوگ رہتے ہیں جو ایٹمی حملے سے متاثر ہوئے۔ یہاں اور ہیروشیما کے دوسرے پسماندہ علاقوں میں آج بھی ایٹمی حملے کے وہ بیمار موجود ہیں جو 6؍ اگست 1945سےبستر پر پڑے ہیں۔....

 

ماحولیات کے کئی ماہرین کاکہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے جو علاقے اس وقت بدترین خشک شالی کی لپیٹ میں ہیں، وہی ہیں جہاں ہندوستان اور پاکستان نے اپنے نیو کلیائی دھماکے کیے تھے ۔ ان دھماکوں نے ایک وسیع وعریض علاقے میں فطرت کے ماحولیاتی توازن کو درہم برہم کر دیا ہے۔ صحرائے تھر سے ملے ہوئے راجستھان کے علاقے پوکھران میں ہندوستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے اور پاکستان نے بلوچستان میں چاغی کو ان تجربات کے لئے منتخب کیا تھا۔ نیتجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں بلوچستان نادر تھر، ہندوستان میں پوکھران اور اس سے متصل علاقوں میں 1998اور 1999اور اب 2000کے جون تک پانی کی بوند نہیں برسی ہے۔کنویں خشک ہوچکے ہیں ،صدیوں پرانی زیر زمین نہریں سوکھی پڑی ہیں۔ وہ پانی جو 80فٹ کی گہرائی میں ملتا تھا اب 800اور ہزار فٹ کی گہرائی میں نہیں ملتا ۔....

 

مئی 1998کا مہینہ اب برصغیر کے جنگی جنونیوں کی جیت ایک ‘‘تاریخی باب’’ بن چکا ہے ۔ یہ وہ دن تھے جب ہندوستان او رپاکستان کے حکمرانوں کو یاد نہیں رہا تھا کہ وہ دنیا کے غریب ترین عوام پر حکمرانی کررہے ہیں۔ ان کی مملکتوں میں 40کروڑ افراد روزانہ بھوکے سوتے ہیں۔مزدور بچوں کی کل تعداد 3؍کروڑ 20؍لاکھ ہے ، 26؍کروڑ انسان طبی سہولتوں اور 83؍کروڑ افراد صفائی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہاں کے 50؍کروڑ انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ان دونوں ملکوں کی دیہاتی عورتیں اپنے مویشیوں سے کم قیمت میں بیچی اور خریدی جاتی ہیں۔ ان تمام باتوں کو بھلا کر برصغیر کے مقتدرین نے اس خطے کے لوگوں کی مشکلات کم کرنے کی بجائے یہاں نیو کلیائی جہنم بھڑکانے کا اہتمام کیا اور اس کے لئے دونوں طرف سے کھربوں روپے خرچ کئے گئے ۔ کوئی بھی باشعور انسان یہ کیسے مان سکتا ہے کہ نیو کلیائی جن کو آزاد کرتے ہوئے برصغیر کے حکمران طبقات ان حقائق سے آگاہ نہیں تھے۔....

 

ہمارے ملک میں محلاتی سازشو ں کا پہلا شکار بانی پاکستان تھے اور ا ن کے قتل کے بعد ملک 24سالوں تک سیاسی استحکام سے محروم رہا۔ ان سازشوں کا دوسرا شکار پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان بنے جن کے قاتلوں کا سراغ آج تک نہ مل سکا ۔1971سے 1977تک ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جس طرح 6سال کے قلیل عرصے میں ایک منتشر قوم اور ہاری ہوئی فوج کو مضبوط ومستحکم اور متحد کیا مگر ملک دشمن اور ترقی کے دشمنوں کو ترقی کرتا ہوا ایٹمی پاکستان قبول نہ تھااس لئے دواداروں نے ایک بیرونی طاقت کے گٹھ جوڑ سے ایک مقبول عوامی شخص کو تختہ دار تک پہنچادیا مگر تاریخ نے اس لیڈر کو حسینیت کا پیروکار اور اناالحق کا نعرہ لگانے والے منصور بنادیا۔  نثار احمد کھوڑو

 

کتاب کاپہلا باب سرمایہ دارنہ نظام کی تعریف اس کے آغاز وار تقا اور اس کے اغراض ومقاصد سے متعلق تھا۔ نیا فن تھا، مضمون سمجھ میں آرہا تھا ،اس لیے دلچسپی برقرار رہی ۔ دوسرے باب میں جدید علم الاقتصاد کی دو اہم اصطلاحوں مائکرو (جزوی) اور میکرو (کلی) اکنامکس کے بارے میں پڑھا یا گیا۔ تیسرے باب میں طلب ورسد (Demand & Supply)کی بحث تھی۔ اس مضمون کو جب مثالوں سے سمجھا یا گیا اور بار گرافس اور ڈائگر امز کی مدد سے مضمون کو آسان کرنے کی کوشش کی گئی تو علم ریاضی اور الجبرا سے عدم واقفیت کی بنا پر طلب ورسید جیسے آسان نظریے کو سمجھنا میرے لیے انتہائی مشکل ہوگیا۔....

 

حضرت رسول پاکﷺ کی زندگی اہم مقاصد میں سے اہم ترین مقصد امت کو دین کی تعلیم دینا تھا۔ تعلیم کو بچوں تک پہنچانے میں خواتین کا اہم رول ہوتا ہے۔ اس اقدام سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عورت کو کس قدر وقعت اور عظمت حاصل ہے۔ اسلام نے عورت کی عظمت واہمیت کو شروع ہی سے بڑی قدروقیمت سے پہچانا ۔اسلام ایک طرح سے اصلاح معاشرہ کا عظیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ ان نکاحوں کے توسط سے قبائل کو اسلام سے جوڑا جاسکتا۔ نبی اکرم ﷺ سے قیامت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے کا سوال کیا گیا اور عقلی نقطۂ نظر سے شکوک وشبہات پیش کئے گئے تو حضرت اکرم ﷺ نے قرآن کریم سے توضیحات کی روشنی میں جواب دیا کہ جس طرح مرد زمین بارش سے پہلے خشک اور بے رونق ہوتی ہے ، بارش آتے ہیں مردہ اجسام کے سفوف وذرات خاکی کیلئے بھی ایک بارش ہوگی اور اس سے مردو ں میں جان پڑجائے گی۔  عادل صدیقی

 

اس حقیقت سے انکا ر نہیں کیا جاسکتا کہ اس قدر تغیرات کے بعد بھی ہمارے نصاب تعلیم میں ان کتابوں کو غلبہ حاصل ہے جو مشکل پسندی میں شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہیں، مثال کے طور پر نحوکی مشہور کتاب  کافیہ ابن حاجب ہی کو لے لیجئے ،اس کی مشکل پسندی کا عالم یہ ہے کہ یہ کتاب علم نحو کے قواعد تو کیا سمجھاتی اس کے بجائے وہ خود ایک چیستاں کی حیثیت رکھتی ہے، چھوٹے چھوٹے بچے اس چیستاں کی مشکلات حل کرنے میں شب وروز مصروف رہتے ہیں اور اپنا سرکھپاتے ہیں ،کافیہ اس قدر مشکل اور پیچیدہ کتاب ہے کہ اس کی پچاس سے زیادہ شروحات تو عربی زبان میں ہیں، اردو میں بھی نے شمار شروحات ہیں اور ان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اس کی ایک شرح ہے ‘‘شرح جامی’’ یہ شرح کافیہ کے مشکل مقامات تو کیا حل کرتی خود حل کی محتاج بن گئی ہے۔  مولانا ندیم الواجدی

 
لوگوں کانٹے نہ بونا
زاہدہ حنا (کراچی)

یہ ان صوفیا کی رواداری تھی جس نے ذات پات میں جکڑے ہوئے کروڑوں انسانوں کو اپنے سینے سے لگا یا اور ا ن کے لیے ایک ایسی دنیا کے دروازے کھول دیے جو کسی مسجد ،کسی درگاہ ، کسی خانقاہ میں قدم رکھنے کا اتنا ہی حق رکھتے تھے جتنا کسی سیدیا کیس صدیقی ،فاروقی کا حق تھا، وہ 9سلاطین کے دربار سے وابستہ رہنے والے ملک الشعرا ، امیر الامرا ،امیر خسرو کے برابر بیٹھ کر ‘‘محمدؐ میر محفل بود شب جائے کہ من بودم’’ سن سکتے تھے ۔ اور حضرت نظام الدین اولیا کے حضور رقص کرسکتے تھے۔....

 

ہندوستان میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعد مسلمانوں کے دوسرے سب سے زیادہ شہرت یافتہ اور باوقار تعلیمی ادارے جامعہ اسلامیہ کے وائس چانسلر نجیب جنگ (آئی اے ایس) کے حالیہ بیانات نے ملت کے درد مندوں کو ایک طرح کی تشویش میں مبتلا کردیا ہے.....خبررساں ایجنسی آئی اے این ایس سےبات کرتے ہوئے وائس چانسلر نجیب جنگ نے کہا کہ ‘‘ ہم کوئی اعلیٰ مدرسہ نہیں ہیں، پتہ نہیں کیوں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک طرح کی مسلم یونیورسٹی ہے۔...

 

شوہر وزوجہ کے درمیان رنجش کی وجہ زوجہ کے تعلیم یافتہ ہونے کی حالت میں کبھی یہ ہوتی ہے کہ زو جہ کسی خفیہ پتہ پر اپنے عزیزوں سے خط وکتابت رکھتی ہے، جس سے شوہر کو طرح طرح کے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ شوہر وزوجہ رشتہ اتحاد اور آپس کے پورے اعتماد کا ہے ۔ اس حالت میں زوجہ کو کوئی خط وکتابت بلا اجازت وعلم شوہر نہیں کرنی چاہئے اور سب سے بہتر انتظام یہ ہے کہ زوجہ ہمیشہ اپنے خطوط کھلے لفافہ میں شوہر کے حوالہ کرے۔ لیکن اگر بدقسمتی سے آپس میں اس قدر اتحاد و اعتماد نہ ہو تب شوہر کو بھی ہر گز زوجہ کے خطوط کو دیکھنے کے درپے نہیں ہوناچاہئے ۔ اس کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ اس کی زوجہ کسی اور خفیہ پتہ پر خط وکتابت کرے گی جو زیادہ بدنامی کا موجب ہے۔....

 

خانہ داری کے متعلق سب سے ضروری اور سب سے مقدم امر یہ ہے کہ شوہرکے لئے جس کی ذات پر کل گھر کا آرام منحصر ہے عمدہ مفید صحت  اور مقوی غذا کا انتظام کرے۔ اس زمانہ میں کہ دماغی محنتیں بڑھتی جاتی ہیں اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے اس ضروری فرض کو ترک کرتی ہے تو گویا وہ اپنے شوہر کو خود جان بوجھ کر مارتی ہے ۔تعلیم یافتہ شخصیتوں کی اشتہائیں اس زمانہ میں عموماً بگڑی ہوئی ہیں ان کے لئے ایسی غذا کی ضرورت ہے جو مقدار میں کم اور غذائیت میں زیادہ ہو اور تھوڑے تھوڑے اوقاف میں معینہ کے بعد مثلاًدن میں تین یا چار دفعہ ملنی چاہئے ۔ ہر بیوی کو اپنے شوہر کے مزاج سے اس باب میں پوری اگاہی حاصل کر کے اس پر نہایت پابندی کے ساتھ کار بند ہونا چاہئے ۔....

 

تاریخ اسلام اس پر گواہی دیتی ہے کہ حلقہ بگوش اسلام ہونے کے بعد آپس میں سخت سے سخت مخالف اوردشمن قبیلے بھی ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوگئے تھے اور یہی اسلام کی دین تھی تو ہر ایک خود کو تکلیف میں محسوس کرتا تھا۔ یہ بھی اسلام کی ہی دین تھی کہ جب دوران جنگ پیاس لگی تو ایک دوسرے کی  پیاس بجھانے کو مقدم جان کر ہر پیاسے سے اور جاں بلب صحابی نے اپنے اگلے والے صحابی کے لئے پانی آگے بڑھادیا اور یوں تینوں پیاسوں نے جام شہادت نوش کرلیا۔اگر اسلام میں شامل ہونے سے پہلے کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو آپس میں ایک دوسرے کی شکل بھی دیکھنا گوارا نہیں کرتے تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد ایک دوسرے کا دکھ درد محسوس کرنے لگے تھے اور ایسے وقت میں جب پیاس کے سبب حلق خشک ہے اور دم نکلنے کو ہے یہ خیال بدرجہ اتم موجود ہےکہ دوسرے کی پیاس پہلے بجھنی چاہئے ۔  مولانا اسرارالحق قاسمی

