certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

پاجامہ معمولی چھینٹ کا اکہرا رہتا ہے اور صبح شام دولائی یارضائی اوڑھ کر چارپایوں پر اسباب کے پوٹ بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس قسم کے سلوک وحشیانہ اور خلاف انسانیت و مروت نہیں ہیں اور کیا اس سے بڑھ نالائقی تصور میں آسکتی ہے۔ ہمارا یہ ہر گز مقصد نہیں کہ جن بیچارے آفت زدوں کو مقدور نہیں ہے وہ عورتوں کی جڑا دل کےلئے مقروض بنیں۔ بلکہ ہم صرف انتا جتلا نا چاہتے ہیں کہ ہر ایک ذی مقدور صاحب استطاعت باپ جو بیٹا او ربیٹی رکھتا ہے وہ خود سوچے کہ ہر جاڑے کے لباس میں وہ بیٹے اور بیٹی دونوں پر یکساں خرچ کرتا ہے۔ کیا اس وجہ سے کچھ لڑکیاں گھر میں چھپی رہنے والی ہیں اورشریعت کے پردہ کو توڑ کران کالباس بھی داخل پردہ کیا گیا ہے۔....

 

مسلمان مردوں کے ا س وحشیانہ طریق نے جو وہ عورتوں کے ہمراہ جائز رکھتے ہیں ،عیسائیوں کے دلوں میں ایک عجیب غلط خیال اسلام کی نسبت پیدا کردیا ہے جو ان کی تصانیف  میں بھی پہنچ گیا ہے۔ عیسائیوں نے سمجھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب کے روسے عورتوں میں روح نہیں ہوتی۔ اس غلطی کا منشا ومبنی صرف یہ ہی امر ہے کہ مسلمان مردوں کا طریق عورتوں کے ہمراہ اس قسم کا ہے جیسا انسانوں کا غیر ذی روح حیوان کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ کبھی یہ خرابیاں اس وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ بی بی بوجہ تعلیم یافتہ ہونے کے صرف امور خانہ داری کے انتظام اور پیدائش اولاد کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یعنی وہ خدمتگار او رمادہ حیوان سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتی اور تعلیم یافتہ شخص کی روحانی خواہشوں کو پورا کرنے اور خوش خیال رفیق بننے کے قابل نہیں ہوتی ۔...

 

اس طبقہ کے بعض لوگ ایک نہایت شرمناک تمیز قائم کیا کرتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے لئے عمدہ نفیس کھانا علیحدہ تیار کرواتے ہیں اور عورتو ں کےلئے ادنیٰ درجہ کا علیحدہ تیار ہوتا ہے ۔بعض لوگ اپنی بیبیوں اور لڑکیوں کو پوشاک اپنی حیثیت کے لحاظ سے ایسی ذلیل پہناتے ہیں کہ ا س بے حد خست کے چھپانے کے لئے انہیں ایک اور جابرانہ قاعدہ باندھنا پڑتا ہے کہ وہ کہیں برادری میں نکلنے نہ پائیں اور نہ برادری کی کوئی عورت ان کے گھر آنے پائے۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ غربا میں نکاح کا اصول یہ ہے کہ روٹی ٹکرہ کا آرام ہوجائے اور تسلیم کیا ہے کہ ا س طبقہ میں یہ قابل اعتراض نہیں ۔...

 

ہر سال محرم کا مہینہ آتے ہی ذکر غم حسینؓ اور یاد شہادت حسینؓ سے فضا ئیں گونجنے لگتی ہیں، کتنے ہی لوگ ہیں جو یاد حسینؓ میں سینہ کوبی کرتے نظر آتے ہیں مگر انہیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ حضرت حسینؓ نے اپنی اور اپنے پیاروں اور جاں نثار وں کی قربانی کیوں دی، وہ مدینہ چھوڑ کر کس مقصد کے لیے عراق جارہے تھے، شہادت کا واقعہ کس طرح پیش آیا ،کون لوگ اس کے ذمہ دار تھے ،کس مقصد کے لیے ان کو شہید کیا گیا، وقت کے ساتھ ساتھ اس قصے میں بہت سی بے سروپا اور من گھڑت باتیں شامل ہوگئی ہیں اور اصل واقعہ دھندلاپڑتا جارہا ہے ،ضرورت ہے کہ اس واقعے کو اس کے حقائق کے ساتھ زندہ رکھا جائے اور اس مقصد کو بھی پیش نظر رکھا جائے جس کے لیے حضرت حسینؓ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا۔  مولانا ندیم الواجدی

 

یعنی 1857کے بعد مسلمانوں نے باحیثیت مسلمان نظام میں اپنے حصے کی جو مانگ کی تھی ، رنگناتھ مشرا رپورٹ نے کسی حد تک اس مانگ پر اپنی مہر ثبت کردی ہے۔گو ابھی اس کی کوئی آئینی اہمیت نہیں ہے، لیکن فی الحال رنگناتھ مشرا رپورٹ کی مسلمانوں کےکئے وہی حیثیت ہے، جو منڈل کمیشن رپورٹ کی اس رپورٹ کے نافذ ہونےسے قبل پسماندہ ذاتوں کے لئے تھی۔....

 

پیپلز پارٹی کی قیادت اور حکومت اندازہ ہی نہ کرسکی کہ محترمہ کے قتل ، مشرف کی رخصتی ،ڈوگرہ راج کے خاتمے، مسلم لیگ(ن) سے دوری ،آزاد عدلیہ کی بحالی اور توانا میڈیا کے ابھارتے سب کچھ بدل دیا ہے۔انہیں یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اب ان کی سپاہ میں کوئی بینظیر نہیں رہی۔اگر  ان حقائق کا ادراک ہوتا تو پیپلز پارٹی پھونک پھونک کر قدم اٹھاتی ۔مد مقابل سیاستدانوں کی نااہلیوں، گورنر راج اور تخت لاہور پر قبضے کی مہم جوئی سےگریز کرتی۔ چٹکیاں کاٹنے کے بجائے قومی ادارو ں سے بہتر تعلقات کار قائم کرتی۔ وعدوں کا بھرم رکھتی ۔میثاق جمہوریت میں موجود احتسابی نظام کو عملی شکل دیتی ۔میثاق میں ایک سچائی اور مفاہمت کمیشن کا واضح نقشہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ یہ کمیشن تشکیل دے کر این آر او کا مقدر اس کے حوالے کردیتی۔ معافی تلافی کا اطلاق 1986اور 1999کی درمیانی مدت تک محدود رکھنے کے بجائے حقیقی مفاہمت اور ایک نئے پاکستان کے عزم راسخ کے ساتھ سارے ماضی پر محیط کردیتی ۔  عرفان صدیقی

 

اب پیپلز پارٹی دوبارہ اقتدار میں آچکی ہے۔یقیناً سپریم کورٹ کو بھی چائے کہ اس مقدمے کو انجام تک پہنچائے لیکن سپریم کورٹ میں صرف 17جج ہیں اور یہ 17جج اگر اس معاملے کو دوبارہ کھولیں گے تو فیصلے تک پہنچنے میں کافی دن لگیں گے ۔ اس دوران پارلیمنٹ کو بھی کچھ کرنا چاہئے۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نیب کے حکام کو بلائے اور ان سے پوچھے کہ انہوں نے 1999سے 2009تک آئی ایس آئی کے فنڈ میں مختلف سیاستدانوں ،جرنیلوں اور صحافیوں میں بانٹے گئے 14کروڑ روپے کا کوئی حساب لیا یا نہیں ؟ آج بھی اس مقدمے سے متعلق بہت سا ریکارڈ نصیر اللہ بابر کے پاس محفوظ ہے۔ حامد میر

 

جس طرح شوہر کے اقارب باعث رنجش شوہر و زوجہ بنتے ہیں اسی طرح زوجہ کے والدین بھی طرح طرح کی رنجشوں کے باعث ہوجاتے ہیں خصوصاً زوجہ کی والدہ یا بڑی بہن عموماً یہ چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی یا بہن حد سے زیادہ گرویدہ اپنے شوہر کی نہ ہوجائے۔ وہ ہمیشہ یہ نصیحت کرتی ہیں کہ شوہر پر اپنا دباؤ رکھو تاکہ تمہاری قدر شوہر کے دل میں زیادہ ہو۔ بیوی کا یوں کھنچنا کبھی کبھی شوہر کی طبعیت کی اصلاح کردیتا ہے مگر بعض صورتوں میں سخت مضر بھی ہوتا ہے۔ جب کسی لڑکی کو نیک نہاد شوہر مل جاتا ہے اور پوری محبت کرتا ہے اور اپنی بیوی کو نہایت آرام سے رکھتا ہے تو وہ ضرور متوقع اس کا امر کارہتا ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ پوری محبت کرے گی اور اس کے آرام کو اپنا آرام سمجھے گی۔....

 

زمانہ بھر میں اگر کوئی ان کا شاکی ہے تو ان کی بیوی ایک ہمارےنہایت فاضل دوست ہیں جو بحر علوم  عربیہ میں شنا دری کرنے والے اور نہایت خوش مذاق خوش خیال شخص ہیں جن کی ذات گروہ علما میں منعتنمات سے ہے مگر ہم طریق زندگی نے ان کو کسی کام کانہیں رکھا ۔ان کے بے انتہا علم سے ایک ذرہ کی برابر فیض کسی کو نہیں پہنچتا ۔ ہم تو جب کبھی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں تو یہ سنا کہ مولوی صاحب بیڑھا ٹھوک رہے ہیں۔یاچار پائی کی ادوائن کس رہے ہیں۔ یا پسناری کو گیہوں تول کر دے رہے ہیں۔یابچوں کی آبد ست کررہے ہیں ۔ پس جس شخص کو اس قسم کی خانہ داری نصیب ہو اس کو کیا راحت نصیب ہوسکتی ہے۔ بعض لوگوں کو ایسی بیویاں ملتی ہیں جو اچھی پڑھی لکھی ہیں۔....

 

ذرا دھیان سے تصور کرو ایک بے زبان کی کیفیت قلبی کا ۔ جب ایک جفا کا ر کسی کسی کو اپنی بیٹھک میں بلاتا ہے اور اپنی ولفگار رفیق سے اس کے لئے کھانا پکواتا ہے اور اپنا منہ اور عاقبت سیاہ کرتاہے اور وہ اشرف زادی اس حرامکاری کی جابرانہ اور کافر انہ حکموں کی تعمیل کررہی ہے۔ آنسو کی لڑی اس کی آنکھوں سےجاری ہے اور وہ اس بیدرو سفاک کے خون سے جلدی جلدی اپنی آنکھیں پونچھتی ہے کہ وہ کہیں دیکھ نہ لے اور ایسا ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ چولہے کے دھویں سے آنکھوں سے آنسو نکلے ہیں ۔ ارے ظالم اس لڑکی کی آہیں نہیں ہیں جلے بھنسے دل کادھواں آنسو نہیں ہے ۔جگر پانی ہوکر آنکھوں کے راستہ سے بہ رہا ہے۔....

 

رخصت کے وقت دولہن کے ہمراہ اس سے عزیزوں میں سے کسی مرد اور کسی قدرعورتوں کا جانا موجب ا سکے آرام وسہولت و اطمینان کا ہے۔ سسرال میں پہنچ کر دولہن کا کمال حیا وشرمگیں نگاہ کے ساتھ اتر نا اور معتدل رفتار کے ساتھ چلنا اور سب سے ملنا اور مودبانہ پیش آنا ۔ہر سوال کا معقول مختصر جواب دینا آدمیت کی باتیں ہیں ، نہ اندھا بھینسا بن جانا۔ دوسروں کے چلائے چلنا اور دوسروں کے اٹھائے اٹھنا ۔دولہن کے پاس ہر وقت بھیر کا رہنا بھی خوب نہیں بلکہ بیبیوں سے ملا نے کا ایک وقت خاص چاہئے ۔.....

 

منگنی کے ایام میں لڑکی اور لڑکے کے اقربا میں جو خط وکتابت ہووہ ضرور ہے کہ سچے اخلاص او رمحبت سے پر اور یگانگت  کے رنگ سے رنگین ہو ہمارے ہاں منگنی کے ایام میں جس قسم کی خط وکتابت ہوتی ہے ہم اس کو سخت ناشائستہ تصور کرتے ہیں یہ صحیح ہے کہ منگنی سے پہلے دونوں خاندان ایک دوسرے کے حال کی تفتیش بہت چھان بین کے ساتھ کرتے ہیں لیکن جب وہ مرحلہ طے ہوچکے اور یگا نگت قائم ہوجائےتو ایک دوسرے کی عیب جوئی ۔ یا چھوٹائی بڑائی کا فرق تو بڑی بات ہے۔...

 

نکاح کے متعلق ایک اور اصلاح بھی ضروری اور بہت مفید معلوم ہوتی ہے حال کے دستور کے موافق والدین اپنی بیٹی کو جہیز میں بہت سی پتیلیاں اور لوٹے اور چمچے اور کٹورے اور بہت سی خاک بلادیتے ہیں ۔بعض والدین نہ صرف برتنوں پر اکتفا کرتے ہیں بلکہ بیت الخلا کا سامان بھی مثلا چوکی طشت وغیرہ بھی دیتے ہیں ۔ اسی طرح وہ بے شمار کپڑوں کے جوڑے سلے سلائے جن میں پاجامے ،کرتیاں دوپٹے  وغیرہ سب کچھ ہوتے ہیں کئی سال کا سامان پہلے سے تیار کردیتے ہیں اور جس طرح برتنوں میں چوکی اور طشت تک نوبت پہنچتی ہے ان میں رومال ۔کمر بند ۔موباف بٹوے ۔تلے دانیوں اور کنگھی تک نوبت پہنچتی ہے ۔....

 

حضرت عمر فاروق ۔عمر بن العاص ۔طاؤس ۔اوب الشعشا ۔ امام شافعی ۔ امام احمد ۔ اوزاعی۔ اسحاق وغیرہ ائمہ حدیث ۔امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ اگر شوہر زوجہ سے یہ شرط کرلے کہ میں تیرے ہوتے نکاح ثانی نہ کرونگا تو اس شرط کا ایفا ضروری ہے اگر یہ شرط پوری نہ ہوگی تو نکاح ٹوٹ جائے گا۔ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ  لایحل ان تنکح امراۃ بطلاق اخری ۔یعنی اس طرح کا نکاح جائز نہیں کہ ایک عورت یہ شرط کرے کہ اگر تو اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے دیں تب میں نکاح کرتی ہوں۔....

 

قبل ازمنظوری رشتہ لڑکی والوں کو چاہئے کہ لڑکے کےذریعہ معاش کی بابت قطعی یقین حاصل کرلیں ۔ آج کل فی زمانہ ذرائع معاش بہت محدود ہوگئے ہیں اور ماں باپ صرف اپنا چاؤ پورا کرنے کےلئے قرض لے کر شادیاں کردیتے ہیں۔ چونکہ لڑکا کوئی مستقل صورت گذارہ نہیں رکھتا اس لئے کئی طرح کی خرابیاں ظہور میں آتی ہیں۔ اور بیاہ کی خوشیاں چند روز میں ختم ہوجاتی ہیں اور دولہن پرانی ہوجاتی ہے ۔ اور کنبہ میں ایک آدمی کا خرچ بڑھ جانے کی وجہ سے یہ بوجھ صاف محسوس ہونے لگتا ہے جو بالطیع ناگوار ہوتا ہے ۔لڑکے کا بیکار رہنا جو پہلے والدین کے دل پر چنداں بارنہ تھا اب  خاص طور پر موثر ہوکر بیٹے اور بہو سے نامعلوم  نفرت پیدا کرنے لگتا ہے ۔.....

 

By Farooq Argali

لیکن سب سے سخت مشکل یہ ہے کہ اگر اس قسم کا پورا اختیار عورت کو دے بھی دیا جائے تو وہ بیچاری ایک شخص کو کس طرح اچھا یا برا کہہ سکتی ہے جب کہ اس نے اس کو دیکھا تک نہیں اس کی عادات و اطوار سے واقفیت حاصل نہیں کی ۔ وہ نہیں جانتی کہ اس کی خوسبو کیسی ہے اور وہ اس کے ہمراہ کس قسم کا سلوک کرے گا۔ پس عورت کو اختیار ملنے کی صورت میں بھی فقط اس مختصر امر کی بنا پر کہ فلاح شخص فلانے کا بیٹا ہے اور اس عمر کا ہے وہ زندگی بھر کے معاملات پیچیدہ کے لئے اس کو کس طرح منتخب کرسکتی ہے۔....

 

طبقہ شرفا میں جو بالغہ اور قابل ازدواج لڑکیوں کو بیاہ شادیوں کی تقریبوں میں نہ لے جانے کا عام دستور ہے اس کو بند کر کے ان کو اپنی بہو اور ماؤں کے ہمراہ ان تقریبات میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔اس سے تین فائدہ ہونگے اول یہ کہ کنبہ اور برادری کی عورتیں اس لڑکی کو دیکھ کر اور بات چیت کرکے اس کی صورت و سیرت کی نسبت ٹھیک رائے قائم کرسکیں گی اور جس لڑکے سے اس کا رشتہ قرار پائے اسکو اس لڑکی کے حالات زیادہ وضاحت اور صحت اور وثوق سے معلوم ہوسکیں گے۔...

 

ابن عمر کہتے ہیں کہ عثمان ابن مظعون مرگیا اور اس نے ایک بیٹی چھوڑی اور اس کے نکاح کی بابت اپنے بھائی قدامہ کو اخیا%ر دیا ۔عثمان اور قدامہ دونوں ابن عمر کے ماموں تھے۔ ابن عمر  نے قدامہ سے اس کی بھتیجی کےلئے خواستگاری کی چنانچہ اس نے اس لڑکی کا نکاح ابن عمر سے کردیا۔ اس کے بعد مغیرہ ابن شعبہ لڑکی کی ماں کے پاس گیا ۔ اور مال کا لالچ دیا چنانچہ ماں کی رائے پھر گئی او رماں کے ساتھ لڑکی کی بھی ۔آخر دونوں نکاح سے منکر گئے ۔ یہ معاملہ رسول اللہ کے پاس پہنچا ۔قدامہ نے کہا کہ یہ لڑکی میری بھتیجی ہے اس کے باپ نے وصیت کی تھی کہ میں اس کا نکاح کردوں سو میں نے اس کا نکاح اس کے پھوپھی زاد بھائی ابن عمر سے کردیا۔...

 

ہزاروں شریف نوجوان ملیں گے جن کی بیویاں نہایت حسین اور تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند ہیں اور اپنے شوہر وں کی اطاعت اور فرمانبرداری اور انتظام خانہ داری سب کچھ کمال خوش سلیقگی سے کرتی ہیں مگر ہم ان نوجوانوں کو آوارہ اور فسق وفجور میں مبتلا پاتے ہیں اس کی وجہ بجز اس کے او رکچھ نہیں ہوتی کہ تعلیم اور تربیت اور نیک صحبت نے جو کچھ فرائض زوجیت لڑکیوں کو سکھائے ان سب پروہ لڑکیاں پورا عمل کرتی ہیں اور جتنے اختیاری امور ہیں ان میں وہ اپنے شوہروں پر ملال نہیں آنے دیتیں مگر سچا اخلاص اور پیار جس سے وہ حالت پیدا ہوتی ہے کہ من توشدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی اس پر تعلیم وتربیت کی حکومت نہیں ۔...

 

غرض نکاح کے جو اصلی اغراض ومقاصد تھے وہ لوگوں کے دلوں سے مٹ گئے اور ان کی جگہ لوگوں کے دلوں میں جھوٹے اصول او رکمینہ خواہش متمکن ہوگئی ہیں۔ اس لئے ان اغراض و مقاصد کی تکمیل کے جو طریقے تھے ان کی پیروی کی بھی کچھ ضرورت نہ رہی اور لوگ نکاح کے باب میں بالکل غلط راہوں پر پڑگئے اور گمراہ ہوگئے اور اس گمراہی سے جو خرابیاں پیدا ہونی ضرور تھیں وہ پیدا ہورہی ہیں۔ ہر ایک گھر میں نااتفاق اور بغض او ر لڑائی جھگڑے کا بیج بویا گیا ہے جو اپنا قدرتی پھل لارہا ہے اور لائےگا ۔ ان جھگڑوں سے ہزاروں شریفوں کے گھرانے جو حقیقی راحت و شادمانی کی تصویر ہوتے او ربے انتہا محبت وخوشی کے مرجع بنتے بدترین کدورتوں او ر دل آزاریوں کے نمونے ٹھہرے ہیں۔....

 

ایک قصہ ہمیں ہمیشہ یادرہے گاکہ کسی نے ہمارے آگے اپنی بیوی کی بہت تعریف کی اور خدا کا بہت شکر ادا کیا کہ اسی بیوی اس کو عطا فرمائی ۔ہمیں اس کی بیوی کے اوصاف سننے کا شوق ہوا۔ اس نے کہا کہ بس وصف کیا بیان کروں۔ خداجانے آپ کی کیا رائے ہے۔مگر میری رائے میں تو اس میں ایک وصف تمام جہاں کی نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ میں نے کہا کہ آخر فرمائیے تو سہی ۔ اس نے کہا شاید آپ یوں ہی ہنسی میں اڑائیں میں ہرگز بیان نہ کروں گا۔مجھے اس بات کی کچھ پروا نہیں کہ اس وصف کی کوئی اور شخص بھی داد دے۔غرض جب ہم نے بہت اصرار کیا تو یہ معلوم ہواکہ ان کی بیوی دونوں آنکھوں سے اندھی ہے اور باوجود اندھی ہونے کے روٹی وغیرہ کا کام اچھی طرح انجام دے لیتی ہے۔...

 

ایک ہمارے دوست حسین بیوی رکھتے تھے ۔ اس بیچاری کے ہاتھ کی پشت پر رسولی نکل آئی اور ضروری ہوا کہ ہاتھ ڈاکٹروں کو دکھایا جائے۔ ہمارے دوست کو اس قدر فکر رسولی کے مرض کا نہ تھا جس قدر یہ فکر تھا کہ ان کی بیوی کے حسین ہاتھ پر ڈاکٹر کی نظر پڑے گی۔ ہم نے ان کو اس فکر میں غلطیاں وہ پیچا ں پاکر ان کو یہ تجویز بتائی کہ مقام ماؤف کے سوا باقی کل ہاتھ پہونچے تک نیل یا سیا ہی میں رنگ دیا جائے ۔مگر ہمارے دوست نے اس کو تمسخر سمجھ کربہت برامانا ۔ سینہ کے امراض مثلاً دق یا سل میں جو عموماً مستورات کو زیادہ ہوتے ہیں مہلک ہیں اور سینہ کا امتحان ایک امر لابد ہے جس کو بہت ہی کم شرفا کم گوارا کرتےہیں۔....

 

By Farooq Argali

 

جن شرائط پر دوسرے مقصد کا حصول ہے وہ بھی نکاح مروجہ میں کلی طور پر مفقود ہوتی ہیں اول تو شوہر کو زوجہ کے پسند کرنے کا اختیار ہی نہیں ہو تا اور اگر ہوتا بھی ہے تو دس بارہ برس کا بچہ کیا جان سکتا ہے کہ میں کس قسم کا اور کتنی مدت کےلئے معاہدہ کرتاہوں اور اس کا کیا اثر میری کل زندگی پر ہوگا  لیکن اس قدر صغر سنی میں نکاح ہونا ایسا صریحا مذموم امر ہے کہ اس کی مذمت سے عموماً لوگ واقف ہوگئے ہیں اس لئے اس امر پر زیادہ زور دینا ضروری ہے ۔ لیکن جو نکاح عموماً زمانہ بلوغت یا اس سے بھی بعد عمل میں آتے ہیں ان کے پسندیدہ ہونے میں شاید بہت کم لوگوں کو کلام ہوگا ۔مگر ہم ان نکاحوں کو بھی سخت قابل اعتراض سمجھتے ہیں۔....

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • “de-Arabinize and Indianize” our Islam, Hats off. ..
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Rashid Sahab, you have a point, but Islam does not exist in a vacuum. The best of...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very brilliant observation'
    ( By Arshad )
  • With respect Mr GM, If I may ask- “de-Arabinize and Indianize” our Islam, would it not be a case of 'out of the frying pan ...
    ( By Rashid Samnakay )
  • Much can be expected from the new Muslim woman if she continues...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Progressivism and Ijtihad in the service of righteousnes and justice...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I don’t know who said I like the New Age Islam. To begin with, I don’t know...
    ( By Flossie Francis )
  • Better follow the principles of the Abdul Kalam for ideology and...
    ( By Manoranjan Mishra )
  • Write it in Hindi if possible as Hindi version shall be read by many.
    ( By Sheshmani Nath Tripathi )
  • Ved Vyas Muni ( compiler of Vedas) has written in Bhagavatam 1.2.11....
    ( By Amal Kanti Sen )
  • No God's words in any so called religious books . All man made stories.Even...
    ( By Nanak Chand Premi )
  • namit singh, no body is taught to indulge in jehad. it is just a propaganda and pretext to attack muslims.'
    ( By Urooj Fatma )
  • It is good to see at least Muslims and Hindus have come forward to speak high volume of their unity and integrity. I have written ...
    ( By GGS )
  • Mr Namit Singh, there are several war-related verses and ahadith but they can't be applied to today's context. There were ....
    ( By GGS )
  • Ghulam Gaus, see the Kerala governor quoting from the authoritative book which is taught by Deoband....
    ( By Namit Singh )
  • It is the beauties of Indian Constitution that Muslims have always rejected the call of ...
    ( By GGS )
  • Apurbajyoti Majumdar Islam supports nationalism. do you read or just pretend ,....
    ( By Urooj Fatma )
  • The present day so-called "Jihad" is simply a form of transgression and hence a great violation...
    ( By GGS )
  • Ghulam Faruki, you have said well. each and every citizen is free to practice any religion and no one is forced...
    ( By Urooj Fatma )
  • Namit Singh, muslims who remained in India were not the supporters of partition of India. This is ....
    ( By Urooj Fatma )
  • In the context of the present aroused India, Swapan Dasgupta...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A timid Supreme Court at this juncture in our history would be disastrous....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I support your endorsement of IHRC's appeal
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Sarva Dharma Sambhava is societal wisdom whereas secularism...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A little “David” from tiny African Muslim majority country Gambia, to its credit...
    ( By Rashid Samnakay )
  • Mr. Ghulam Ghaus Siddiqi Thank you for your comments on my letter.Please ...
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Ghulam Faruki Laudable thought. But where is he?'
    ( By Apurbajyoti Majumdar )
  • The new Muslim knows the difference between what is important and what is ....
    ( By Ghulam Faruki )
  • Savarkar subscribed to the two nation theory. C Rajagopalacharya supported ....
    ( By Ghulam Faruki )
  • Namit Singh You have made a request, to accept which is difficult for many.'
    ( By Apurbajyoti Majumdar )
  • Given the link. Go, download, and read the book....
    ( By Namit Singh )
  • If his book is vilifying him, I cannot help '
    ( By Namit Singh )
  • Vilification of Nehru and Ambedkar has become the new dharma of the bhakts!'
    ( By Ghulam Faruki )
  • Ya ! He wrote a voluminous book called 'Pakistan or the Partition of India', that ....
    ( By Namit Singh )
  • Namit Singh it is the photograph of Dr Babasaheb Ambedkar!'
    ( By PM Amir Sultan )
  • And you are showing the picture of a great Indian who advocated the partition of India on the basis of religion !'
    ( By Namit Singh )
  • Namit Singh Islam trumps nationalism.
    ( By Apurbajyoti Majumdar )
  • You are Indians. And you are taught to indulge in jehad with those who do not accept your invitation of 'faith'.'
    ( By Namit Singh )
  • Wattal Islam is Islam. There is no old age Islam or new age Islam. The world is tasting its fruit since.....
    ( By Hari Krishan )
  • Bhai khud ko jeetna hi jehad hai.Saitani karm karke jihad ka nam mat do.Allah aachchhi ka ...
    ( By Ashok Geda )