certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

انسانوں کے عام معاشرے میں سماجی طور پر اپنے تہواروں کا جشن منانے والے دیگر معاشروں کے ساتھ شرکت بغیر کسی مذہبی جذبہ کے آیت 4-2 کی حقیقی روح کے ساتھ کرنی چاہئے۔ کرسمس کا جشن اور یقینا بہت سے دوسرے مواقع آج مغربی ممالک میں عام طور پر صرف ایام تعطیلات اور ملنے جلنے، دوستی اور ہم آہنگی کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے ایک موقع کے طور پر منایا جاتا ہے۔

 

بر خلاف اس کے عہد رسالت وصحابہ کے احکام میں تبدیلی کا معاملہ جو کہ اجتہادی اور غیر اجماعی ہو وہ اس وجہ سے ہے کہ جس بنیاد پر وہ قائم تھے، وہ بنیاد حالات زمانہ کے بدلنے سے بدل گئی اس لئے ان پر مبنی احکام بھی بدل گئے ۔ اور اس طرح بدلنے کی متعد د وجوہات ہیں ۔ مثلا:(۱)ضرورت (۲) حاجت (۳) عموم بلویٰ (۴) عرف (۵) تعامل (۶)دینی ضروری مصلحت کی تحصیل (۷) کسی فساد موجود یا مظنون بظن غالب کا ازالہ ۔  بلکہ عہد رسالت و عہد صحابہ کے بہت سے احکام جو شرعی بنیادوں میں سے کسی پر قائم ہیں وہ بھی ان ساتوں بنیادوں پر بدل سکتے ہیں بلکہ بہت سے احکام تو بدل بھی چکے ہیں ۔

 

ابھی تک ہم نے دارالعلوم دیوبند کو شیعوں اور بریلیوں سے شادی نہ کرنے کی تلقین کرتے سنا تھا لیکن اب جماعت اسلامی والوں سے بھی نکاح نہ کرنے کی ہدایت جاری ہو گئی جب کہ جماعت اسلامی الگ سے کوئی مسلک یا فرقہ ہے نہیں اور اس کے عقائد اور فقہی معاملات دیوبندی ہی ہیں لیکن پھر بھی دارالعلوم دیوبند اسے ایک گمراہ مسلک کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

 
Making Sense of Afrazul’s Lynching افرازل کے قتل کے مضمرات
Arshad Alam, New Age Islam
Making Sense of Afrazul’s Lynching افرازل کے قتل کے مضمرات
Arshad Alam, New Age Islam

توازن پیدا کرنے کی کوشش میں ان مظاہروں نے صرف اس منصوبہ بند قتل کے فاسد نظریاتی کی شدت کو کم کیا ہے۔ اس میں تھوڑی اچھی بات یہ تھی کہ ان میں سے کچھ احتجاج ان لوگوں نے منعقد کئے تھے جنہوں نے نندیگرام اور سنگھ میں مسلمانوں کے قتل کا دفاع کیا تھا۔ اگر ہندو قوم پرستی کا احیاء مسلمانوں کی لاشوں پر کیا جانا ہے تو پھر خود مسلمانوں کو ہی بربریت کے خلاف احتجاج میں سب سے آگے ہونا چاہئے اس لئے کہ آج ہندوستان میں مسلمان ہونے کا درد صرف ایک مسلمان ہی محسوس کر سکتا ہے۔

 

جب زمانہ رسالت سے اور بعد ہوا ، ائمہ دین نے جوان عورتوں کو ممانعت فرمادی ، جب اور فسادپھیلا ،علما نے جوان و غیر جوان کسی کے لیے اجازت نہ رکھی ، در مختار میں ہے کہ ‘‘یکرہ حضورھن الجماعۃ’’ ،  ان احادیث مبارکہ کو اگر دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کی عورتوں کا جو حال ہے ،اس کو دیکھ کر عام فہم انسان بھی یہی حکم لگا ئے گا، کیوں کہ اس خیر القرون کا ماحول آج کے ماحول سے ہزاروں گنا بہتر تھا، جس کی بہتری کی ایک جھلک اس حکایت سے عیاں ہے ۔

