certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

Terrorism In The Name Of Quran  قرآن کے نام پر دہشت گردی
Basil Hijazi, New Age Islam
Terrorism In The Name Of Quran قرآن کے نام پر دہشت گردی
Basil Hijazi, New Age Islam

دہشت گرد قرآنِ مجید کا جاہلانہ استعمال کرتے ہیں، یہ لوگ قرآنی آیات سے جہادانہ ودہشت گردانہ معانی زبردستی کشید کراتے ہیں اور مغربی ممالک کے مفادات پر یہ سوچتے ہوئے حملے شروع کر دیتے ہیں کہ اس سے ان کا (یک طرفہ) دشمن ڈر جائے گا اور اس کے دل میں ان کا خوف بیٹھ جائے گا تاہم زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اثر الٹا ہوا، بجائے اس کے کہ یہ دشمن ڈرتا خود انہیں خوف وڈر کا سامنا کرنا پڑ گیا، مغرب نے امریکی قیادت میں افغانستان پر حملہ کر دیا اور نقصان افغانی قوم کو اٹھانا پڑا، وجہ ظاہر ہے القاعدہ کی یک طرفہ، انفرادی اور حد درجہ بچگانہ حرکت تھی جس کے لیے ظالموں نے اول وآخر قرآن کی اس آیت کو بطور استدلال کے پیش کیا:

 
Time to Reflect On Spirituality  یہ روحانیت پر توجہ دینے کا وقت ہے
Maulana Wahiduddin Khan
Time to Reflect On Spirituality یہ روحانیت پر توجہ دینے کا وقت ہے
Maulana Wahiduddin Khan, Tr.New Age Islam

روحانیت کی طرف مائل افراد اپنی سوچ میں خود کو بلند کرتے ہیں، اور اعلی الہی شعور کے ساتھ زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں- غیض و غضب کی حالت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا، ناپسندیدہ تجربات سے ان کے دماغی توازن میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا، اور کسی کا تکلیف دہ رویہ ان کے اندر غصے کا احساس نہیں پیدا کرتا۔ اپنے اصولوں پر سختی کے ساتھ کاربند روحانیت پسند افراد کی ذہنی سطح اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ دوسروں کی طرف سے پھیکے گئے پتھر ان تک نہیں پہنچ سکتے۔

 

علامہ مودودی نے بھی ’’سرمایہ داری ، اشتراکیت اور اسلام ‘‘ میں سرمایہ داری اور اشتراکیت ‘کی الگ الگ مثبت تعریف کرنے کے بعد اسلام کے بارے میں صرف اتنا لکھ دیا کہ اسلام ایک معتدل اور متوازی نظام ہے ان دونوں نظاموں کے درمیان عہد حاضر کے طلبا ء کو اسلام سمجھانے کے لئے پہلے دونوں نظاموں (سرمایہ داری اور اشتراکیت ) پہ مثبت لکچر دینا پڑے گا ۔ یہ مقالہ لکھنا پڑے گا دونوں نظاموں کی تفہیم تعریف کے بعد اسلام کے بارے میں محولہ بالا جملوں میں اسلام کی تفہیم ممکن ہوسکے گی ۔

 
The Momineen and the Kafirin  مؤمنین اور کافرین
Naseer Ahmed, New Age Islam
The Momineen and the Kafirin مؤمنین اور کافرین
Naseer Ahmed, New Age Islam

لہٰذا، مومنین (وفادار) اور کافرین (بے ایمان) یہ دونوں ایسی اصطلاحیں ہیں جن کا انطباق دین کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف طرز عمل کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ، اسلام ایک مذہب کی حیثیت سے اپنی عالمگیریت اور جامعیت کو کھو دیگا۔ درحقیقت ہم یہ پاتے ہیں کہ قرآن لوگوں کا فیصلہ ان کے طرز عمل کی بنیاد پر کرتا ہے۔ قرآن نے نبی ﷺ کے خلاف ایک غیر منصفانہ جنگ میں شامل ہونے والے مشرکین کو کافر کہا ہے ، لیکن جب انہیں مشرکین کو فتح کر لیا گیا اور جب وہ حالت جنگ میں نہیں تھے تو بعد والی آیت میں 9:5 انہیں محض مشرکین کہا گیا ہے کافرین نہیں۔ لہذا، صرف آپ کا عمل ہی اس تناظر میں آپ کی حیثیت کو متعین کرتا ہے۔

 

اب ایک روح فرساداستان اور سن لیجئے ۔ جون 2011میں کراچی کے کلفٹن پارک میں 22سالہ سرفراز شاہ کو دن کے اجالے میں گولی مار دی گئی ۔ اتفاق سے ایک ٹی وی چینل کی ٹیم بھی پارک میں موجودتھی، تصویر لینے والے کیمرے کارخ ادھر کردیا ۔ ویڈیو میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ نوجوان دونوں ہاتھ جوڑ کر منتیں کررہا ہے، لیکن رینجر شاہد ظفر نے اپنی بندوق تان لی او رایک گولی ایک گھٹنے پر لگی ۔ مظلوم چیخ رہا ہے کہ اسے علاج کے لیے لے جایا جائے، لیکن سفاک ظالم نے دوسرے گھٹنے پر دوسری گولی او رماردی۔

 

جب اڈوانی وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے انتہاپسندی اور دہشت گردی کے ساتھ مدارس کی تعلیم کے تعلقات کی تفتیش کرنے کے لئے ایک خصوصی انکوائری قائم کی تھی۔ ریاست کی جانب سے بہترین کوششوں کے باوجود انہیں ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا اور اس طرح اس انکوائری کو خاموشی کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ مدارس کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا ہے اور مدارس کے بارے میں اس طرح کی سوچ کو وہ ایک طویل عرصے سے اپنی عوامی گفتگو میں ظاہر کرتے رہے ہیں۔

 

نذیر ناجی لکھتے ہیں کہ پاکستان میں علماٴ نے فیصلہ کیا کہ ایک ایک ماہ کے وقفے سے طلاق دہرانے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ مجھے کچھ پتہ نہیں کہ اس پر کتنا عمل ہوتا ہے۔ میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ پاکستانی علماٴ نے ابھی تک عورتوں، مردوں اور بچوں کو غلام بنانے کے خلاف کوئی متفقہ اعلان نہیں کیا ہے، اور نہ یہ اعلان کرنے کے کے لئے تیار ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی عورت کو کسی طرح اپنی باندی بنائے اور اسکے ساتھ ہم بستری کرے تو یہ فعل زنا بالجبر قرار دیا جاےگا۔ برصغیر میں غلام بنانا جرم قرار پایا تو انگریزوں کی وجہ سے۔

 

سات قسم کے آدمیوں کو اس دن اللہ عز وجل (اپنے عرش کا سایہ یعنی فضل وکرم) عطا فرمائے گا جس دن اس کے (عرش کے سائے) کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا : (۱) انصاف کرنے والا حکمران ، (۲) وہ نوجوان جو اللہ عز وجل کی فرمانبرداری میں پروان چڑھا ، (۳) وہ شخص جو مسجد سے نکلے تو واپسی تک اس کا دل مسجد ہی میں لگا رہے ، (۴) وہ دو آدمی جو اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں، اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں ، (۵) وہ شخص جو علیحدگی یعنی تنہائی میں اللہ عز وجل کو یاد کرتا ہے تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں (۶) وہ مرد جسے کوئی خوبصور ت اور خاندانی عورت (گناہ کی طرف) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے میں اللہ عز وجل سے ڈرتا ہوں (۷) اور وہ آدمی جو صدقہ دیتا ہے تو اسے اس طرح چھپا کر دیتا ہے  کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے-

 

آج اقلیت یا کسی بھی مسلم ممالک مثلاً عراق، شام، پاکستان، بنگلہ دیش، سعودی عرب وغیرہ میں رہنے والے غیر مسلموں کو نہ تو کسی فرد اور نہ ہی داعش یا طالبان جیسی کسی جماعت کے ہاتھوں نہ تو قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مشق ستم بنایا جاسکتا ہے۔ اقلیت یا کسی مسلم ممالک میں رہنے والے غیر مسلموں کے قتل کے مذہبی جواز کی تلاش میں ایسے گروہوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے دعوے بے بنیاد ہیں، بلکہ یہ در حقیقت اسلامی شریعت پر افترا کرنا ہے جس کا ایسے دعوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

The Principles of War from the Quran  قرآن میں جنگ کے اصول
Naseer Ahmed, New Age Islam
The Principles of War from the Quran قرآن میں جنگ کے اصول
Naseer Ahmed, New Age Islam

اسلام میں، دوسرے کافر ہیں، لیکن وہ غیر مسلم نہیں ہیں بلکہ وہ غیر منصف اور ظالم ہیں جو اسلام سمیت کسی بھی مذہب پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔ قرآن کی روشنی میں اللہ کا مقصد تمام قسم کی نا انصافیوں اور ظلم کا خاتمہ کرنا ہے، اور جو لوگ انصاف کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اور ظلم کے خلاف جنگ کرتے ہیں وہ "اللہ کی جماعت" ہیں اور مسلمانوں کو اس طرح کے لوگوں کے ساتھ مل کر ایک "امت واحدۃ" یا ایک متحدہ محاذ قائم کرنا چاہئے تاکہ نا انصافی اور ظلم کا خاتمہ ہو سکے۔

 

اگر علمی و تاریخی نوعیت کے حوالے سے مغنی صاحب کی اورنگزیب، محمود غزنوی اور ٹیپو سلطان پر لکھی ہوئی کتابوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ قاضی صاحب کی طرح ہی دوسری انتہا پر ہیں۔ ان کتابوں کو پڑھ کر تاریخ نگاری کی بجائے قصیدہ نگاری کا شبہ کر نا بھی بے جا ہو گا۔ شوکت الفاظ کے علاوہ حقائق سے ان کا تعلق قائم کرنا جوے شیر لانے کے مترادف ہے۔ موصوف نے یہاں دستیاب وسائل اور حقائق کی چھان بین اور تجزیہ و تحلیل میں ان شخصیات کے انسانی پہلو، انتظامی اموراور عدالتی امور کا جائزہ پیش کرنے میں شخصیات سے عقیدت مندانہ تعلق کو پیش نظر رکھا ہے۔ اور ان شخصیات کو انسان اور بادشاہ کی حیثیت سے پیش کرنے کی بجائے آسمانی مخلوق بنا دیا ہے۔

 

جب حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حسن خلق کیا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ‘‘تصل من قطعك وتعفو عمن ظلمك وتعطي من حرمك’’ ترجمہ: ‘‘جو تم سے قطع رحمی کرے تم اس سے صلہ رحمی کرو، جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کردو اور جو تمہیں نہ دے تم اسے دو’’ (شعب الایمان جلد ۶ ص ۲۶۱ حدیث ۸۰۸۱) ۔حسن خلق اور الفت و بھائی چارگی کے ساتھ زندگی گزانے میں ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے ۔ قرآنی  آیات  اور احادیث قیامت تک کے لوگوں کو بھائی چارگی اور رواداری کا درس لازوال دیتی ہے اور باہمی امداد و تعاون کا جذبہ بھی اجاگر کرتی ہے۔۔۔

 

لیکن کیا حقانی کے قاتل، پاکستان کے طالبان، افغانستان کے طالبان، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد جماعتیں اس فتوی کی وجہ سے خودکش بم دھماکوں سے باز آئیں گیں؟اور کیا خودکش حملہ ہی صرف ایک مسئلہ ہے، یا کیا یہ ایک لڑکے کا دماغ ہے جو اپنے آپ کو اور دوسروں کو ایک بم دھماکے سے اڑانے کے لئے تیار ہے؟

 

مروی ہے کہ اگرچہ باعتبار نزول اس آیت 2:256 کا مصداق انصار ہیں لیکن معنوی طور پر اس کے پیغام کا اطلاق و اجراء عمومی ہے (تفسیر ابن کثیر)۔ مشہور مقولہ "العبرة بعموم اللفظ لا بخصوص السبب"، معنی "معتبر زبان کی عمومیت ہے وحی کے سبب کی خصوصیت نہیں"، کے پیش نظر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آیت (2:256) معنی کے اعتبار سے عام ہے اور اس کا اطلاق تمام غیر مسلموں پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس عمومیت کے پیچھے استدلال اس طرح بیان کی گئی ہے کہ چونکہ وحی نے گمراہی کی راہ سے ہدایت کے راستے کو ممیز و ممتاز کر دیا ہے، اور اب ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا لوگوں کی اپنی مرضی پر منحصر ہے لہٰذا جبر و اکراہ کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنا کسی کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا۔

 

آئین ہند کےدفعہ 497 کے تحت ایک بیوی اپنے شوہر یا اپنے عاشق پر ازدواجی گھر کے نام نہاد تقدس کی پامالی کے لئے مقدمہ نہیں چلا سکتی کیونکہ شوہر اس کی خصوصی ملکیت نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف ایک شوہر ہی اپنی بیوی کے عاشق پر تعزیراتی کوڈ، 1973 ء کے آئین ہند کے دفع 198 (2) کے تحت مقدمہ چلا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اگر شوہر کے کسی غیر شادی شدہ ، مطلقہ یا بیوہ خاتون کے ساتھ تعلقات ہیں تو زنا کا جرم کسی کے خلاف ثابت نہیں ہوتا۔

 

مسلم خواتین اور بے شمار "تین طلاق" کا شکار عورتوں کے ساتھ زمینی سطح پر سرگرم کارکن اس بل کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ اس عمل کی وجہ سے ان مسلم خواتین کو پیش آنے والی مفلسی اور بے بسی ان کی نگاہوں کے سامنے ہے۔ وہ اصلاح کے لئے اس موقع کو کھونے میں کوئی بھلائی نہیں دیکھتے ہیں کیونکہ بر سر اقتدار پارٹی قدامت پرست ہے۔تین طلاق بل ہندوستان میں صنفی انصاف کی بنیاد پر مسلم خاندانی قوانین کی اصلاح کے لئے ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

 

اگر تین طلاق کو باطل قرار دیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے مرد اور عورت اب بھی رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں ، تو اس صورت میں مالی وظیفہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا۔ دوم، اگر شوہر کو جیل میں ڈال دیا جائے تو وہ مالی وظیفہ اور اسباب گزر بسر کہاں سے فراہم کرے گا؟ سوم، کیا ایسے باطل طلاق کے بعد عورت کو شادی شدہ خاندان میں رہنے کی اجازت دی جائے گی؟ طلاق پر شوہر کو جیل پھیج دئے جانے کے بعد اگر شوہر کے والدین اسے خاندان سے باہر نکال دیتے ہیں تو وہ کہاں جائے؟

 

اس کی مثال وہ واقعہ ہے جو حال ہی میں جکارتہ انڈونیشیا میں پیش آیا ہے۔ گورنر کے انتخابات کے دوران حجاب میں ملبوس ایک خاتون کو ٹی وی پر خبر سناتے ہوئے دکھایا گیا تھا جو یہ کہہ رہی تھی کہ "چوں کہ میں ایک مسلمان ہوں اسی لیے مجھے کسی مسلم کو ہی ووٹ دینا چاہیے"۔ ایک عیسائی کے خلاف جھوٹ اور تعصب کا مظاہرہ پوری آزادی کے ساتھ کیا گیا! جس کے نتیجے میں انتخابی امیدواروں کے مذاہب کی بنیاد پر انتخابی فتح و شکست کا فیصلہ ہوا۔

 

صفحہ 28 کے ان اقتباسات نے میرے اندر یہ تبدیلی پیدا کی: "اگر سلمان رشدی اس باطل 'حدیث غیر متلو’پر مبنی ایک فکشن تحریر کرنے کا مجرم ہے جسے سلمان نے شیطانی آیات کا نام دیا ہے تو کیا اس نے در حقیقت اس گستاخانہ حدیث کی مذمت نہیں کی ہے۔ جس کی بنیاد پر اس کے اوپر موت کا فتوی جاری کیا گیا تھا؛ شاید اس لیے کہ اس نے صحیح بخاری کی ایک حدیث کو شیطانی آیات کہا تھا؟ "

 

سورہ رحمن میں قرآن کہتاہے : اس نے (خدا نے ) اس کو (انسان کو ) بیان (علم البیان ) یعنی فن تحریر و تقریر سکھایا۔ علم بیان میں مؤثر اور معنی خیز تقریر اور تحریر کے تمام گر اور لسانی اجزاء استعمال ہوتے ہیں اور اس میں تشبیہ ، استعارہ، علامت ، تمثیل ، مثالیں اور لہجے کے اتار چڑھاؤ سے پیدا ہونے والے تاثر شامل ہیں ۔قرآن ان تمام آلات بیان کا استعمال پراثر اور پر معنی پیرایہ اظہار کے لئے استعمال کرتاہے ۔اس کے ساتھ قرآن ان تمام لسانی اور اسلوبیاتی آلات کا استعمال اتنے توازن اور اعتدال کے ساتھ کرتاہے کہ قاری اس کے مفہوم کو آسانی سے سمجھ جاتاہے ۔

 

ہمیں دانشورانہ اور روحانی ترقی کے ذریعے اپنے شعور کو وسیع کرنا ہوگا۔ انسان کا وجود اسی وسیع شعور سے عبارت ہے۔ جو لوگ انسانی سطح حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں وہ اس دنیا کی آزمائش میں اور جنت حاصل کرنے کی کوشش میں بھی ناکام ہو جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ اس دنیا میں امن اور خوشحالی اور آنی والی دنیا میں بھی نعمتوں اور مسرتوں والےباغات سے سرفراز ہوں گے جسے ہم جنت کہتے ہیں۔

 
There is No Such a Wild Animal as We Are  ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
Imam Syed Ibn Ali, Detroit, New Age Islam
There is No Such a Wild Animal as We Are ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں
Imam Syed Ibn Ali, Detroit, New Age Islam

رسول خدا حضرت خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ نے آخری زمانے کے فتنوں میں سے ایک فتنہ انہی علماء کے بارے میں فرمایا ہے۔ حضرت خاتم الانبیاء کی ’’ختم نبوت‘‘ پر تو جاں دینے کو تیار ہیں لیکن خاتم النبیین کے اخلاق اپنانے کو کوئی بھی تیار نہیں۔ کیوں ان احادیث کا چرچا نہیں کیا جاتا جو حضرت خاتم الانبیاء نے بیان فرمائی ہیں اور جن کی صداقت میں کوئی شبہ تک نہیں ہے۔ ان احادیث کا متن ببانگ دہل آنحضرت ﷺ کی صداقت کا اعلان کر رہی ہیں ۔

 

جب یہ فیصلہ صادر کیا گیا تو ہر طرف افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور ایک متوقع نعرے کی صدا ہر طرف گونج اٹھی کہ اسلام خطرے میں ہے۔ مذہب اسلام کی سمجھ سے مکمل طور پر عاری اقلیتی حقوق کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے رجعت پسندانہ موقف کی تائید میں اپنی پوری قوت صرف کر دی اور مسلم خواتین کو پابند سلاسل رکھنے اور انہیں ان کے شوہروں کا مطیع فرمانبردار بنائے رکھنے کے لئے علماء کے ساتھ انہوں نے ساز باز بھی کی۔

 

اسرائیل کی خودمختاری کی بطن سے پیدا ہونے والے یہودی بمقابلہ عرب موت کا کھیل دوسری عالمی جنگ میں نازی قتل عام کے بعد بے جا غم و غصے کی ایک شاندار نمونہ معلوم ہوتا ہے جو کہ ٹرمپ کے ذریعہ یکطرفہ طور پر یروشلیم کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کئے جانے کے بعد مزید مہلک شکل اختیار کر چکا ہے۔ جیسا کہ سعودی شاہ عبدالعزیز نے 1945 میں امریکہ کے صدر ایف ڈی روزویلٹ سے کہا تھا کہ "یہودیوں کو اپنا وطن جرمنی کی سب سے بہتر سر زمین پر قائم کرنے دیا جائے نہ کہ عرب کے علاقے پر کہ جن کا اس سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہے جو ان کے ساتھ پیش آ چکا ہے۔"

 

انسانوں کے عام معاشرے میں سماجی طور پر اپنے تہواروں کا جشن منانے والے دیگر معاشروں کے ساتھ شرکت بغیر کسی مذہبی جذبہ کے آیت 4-2 کی حقیقی روح کے ساتھ کرنی چاہئے۔ کرسمس کا جشن اور یقینا بہت سے دوسرے مواقع آج مغربی ممالک میں عام طور پر صرف ایام تعطیلات اور ملنے جلنے، دوستی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک موقع کے طور پر منایا جاتا ہے۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • I congratulate Mr.Parvez for this lovable article.It is an eye opener for all particularly Wahhabis. Every religion/sect ....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Good article! Islam stresses moderation and balance in all aspects of life; in beliefs, worship, conduct, relationships, ideas, ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • Islam means peace and Muslims believe and should believe in peace. '
    ( By Kaniz Fatma )
  • very good reply "‘It’s Not Jihad but Jahalat’"
    ( By Kaniz Fatma )
  • Hats Off claims to be a critic of all religions but it seems his venom is exclusively directed at just one religion!....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off is just trying to find something nasty to say. What does Jacinda Ardern's magnanimous...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • you are incapable of surprises. nothing new here. sort of desertification....
    ( By hats off! )
  • it is a mistake for india to develop "interests" in afghanistan. eventually all muslim....
    ( By hats off! )
  • so new zealand pm is a shining example of tokenism. how about women...
    ( By hats off! )
  • Madness has no religion
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Prof. Hoodbhoy knows humanity and human affairs a lot better than Hats Off does..,.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • The word "Jihad" should be expelled from our lexicon. There is no place....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )