certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

 اس لئے کہ حصولِ تقویٰ کے لئے جس طرح نیک راستے پر چلنا ضروری ہے اسی طرح قبائحِ نفس اور رزائل دنیا و مافیھا سے بھی اپنے وجود کو الگ کر لینا ضروری ہے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام کی ایک واضح تعلیم ہے ‘‘ان تعلقت بذرۃ او تعلقت بک ذرۃ فانت فی حبالتھا’’، یعنی اگر تو کسی ذرۂ کائنات میں مشغول ہو جائے یا اس کائنات کا کوئی ذرہ تجھے (خود میں) مشغول کر دے تو پھر تُو اسی کا اسیر ہے’’۔ جب تک بندہ کائنات کے ہر ذرے سے خود کو الگ نہیں کر لیتا اور اپنی تمام تر تونائی صرف رضائے الٰہی کے حصول میں صرف نہیں کر دیتا اس وقت تک تقویٰ کا دعویٰ باطل ہے۔ اس لیے کہ تقویٰ کی بنیاد محبت الٰہی پر ہے اور محبت میں دوئی کی کوئی راہ نہیں ، یا تو انسان مکمل طور پر خدا کا بن جائے یا پھر اس دنیا کا اسیر ہو رہے۔

 

جب اللہ کی توفیق اوراس کی اعانت شامل حال ہوئی تو اس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔ اب اس کائنات کی راتیں بھی سہانی بسر ہوتی ہیں کہ بندۂ خدا نے اسے خیرباد کہہ دیا اور اپنے راستے نکل پڑا۔ اس لئے کہ ایک مقولہ ہے ‘‘ان تعلقت بذرۃ او تعلقت بک ذرۃ فانت فی حبالتھا’’، یعنی اگر تو کسی ذرۂ کائنات میں مشغول ہو جائے یا اس کائنات کا کوئی ذرہ تجھے مشغول کر دے تو پھر تُو اسی کا اسیر ہے’’۔ اور تو اسی کا غلام بن کر رہ جائے گا ، اور جب تک تو ان کے اوصاف سے آزاد نہ ہو جائے تو تقویٰ کی بو بھی نہیں پا سکتا اس لئے کہ تقویٰ کی رِیت یہی رہی ہے کہ تیرا سارا وجود اسی (مالک حقیقی) کا ہو رہے۔

 

اردو زبان کی روز افزوں مقبولیت او راردو ناخواندہ طبقے کا اردو شاعر ی کے تئیں شغف اور پسندیدگی کا چہار سوعملی اظہار خوش آئند بھی ہے اورخوش کن بھی ،لیکن جیسے ہی زبان و ادب کے مستقل گرتے ہوئے معیار پر نظرجاتی ہے تودل خون ہو جاتا ہے۔ افسوس اورحیرت کامقام ہے کہ ادبی تخلیق ، تحقیق اور تدریس سے وابستہ ذمہ داران کی جانب سے اس صورت حال کی بابت کوئی تبصرہ یا اظہار تشویش تو کجا اس موضوع پر کہیں گفتگو تک نہیں ہوتی ۔یہ مجرمانہ خاموشی بر قرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب حسن زبان و بیان اور ادب کی اعلیٰ اقدار قطعی معدوم ہوکر قصہ پارینہ بن جائیں گی۔

 

لہذا خود کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی پھوٹ ڈالنے والی سیاست سے الگ رکھنا مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور انہیں یہ واضح کر دینا چاہئے کہ مشکلات کے باوجودوہ دار القضاۃ پر سیکولر ریاست کے قوانین کو فوقیت دیں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مزاحمت اس سوال سے شروع ہو جانی چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا انہیں کیا حق ہے۔ کیا وہ ایک منتخب ادارہ ہے؟ اگر نہیں، تو پھر کس نے انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ آواز بننے کا حق دیا ہے؟ کیا وہ ہندوستانی مسلمانوں کی تکثیریت کی مناسب طریقے سے نمائندگی کرتے ہیں؟

 

تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ متقی کہلانے کا حقدار وہی انسان ہے جو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور اپنے نفس کی خواہشات اور فریب کاریوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہو۔ اس لئے کہ جس نے خود کو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور خواہشات نفسانی کی غلاظتوں سے پاک نہیں کیا وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ‘‘وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا’’، ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو’’۔ تمام انسانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تاکہ (جہنم)تمرد و سرکشی میں پڑے رہنے والوں سے اپنا حصہ (بدلہ) لے لے ۔ پھر نیک اور متقیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا اور نفس پرستوں کو جہنم کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا ، یہی معنیٰ ہے اللہ کے اس فرمان کا ‘‘ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا’’، ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے’’۔

 

والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن و نماز وتدفین کو سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ ادا کریں ، ان کے لیے ہمیشہ دعاواستغفار کرتے رہیں ، صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کا ثواب انہیں ہمیشہ پہنچاتے رہیں ، اپنی نماز اور روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھیں اور ان کے واسطے بھی روزے رکھیں، والدین پر کوئی قرض ہو تو اسے جلدی ادا کریں ، ان پر کوئی فرض رہ گیا ہو تو بقدر قدرت اسے پورا کریں مثلا ان کی طرف سے حج بدل کرانا وغیرہ ، اگر والدین نے کوئی وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو تو اس کے نفاذ کی حتی المقدور کوشش کرنا ، ان کی قسم پوری کرنا ، ہر جمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یس شریف کی تلاوت کرنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا ، والدین کے رشتہ داروں، دوستوں کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کرنا اور ان کا اعزاز و اکرام کرنا ،اور اسی طرح کوئی گناہ کرکے انہیں قبر میں ایذا نہ پہنچانا وغیرہ ۔

ایک طرف سے دعویٰ تھا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل شریعت کی روشنی میں ہی طے کئے جائیں گے تومخالفت میں دھمکی دی جارہی تھی کہ ملک میں متوازی عدلیہ نظام قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔دونو ں ہی باتیں غلط ہیں ۔مسلمانوں کے عائلی معاملات شرعی احکا مات سے ہی طے ہوتے چلے آئے ہیں اور موجودہ آئین کی روشنی میں آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ۔ سلطنت دور (1206-1526) میں تو خلافت اسلامیہ کی تقریباً پورے طور پر پیروی کی گئی،تمام مغربی مورخین نے اس زمانے کے ہندوستان کو مذہبی ریاست (theocratic state) سے موسوم کی ہے۔

 

عالمِ توحید کے تمام منازل متقیوں کا مقدر ہیں۔ جنت کے تمام مقامات و محلات ،اس کی تمام نعمتیں متقیین کے لئے ہی آراستہ کی گئی ہیں۔ اور تقویٰ کے بغیر راہ سلوک و معرفت میں کوئی چارہ کار نہیں۔ نفس کی کدورتوں اور دل پر لگے معصیتوں کے دھبے ہم سے تقویٰ کا پانی مانگتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ہم تمام لوگوں کو جہنم کے اوپر سے گزاریں گے لیکن آخرت کی دنیا میں جس کے پاس تقویٰ کا لباس ہو گا وہ جہنم کے ساتوں طبقات سے ایسے گزر جائے گا جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔

 

شیخ ابن بیہ جو (فورم فار پرموٹنگ پیس ان مسلم سوسائٹی) کے چیئرمین بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کونسل "معاشرے ، شہریوں اور پوری دنیا کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے بدعنوان فتوں اور تخریبی اثر و رسوخ سے ملک کی حفاظت کرنے کی ہر ممکن کوشش کریگی"۔ انہوں نے کہا کہ "کونسل کا کردار علماء کے لئے اس مبارک ملک میں ایک اہم قدم ہوگا"۔

 

اس تحریر میں مکتوب شریف کے بعض مقامات کی مناسب تسہیل و تفصیل کے لئے بنیادی طور پر زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری علیہ (متوفى 465 ہجری) کی فن تصوف میں امہات الکتب میں شمار کی جانے والی ایک مایہ ناز تصنیف رسالہ قشیریہ اور حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 465 ہجری) کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب سے استفادہ کیا گیا ہے۔چونکہ آپ دونوں بزرگ ہم عصر ہیں اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری کا ذکر اپنی تصنیف لطیف کشف المحجوب میں بڑے ادب اور اونچے القاب کے ساتھ کیا ہے۔ نیز بعد کے تقریباً تمام صوفیائے کرام نے ان دو عظیم ہستیوں کی تصنیفات سے بھر پور استفادہ کیا ہے ،لہٰذا راقم الحروف نے بھی ان کے تحریری شہ پاروں سے استفادہ کر کے اپنی بات مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

(ذا غور کر کہ بارگاہ ایزدی میں) جب فرشتوں نے کہا کہ ہم ان (انسانوں) کے ذریعہ برپا کئے جانے والے فساد اور قتل و غارت گری کی تاب نہیں رکھتے ، تو ندائی آئی کہ (ٹھیک ہے) اگر میں انہیں تمہارے دَر پر بھیجوں تو لوٹا دینا اور انہیں تم سے فروخت کرنے آؤں تو مت خریدنا، اس ڈر سے کہ ان کی معصیت میری رحمت سے بڑھ جائے گی ، یا تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان (کے وجود)کی آلودگی میری تنزیہہ و تقدیس کے دامن پر دھبہ لگا دیگی۔ (ائے نوریوں سن لو!) یہ وہ مشت خاک ہیں جو میری بارگاہ میں مقبول و مقرب ہیں۔ اور جب میں نے انہیں (اپنی بارگاہ میں) شرف قبولیت بخش ہی دیا ہے تو ان کی معصیت اور آلودگیوں سے انہیں کیا نقصان!

 

 قرآن کریم کی آیات اور احادیث کریمہ سے خشوع اور تواضع کی اہمیت اور فخر و تکبر کی مذمت ثابت ہوتی ہے۔ فخر و تکبر ہماری روحانی خوبیوں کو مٹا دیتا ہے جبکہ خشوع و تواضع سے ہمیں روحانی کمال اور انسانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے اور نتیجۃً یہ قیام امن اور سکون کا مصدر بن جاتا ہے۔اور اس طرح خشوع و تواضع رضائے الٰہی کے حصول کا ایک سرچشمہ ہے۔

 

حضرت ابو نصر السراج فرماتے ہیں کہ سہیل بن عبد اللہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) مریدین و معترضین (مبتدئین) کے احوال کی طرف اشارہ کیا ہے ، کیوں کہ ان کے احوال کبھی ان کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) متحققین (عرفائے کاملین اور مقربان بارگاہ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ان کے قلوب پر اللہ کی عظمت و جلال کا غلبہ اور اس کے ذکر کو دوام حاصل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے گناہوں کو یاد کرنے کی مہلت ہی میسر نہیں ہوتی۔ اور اس کی مثال حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ جب آپ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘توبہ سے توبہ کر لینے کا نام ہی توبہ ہے’’۔

 

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ ھ‘‘ رحمۃ للعالمین’’ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہان کے لیے رحمت ہیں) کوئی ہو جن ہو یا انس مومن ہو یا کافر ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والوں کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لائے۔ مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیر عذاب ہوئی اور خسف، مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا دئے گئے۔

 

(توبہ کے حوالے سے) خواجہ سہیل تستری کا مسلک یہ ہے کہ (التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ کبھی فراموش نہ کرے اور ہمیشہ اس کی ندامت میں غرق رہے تاکہ تیرے اعمال (صالحہ) کی کثرت پر تیرے دل میں کبھی عجب اور تکبر پیدا نہ ہو۔ اور حضرت جنید بغدادی کا مسلک یہ ہے کہ (ان تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ بھول جائے۔ اور مذکورہ بالا دونوں اقوال کے درمیان تضاد صرف ظاہری ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی تضاد یا تناقص نہیں ہے۔ اس لئے کہ گناہ فراموش کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس گناہ کی حلاوت تیرے دل سے ایسی نکلے کہ تیری کیفیت یہ ہو جائے گو کہ تو نے کبھی اس گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

جب (توبہ کے بارے میں) یہ جان چکے تو تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ میں دوام شرط نہیں ہےکہ جس گناہ سے توبہ کی جائے اس کا ارتکاب زندگی بھر نہ ہو، (بلکہ بعد میں) اگر تائب بہک جائے اور وہ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو (دوبارہ گناہ کے ارتکاب سے قبل تک وہ تائب تھا اور اس مدت میں) اسے توبہ کا اجر ملے گا۔ اس جماعت (صوفیاء) میں بھی ایسے تائب ہو گزرے ہیں جو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد پھر گناہوں میں مبتلاء ہوئے اور پھر توبہ بجا لائے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے (اپنے گناہوں سے) ستر مرتبہ توبہ کی اور ہر بار (توبہ کے بعد) گناہوں میں مبتلا ہوتا رہا، یہاں تک کہ جب میں نے اکھترویں مرتبہ توبہ کی تو مجھے (اپنی توبہ پر) استقامت نصیب ہوئی اور اس کے بعد پھر گناہوں کی طرف میرے قدم نہیں اٹھے۔

 

مکتوب شریف کے اس اقتباس سے اب یہ بات متحقق ہو گئی کہ توبہ رجوع الی اللہ کا نام ہے۔ اور مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہر انسان کی توبہ مختلف ہوتی ہے۔ عوام کی توبہ دار المعصیت (گناہوں کی دنیا) سے دار الاطاعت (اطاعت و فرمانبرداری کی دنیا) کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ خواص یعنی نیک بندوں کی توبہ اللہ کے انعامات اور احسانات کے سامنے اپنے اعمال اور اپنی نیکیوں کو کمتر اور حقیر جاننا ہے۔ اور خواص الخاص یعنی مقربین بارگاہ کی توبہ ذات وحدہ لا شریک کے سامنے خود کو عاجز اور معدوم سمجھنا اور خود اپنے وجود کو ایک گناہ تصور کرنا ہے۔

 

اردوگان سے پہلے ترکی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی وحشیانہ زنجیر میں جکڑا ہوا تھا اورعالمی طاقتوں کی مداخلت کا اڈہ بن چکا تھا۔ اردوگان نے نہ صرف یہ کہ ان تمام قرضوں کو چکا یا بلکہ ان عالمی اداروں کو قرض بھی دیا۔اردوگان سے پہلے تاریخی شہراستنبول مفلسوں کا شہر بنا ہوا تھا، اردوگان نے اسے دنیا کا بہترین شہر بنا یا اور استنبول کی تاریخی عظمت کی واپسی کی۔

 

(اللہ کے فرمان) وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون کا راز یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سالک (ریاضت و مجاہدات کی سواری سے پراواز کر کے ) جس مقام پر کمند ڈالتا ہے (وہ اس کے سفر کی انتہاء نہیں ہے بلکہ ) اس سے بھی آگے ایک اعلیٰ مقام موجود ہے، اور (سالک کے لئے) اپنے موجودہ مقام سے نکلنا اور اس سے اعلیٰ مقام حاصل کرنا (راہِ سلوک و معرفت میں) فرض ہے ورنہ سفر ِسلوک (اور سیر الی اللہ) ناقص و ناتمام رہے گا۔

 

 لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری مسلم برادری سب سے پہلے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے تصور برادشت کو اختیار کرے اور پھر اس کے بعد دوسری برادریوں کو بھی ٹولیرینس کی دعوت دے ۔ اس کے لئے میں تمام مسلم دانشوروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ رواداری کے اقدار اور اس کی اہمیت پر ایک خاص نصاب تیار کریں اور اپنے مدرسوں ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مذہبی یا سیکولر اداروں میں اس کی تعلیم دیں۔ غیر مسلم تنظیمیں بھی لازمی طور پر ایسا ہی ایک نصاب تیار کریں تاکہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے اور ملک کے تمام طبقوں میں ٹولیرینس کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔

 

لہٰذا ، ایک بزرگ سے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ‘‘وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا’’، ‘‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو’’ اس کا کیا معنیٰ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تو بہ ہر لحظہ ہر فرد بشر پر فرض ہے؛ کافروں پر فرض ہے کہ کفر سے توبہ کریں اور ایمان لے آئیں ، گنہگاروں پر فرض ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کریں، محسنین (نیکوکارں اور متقیوں) پر فرض ہے کہ وہ (افعال) حسنہ سے احسن کی طرف قدم بڑھائیں ، عرفاء (واقفانِ اسرارِ الٰہیہ) پر فرض ہے کہ وہ اپنے ایک ہی مقام پر جمے نہ رہیں بلکہ (سالکان راہ حق کی) روش اختیار کریں (یعنی توبہ کے ذریعہ اپنے موجودہ مقام سے اعلیٰ مقام کی طرف ترقی کریں) اور آب و گِل کے مکینوں (انسانوں) پر فرض ہے کہ وہ پستی سے بلندی کی طرف پرواز کریں۔ جس سالک کو جو مقام حاصل ہو اس پر اس کا رکنا گناہ ہے جس سے اسے توبہ کرنا چاہئے۔

 

یہ اس مکتوب شریف کا صرف ایک ایمان افروز اقتباس ہے ۔ انشاء اللہ اس مکتوب شریف کو کئی حصوں میں اردو ترجمہ ، قرآن و حدیث کے استدلال اور اس کے باریک نکات کی پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ آپ قارئین کی خدمت میں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کو تسہیل و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا خیال اس لئے پیدا ہو کہ اب تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے  مکتوبات کے جو تراجم اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں وہ اس تسہیل و تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں اس لئے اردو کے ایک عام قاری کا اسے پڑھنا اور اس سے درست معنیٰ اخذ کرنا قدرے دشوار ہے ، البتہ علماء ان تراجم سے خوب سیرابی حاصل کرتے ہیں ۔

 
The Exigency of Muslim Reform  مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam
The Exigency of Muslim Reform مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam

دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے  شریعت کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو تعلیمات جو ذاتی ترقی، وسائل کی حصولیابی ، آزادی اور مختلف گروہوں کے ساتھ ہم آہنگی اور خوشیوں کی حتمی حصولیابی میں معاون ہیں صرف وہی اسلام کے حقیقی مقصد اور اس کی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ اب تک ان طلباء کے بارے میں خاموش ہے جنہیں یونیورسٹی کے مختلف ثقافتی کلبوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر ایک خبر کی طرح پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر مسلم برادری کی جانب سے ان طالب علموں کے خلاف ایک زبردست رد عمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں کفر و ارتداد کا مرتکب قرار دیکر قتل کر دیا جانا چاہئے۔ بہرحال وہ تینوں طالب علم اپنے فون بند کر کے ابھی چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیا ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج میں فرمایا کہ، "اے لوگوں، میں تمہیں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہوں کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کوئی سنگین واضح گناہ (فاحشة مبینة)نہ کر بیٹھیں۔ اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو ان سے اپنا بستر الگ کر لو اور ہلکی مار لگاؤ ، لیکن وہ باز آ جائیں تو ان کے خلاف حد سے تجاوز نہ کرو"۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Naseer sb., The important thing is not whether you are quoting from the Bible.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • "The only solution is to liberalise Turkey, to make....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • What the Pakistanis did to Abdus Salam should put all Muslims to shame.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • True, we should respect all prophets equally. We should also listen....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Jesus – Was He God? Many times Jesus referred to His own deity, both....
    ( By jeff allen )
  • Now will be in their list.
    ( By KLD )
  • Not to despise wisdom, since Quran 2:269 mentions God is the one to grant wisdom and wealth to whom he wills....
    ( By zuma )
  • Muslims should treat those Muslim women who wear or do not wear hijabs with equal status. Muslim men....
    ( By zuma )
  • There is nothing new in GM sb’s comment. He is simply repeating himself as he always does. GM sb says ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Let's give a bad scenario that Quran 9:5 was written after the Meccans had converted to Muslims, Quran....
    ( By zuma )
  • AAP KHUD KO MANWAKAR SHARMINDA NAHI HO RAHE THE ....
    ( By Anjum )
  • Recently, the Secretary of the Publications (Tasneefi Academy) at Jamaat-e-Islami Hind Maulana Muhiuddin Ghazi...
    ( By GRD )
  • WHAT IS ZAIDI SHIA? WHAT IS ITHNA ASHARI SHIA?...
    ( By Tah )
  • There is no such thing as mentioned in Satish's comment.
    ( By GGS )
  • Mr. Satish you say, "9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam"....
    ( By GGS )
  • 9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam, so the question of fighting ...
    ( By Satish )
  • According to Quran 4:19, men cannot inherit women against their will. The following is the extract: An-Nisa (The Women....
    ( By zuma )
  • Quran 4:124 mentions clearly only those who believe in Allah and do good deeds to paradise instead...
    ( By zuma )
  • How about Quran 2:246. Al-Baqara (The Cow) - 2:246 [read in context] أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ ...
    ( By zuma )
  • Malaysia is already lost, one of my Buddist left Malaysia long long ago due to bad treatment to other faiths follower'
    ( By Aayina )
  • To Sultan Shahin & Zuma 100 chuhe Kha ke Billi haj Ko Chali. Forcefully...
    ( By Aayina )
  • Zuma do play interpretation interpretation game, Suktan Shahin does same, misleads to all other who are not believing in your book.' ...
    ( By Aayina )
  • Mr Zuma you are using the word fight though the Arabic word I'd jahd or jahadu or yujahiduna or ....
    ( By Arshad )
  • What would be the consequence if the word, fight, in Quran 2:193 to be....
    ( By zuma )
  • If the word, fight, in Quran 2:190 has to be confined to the word, struggling, what....
    ( By zuma )
  • Hats Off is now babbling utter nonsense! He never advances any rational....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A reasonable rebuttal of Jehadi attempts to hijack the Quran.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The article looks sarcastic and contemptuous.There...
    ( By Syed Mohamed )
  • @Syed Mohamed If you indeed consider concerns at the unduer harassment....
    ( By Abhijit Mukherjee )
  • @Syed Nizamuddin Kazmi A foolish article for cheap popularity
    ( By Syed Mohamed )
  • A sane Islamic voice at last.'
    ( By Radharao Gracias )
  • YE DAR ACHCHHA HAI.'
    ( By Gautam Ghosh )
  • Islam is religion of Terrorism see the history...
    ( By Prashant Surani )
  • @Paul Jeyaprakash what would you say about RSS hooliganism and Modi's views over Kashmir issue?....
    ( By Hafeez Niazi )
  • O fine let us discuss debate truth will come one day'..
    ( By Rafiqul Islam )
  • Holy BIBLE, Colossians 2: V 8. Beware lest anyone cheat you through....
    ( By Agnelo Diaz )
  • @Shaik Abdul Hameed yeah except you everyone is a fool that how...
    ( By Dominic Richard )
  • @Rajiv Engti I am very sorry. The whole system lives in Myth...
    ( By Shaik Abdul Hameed )
  • @ Shaik Abdul Hameed change your mentality...
    ( By Rajiv Engti )
  • Please think about world's terrorists activity, you will observe more or less....
    ( By Siddhartha Banerjee )