صرف اللہ ہی کسی شخص کو کافر قرار دے سکتا ہے اور صرف غیر مسلموں کے بارے میں ہی یہ فیصلہ نہیں کیا جائے گا ، بلکہ مسلمانوں میں سے بھی وہ لوگ کافروں کی صف میں شامل ہوں گے جو ظالم، گنہگار، حد سے تجاوز کرنے والے، فساد برپا کرنے والے اور بغاوت کرنے والے ہیں۔ بے شک ہم نے قرآن کریم کی آیات میں یہ مطالعہ کیا کہ ایک کافر مومنوں سمیت کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ محض عقائد کی بنیاد پر کسی ایسے شخص کو کافر کہناتوہین و تذلیل، بہتاناور جھوٹا الزام ہے جس کے اندر کافروں کی مذکورہ بالا باتیں نہ پائی جاتی ہوں۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ ظالم ، مجرم ، فاسق اور مفسد اور مساد مچانے والے ہیں۔

 

کوئی شخص کتنا ہی بڑا عالم و فاضل ہو، دقیق النظر اور وسیع المطالعہ ہو مگر فقہائے کرام اسے فتوی نویسی کی اجازت اس وقت تک نہیں دیتے جب تک کہ وہ کسی ماہر ، تجربہ کار مفتی کی خدمت میں رہ کر مشق افتا نہ کرے۔اسے یوں سمجھئے کہ ایک ڈاکٹر کئی اہم ڈگری حاصل کر چکا ہے ، لیکن اسے آپریشن کرنے کی اجازت نہیں ملتی، جب تک کہ وہ کسی ماہر سرجن کے ساتھ رہ کر سرجری کی مشق کرکے کامل نہ بن جائے ۔بلکہ ڈاکٹر صرف تعلیم سے فراغت کے بعد مطب کرنے کی بھی اجازت نہیں ملتی جب تک وہ ‘‘ہاوس جاب’’ نہ کر لے، یعنی کسی اسپتال میں جاکر کہنہ مشق ڈاکٹروں کی نگرانی میں وہ ایک مدت تک امراض کی تشخیص اور نسخہ کی تجویز کی مشق نہ کر لے ۔یہی حال فتوی نویسی کا ہے۔

نریندر مودی کی حکومت مسلم خواتین کے لئے ایک بہت بڑا نقصان کرنے جا رہی ہے کیونکہ جیل سے واپسی پر کوئی بھی شوہر اس بیوی کے ساتھ رہنا چاہے گا جس کی شکایت پر وہ جیل کی ہوا کھا چکا ہے؟ اس بل کے نتیجے میں زیادہ طلاقیں واقع ہوں گی۔ اور اس طرح تین طلاق سے نمٹنے کا طریقہ اس بیماری سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ نیز یہ بل تین برسوں کی غیر معمولی اور غیر متناسب سزا فراہم کر کے "بڑے" اور "چھوٹے" جرائم کے درمیان فرق کو بھی ختم کر دیتا۔

 

عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت اس وقت تھی جب کہ معلم انسانیت کے سواکوئی معلم نہ تھا ابتدا اسلام کا زمانہ تھا اور ہر نومسلم کی تعلیم وتربیت نہایت ضروری تھی اس لیے نبی کریم ﷺ مسجد نبوی میں بیٹھ کر ہی تمام درپیش مسائل کا حل فرمایا کرتے تھے ۔ لیکن اس وقت جب یہ دشواریاں ختم ہوگئیں اور جابجا عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے ورثۃ الانبیاء نے خصوصی انتظام کیا اورجگہ جگہ درس گاہیں اور تربیت گاہیں فراہم ہوگئیں توان حالات میں اب انہیں مساجد جانے کی کوئی حاجت نہ رہی کیوں کہ ان کے لئے اصل حکم تو یہ ہے۔

Sufism: A Search for Freedom and Self-Authenticity  تصوف: آزادی اور تزکیہ نفس کی جستجو
Prof. Henry Francis B. Espiritu, New Age Islam
Sufism: A Search for Freedom and Self-Authenticity تصوف: آزادی اور تزکیہ نفس کی جستجو
Prof. Henry Francis B. Espiritu, New Age Islam

صوفیاء اور ہپی اس امر میں خود اپنے قلب و باطن کا ایک گہرا محاسبہ کرتے ہیں کہ حقیقہً ہمارے لئے خوشی کا باعث کیا ہے اور صوفیاء کو اس بات کی قطعی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ معاشرے ہمارے لئے خوشی کا کیا پیمانہ متعین کرتے ہیں۔ صوفیاء اپنے پاس آنے والوں سے پوچھتے ہیں کہ: "وہ تمام چیزیں اور شہرت جو تم نے حاصل کیا ہے کیا واقعی تمہارے لئے خوشی کا باعث ہیں ، کیا اب تم واقعی آسودہ خاطر ہو چکے ہو؟ اگر تم نے وہ تمام چیزیں حاصل کر لی ہیں معاشرہ جن کا تم سے مطالبہ کرتا ہے، تو کیا ہوا؟ کیا تم اب واقعی خوش اور مطمئن ہو؟"

 

اسد مزید لکھتے ہیں کہ یہ ایک علامت ہے "خدا کی وحدانیت کی، اور اس کے ارد گرد حجاج کرام کی جسمانی تحریک انسانی سرگرمیوں کا ایک علامتی اظہار ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ہمارے خیالات اور احساسات اور تمام باطنی کیفیات ہی نہیں بلکہ ہماری زندگی کی تمام سرگرمیوں اور حرکات و سکنات کا مرکز صرف خدا ہی ہونا چاہئے۔

 

کوئی شخص ظہار کی نیت کے ساتھ یہ کہے کہ میں اپنی بی بی کو مثل ماں کے سمجھتا ہوں  تو ظہار ہو گیا ۔اس شخص پر کفارہ لازم  کہ ایک غلام آزاد کر دے۔چونکہ یہاں ہندوستان میں باندی یا غلام نہیں  ۔جب اس پر قدرت نہیں تو دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے اور ان دو ماہ میں دن یا رات میں اس سے صحبت نہ کرے اور اگر کفارہ ادا کرنے سے قبل صحبت کرے گا تو  صرف یہی نہیں کہ گناہ گار ہوگا بلکہ نئے سرے سے دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے ہوں گے۔یوہیں اگر بیچ میں کوئی روزہ چھوٹ جائے تو پھر سرے سے دو ماہ کے روزے لازم ہوں گے ۔

 

اسلام کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلمان مرد کو طلاق دینے اور پھر دو بار اسی عورت سے شادی کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ تاہم، اگر مرد تیسرا طلاق دے چکا ہے تو وہ دوباری اسی عورت سے صرف اسی صورت میں شادی کر سکتا ہے کہ اگر وہ عورت پہلے کسی دوسرے شخص سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کا دوسرا شوہر بھی مر جائے یا اپنی مرضی سے اسے طلاق دیدے اس کے بعد ہی وہ عورت پہلے شوہر سے دووبارہ نکاح کر سکتی ہے۔

 

قرآن کے اردو ترجمے میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ یہ تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ لہذا، انسان کے لئے یہ مشکل تھا کہ وہ اللہ کے ’’مافی الضمیر‘‘ کو پالے اور وہی مفہوم ظاہر کردے جو اللہ کو مقصود ہے ۔ قرآن کے ترجمے میں درپیش اسی مسئلے کے متعلق ایک انگریز مصنف فلپ لکھتاہے :’’اسلو ب قرآن اسلو ب الہی ہے ۔یہی اس کا سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ا س کی تجوید میں بڑی تاثیر ہے ۔ اس کا فنی جوہر اور جذبات کے تاروں کو ٹٹولنے والا پیغام ترجمے کی صورت میں اپنا کمال کھودیتاہے ۔‘‘2

 

یہودیوں کو ماضی میں دو مرتبہ سزا دی گئی کیونکہ ان کے علماء کے اجماع نے انہیں غلط راستے پر ڈال دیا۔ اب مزید کوئی اصلاح کار پیغمبر نہیں بھیجا جائے گا کیونکہ ہمارے پاس معجزاتی قرآن ہے جس سے ایک امی کے لئے سچ دریافت کرنا اور علماء کے اجماع کو باطل قرار دینا ممکن ہے۔ ہر اس شخص کا انجام جس نے علماء کے اس باطل نظریہ کو چیلنج کیا ہے یہی رہا ہے کہ اسے ایک جھوٹا اور دغاباز قرار دیا گیا ہے۔ تمام علماء کا اجماع غلط ہے جو قرآن کو احمقانہ لغویات کی کتاب بنا دیتا ہے۔ سچائی کی آواز باطل کی آواز سے ممتاز ہے اور یہ علماء کے اجماع کے باطل نظریہ پر غالب ہو گی۔

 

دہشت گردی کا موضوع، سیاستدانوں اور محققین کے زاویہ نگاہ سے اس کی تعریف اور اس کی ماہیت کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے، خصوصاً اس صورت میں جبکہ یہ موضوع میڈیا میں اور سیاستدانوں کے مابین تنازعہ کا شکار رہتا ہے اور اسلامی معاشروں میں تنہائی، بے یقینی اور تضاد کے احساسات کو جنم دے رہا ہے، ایسے میں یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ اس اصطلاح کے استعمال سے کیا مراد ہے اور کیوں؟ کیا اسے کوئی جواز حاصل ہے اور کیا یہ اعلی انسانی مقاصد کے حصول کی کوئی کوشش ہے جیسے اقوامِ عالم کے لیے امن وشادکامی یا پھر یہ محض کسی اقلیت کے ایجنڈے کی تکمیل ہے۔

 قرون وسطی میں بغداد کے ایک عظیم صوفی اور مسلمانوں کے مذہبی فقیہ حضرت امام غزالی نے کہا تھا: "تصویر کی تعریف مصور کی تعریف کرنا ہے، اور شاعری سے محبت کرنا شاعر سے محبت کرنا ہے۔۔۔ آپ اس محبوب کی تصویر اور شاعری ہیں۔ آپ اس کے الفاظ اور اس کی تحریر ہیں- آپ اس کی منفرد ساخت ہیں۔ آپ اللہ تعالی کے وجود کی ("حجت") یعنی ثبوت ہیں اور اس کی نشانی ("آیت") ہیں۔ مخلوق اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ خالق موجود ہے۔۔۔ "(ملاحظہ ہو‘‘شرح احیاء علوم الدین، ص۔136 )۔

 

اسلامی تعلیمات میں اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے حقوق ہیں جیسے کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنا، اس لئے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:  ‘‘جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ جنت کے باغات میں بیٹھتا ہے حتی کہ جب وہ اٹھتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے مقرر کئے جاتے ہیں جو رات تک اس کے لئے رحمت کی دعا منگتے ہیں۔(سنن ابن ماجہ)۔اور مساکین سے تعلق رکھنا،یتیموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، الغرض ہر خوشی اور غم کے مواقع میں شریک ہو کر ہمدردی اور خوشی کا اظہار کرنا ہی الفت اور بھائی چارگی ہے اور اسی طرح زندگی گزانے میں ہمارے دارین کی کامیابی ہے۔

 

مجھے اس کی اس بات پر کافی حیرانی ہوئی کیوں کہ اس نے کبھی مجھے جاننے کی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ اس لئے کہ اگر وہ ایسا کرتا تو اسے ایک ایسے شخص کا علم ہوتا جو ایک اخلاقی اور معنوی زندگی گزارنے کی کوشش کر رہا ہے اور جو اخلاقیات کا ایک مستحکم راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ لیکن اس سے واقعی اس شخص کو کوئی فرق نہیں پڑا۔ میری داڑھی نہیں تھی اسی لئے مجھے ایک مذموم مسلمان سمجھا گیا۔ اس کے لئے اخلاقیات کی ظاہری علامت عصمت و پاکیزگی کی پوشیدہ علامت سے کہیں زیادہ اہم تھی۔

 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا متبادل کیا ہوسکتا تھا۔ مسلم تنظیموں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو تقریباً دو سا ل اس غور و فکر کے لئے مہیا تھے کہ وہ کوئی تجویز لے کر حکومت کے پاس جائیں اور طلاق ثلاثہ کے تدارک کے اقدامات یا قانون بنانے کا ایسا مشورہ دیں جو شریعت کی حدود میں ہو۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اور تو اور مجوزہ بل کا اعلان ہوجانے کے بعد بھی اس مسئلے پر ’’غور و خوض‘‘ ہی کیا جاتارہا۔ یہاں یہ نہیں بھولنا چاہئے کے سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے اپنے جوابی حلف نامے میں پرسنل لا بورڈ نے خود کہا تھا کہ معاملہ کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور صرف پارلیمنٹ کو اس قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ دوسرے الفاظ میں بورڈ نے طلاق ثلاثہ پر قانون بنانے کا عندیہ دے دیا تھا۔

آجکل لوگ مدارس سے بہت زیادہ کتراتے ہیں۔ بہت کم ہی لوگ اپنے بچوں کو مدارس کی تعلیم سے اراستہ کراتے ہیں۔معاشرے کے غریب لوگ جو انگریزی اسکول کے اخراجات کو برداست نہی کرستے وہی لوگ اپنے بچوں کو مدرسے بھیجتے ہیں۔ لو گ کہتے ہیں کہ مدارس میں جدید تعلیم نہی دی جاتی ہے۔وہاں پر اچھے اورماہر استاذ نہی ہوتے ہیں جو بہتر طریقے سے بچوں کو تعلیم دیں سکیں۔کچھ لوگوں کا گمان ہیکہ مدارس کے لو گ دقیانوس ہوتے ہیںاور تنگ نظری کے شکار ہوتے ہیں۔

 

آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ میں جابجا  یہ تعلیم دی گئی ہے کہ تمام امت  دعوت ہو یا استجابت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ الفت وبھائی چارگی قائم کریں،ایک دوسرے کے حقوق کو پہچان کر ان کو ادا کرنے کی کوشش کریں، اور ہر مصیبت اور ضرورت کے وقت ان کا ساتھ دیں۔  محبت کرنے کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں عمومی پسندیدگی،قبولیت اور تعاون کا رویہ رکھا جائے۔اس عمل کی ابتدا والدین سے ہوتی ہے، پھر اس میں بیوی بچے ، بھائی بہن، رشتے دار، پڑوسی، دوست احباب اور دیگر متعلقین یکے بعد دیگرے سبھی کو شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

 

طالبان کا کہنا ہے کہ کشمیر کو ہندوستان اسی وقت آزاد کرے گا جب اس کے دوسرے شہر غیر محفوظ ہو جائیں گئے، اسی لئے انہوں نے ایک نیا ویڈیو جاری کر کے اپنے نام نہاد جہاد کو ہندوستان کی سرحدوں میں منتقل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ویسے ہی یہ بھی ممکن ہے کہ ہتھیاروں کے کارخانے چلانے والے کسی اسرائیلی یا امریکی صنعت کار نے اپنے ایجنٹوں کی معرفت یہ دھمکی جاری کروائی ہوتا کہ ہندوستان اپنے ضروری اخراجات میں کمی کر کے مزید ہتھیار خریدنے پر مجبور ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دھمکی طالبان نے ہی جاری کی ہو، اگر یہ دھمکی واقعی طالبان نے جاری کی ہے تو پھر مسلمانان ہند کوبہت زیادہ سرگرمی کے ساتھ طالبان کے ارادوں کو ناکام کرنے کے لئے جد و جہد کرنا ہوگی۔

 

حضرت غوث اعظم نے بغداد کے ان تمام طبقات کو جن میں گمراہی و نفاق ، بدکرداری و بداخلاقی پیدا ہوچکی تھی اپنے مواعظ میں خطاب فرمایا، ایک تقریر کا اقتباس یہ ہے۔ ’’ اے باشندگان بغداد ! تمہارے اندر نفاق بڑھ گیا ہے اور اخلاص کم ہوگیا ہے، اقوال بڑھ گئے ہیں اور اعمال کم ہوگئے ہیں ، تمہیں جاننا چاہیے کہ قول بلا عمل کسی کام کا نہیں بلکہ تمہارے خلاف حجت ہے ، اور قول بلا عمل ایسا خزانہ ہے جو خرچ نہیں کیا جاتا وہ محض دعویٰ ہے دلیل اور گواہ نہیں رکھتا ، وہ ایک ڈھانچہ ہے، جس میں روح نہیں، کیونکہ روح تو اخلاص و تو حید او رکتاب و سنت پر عمل کرنے سے آتی ہے جو تمہارے اکثر اعمال سے نکل چکی ہے ، غفلت سے باز آؤ، اورخدا کی طرف پلٹو ، اس کے حکم کی تعمیل کرو، اور اس کے ممنوعات سے بچو ۔(فیوض یزدانی۔ص :120)

 

ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھایا گیا ہے کہ تم قرآن کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے اس میں غور و فکر کرنے کے بجائے صرف ثواب اور برکت کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے جاؤ گرچہ بہت سے بدنصیب توایسے بھی ہیں جنہیں فقط الفاظ کی تلاوت کی بھی توفیق نہیں ہوتی۔بلاشبہ قرآن کی تلاوت گو وہ معنی و مطالب کو سمجھے بغیر ہو ثواب، برکت اور نفع سے خالی نہیں لیکن کیا اس سے نزول قرآن کا مقصد پورا ہوجاتا ہے؟نہیں اورقطعاًنہیں ! کوئی بھی کتاب یا تحریر جس کے اندرکچھ ہدایات ہوں اس کو سمجھے بغیر پڑھنااس کی تالیف و تصنیف کے بنیادی مقاصد کو پورا نہیں کرسکتا۔یہ ٹھیک ویسے ہی ہے جیسے ایک مریض کا ڈاکٹر کا لکھا ہوا نسخہ اس کی تجویزات کو سمجھے بغیر پڑھتے رہنا اوراس سے شفا کی امید رکھنا۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )