certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

شریعت کا حکم ایسی صورتوں میں خود مردوں کو بچنے کے لئے ہے نہ عورتوں کو تمہارے گناہگار ہونے کے خوف سے گھروں میں گھسے رہنے کا۔ اگر تم اپنے تئیں مامون عن الشہوت سمجھتے ہوتو کیا وجہ ہے کہ باقی جہاں بھر کی عورتوں کو پاک نظر سے دیکھتے ہو باقی اور سب جہاں بدنظر ہے اور اگر تم بھی باقی لوگوں کی طرح ہوتو کیوں اس گناہ سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے ہو۔ کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا لک الاولی وعلیک بالثانیہ ۔یعنی اجنبی عورت پر   پہلی نگاہ جائز ہے مگر جب نظر پاک نہ رہے تو قصداً دیکھنے سے بچے ۔....

 

یہا ں تک جو کچھ ہم نے لکھا وہ اس تفسیر کی بنا پر تھا جوہم خود الفاظ قرآن مجید کے سمجھتے ہیں ۔ اب یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے علما فقہ جن کا خاص کام قرآن مجید سے احکام کا استنباط کرنا ہے اس باب میں کیا لکھتے ہیں ۔فتاویٰ عالمگیری میں پردہ کی بحث کونہایت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے اور اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اول مرد کا مردکو دیکھنا۔ دوم عورت کا عورت کو دیکھنا ۔سوم عورت کو مرد کو دیکھنا ۔چہارم مرد کا عورت کو دیکھنا پہلی تین صورتوں میں لکھا ہے  کہ جس قدر حصہ بدن مابین ناف وزانوں کے ہے اس کو دیکھنا ناجائز ہے ۔...

 

ایک او رجھوٹ جس پر لبراہن کمیشن رپورٹ پر دہ اٹھا نے والی ہے وہ یہ ہے کہ ہندوؤں میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر نہ بنانے کی وجہ سے بے حد غصہ تھا او ربابری مسجد 6دسمبر 1992کو اسی ہند و غصے کا شکار ہوئی ۔ لال کرشن اڈوانی جو رتھ پر سوار ہوکر اجودھیا پہنچے تھے اور بابری مسجد گرائے جاتے وقت وہاں موجود تھے، اکثر ہندوغصے کی بات دہرایا کرتے تھے۔ اڈوانی کے جھوٹ کا عالم تو مت پوچھئے وہ تو یہ بھی کہتے تھے کہ ‘‘مسجد گرنے پر مجھ کو گہرا صدمہ ہے۔’’....

 

اس پر خدائے تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وہ اپنی چادریں کسی قدر نیچے تک لٹکاکر آئیں جائیں اور وہ اس شریفانہ وضع سے جس کا عام طور پر سب کو حکم دے دیا گیا بآسانی شناخت ہوجایا کریں گی کہ یہ خاتون ان اہل اسلام ہیں اور پھر منافق ستانے سے بازرہیں گے پس اس آیت کو بھی غیر محارم کے روبرو ہونے کے جو ازیام عدم جواز سے تعلق نہیں ۔بلکہ منافق جو عدم شناخت کے بہانہ سے مسلمانوں کی عورتوں کو ستاتے تھے ان کی ایذا سے بچنے کے لئے ایک خاص شریفانہ وضع سے جو سب کے لئے بطور علامت ہو نکلنے کے لئے حکم دیا گیا ہے۔....

چیف جسٹس آف انڈیا کی حق گوئی
مولانا اسر ارالحق قاسمی

وزارت اطلاعات ونشریات اس پر بھی غور کررہی تھی کہ چینلوں کو کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں چینلوں کے ساتھ حکام کی بات چیت کے کئی دور بھی ہوچکے ہیں۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا نہیں معلوم۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری چینلوں کو رپورٹنگ اور دیگر پروگرام نشر کرنے کے معاملے میں کسی ضابطہ اخلاق کا پابند ضرور بنایا جائے۔ چینل ہی نہیں بلکہ ہندی اور انگریزی کے بعض اخبارات کو اس کا پابند بنایا جانا ضروری ہوگیا ہے۔....

 

کیسے تعجب کی بات ہے کہ کوئی لفظ قرآنی یا اصطلاحی فقہی ایسی نہیں جس کو سن کر ان تمام خیالات کا مجموعہ فو راً ہمارے دل میں آجاوے ۔جو لفظ پردہ کے سننے سے آتا ہے ۔لفظ پردہ نشین سے جو خیال چار دیواری مکان میں شب وروز دم موت تک محصور رہنے اور کسی ضرورت کے لئے بھی باہر نہ نکلنے اور بجز ماں باپ بھائی اور شوہر اور چند رشتہ داروں کے سب سے اپنی آواز اور قد اور لباس وغیرہ کو عمر بھر چھپانے کا دل میں ایک لخت گذر جاتا ہے وہ حجاب یا نقاب یا ستریا جلباب یا خمار سے ہر گز نہیں گذرتا ۔گویا شریعت محمدی ہندوستان کے سے پردہ سے با لکل نا آشنا ہے۔...

 

‘‘خان بہادر خاں کی حکومت میں پورا شہر ساری رات جاگتا رہتا تھا۔ بازار کھلتے رہتے تھے۔ سڑکوں او رگلی کوچوں میں بڑی رونق او رچہل پہل رہتی تھی۔ مکمل امن وامان تھا۔ لوگ نواب کی انتظامی قابلیت اور رعایات پروری کے بڑے مداح تھے۔ مسجدیں ،مسافر خانے اور سڑکیں تعمیر ہورہی تھیں۔ امن و امان کی ڈونگی پٹتے ہی ہر چیز ارزاں ہوگئی تھی۔ تیل روپے کا پانچ سیر ، گھی ڈھائی سیر ، گیہوں بیس سیر کے حساب سے فروخت ہورہا تھا ۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں کوئی تقریب نہ ہوتی ہو۔....

 

قرآن مجید کی صرف تین آیتیں ہیں جو پردہ کے متعلق کہی جاسکتی ہیں۔ پہلی آیت سورہ نور کی ہے جس میں فرمایا ہے کہ ایمانداروں کو کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں ذرا نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں کہ اس میں ان کے لئے پاکیزگی ہے۔ اللہ کو ان کے ہر ایک کام کی خبرہے ۔ایماندار عورتوں کو بھی کہہ دے کہ وہ بھی اپنی آنکھیں ذرا نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں اور سوائے اس زنیت کے جو کھلی نظر آتی ہو اپنی اور کوئی زنیت نہ دکھاویں اور اپنے  گریبانوں پر اپنے دو پٹے ڈالے رکھیں اور اپنی زینت کسی پر نہ کھولیں ۔....

 

حال کی تعلیم میں ایک سخت قابل اعتراض یہ امر ہے کہ چونکہ لڑکوں میں کافی طور پر تعلیم نہیں پھیلی اس واسطے یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ ہر تعلیم یافتہ لڑکی کے لئے شوہر مل سکے گا یا نہیں جو اس کی تعلیم کا قدر دان ہو۔ اگر اس لڑکی کو بدنصیبی سے ایسا شوہر مل جائے جو تعلیم نسواں کو پسند کرنے والا ہی نہیں  یا پورا قدر دان نہیں تو لڑکی سخت  بلا میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اس باب میں ایک دفعہ ہمیں آنر یبل سرسید احمد خان نے خط لکال تھا اس کو ہم یہاں درج کرتے ہیں۔...

 

ہم نے نہایت چھان بین سے پایا ہے کہ جن لڑکیوں نے ناولوں کا کثرت سے مطالعہ کیا ہے ان کی اخلاقی قوتوں میں بھی تصنع بہت ہوگیا ہے ۔اگر ان کا ادب ہے تو بناوٹی ۔اگر تابعداری ہے تو بناوٹی اگر حیا ہے تو بناٹی ۔جس کی بنیاد پر صرف زبان کی سب سے اوپر کی جھلّی پر ہے اور مزاج کی ذرا سی جنبش ان سب چیزوں میں تلاطم عظیم ڈال دیتی ہے ۔ وہ مضبوط استحکام جو اصلی تعلیم سے پیدا ہوتا ہے وہ سچی دیندار ی جو نیک صحبت سے پیدا ہوتی ہے جسے کوئی مصیبت ،عزیزوں کی کوئی بدسلوکی کی جنبش نہیں دے سکتی ۔ جو عورتوں کا عنصر لطیف تھا اس نئے پود میں نہیں ہے۔....

 

جو مظاہرقدر ت ہر وقت ہمارے گردپیش رہتے ہیں ان کی نسبت گفتگوکا چھڑ جانا ایک معمولی بات ہے بارش ہوتے وقت اس کے اسباب پر گفتگو ہونی ۔ بادلوں کو دیکھ کر ان کے سیاہ سفید ارغوانی رنگ کی نسبت بات چیت ہونی۔ چاند کو بدر بلال دیکھ کر اس کی وجہ کا سوال پیدا ہونا ۔ گاہے گاہے بھونچال آنے یا گرہن ہونے کے وقت ان کے اسباب پر مختصر بحث ہونی دنیا کے عام مضامین ہیں جو اکثر گھروں کی مجالس میں مذکورہ کئے جاتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ اشخاص کے گھروں میں اکثر تھرما میٹر یا بیرو میٹر ہوتے ہیں۔ گھڑیاں ہوتی ہیں یا بجلی کی کلیں ہوتی ہیں جن کی مختصر کیفیت لڑکیوں کے لئے باعث آگاہی اور ان کی آگاہی مردوں کے لئے باعث تفریح خاطر ہوسکتی ہے۔....

 

‘‘بھارت میں یدی رہنا ہوگا تو  وندے ماترم کہنا ہوگا’’ یہ وہ نادر شاہی فرمان ہے، جو ہندوستانیوں کے ایک بہت بڑے طبقہ کو شہریوں کے ایک دوسرے طبقہ کے کچھ افراد کی طرف سے وقتاً فوقتاً سنایا جاتا ہے۔ یہ فرمان حکومت وقت کا نہیں ہوتا اور نہ ہی شہریوں کی اکثریت اس کی حامی ہوتی ہے۔ اسے جاری کرنے اور منوانے کے لئے آپے سے باہر ہوجانے والے معدودے چند لوگ ہوتے ہیں، جو خود کو مادر وطن کا ٹھیکیدار مانتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ گنے چنے انصاف پسندا فراد کو چھوڑ کر شہریوں کی بھاری اکثریت دادا گیری کی خاموش تماشائی رہ کر اس سچائی سے بے نیاز رہتی ہے کہ ‘‘ارے اوجفاؤں پر چپ رہنے والوں ، خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے’’۔....

 

جن شریف خاندانوں کے نوجوانوں کالجوں اور اسکولوں میں تعلیم پاتے ہیں ۔ علمی مجالس سے انس رکھتے ہیں۔ تعلیم یافتہ لائق اشخاص کی تقریریں سننا اور ان کی صحبت کا لطف اٹھانا پسند کرتے ہیں اور خالی اوقات میں مفید کتابوں اور اخباروں کا پڑھنا او رلکھنا ان کا شغل ہے کیا اگر ان کو اپنی ماؤں او ر بہنوں کی صحبت میں بھی اپنے علمی مذاق کی گفتگو کرنے اور سننے کا موقع ملے تو یہ کیا یہ خوش صحبتی ان کی خوشی کو دوبالا نہ کریں گی۔ ہم نے مانا کہ لڑکیاں تعلیم پاکر ایسی لائق نہیں بن جاوے گی کہ ان کے بھائی یا ان کے دوسرے عزیز اقارب لڑکے ان کی ہم کلامی سے کوئی فائدہ علمی حاصل کرسکیں۔...

 

لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کتاب عورتوں کے رو برو نہیں آنی چاہئے ۔ اور فلاں کتاب زنا نخانہ میں داخل نہیں ہونی چاہئے۔ ہم کہتے ہیں کہ دیوان خانے میں ہی کوئی ایسی کتاب کیوں آنی چاہئے جس کا عورت کے روبرو آنا مضر متصور ہو۔ پس بجائے اس کے کہ کتابوں کی فہرست تیار کی جاوے جن کا پڑھنا عورتوں کو نامناسب ہے نیکی کے ذریعہ سے اپنا چال چلن ایسا پاک اور مضبوط و مستحکم بنانا چاہئے جو ان میں سچا مذاق خوش اخلاقی  کا پیدا کرے اور نیکی کی محبت اور گناہ سے سخت نفرت ان کے دل میں بٹھادے تاکہ پھر ان کی نسبت اس قسم کے اندیشوں کی گنجائش ہی نہ رہے ۔....

 

اب وہ زمانہ نہیں رہا جب کہ عورتوں کی تعلیم ایک نامانوس آواز معلوم ہوتی تھی ۔ اور سینا اور پکانا اور کاتنا عورتوں کے طبعی فرائض سمجھے جاتے تھے ۔ لوگوں نے مانا یا نہ مانا مگر زمانہ نے عورتوں کو پڑھانا شروع ہی کردیا۔ اس لئے اب وہ مرحلہ کہ عورتوں کو تعلیم دینی چاہئے یا نہیں طے ہوگیا۔ بچوں کی نیک تربیت امورات خانہ داری کا حسن انتظام ۔حقوق اللہ اور حقوق عباد کی معرفت اور تعلیم یافتہ شوہروں بھائیوں باپو کی نگاہوں میں مقبولیت ۔غمگین دل کی خوشی۔ تنہائی میں رفیع مونس کی رفاقت ان سب ترغیبات یا شاید تعلیم پسند زمانہ کی محض تقلید نے سب رسم ورواج کی بندشوں اور دستور قدیم کی بیڑیوں اور تلقین عادات کی قید وں کو جھٹکے مار کر توڑ ڈالا ہے اور تھوڑا بہت چرچا تعلیم کا ادنیٰ اعلیٰ ہر طبقہ کی عورتوں میں ہوگیا ہے ۔....

 

پھر عورتوں کے لئے حق مہر جدا مقرر کیا گیا ہے اور بحالت طلاق ا س تمام مہر میں سے خواہ کتنا کیوں نہ ہو مرد کو ایک حبہ تک واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ عرب میں ایک نہایت خراب دستور تھا کہ جب عورت منکوحہ سے نفرت ہوجاتی تھی تو اس کے ساتھ سخت کج ادائی کرتے تھے لاچار وہ دق ہوکر مہر واپس کر کے طلاق لے لیتی تھی ۔خدائے تعالیٰ نے اس رسم قبیح کو اس طرح منع فرمایا کہ عورتوں کو تنگ مت کرو اس نیت سے کہ جو تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو ۔پھر ان کے ساتھ حسن سلوک کی یوں تاکید فرمائی ہے کہ عورتوں کے ساتھ نیک معاشرت کرو۔ اور اگر تم کو وہ بری لگیں تب بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ممکن ہے کہ تم کو ایک شے بری لگے اور اللہ اس میں تمہارے لیے بھلائی کرے ۔....

 

بعض احادیث میں آیا ہے کہ اگر خدا انسان کو انسان کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کے شوہر کو سجدہ کرے۔ ایسی احادیث میں شوہر کے درجہ کی عظمت بیان کی گئی ہے ۔ مرد عورت تمیز سے بحث نہیں ہے۔ بعض رشتے اور بھی ایسے ہیں جن کو خدا نے بزرگی دی ہے۔ مثلاً باپ کا درجہ ،بیٹے اور بیٹی سب پر باپ کا بے حد ادب اور تعظیم لازم ہے ۔ حالانکہ بیٹا اور باپ دونوں مرد ہیں اور کوئی ذاتی فرق نہیں رکھتے ۔ اسی طرح شوہر بوجہ رشتہ شوہرہی بیوی سے ادب و تعظیم کا مستحق ہے۔ ایسی احادیث سے نہ مردوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جومرد ثابت کرناچاہتے ہیں اور نہ ان احادیث سے ہم انکار کرکے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عورتوں کو شوہروں کی تعظیم و اطاعت نہیں چاہئے ۔....

 

طلاق کا اختیار جو مردوں کو دیا گیا ہے وہ ایسا ہے کہ مردوں کو اس سے شرمانا چاہئے اور اگر ان میں شرافت انسانی کا ثبوت ہوسکتا ہے تو اس اختیار کو استعمال میں نہ لانے سے ہوسکتا ہے طلاق ایک نہایت تلخ مزہ دوا ہے جو صرف ایسے مرض کا علاج ہے جس کی اور کوئی تدبیر معالجہ نہ ہوسکے۔ میاں بیوی کے باہمی تعلقات ایسے نازک اور اہم  اور قابل اخفا ہوتے ہیں کہ دنیاوی عدالتوں کی طرف ان کے انفصال کے لئے رجوع کرنا ان رنجشوں کو اور ترقی دینا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نکاح ایک معاہدہ مثل دیگر معاہدوں کے ہے اور معاہدوں کی تکمیل کے بعد ہر فریق کو اختیار ہے کہ عہد شکن فریق کو ایفائے معاہدہ پر شرعا مجبور کرے یا کرائے۔....

 

عرب کے لوگوں میں ایک نہایت مذموم اور بے رحمی کی رسم زمانہ جاہلیت میں جاری تھی کہ وہ یتیم و لاوارث لڑکیوں کو پال لیتےتھے اور جب وہ بڑی ہوجاتی تھیں تب ان سے نکاح کرلیتے تھے چونکہ ان کا کوئی والی وارث نہ ہوتا تھا اس لئے وہ ان یتیموں کا مال لے کر جاتے تھے اور ان لاوارثوں سے نکاح کرنے کی اصل غرض ان کا مال ہضم کرنا ہوتا تھا۔ جیسا آج کل بھی بہت شخصیاص طوائف سے نکاح صرف اس غرض سے کرتے ہیں کہ عمدہ مالیت کا زیور ان کے ہاتھ آجائے اور بعض اشخاص باوجود نیک بیوی کی موجودگی کے اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی مالدار بیوی نکاح میں آجائے ۔ اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے اس یتیم بے کس لڑکیوں پر ظلم کرنا منع فرمایا۔....

 

ساحر کی شاعری محض زلف ورخسارکی آئینہ دار نہیں بلکہ پر خیال ہے اور وہ انسان کو ذہنی خوراک مہیا کراتی ہے۔ اس کے دل ودماغ میں نئی نئی فکر کے بیج بوتی ہے، نئے نئے احساسات کو جنم دیتی ہے۔ وہ یقیناً ساحر کی روح کی آواز ہے۔ وہ اس شاعر کی پکار ہے جس نے اپنی زندگی لمحہ لمحہ انسانی محبت کے چراغ روشن کرتے ہوئے گزاردی۔ ساحر کی بے پناہ مقبول نظموں میں ‘‘تاج محل’’ کو اتنا پسند کیا جاتا تھا کہ جب کبھی کسی مشاعرے میں ساحر مائک پر آتے تھے تولوگ ‘‘تاج محل تاج محل’’ کہہ کر چلانے لگتے تھے۔....

 

اگر تحقیق پوچھو تو یہ عقیدہ کہ پہلے آدم پیدا ہوئے۔ پھر حواّ نصرانیوں او ریہودیوں کا عقیدہ ہے۔ مذہب اسلام میں اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے ۔قرآن مجید سے آدم اور اس کے جوڑے کے پیدائش میں کوئی تقدم و تاخر ثابت نہیں ہے۔ مردوں کے لئے ایک وقت میں چار عورتوں کا نکاح جائز ہونا اور اس کا عکس جائز نہ ہونا محض غلط بیانی اور تحکم کی بات ہے۔ مشکل یہ ہے کہ لوگ الفاظ کی پیروی پر مرتےہیں اور بجائے اس کے معنی سخن اورحقیقت مراد الہٰی تک پے لے جائیں اصطلاحات کی بحث پسند کرتے اور مخالف کو ساکت کردینا غایت مناظرہ سمجھتے ہیں ۔ لوگو ں نے قرآن مجید میں پڑھا کہ  فانکحوا ماطاب لکم من النسا مثنیٰ وثلاث ورباع او ر خوش ہوگئے کہ قرآن مجید میں چار بیبیاں تک  نکاح میں لانے کی اجازت صریح موجود ہے۔....

 

Sardar Shaukat Ali Kashmiri: a stab in the back of Kashmiri people

Calling it a stab in the back of Kashmiri people by the Pakistani authorities, the leader of The United Kashmir People's National Party (UKPNP) Sardar Shaukat Ali Kashmiri asked the Kashmiris of all stripes and their friends and sympathizers all over the world to raise their voice against the subjugation of Gilgit-Baltistan in the name of so-called package announced by the Pakistani regime on 29th of August 2009.

Mujtaba Ali Shah said: “Pakistani establishment has always exploited the people of Gilgit-Baltistan. It has never hesitated to fund jihadi and sectarian Taliban in the region for a long time. Thousands of indigenous Shia Muslims have been killed by sectarian groups, who are agents of Pakistan’s secret services, but Pakistan carried a blanket ban on Gilgit-Baltistan so that the world could not know about the genocide of local people.“Now it has crossed all limits in going ahead to annex the Kashmiri areas into it’s own territory. There is no pretence anymore.”

 

دوسری نقلی دلیل اس پر امر پر مبنی ہے کہ قرآن مجید نے دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کی شہادت کے برابر اور عورت کا حصہ ترکہ مرد کے نصف حصہ کے برابر قرار دیا ہے۔ مگر اس سے بھی مردوں کی کوئی اصلی یا فطری فضیلت ثابت نہیں ہوتی ۔چنانچہ اس اعتراض کے جواب کےلئے متعدد امور قابل غور ہیں اولا عورتوں کو جس تمدنی حالت میں رکھا گیا ہے اس حالت نے ان کو ایسا جاہل اور نامعاملہ فہم اور ناتجربہ کار بنادیا ہے کہ اگر ہر قسم کے معاملات ومقدمات میں مرد اور عورت کی شہادت کا وزن بالکل یکساں رکھا جاتا یا اب بھی رکھا جائے تو اہم معاملات میں سخت ابتری پڑنے کا اندیشہ ہے۔....

 

سب سے بڑا ثبوت جو ان کے پاس مردوں کی فضیلت کاقرآن مجید سے نکل سکتا ہے وہ آیت ہے جس میں فرمایا ہے کہ الر جال قوامون علی النسا بما فصل اللہ بعضہم علی بعض وبما انفقو من امو الہم ۔ جس کا ترجمہ یوں کرتے ہیں کہ مرد حاکم ہیں عورتوں پر کیو نکہ اللہ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور انہوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسر لکھتے ہیں کہ مردوں میں دوقسم کی فضیلتیں ہیں۔ ایک وہ جو قوت نظریہ اور قوت عملیہ کے قوی ہونے کی وجہ سے ان کو بالذات حاصل ہے۔ دوسری یہ فضیلت کہ مرد عورتوں کو مصارف مثلا روٹی کپڑا وغیرہ دیتے ہیں۔مگر ہم کو اس تفسیر کے ساتھ اتفاق نہیں ہے۔.....

 

ریاست جموں وکشمیر میں زائد از دودہائیوں سے چلی آرہی شورش نے اس جنت نشان خطے کے بنیادی و ساختیاتی ڈھانچے کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ نتیجے میں وادی میں سیاسی بدامنی کا ماحول وسیع تر ہوتا گیا۔ حالات کے منفی رخ اختیار کرنے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کے لئے کسی کو تنہا مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور ایسی الزام تراشیوں سے حالات بدلے بھی نہیں جاسکتے ۔ البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ بہتری کی کوششوں میں بعض اوقات لاشعوری نقص بھی امکانات کوموہوم کردیتے ہیں ۔....



Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Nice bhai and right.
    ( By Md samir ansari )
  • Very sensible and prudent column.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The Ummah and the Caliphate are obsolete concepts and have no....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Marxism, democratic socialism and enlightened capitalism are all laudable....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • UN has lost its credibility. It is simply a forum of debate. Hardly does...
    ( By Salman )
  • Adopting Christianity means adopting true religion of Allah.
    ( By Mahender Kumar )
  • Islam promotes violence ......etc against Khafirs.
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Talha's comment shows how talaq has been turned into a joke. People have derived new types of talaq...
    ( By Arshad )
  • The comment was posted thru mobile phone. And while typing on mobile, some errors occur and also it's automated dictionary takes pushes some words into ...
    ( By Arshad )
  • Saying that Islam emphasized education is hardly hubris except in the...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • کیوں نہ اہل ذکر سے مراد ماہرین لئیے جائیں یعنی جب بھی کوئی مسئلہ ہو اس علم کے ماہر سے پعچھع
    ( By qasim raza Tirmiz zi )
  • it is time for muslims globally - not just in india) to get out of their superiority...
    ( By hats off! )
  • Your article is in the same vein as current discourses in international....
    ( By Dr. Sharifah Munirah Alatas )
  • Good article! The author talks sense.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats Off hates any Muslim who favors peace, education and modernization....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Anything that promotes violence, coercion, intolerance, takfirism...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • such a breathtaking, once-in-a-millennium, nobel-prize-worthless comment...
    ( By hats off! )
  • Very interesting discussion, specially the brand new concept of "duty-free divorce." But....
    ( By Sultan Shahin )
  • No doubt, debate on Islamic ideologies must happen.
    ( By gholam ghouse )
  • I appreciate your thoughts.
    ( By Usha Jha )
  • If this is a religion of peace, then why is it not believed so by Jihadists and some Extremist non Muslims?,...
    ( By Talha )
  • These terrorists are weakening Muslims and therefore are playing the role of agents of anti-Islamic elements. '
    ( By Anjum )
  • لإخوان يستحلون قتل المخالف ولو كان ضعيفا محروما مقهورا، وفي أقل الأحوال يعملون على تشويهه وتقديم المبررات لاغتياله. '
    ( By عادل الشعبی )
  • Asking Zakir Naik to stop belittling the religions of others is tantamount to defanging him! He knows nothing else!
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Personal and family laws should be the responsibility of civil society. Religious scholars should keep out of....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The United Kashmir Peoples National Party (UKPN) advocates a united...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Next move should be to bring the RSS on the path of Gandhi and Nehru...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • It is not just Arab wealth. It is also Arab racism. The Prophet's last sermon....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • What a depraved and ignorant comment from Hats Off! She represents Christians, Jews, Muslims, Hindus and atheists of her little constituency in Minnesota.'
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • ilhan omar represents the free-booters and scalawags like some....
    ( By hats off! )
  • Ilhan Omar never said she represents all Muslims, or even Muslims....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • It is in the nature of fascist organizations to spread paranoia.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Female circumcision must be prosecuted as a criminal assault with stiff penalties
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • yahood o hanoodon se nafrat islami fitrat hai
    ( By hats off! )
  • are kafir admi ye Sarah edan BHI Muslim Nahi hai yahudi hai
    ( By Syed Mohammad Faizan )
  • This man is dishonest, mostly in western countries other minority's are well integrated and never....
    ( By Aayina )
  • Because democracy is run by Hypocrites and capitalist. Other factor added in last 70 years was ....
    ( By Aayina )
  • Instant Triple Thalak is banned and one Monolithic Arabian practice is eiiminated. Another Monolithic Arabian practice....
    ( By dr.A.Anburaj )
  • Shamless Hindu showing his Manhood power to grab girls, like Muslims. Shame on this kind of Hindus ....
    ( By Aayina )
  • Taha Deceiving is not explanation. Might be clear to you now.'
    ( By Aayina )