 

ہمارے یہاں کی انتظامیہ ظلم وستم کو روکنے میں ناکام ثابت ہورہی ہے اور یہی نکسلائٹ کی کامیابی کی وجہ ہے۔ہمارے یہاں غربت مزید غریب ہوتا جارہا ہے ۔ کسان غربت سے تنگ آکر خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ تمام حالات منفی اثرات پیدا کررہے ہیں جس سے خطرہ اور بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔ کہیں ایسا نہ کہ ان کی غربت ومفلسی کا فائدہ اٹھا کر کوئی انہیں دہشت گرد انہ کارروائیوں پر آمادہ کردے۔....

 

محبت کا مقتضا راز داری بھی ہے۔ بیوی کو چاہئے کہ اپنے شوہر کے رازوں کو بغیر اس کی اجازت کے کبھی افشانہ کرے۔ شوہر کے راز کو افشا کرنا نہایت بری عادت ہے اوربعض اوقات اس سے شوہر کے دل میں ایسی برائی بیٹھ جاتی ہے کہ عمر بھر نہیں جاتی ۔بعض بیویاں یوں تو افشائے راز نہیں کرتیں لیکن اگر کسی بات پرنا چاقی ہوجائے تو وہ سب کے روبرو کہہ دیتی ہیں کہ فلاں بات یوں نہ تھی؟ اور شوہر کو اس طرح کا  کہہ دیناسخت ناگوار گذرتا ہے ۔ ایسی حالت میں سخت ضبط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اس طرح کے افشا سے بعض دفعہ نہایت خطرناک اور لاعلاج خرابیاں پیدا ہوجایا کرتی ہیں اور پھر تمام عمران کا تدارک نہیں ہوسکتا۔....

 

Why has no representative of 1500 million Muslim women won Nobel Prize in science, literature or in any respect? 

There may be a simple answer to this demanding question. How can it be possible in such an anti-women environment, when a Sudanese woman is whipped for wearing the so-called anti-Islamic dress “Jeans” in the first decade of 21st century?

The Islamic heads of Saudi Arabia become sleepless at the opening of the first co-education school. The women in U.S, Europe, Britain, and Israel or in any other part of the world are no more intelligent than the Muslim women, but they qualify for the prizes. The reason being – they get equal opportunities in education, research and training.

They have acquired equal status after a long struggle of about five centuries for their educational, social and political rights without demanding any favour or reservation but they only asked for equal opportunities. The Muslim women are criticized for their failures ignoring the facts that they are handcuffed and fettered, made unable to aspire and achieve anything. -- Zahida Hina, Karachi (Translated from Urdu by Raihan Nezami)



Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Hats Off thinks his juvenile mudslinging puts him above mediocrity....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • My responses are quite relevant to your irrelevant execrations.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A Muslim Wahabbi is running a web in tamil with name 'suvanappriyan' .I have copy pasted this article to light wisdom on their dark mind.
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • all other folks are not every day shouting from roof tops that theirs...
    ( By hats off! )
  • I congratulate Mr.Parvez for this lovable article.It is an eye opener for all particularly Wahhabis. Every religion/sect ....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Good article! Islam stresses moderation and balance in all aspects of life; in beliefs, worship, conduct, relationships, ideas, ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • Islam means peace and Muslims believe and should believe in peace. '
    ( By Kaniz Fatma )
  • very good reply "‘It’s Not Jihad but Jahalat’"
    ( By Kaniz Fatma )
  • Hats Off claims to be a critic of all religions but it seems his venom is exclusively directed at just one religion!....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off is just trying to find something nasty to say. What does Jacinda Ardern's magnanimous...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • you are incapable of surprises. nothing new here. sort of desertification....
    ( By hats off! )
  • it is a mistake for india to develop "interests" in afghanistan. eventually all muslim....
    ( By hats off! )
  • so new zealand pm is a shining example of tokenism. how about women...
    ( By hats off! )
  • Madness has no religion
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Prof. Hoodbhoy knows humanity and human affairs a lot better than Hats Off does..,.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • The word "Jihad" should be expelled from our lexicon. There is no place....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )