certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

اس قانون کی روسے ایک طرف مرد کو تین سال کے لئے جیل بھیجا جائے گا اور دوسری طرف اس پر عورت اور اس کے بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری ہوگی، یہ کھلا ہوا تضاد ہے ، جب وہ جیل میں ہوگا اور محنت و مزدوری نہیں کرے گا تو وہ عورت اور بچوں کی کفالت کس طرح کرے گا ؟ خاص طورپر یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تین طلاق دینے کے واقعات زیادہ تر کم تعلیم یافتہ ،غریب ، اور معمولی روزگار کے حامل لوگوں کے یہاں پیش آتے ہیں، جوبے چارے روزکماتے اورروزکھاتے ہیں ۔

 

اگر داعش نہیں تو وہ کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کے رکن ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں ایسے نظریات کو فروغ پانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور ہر وقت اس کے امکانات کو مسترد کرنے کی بجائے اس کے بارے میں مسلم معاشرے کو کچھ کرنا ضروری ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب ہندوستان میں داعش کی موجودگی کے بارے میں خدشات سامنے آئے ہیں۔

 

دہشت گردی کا خطرہ اب کوئی عارضی حالت نہیں رہا بلکہ یہ اب ایک زمینی حقیقت میں بدل چکا ہے، اس کے زمینی حقیقت بننے کی ایک وجہ اس سے نبرد آزمائی میں ناکامی ہے، اب سوال یہ ہے بطور ایک فکر، سلوک اور زمینی حقیقت کے اس سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے؟ اب ایسا ہرگز نہیں کہ اس سے نبرد آزما نہیں ہوا جاسکتا، ہمیں سنجیدگی سے بیٹھ کر اس مظہر کا تجزیہ کرنا ہوگا-

 

یہی مفہوم ہے مارٹن لوتھر کے اس قول کا کہ ایک مؤمن کی زندگی میں اس کے تمام اعمال و افعال کا محرک اس کی اپنی کوششیں نہیں بلکہ اللہ کا فضل و احسان ہے۔ اگرچہ مومن اپنی زندگی کے لئے منصوبہ بندی کر سکتا ہے، لیکن وہ مکمل طور پر یہ جانتا ہے کہ اس کے منصوبے صرف اسی وقت کامیاب ہو سکتے ہیں جب اسے اللہ کی نصرت و حمایت میسر ہو۔ اگر وہ اپنے منصوبوں میں ناکام ہو جاتا ہے تو ایک مومن کا مضبوط یقین ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اس کے لئے کیا اچھا ہے خدا سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔

 

قائد اعظم محمد علی جناح کی انتہائی اہم تقریروں میں سے ایک تقریر وہ ہے جو انہوں نے 11اگست 1947ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ یہ تقریر دراصل ان کا پالیسی بیان تھا جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی کاپہلا صدر منتخب ہونے کے موقع پر دیا۔ دستور ساز اسمبلی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی نئی مملکت کو درپیش مختلف مسائل پر اظہار خیال کیا۔ اس تقریر کی ابتداء میں انہوں نے قیام پاکستان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ نہ صرف ہم بلکہ تمام دنیا اس منفرد اوربے نظیر انقلاب پر حیران ہے جس کے نتیجے میں اس برصغیر میں دو آزاد خود مختار مملکتیں وجودمیں آرہی ہیں ۔

 

اگر ہم اپنے موجودہ معاشرہ کا جائزہ لیتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے ، ہم کہاں تھے  اور کہاں آ گئے۔پہلے مجرم بھی کم مارے جاتے تھے ، اب سختی کا دور دورہ ہے۔معصوم و بے گناہ   بے دریغ قتل کئے جا رہے ہیں ۔ کوئی پرسان حال نہیں۔اے زندگی تو کہاں ہے؟ تیری قدر ومنزلت کرنے والے کہاں گئے؟زندگی در بدر ہو رہی ہے۔کسی کو احساس ہی نہیں۔کسی کو علم کا غرور ہے ، کسی کو تقوی کا غرور ، کسی کو عہدے کا غرور ، کسی کو منصب کا غرور ، کسی کو دولت و ثروت کا غرور ، اور اسی طرح کسی کو رشتے داروں کا غرور ، یہ غرور انسان کو سخت بنا دیتا ہے  اور نرمی اس کے دل سے نکل جاتی ہے۔

 

مشکوٰۃ کتاب العلم میں حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہ رہے گا اس زمانہ کے لوگوں کی مسجدیں بظآہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ انہی میں سے فتنے اٹھیں گے اور ان ہی میں لوٹ جائیں گے، یعنی تمام خرابیوں کا وہی سرچشمہ ہوں گے۔

 

جگہ جگہ آسانی کا تذکرہ کر کے دین اسلام پر چلنا اتنا آسان کر دیا کہ اس کے فرائض تک کو تخفیف وتسہیل کر دیا اور بانئ اسلام نے یہ وضاحت کردیا کہ عبادت کے لئے طہارت فرض ہے لیکن اگر تم پانی کے استعمال سے قاصر ہوتو تیمم ہی کر لو پاک ہو جاوگے۔ نماز فرض ہے اپنی تمام فرائض و شرائط کے ساتھ لیکن اگر تم اس کو ادا کرنے کے قابل نہیں ہو تو اپنی سہولت کے مطابق ہی ادا کرلو اگر کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھ کر ہی پڑھ لو اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹ کر یہ بھی نہ ہو سکے تو جیسے ہو اسی حالت میں اشارہ سے پڑھ لونماز ہوجائے گی۔ زکوٰۃ فرض ہے لیکن صاحب نصاب ہو تب۔حج فرض لیکن تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو تب ۔روزے فرض ہے لیکن رکھنے کی طاقت ہو تب ….

 

اتوار کے دن کوئٹہ کے چرچ میں معصوم پاکستانی عیسائیوں پر یہ خونی حملہ کوئی منفر مثال نہیں ہے۔ بلکہ اس سے قبل مارچ 2016 میں لاہور کے پارک میں بھی ایک حملہ انجام دیا گیا تھا جہاں بہت سے عیسائی ایسٹر سنڈے منا رہے تھے جس میں 70 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان میں عیسائیوں کے خلاف سب سے زیادہ مہلک حملہ ستمبر 2013 میں اس وقت ہوا جب دو خودکش حملہ آوروں نے پشاور میں آل سینٹ چرچ کو نشانہ بنایا جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ لیکن یہ نفرت پر مبنی حملے اسلام یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ بلکہ یہ عمل صرف عالمی اسلام ہراسی کو ہوا دیں گے یا اس سے صرف ملک میں انتہا پسند جماعتوں کو ان کے مقاصد میں کامیابی ہی حاصل ہوگی۔

 

ایک ثقافت ایسی بھی راسخ ہوئی ہے جو نہ صرف دہشت گردی کو قبول کرتی ہے بلکہ اسے مہمیز بھی دیتی ہے، اسے آپ میانہ روی کے داعی غیر اسلامی مفکروں، ادیبوں، سیاستدانوں اور حتی کہ صحافیوں کے بیانات ومقالات میں آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں اور جنہیں قبولِ عام کا درجہ حاصل ہے، یہ مسئلہ بھی حل طلب ہے، اگر دہشت گرد قبول نہیں تو ان کے "عذر خواہ" بھی ہرگز قابلِ قبول نہیں ہونے چاہئیں، مگر مقامِ حیرت یہ ہے کہ بجائے ایسے طبقے کو نکیل ڈالی جائے انہیں کھلے عام میڈیا میں آکر سادہ لوح عوام کو "اُلو" بنانے کی بھرپور چھوٹ دے دی گئی ہے۔

 

ہندوستان میں مسلمانوں کی باقاعدہ آمد محمد بن قاسم کی فوج کے ساتھ ہوئی تھی اور اس نے سندھ کے ایک بڑے علاقے پر اسلامی حکومت قائم کرلی تھی مگر سیاسی وجوہات کی بنا پر محمد بن قاسم کی پیش قدمی رک گئی اور سے واپس بلا لیا گیا۔ محمد بن قاسم سے قبل عرب تاجروں کے قافلے یہاں آتے تھے اور انکی وسا طت سے یہاں کے عوام اسلام سے واقف ہورہے تھے لیکن قرآن کی تعلیم یا اس کے پیغام کو یہاں کے عوام تک پہناچے کو کوئی منظم منصوبہ نہیں تھا۔ نیز آٹھویں صدی تک ادب میں ترجمہ نگاری کی اہمت کو تسلیم نہیں کیاگیا تھا اور ترجمہ نگاری کے اصول بھی وضع نہیں ہوئے تھے۔

 

وہ صرف اور صرف خدا ہی ہے جس کے دست قدرت میں ہر کائنات کی کنجی ہے اور صرف وہی توازن کا جاننے والا ہے جو اس کائنات اور ہماری زندگی کو منظم و منضبط رکھتا ہے۔ کیونکہ صرف اور صرف خدا ہی کی نگاہ شفقت کو اس کائنات اور ہماری زندگی کی حتمی بہتری کا علم ہے۔ہم صرف زمانہ حال کو دیکھتے ہیں، لیکن خدا کی نگاہ شفقت میں پوری کائنات ماضی حال اور مستقبل کی تمیز کے بغیر ایک ساتھ موجود ہے۔ قرآن کریم نے اپنی اس آیت میں اسی بات کا اعلان کیا ہے: "اس کو تو کسی کی نگاه محیط نہیں ہوسکتی اور وه سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے اور وہی بڑا باریک بین باخبر ہے"(قران کریم 6:103)۔

 

اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسلم خواتین کی فلاح و بہبودی خارجی طور پر ایک ثقافت کے اوپر عائد نہیں کی جا سکتی۔ اس قدامت پرست معاشرے کے اندر ہی داخلی طور پر مردوں اور عورتوں کو سب سے پہلے اپنے معاشرے میں خواتین کو ان کا مکمل کردار عطا کرنے کے لئے اپنی وجوہات اور اپنا جواز تلاش کرنا چاہئے۔ زیادہ تر لوگ ان وجوہات کو اب اسلام کے اندر ہی تلاش کر رہے ہیں۔ مردوں کی طرح آزادی عورتوں کا بھی حق ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانا ایک مرد کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہونا چاہئے جتنی کہ یہ ایک عورت کی خواہش ہے۔

 
The Concept of Terrorism  دہشت گردی کا مفہوم
Basil Hijazi, New Age Islam
The Concept of Terrorism دہشت گردی کا مفہوم
Basil Hijazi, New Age Islam

دہشت گردی سیاسی-معاشرتی جنگ کی ایک شکل ہے، اور چونکہ جنگ شروع سے لے کر اب تک اس شکل کا سب سے اہم عنصر رہا ہے لہذا زمانہ عالمگیریت میں دہشت گردی اس جنگ کی دوسری سب سے اہم شکل قرار دی جاسکتی ہے، مستقبل میں دہشت گردی کا ادراک ٹیکنالوجی سے متاثرہ عالمگیری عوامل کی وجہ سے مزید وسیع اور گہرا ہوجائے گا۔

 

ایک مثبت عمل پر گفتگو کا آغاز کرنے کے لئے قیام امن و ہم آہنگی میں ان دونوں کے فکری سرچشموں کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔ در اصل حضرت محمد (ﷺ) نے درست طرز عمل، غیر مشروط محبت اور رواداری کی اپنی تعلیمات کو گوتم بدھ کے عظیم آٹھ اصولوں کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت کے ساتھ پیش کیا ہے، جو کہ اس طرح ہیں: افکار و نظریات کی پاکیزگی، نیت کی پاکیزگی، زبان و بیان کی پاکیزگی، عمل کی پاکیزگی، معیشت، جد و جہد، توجہ اور خیالات کی یکسوئی۔

 

دوسری مہلک غلطی جو مسلمانوں نے کی،وہ بابری مسجد کی بازیابی سے متعلق تھی۔ بابری مسجد کامسئلہ 1990کے آس پاس کو ہ آتش فشاں بن گیا تھا اوراب بھی ہم کوہ آتش فشاں کے دہانے پرہیں ۔ اس کے سلسلے میں مولانا سید ابوالحسن میاں ندوی او رمولانا عبدالکریم پاریکھ اور یونس سلیم،سابق گو رنر بہار وغیرہ برادران وطن کے مذہبی قائدین سے مل کر مسئلے کے حل تک پہنچ گئے تھے، مسلمانوں کی نمائندگی کے لئے چندر شیکھر کے کہنے پر مولاناعلی میاں کا نام تجویز ہوا تھا جنہوں نے پورے ملک میں پیام انسانیت کی تحریک چلا ئی تھی-

6 دسمبر کو انہدامِ بابری مسجد کی سالگرہ کے موقع پر مسلمانوں کے درمیان اشتعال انگیزی بھڑکانے کے لئے انصار غزوۃ الہند نے جو کہ کشمیر میں عالمی دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی شاخ ہے، ہندوستانی مسلمانوں کو "جہاد کا راستہ اختیار کرنے کے لئے" بر انگیختہ کیاہے۔ اپنے ایک تازہ ترین وڈیو پیغام میں جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جماعت انصار غزوۃ الہند نے یہ دعوی کیا ہے کہ "عہد شکن اور دغاباز ہندو اس وقت تک اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہیں گے جب تک ان کا مشن مکمل نہیں ہو جاتا- اور ان کا مشن تمام مسلمانوں کا یکسر خاتمہ ہے، خواہ وہ ہمارے بچے ہوں بوڑھے ہوں، مرد ہوں یا خواتین ہوں خواہ ہمارے بھائی ہوں یا ہمارے بیٹے ہوں"۔

 

اور وہ مروجہ جذبات میں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتد یا توہین کے مرتکب کی سزا صرف موت ہے۔ پاکستان میں اس امر پر تقریباً اتفاق رائے ہے کہ احمدی غیر مسلم ہیں کیونکہ وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت نبوت پر ایمان نہیں رکھتے لہٰذا، وہ سزائے موت کے مستحق ہیں۔ اور یہی جذبہ مراکش سے لیکر انڈونیشیا تک کے تمام مسلم معاشروں میں موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کرنے والا کوئی بھی شخص زندہ نہیں رہنا چاہئے۔

 

اسکول میں ان کے ایک آریہ سماجی ہندو دوست نے انہیں مالیر کوٹلہ کے ایک نو مسلم عبیداللہ کی کتاب ’’ تحفۃ الہند‘‘ پڑھنے کے لئے دی اس کتاب نے ان کے اندر اسلام کے بارے میں مزید جاننے کا شوق پیدا کیا اور انہوں نے اسلام کے بارے میں دوسری کتابوں کے مطالعہ کے بعد خاموشی سے خود اسلام قبول کرلیا اس وقت ان کی عمر 14سال تھی۔ اسلامی نام انہوں نے’’ تحفۃ الہند‘‘کے مصنف عبیداللہ کے نام پر رکھا اور گھر سے بھاگ کر سندھ میں دین پور پہنچے جہاں انہوں نے حافظ محمد صدیق بھر چونڈی والوں کے ہاتھ بیعت کی او ران کے مدرسے میں ایک سال تک تعلیم حاصل کرنے کے بعدمولانا سندھی نے دیوبند کے دارالعلوم میں داخلہ لیا اور مولانا رشید گنگوہی اور شیخ الہند مولانامحمود الحسن کے شاگرد رہے۔

 

توبہ کے تین مقامات ہیں 1) عذاب الٰہی کے خوف سے توبہ ، 2) انابت، انعام الہی کی خواہش سے توبہ اور 3) اوبہ ، احکامات الٰہیہ کی پاسداری کے لئے توبہ۔ توبہ عام مؤمنوں کا مقام ہے اور اس کا مطلب بڑے بڑے [کبیرہ]گناہوں پر احساس ندامت کا اظہار کرنا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے، "اے ایمان والو! اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے کو نصیحت ہوجائے"(ترجمہ: کنز الایمان 66:8)۔ اور انابت، اللہ کے خاص بندوں یعنی اولیاء اور مقربین کا مقام ہے، جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے: " اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی، یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے، جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا" (33-50:31)....

شیعہ رہنما نمر باقر النمر‎ اور دیگر بے شمار لوگوں کا قتل صرف یہی ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب کو اختلاف رائے کی ہلکی سی بو بھی برداشت نہیں ہے۔ سنی بغاوت کے لئے اس کی حمایت کے شواہد جس میں کبھی کبھی شام اور یمن میں دہشت گردانہ طریقوں کا بھی سہارا لیا گیا ہے اچھی طرح سے دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ سعودی عرب شاید شیعہ بغاوت کو روکنے کے لئے ایک دیگر ملک (بحرین) پر حملہ کرنے والا واحد ملک ہے۔ مشکل ترین امر یہ ہے کہ سعودی عرب شیعوں کو بالکل ہی مسلمان تسلیم نہیں کرتا اور اس وجہ سے ان کے خلاف ایک فرقہ وارانہ جنگ کی قیادت میں پیش پیش ہے۔

 

اگر کسی کے والد کا نظریہ یہ ہو کہ صرف اسلام ہی ایک سچا مذہب ہے اور اس کے علاوہ دیگر تمام مذاہب کو محو کر دیا جانا چاہیے ، تو یہ عین ممکن ہے کہ اس کا بیٹا بھی اس طرح کے نقطہ نظر کی تائید کرے۔ اگر اس فرد کو مقامی علاقے میں کوئی اہمیت اور مرتبہ حاصل ہو جس میں وہ رہتا ہے یا جس مسجد میں وہ تبلیغ کرتا ہے تو اس بات کے امکانات ہیں کہ وہ کم سے کم لوگوں کے ایک چھوٹے سےطبقے کو ضرور متاثر کرے گا۔ اور یہ بھی معقول ہے کہ انتہا پسندانہ نظریات کا حامل یہ شخص جو اپنے نظریات کی عوامی طور پر تبلیغ کرتا ہے ، اسے خود عملی شکل میں پیش کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔

 

خدا اس کائنات کی اولین اصل ہے، سب سے پہلی تخلیق کی غیر معلول علت ہے ، اور ایسا غیر مخلوق خالق ہے جس نے اپنی تخلیقات کے ذریعے براہ راست یا بالواسطہ طور پر سب کچھ پیدا کیا ہے۔ صرف وہی دوسری تمام مخلوقات کے لئے واجب ہے۔ خدا کے وجود کے لئے اس کے وجود کا واجب ہونا ایک بنیادی امر ہے اور یہ وجوب کسی اور سے متعلق نہیں ہو سکتا۔ اگر ایسے وجوب کا اشتراک ہو جاتا ہے تو اس کے وجود کے لئے کسی علت کا ہونا ضروری ہے اور علت کے ساتھ کوئی بھی شئی محض ایک امکان ہے جسے واجب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ لہذا منطقی طور پر دو یا زیادہ خدا نہیں ہو سکتے اور منطقی طور پر جو واجب ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا وجود بذات خود قائم ہو اور وہ اپنے وجود میں کسی علت کا محتاج نہ ہو۔

 

اس کتاب کی تشریح اس انداز میں نہیں کی جاسکتی ہے جس انداز میں کسی شاعر کے شعر کی تشریح کی جاتی ہے۔ شاعری کی طرح اس کی آیتوں کے متعدد معانی نہیں ہوتے بلکہ اس کی آیت کا صرف ایک واضح اور غیر مبہم معنی ہوتا ہے۔ تاہم جو لوگ اس کی تشریح کرتے ہیں اور اس کے واضح معنی کا تعین کرنے اور اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں وہ حقیقت کے متلاشی نہیں بلکہ فلسفہ اور شاعری کے دلدادہ ہیں۔ وہ اسلام کے تصوف پسند ہیں اور اسلام کے آسان عقائد کو مسخ کرنے والے ہیں۔

 

پاکستان کے جن صحافیوں کی تحریریں ہم تک پہچتی ہیں ان کا مطالعہ کرکے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کے کچھ صحافیوں پر مولوی بننے اور دین کی ٹھیکیداری کا بھوت اکثر سوار رہتا ہے۔ حامد میر صاحب اپنے قارئین کو یاد دلاتے ہیں کہ احمدیوں کو کافر قرار دینے کا معاملہ متفق علیہ ہے، اوریا مقبول جان کو لگتا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کو مغرب نے اسلام کو بدنام کرنے کے لئے تیار کیا ہے اور عامر لیاقت حسین صاحب لٹھ لے کر بہت دنوں تک ان بلاگروں کو ڈھونڈتے پھرے جنہوں نے سوشل میڈیا پر اسلام مخالف مواد نشر کیا ہے۔ مجھے ان بزرگوں پر اکثر حیرت ہوتی ہے اور سوچتا ہوں کہ کیا صحافیوں کا یہی کام ہے کہ وہ فرد، قوم یا جماعت کے خلاف لوگوں کو اکسانے کی کوشش کریں؟۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )