certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے رسول و نبی ہیں ان کا یہ معمول تھا کہ وہ بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مہمان ان کے دسترخوان پر نہیں ہوتا کھانا نہیں کھاتے لیکن ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ کے پاس کئی دنوں سے مہمان نہیں آ رہے تھے اور تلاش کرنے پر بھی کوئی نہیں مل رہا تھا، جب کئی دن گزر گئے تو آپ کو ایک بزرگ(بوڑھے) مسافر نظر آئے انہوں نے اس مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا اور اپنے گھر لے کر آئے کھانا کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا گیا پھر آپ اپنے مہمان کو لے کر دسترخوان پر بیٹھے آپ نے فرمایا: اللہ کے نام سے کھانا شروع کیجیے!

 

ایک زمانہ تھا جب، مدارس تحریک سےاجتماعی طور پر وجود میں آتے تھے۔ مقامی لوگوں کا معمولی چندہ بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ رمضان میں باقاعدگی سے گوشوارہ چھپتا تھا، جو عوامی جانچ پڑتال کی راہ کھول دیتا تھا۔ تب لوگ مدارس کو ملّی اثاثہ سمجھتے تھے اور موقع پڑنے پر اس کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔  1970کی دہائی سے رفتہ رفتہ، مدارس بھی، دُکان کی طرح ، افراد کی ملکیت بنتے گئےجن میں مہتمم کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ چندہ بھی ’’باہر ‘‘سے آنے لگا۔ گوشوارہ کی روایت اٹھادی گئی۔جب مقامی چندہ کم یا ختم کیا گیا تو مقامی بچّوں کا جھنجھٹ کیوں پالا جائے، جن کے والدین کبھی بھی آکر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔

 

کیا آر ایس ایس کو اس بات کا خطرہ ہونا چاہئے کہ جس شخص کو انہوں نے مدعو کیا اسی نے ان کی نظریاتی تردید کر دی اور جس مقصد کے پیش نظر انہیں بلایا گیا تھا وہ مقصد فوت ہو گیا؟ بہت سے تبصرہ نگاروں نے بھی یہی سمجھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی فرق تلاش کیا جائے تو جو آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا اور جو پرنب مکھرجی نے کہا ان دونوں کے درمیان بہت ادنیٰ فرق ہے۔ بلاشبہ ان دونوں کا تعلق مختلف سیاسی نظریات سے ہے لیکن جب قوم پرستی کی بات آتی ہے تو ان تمام کے بیان سے ایک وسیع پیمانے پر اتفاق رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ اب ہم اس نقطہ نظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

 

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پر امید ہو کر یہ ٹویٹ کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ‘‘ان کی سرگرمیاں لاحاصل ہیں’’ ، اور دونوں ڈی جی ایم او کی جانب سے سرحد پر جنگ بندی کے فیصلے کو برقرار رکھے جانے کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۔ "اس سے قرب و جوار میں رہنے والوں کو کافی راحت ملی ہے۔ ہماری سرحدوں پر امن ایک بڑے پیمانے پر مفاہمت کے لئے سب سے پہلا اور لازمی قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ مسلسل جاری رہے گا......"

 
The importance of Zikr  ذکر کی اہمیت
S. Arshad, New Age Islam
The importance of Zikr ذکر کی اہمیت
S. Arshad, New Age Islam

قرآن میں بھی ذکر کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ کبھی کبھی لگتاہے کہ اسلام میں بھی ذکرایک بنیادی فریضہ ہے حالانکہ اس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں گیاہے اور نہ ہی اسے اسلام کے پانچ بنیادی ستون میں رکھا گیاہے مگر قرآن میں ذکر پر اتنا زور دیاگیاہے کہ اسے ایک فرض کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔ قرآن میں ذکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ قرآن کو کئی جگہ ذکر کہاگیاہے اور قرآن کی تلاوت فرض کردی گئی ہے ۔

 

یہ تمام احادیث اور اس طرح کی مزید روایات ہیں جن سے پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ معلوم ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔ اگرچہ احادیث 23 ویں شب کے بارے میں بھی ہیں، بلکہ 27 ویں کے بعد اگر کسی شب کے بارے میں کچھ واضح روایات ہیں تو وہ تیئیسویں شب ہے، مگر جس طرح کے جزم و یقین کے ساتھ ستائیسویں شب کے بارے میں احادیث وارد ہیں ایسا کسی اور شب کے بارے میں نہیں ہے۔ پھر درجنوں صحابہ اور جمہور علماے امت کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ ستائیسویں شب ہی شبِ قدر ہے۔

 

شب قدر جسے اللہ نے لیلۃ القدر کے مبارک خطاب سے نوازہ وہ حسین و جمیل رات جو قرآن کریم کو اپنے آغوش رحمت میں لے آئی اس کے فضائل و برکات کا کیا کہنا اس میں خود قرآن کریم کا نزول ہی سب سے بڑی فضیلت کی بات ہے لیکن صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس میں اور بھی بے شمار رحمت و برکت کا نزول ہوتا ہے جیسے: فرشتوں کی پیدائش ہوئی، حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا، نبی اسرائیل علیہ السلام  کی توبہ قبول ہوئی۔ انسانوں کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ رات  بھر آسمانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

 

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کا ایک قومی مذہب ہے۔ اور چونکہ اس کی پشت پر آج چودہ صدیوں کی تہذیبی تاریخ موجود ہے جسے اسلام ہی کے توسیعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لئے غیر مسلم ہی نہیں مسلمانوں کے لئے بھی حقیقی اسلام کا راست ادراک کچھ آسان نہیں ۔ گویا ہماری تہذیبی تاریخ حقیقی اسلام کے ادراک میں ایک ایسا حجاب بن گئی ہے جس کے چاک کرنے کا خیال تو کسی کو کیا آئے خود اس حجاب کاشعور بھی کم ہی لوگوں کو ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ مضمون ذاکر موسی جیسے انتہاپسندوں سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہندوستانی سیکولرزم مذہب مخالف نہیں ہے بلکہ یہ اسلام سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے طور پر مذہبی فرائض و ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔

 

یقینا، جنگ جمل پوری امت مسلمہ کے لئے عظیم تباہی کا سبب بنی جس میں حضرت طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہما) سمیت ہزاروں ہزار صحابہ قتل کئے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گرفتار کی گئیں۔ اس کے باوجود آج ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی ایک فریق کو جنگ جمل کا مورد الزام ٹھہرائیں۔ ایک طرف نبی ﷺ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کے شوہر اور آپ ﷺ کے چچا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف نبی ﷺ کی محبوب زوجہ محترمہ اور تفسیر ، حدیث، فقہ اور دیگر عربی اور اسلامی علام میں ماہر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

 

اس کے بعد مظاہر فطرت پر نظر کرنا ، تاریخ انسانی کا مطالعہ کرنا اور اپنے نفس پر غور و فکر کرنا اور کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے دل میں ایک خدا کا خیال پید کرے گی؛ اس کائنات کی ہر شئی اس کے ذہن کو اس حقیقت وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرے گی۔ وہ ہر جگہ اس کی عظمت و جلال کا مشاہدہ کرے گا۔ صرف وہی اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے جو خدا میں فنا ہو چکا ہے۔ خدا کی معرفت ایک ایک ایسا تحفہ ہے جو ان لوگوں کو عطا نہیں کیا جاتا جو اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں بھی مشغول ہوں۔

 
Is Violence the Only Way Out  کیا تشدد ہی آخری راستہ ہے؟
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam
Is Violence the Only Way Out کیا تشدد ہی آخری راستہ ہے؟
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam

اس نظم و ضبط کا آغاز چیزوں کو پڑھنے اور معاملات کو سمجھنے سے ہوتا ہے ، پھر ان اصولوں کو اپنے ذہن و دماغ میں جذب کرنے اور اس کے بعد انہیں زمین پر لاگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم بحیثیت ایک معاشرہ صبر کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، اور اگر ہم اس کے لئے کڑی محنت نہیں کرتے ہیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس سے اجتماعی خودکش اور تباہی ہمارا مقدر بننے والی ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی کے تمام معاملات میں مسلمانوں کو اعتدال پسندی کا درس دیا ہے۔ انہیں اس شیطان کو خوش کرنے والی کسی بھی قسم کی انتہاپسندی سے بچنا چاہیے جو انہیں سیدھی راہ سے گمراہ کرتا ہے۔ اعتدال پسندی اور توازن کی اس تعلیم کے ساتھ مسلمان انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہروں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو خطرہ ہے۔

 

اسلام کا مطلب (خدا کی مرضی) کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور مسلم کا معنی خدا کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کرنے والا ہے۔ قرآن یہودیوں ، عیسائیوں اوت محمد ﷺ سے ما قبل نبیوں کو مسلمان تصور کرتا ہے ، ان روایتی معنوں کے برعکس جن میں آج مسلمانوں کو دیکھا جاتا ہے۔ جی ہاں ، میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر وہ محمد ﷺ سے پہلے کے زمانے میں تھے تو ان کے لئے مسلمان ہونا کیسے ممکن ہے۔" اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم "مسلمان" کی تعریف کس انداز میں کرتے ہیں۔

      اقبال بنیادی طور پر صوفی مفکر اور شاعر تھے اگر چہ ا نکو عام طور پر عجمی تصوّف کے مخالف کے طور پر گردانا جاتا ہے لیکن اس تاثر کیلئے کسی حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ماہرین اقبالیات نے اقبال کی ایرانی یا عجمی تصوف پر تنقید کو ان کے کلام کے تناظر میں سمجھنے کی بھر پور کوشش نہیں کی ہے۔ اقبال عجمی تصوّف کو اسلام مین اجنبی پودا تصورنہیں کرتے ہیں اور انکو ہم ایرانی صوفیانہ مفکر ین کی صف میں کھڑا دیکھ سکتے ہیں ۔ اور ان کو کچھ صوفیا پر تنقید یا تصوّف کو باہری اثرات سے پاک کرانے یا اسلامائز کرنے کی سعی انہیں عجمی صوفیہ کی صف سے الگ نہیں کرتی ہے۔ انکا اختلاف عجمی صوفیہ سے دراصل تعبیر کا اختلاف ہے اور بڑی حد تک نزاعِ لفظی۔

Where to Find Peace and Tranquility?  امن و شانتی کہاں تلاش کریں؟
Ghulam Ghaus Siddiqi, New Age Islam
Where to Find Peace and Tranquility? امن و شانتی کہاں تلاش کریں؟
Ghulam Ghaus Siddiqi, New Age Islam

در حقیقت اطمینان قلب بہت بڑی دولت ہے جس کسی کو یہ حصہ مل جائے وہ کامیاب ترین انسان ہے ، اگرچہ وہ بظاہر دوسروں کی نظر میں وہ کوئی معمولی سا غریب انسان ہو، لیکن اطمینان قلب اس غریب انسان کے لیے اتنی بڑی دولت اور پونجی ہے کہ جس کا احساس اور اندازہ  صرف وہی کر سکتا ہے ۔ اس کے برعکس دنیا کا بڑا سے بڑا لیڈر اور ارب پتی اگر اطمینان قلب حاصل کرنے  کے ہدف سے محروم رہا اس کی لیڈر شپ یا دولت اسے کبھی کامیاب نہیں بنا سکتی اگرچہ وہ بظاہر دوسروں کی نظر میں کامیاب ہی کیوں نہ ہو۔در حقیقت ایسا شخص اپنی ناکامی کی مشقتیں بر داشت کر رہا ہوتا ہے جس کا اندازہ دوسروں کو نہیں ہوتا۔

 

یہ نظریہ ہزاروں سالوں سے موجود رہا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا ایک بامعنی زندگی کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کو خدا کی نعمتوں کا امین بن کر زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ روزہ اور نماز کے علاوہ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات تقویٰ کا ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ قرآن دولت حاصل کرنے کا روحانی فریم ورک اور اسے خرچ کرنے کے لئے عملی ہدایات دونوں فراہم کرتا ہے۔

 

روزہ خود کو مضبوط بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ زہد و تقویٰ کا ایک صوفیانہ طریقہ ہے جو انسان کے اندر ضبط نفس کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور ضبط نفس ہی روحانی طاقت کا دوسرا نام ہے۔ ضبظ نفس کا جذبہ ہر قسم کی کامیابی کی کلید ہے اور جو خود کو کنٹرول کرسکتا ہے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کرسکتا ہے۔ روزہ اپنی باطنی شخصیت کو مضبوط کرنے کی ایک سالانہ مشق ہے۔

 

اور جہاں تک کشمیر میں "اسلامی حکومت" کے قیام کی بات ہے تو ذاکر موسی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہندوستان اور اس کی ریاست کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے ان کی تمام بنیادی مذہبی آزادی حاصل ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی معنی میں وہ پہلے سے ہی ‘‘اسلامی حکومت’’ میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے  ہے کہ یہاں کوئی خلیفہ یا مسلم حاکم نہیں بلکہ یہاں ہندوستان میں مسلمان قیامت کے دن اپنے اعمال کے لئے صرف اللہ تعالی کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ روحانی ترقی کے حصول اور تقوی کی راہ اختیار  کرکے  اللہ اور اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔

 

جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ دیوبندی مسلمانوں کی آنے والی نسلوں نے اسلام کی انتہائی قدامت پرست اور علیحدگی پسند روایت کو قبول کر کیا۔ لہذا، اسلام کے دیوبندی پیروکاروں کو اسلام پسند عسکریت پسندی کے راستے پر آسانی کے ساتھ لگا دیا گیا۔ کئی محققین نے دیوبند اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فقہی نظریات کے درمیان مماثلت کا بھی انکشاف کیا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی مشرقی پاکستان میں طالبانی عسکریت پسند مقامی دیوبندی مدارس کے فارغ التحصیل ہیں۔ لال مسجد جیسے انتہا پسند اسلامی مدرسے کا بھی نظریاتی تعلق دیوبندی مکتبہ فکر کے ساتھ سامنے آیا تھا۔

 

اے لوگو! جو شخص اس ماہ میں اپنے اخلاق کو نیک بنائے اس کے لیے پل صراط سے گزرنے کا پروانہ ہے جس دن قدم متزلزل ہونگے، اور جو کوئی اس ماہ میں اپنے نوکروں سےکم خدمت لے خداوند عالم اس کے حساب کو کم کرے گا، اور اس کے ساتھ سختی نہیں کرے گا، اور جو کوئی اس ماہ میں شر اور برائی سے دور رہے خداوند عالم اپنے غضب کو اس سے دور رکھے گا جس دن وہ اس سےملاقات کرے، اور جو کوئی اس ماہ میں یتیم کا اکرام کرے خداوند تبارک و تعالیٰ روز قیامت اسے مکرم بنائے گا ، جو کوئی صلہ رحمی کرے وہ روز قیامت خداوند عالم کے سایہ رحمت میں رہے گا اور جو قطع رحم کرے خداوند روز قیامت اس سے اپنی رحمت قطع کر لے گا۔اور جو شخص اس ماہ میں مستحب نمازیں بجا لائے خداوند عالم آتش جہنم سے آزادی و برأت کا پروانہ اس کے لیے کھولے گا۔۔۔

 

تمام ادیان اور ملل میں روزہ معروف ہے ‘ قدیم مصری ‘ یونانی ‘ رومن اور ہندو سب روزہ رکھتے تھے ‘ موجودہ تورات میں بھی روزہ داروں کی تعریف کا ذکر ہے ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چالیس دن روزہ رکھنا ثابت ہے ‘ یروشلم کی تباہی کو یاد رکھنے کے لیے یہود اس زمانہ میں بھی ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ‘ اس طرح موجودہ انجیلوں میں بھی روزہ کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور روزہ داروں کی تعریف کی گئی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ‘ تاکہ مسلمانوں کو روزہ رکھنے میں رغبت ہو کیونکہ جب کسی مشکل کام کو عام لوگوں پر لاگو کردیا جاتا ہے تو پھر وہ سہل ہوجاتا ہے۔

 

اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں مذہب ، رنگ اور نسل سے قطع نظر امن ، رحمت ، عفو و درگزر اور انصاف کا ایک مثالی نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اس مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ احسان اور عفو و درگزر پر قائم رہتے ہوئے نامساعد حالات میں صبر کا مظاہرہ کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آپ ﷺ کی یہ پیاری سنت آج ہماری زندگی سے غائب ہو چکی ہے- نہ صرف یہ کہ یہ سنت ہماری زندگیوں سے غائب ہو چکی ہے بلکہ ہم میں سے کچھ لوگ اس سنت کے خلاف بھی کام کر رہے ہیں۔

لہٰذا، اسلام کے خلاف جمہوریت یا سیکولرازم کو پیش کرنا جہادیوں کا ایک بنیادی ہتھکنڈہ رہا ہے جسے الظواہری سے ذاکر موسی تک تمام جھوٹے اسلامی نظریہ سازوں نے استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس قرآن اور سنت میں ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہمارے لئے اسلامی اصولوں کی مطابقت میں جمہوریت اور سیکولرزم دونوں کو اپنانا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی ان دو آیتوں کو پیش کرنا ہی کافی ہے۔

 

مختصر یہ کہ خواہ مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک عیسائیوں ، یہودیوں اور ہندوؤں سمیت غیر مسلموں کے ساتھ دنیاوی معاملات میں پر امن بقائے باہمی کے قیام کو فروغ دینا کبھی بھی ممنوع نہیں رہا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی فرائض کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لینا چاہئے یا شریعت اسلامیہ کے خلاف غیر مسلموں کے مذہبی رسوم و روایات کو اپنا کر انہیں خوش کرنا چاہئے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا کی محولہ بالا تحریر ہمیں دوسروں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کو فروغ دینے کا ایک متوازن معیار فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم سے اپنے مذہب پر صبر اور استقامت کے ساتھ قائم رہنے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • Naseer sb., The important thing is not whether you are quoting from the Bible.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • "The only solution is to liberalise Turkey, to make....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • What the Pakistanis did to Abdus Salam should put all Muslims to shame.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • True, we should respect all prophets equally. We should also listen....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Jesus – Was He God? Many times Jesus referred to His own deity, both....
    ( By jeff allen )
  • Now will be in their list.
    ( By KLD )
  • Not to despise wisdom, since Quran 2:269 mentions God is the one to grant wisdom and wealth to whom he wills....
    ( By zuma )
  • Muslims should treat those Muslim women who wear or do not wear hijabs with equal status. Muslim men....
    ( By zuma )
  • There is nothing new in GM sb’s comment. He is simply repeating himself as he always does. GM sb says ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • Let's give a bad scenario that Quran 9:5 was written after the Meccans had converted to Muslims, Quran....
    ( By zuma )
  • AAP KHUD KO MANWAKAR SHARMINDA NAHI HO RAHE THE ....
    ( By Anjum )
  • Recently, the Secretary of the Publications (Tasneefi Academy) at Jamaat-e-Islami Hind Maulana Muhiuddin Ghazi...
    ( By GRD )
  • WHAT IS ZAIDI SHIA? WHAT IS ITHNA ASHARI SHIA?...
    ( By Tah )
  • There is no such thing as mentioned in Satish's comment.
    ( By GGS )
  • Mr. Satish you say, "9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam"....
    ( By GGS )
  • 9:5 was revealed one year after the Meccans had converted to Islam, so the question of fighting ...
    ( By Satish )
  • According to Quran 4:19, men cannot inherit women against their will. The following is the extract: An-Nisa (The Women....
    ( By zuma )
  • Quran 4:124 mentions clearly only those who believe in Allah and do good deeds to paradise instead...
    ( By zuma )
  • How about Quran 2:246. Al-Baqara (The Cow) - 2:246 [read in context] أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَى إِذْ قَالُواْ لِنَبِيٍّ ...
    ( By zuma )
  • Malaysia is already lost, one of my Buddist left Malaysia long long ago due to bad treatment to other faiths follower'
    ( By Aayina )
  • To Sultan Shahin & Zuma 100 chuhe Kha ke Billi haj Ko Chali. Forcefully...
    ( By Aayina )
  • Zuma do play interpretation interpretation game, Suktan Shahin does same, misleads to all other who are not believing in your book.' ...
    ( By Aayina )
  • Mr Zuma you are using the word fight though the Arabic word I'd jahd or jahadu or yujahiduna or ....
    ( By Arshad )
  • What would be the consequence if the word, fight, in Quran 2:193 to be....
    ( By zuma )
  • If the word, fight, in Quran 2:190 has to be confined to the word, struggling, what....
    ( By zuma )
  • Hats Off is now babbling utter nonsense! He never advances any rational....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • A reasonable rebuttal of Jehadi attempts to hijack the Quran.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The article looks sarcastic and contemptuous.There...
    ( By Syed Mohamed )
  • @Syed Mohamed If you indeed consider concerns at the unduer harassment....
    ( By Abhijit Mukherjee )
  • @Syed Nizamuddin Kazmi A foolish article for cheap popularity
    ( By Syed Mohamed )
  • A sane Islamic voice at last.'
    ( By Radharao Gracias )
  • YE DAR ACHCHHA HAI.'
    ( By Gautam Ghosh )
  • Islam is religion of Terrorism see the history...
    ( By Prashant Surani )
  • @Paul Jeyaprakash what would you say about RSS hooliganism and Modi's views over Kashmir issue?....
    ( By Hafeez Niazi )
  • O fine let us discuss debate truth will come one day'..
    ( By Rafiqul Islam )
  • Holy BIBLE, Colossians 2: V 8. Beware lest anyone cheat you through....
    ( By Agnelo Diaz )
  • @Shaik Abdul Hameed yeah except you everyone is a fool that how...
    ( By Dominic Richard )
  • @Rajiv Engti I am very sorry. The whole system lives in Myth...
    ( By Shaik Abdul Hameed )
  • @ Shaik Abdul Hameed change your mentality...
    ( By Rajiv Engti )
  • Please think about world's terrorists activity, you will observe more or less....
    ( By Siddhartha Banerjee )