certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

دو خصلتیں اللہ عز و جل کی ہوں -عیب پوشی اور رحمدلی۔ دو خصلتیں حضور رحمت عالم احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات مقدسہ سے لے-شفقت اور رفاقت۔  دو خصلتیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سیکھے-راست بازی اور راست گوئی۔ دوخصلتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سیکھے-

 

­­­­­­­­­­گیارہویں شریف کی حقیقت سمجھنے سے قبل چند اصولی باتیں ذہن نشین کر لینا ضروری ہیں۔ اسلام کا عمومی مزاج ہے کہ ہر انسان کو  ہر ممکن فائدہ پہونچے ، نیک اور صالح لوگوں کو بھلایا نہ جائے  بلکہ انہیں اچھے طریقے سے یاد رکھا جائے۔

 

اسلام ایک سادہ اور پریکٹیکل مذہب تھا۔ لیکن بدقسمتی سے یہ دین بھی اسی طرح کے چیلنجز کا شکار ہو کر رہ گیا ہے جن کا شکار اکثر دوسرے مذاہب ہوتے رہے ہیں۔ مذہب اسلام کے حوالے سے اس تشویش کا بنیادی باعث یہ ہے کہ ابتدائی مسلم تاریخ کس شکل میں اور کس طرح ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔

 

مسلمانوں کے درمیان ویسے تو ہزاروں قسم کی دیواریں ہیں، لیکن اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کسی مسلم بستی کے باشندوں نے راستہ چلنے والی سڑک پر دیوار اٹھا کر اسلام کے سینے پر ایک نیا زخم لگایا ہے۔…

آج کے داعیان اسلام کو چاہیے کہ عمدہ اخلاق اور عفو و درگزر کے ذریعے لوگوں کے اذہان وقلوب کو جیت کر انہیں حقائق سے آگاہ کرائیں۔---

 

جب تک بندہ صبر کا دامن تھامے رہتا ہے ، ہر حالت میں اللہ کا شکر بجا لاتا ہے ، اور جونہی اس کے ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹتا ہے اپنی حالت زار پر اللہ کی ناشکری شروع کر دیتا ہے ، اور اس کی یہ ناشکری جاری رہتی ہے حتیٰ کہ اس کے قدم کفران نعمت تک جا پہنچتے ہیں۔ اور اس میں کسی کو تردد نہیں ہونا چاہئے کہ جس کے دل میں کفران نعمت داخل ہوئی اس کے دل سے ایمان نکل گیا۔ اگر ہم اس لطیف نکتے پر ذرا بھی غور کریں تو صبر اور شکر و احسان کی اہمیت ہماری نظروں میں واضح ہو جائے گی ۔ جو صبر کرنے والا ہے اس کے بارے میں بلا تردد یہ رائے قائم کی جا سکتی ہے کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔

قدرت وطاقت نہ ہونے کی وجہ سے اگر انسان انتقام نہ لے سکتا ہو تو یہ عفو (معاف کرنا) نہیں ہوگا بلکہ اسے بے بسی کا نام دیا جائے گا ۔عفو تو تب ہوگا  جب کوئی شخص قدرت وطاقت رکھنے کے باوجود کسی کو معاف کر دے ۔غصہ پر قابو پانے  کی حقیقت یہ ہے کہ کسی غصہ دلانے والی بات پر خاموش ہوجائے اور غیظ وغضب کے اظہار اور سزا دینے اور انتقام لینے کی قدرت کے باوجود صبر و سکون کے ساتھ رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غصہ ضبط کرنے اور جوش غضب ٹھنڈا کرنے کے طریقوں کی ہدایت دی ہے۔

اللہ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو کائناتِ نبوت کا تاجدار بنایا اور مقامات نبوت و رسالت کی انتہاء آپ ﷺ کی ذات مقدسہ پر فرما دیا حتی کہ ساری کائنات جن و بشر، خشک و تر ، بحر و بر ، شجر و حجر اور شمس و قمر سب آپ ﷺ کی ذات مقدس کے لئے مسخر کر دئے گئے۔ اللہ نے لوگوں کے دلوں کو آپ کی طرف متوجہ کیا اور انہیں آپ کے حکم کے لئے مسخر کیا ،یہاں تک وہ دن بھی آ یا جب آپ اسلام کے ایک داعی اعظم کی حیثیت سے آسمان نبوت پر جگمگانے لگے اور قرآن نے آپ کو ‘‘سراجاً منیراً’’ کہہ کر پکارا۔ ان سب کے باوجود اللہ نے اپنے بندوں کی رہنمائی اور ان کی رشد و ہدایت کی خاطر زبردست انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت ، نرمی اور شفقت و محبت کی تلقین فرمائی اور اس کے سحر انگیز نتائج کو بھی اپنی کلام میں بیان کیا۔

ہم میں سے اکثر ایمان کا تو دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے مقتضیات اور مبادیات سے لاعلم یا غافل ہونے کی وجہ سے ایسے کاموں میں ملوث ہو جاتے ہیں یا ہماری زندگی ایسے راستے پر نکل پڑتی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے  کہ ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود  ہم اس کی حلاوتوں سے محروم ہیں اور ایمان کا جس قدر نور ہمیں حاصل ہونا چاہئے تھا حاصل نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس ظلمت و تاریکی ہماری زندگیوں میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہے۔ لہٰذا ، اسی کے پیش نظر ذیل میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے زرین اقوال اور حکیمانہ فرمودات کی روشنی میں ایسی ہی چند باتیں پیش کی جا رہی ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی زندگیوں کو ایمان و عمل کے نور سے منور کر سکتے ہیں ؛

 

مسلمانوں کے مابین داعش یا اس جیسی انتہا پسند تنظیموں کے علاوہ آج کوئی بھی غلامی کے حق میں نہیں ہے۔ اگر غلاموں کے ساتھ بہت اچھا سلوک کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی جائے، تب بھی یہ قانونی طور پر ممنوع رہے گی۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں غلامی کوآج ایک مجرمانہ فعل سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی خرید و فروخت اورانہیں لونڈیاں بنانا پاکستان میں خلاف قانون ہے۔ کسی اور انسان کو اپنی ملکیت سمجھنا اب جائز نہیں سمجھا جاتا۔

جس طرح اسلامی نصوص (قرآن و حدیث) دین کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے لئے ناگزیر ہیں اسی طرح وہ عظیم اسلامی ہستیاں اور ان کی زندگیاں بھی دین کی درست تعبیر و تشریح میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں جن کی تربیت آغوشِ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ و السلام میں ہوئی ہے ان کا عمل بھی ہماری دینی رہنمائی کا ذریعہ ہے جنہوں نے تاجدار نبوت ﷺ کا سراپا دیکھا اور آپ ﷺ کے شب و روز کے معمولات کا مشاہدہ کیا۔ جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا رضی اللہ عنہم رضوا عنہ اور رسول اکرم ﷺ نے فرمایا أصحابي كالنُّجومِ بأيِّهمُ اقتديتُمُ اهتديتُم (میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ، تم ان میں سے جن کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے)۔ آج جب کہ ان عظیم اسلامی شخصیات کی ذوات مقدسہ پر طعن و تشنیع کا دور عروج پر ہے امت کو پھر ان بھولے بسرے اسباق کو یاد کرنے کی ضرورت ہے جن سے ان کی زندگی نکھر کر ہمارے سامنے آ جائے۔

 

اس لئے کہ کائنات کا تمام حسن اسی زمانے کی گود میں ہے ، کل زمانوں کے متقین کا تقویٰ ، پرہیزگاروں کی پرہیزگاری ، اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والی تمام پیشانیوں کی عظمت ، تمام انبیاء کی دعوت و تبلیغ کی امانت ، ہمارے پیارے نبی ﷺ کی سیرت کا تقدس ، کعبے کی عظمت ، فرشتوں کی لطافت ، کل زمانوں کے زہاد کے زہد و تقویٰ کا نور ، چٹختے گلوں کا تبسم ، باغوں اور کھلتے کلیوں کی تمام تر رعنائیاں ، ماں کی مامتا اور شفقت پدری کی دولت نایاب ، کائنات رنگ و بو کا حسن و جمال ، سمندر میں موجوں کی طغیانی اور آسمانوں کا کلیجہ چیرتے ہوئے سر بفلک پہاڑ یہ تمام قدر کی تخلیق کردہ چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی دنیا قسمیں کھاتی ہے اور اس میں کسی کو شک نہیں کہ ان تمام کے اوپر زمانے کی چادر تنی ہوئی ہے ۔ گویا کہ اللہ نے صرف ایک زمانے کی قسم کھا کر زمانے کی ہر قابل رشک شئی کو اپنی قسم میں شامل فرمالیا ۔

 

مولانا کلب جواد نے کہا کہ اسلام کے دو اہم مسلک ہیں شیعہ اور سنی جن کے درمیان چند ایک نقطہ پر اختلاف ہے مگر اس اختلاف کو اسلامی تضاد نہیں کہا جاسکتا ۔ انہوں نے اسی طرح جہاد کی بہت خوبصورت تشریح پیش کی او رکہا کہ اسلام میں جہاد اہم جز کی حیثیت رکھتا ہے جس کا ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار کیا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ، جہاد زندگی دینے کا نام ہے ۔

 

دہشت گردی اور انتہا پسندی نے جب سے مذہب اور نسل کا لبادہ اوڑھا ہے تب سے کئی مذہبوں اورنسلوں کے جوشیلے اور جذباتی لوگ اس کے سائے میں پھنس چکے ہیں۔ ہمارے ملک میں خالصتان کے حامی سکھوں ، الگ تمل ریاست کا قیام چاہنے والے سری لنکائی تملوں ، گمراہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے دہشت پسند گروہوں نے کئی بار اس سرزمین کو خون سے لال کیا ہے۔ اس کے علاوہ نکسلائٹس کی جانب سے بھی کئی دہشت گردی جاری ہے اور ادھر شمال مشرقی ریاستوں میں ناگا، یوڈو اور آسام کے مختلف علاحدگی پسند دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں ۔

دراصل جب حضورﷺ کے زمانے میں کثرتِ طلاق اور طلاق دینے میں جلد بازی کی وجہ سے صورت حال سنگین ہوگئی تو کثرت سے حلالہ کے واقعات پیش آنے لگے۔ کسی نے کسی کو جلد بازی میں طلاق مغلظہ د یدی پھر پچھتاوا ہوا تو اپنے کسی دوست یا سگے بھائی سے اپنی مطلقہ بیوی کا نکاح اس نیت یا اس شرط کے ساتھ کرادیا کہ ایک دور اتیں گذارنے کے بعد وہ اس کو طلاق دے کر اس کے لئے حلال کردے۔ یہ قرآن کی روح کے بالکل منافی تھا۔ اس پر حضورﷺ نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر خدا کی لعنت ہے۔

 

ہمیں یہ چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اللہ کے ذکر اور اس کی عبادتوں میں بسر کریں تاکہ شیطان خائب و خاسر ہو اور جو نوجوان ہیں وہ وہ روزوں کی کثرت کریں تاکہ بھوک اور پیاس کی شدت سے نفس کمزور ہو ۔ اور دل عبادات کی طرف راغب ہو۔ پیشانی میں سجدوں کی تڑپ بیدار ہو اور روح کو عبادتوں کی لذت ملے اور ہم اپنے نفس ، اس کی شہوات اور اس کے رزائل کو مغلوب کرنے میں کامیاب ہو کر ابدی سعادتوں کا حقدار بن جائیں۔ لیکن تمام تر عبادتوں ، ریاضتوں اور مجاہدوں کے با وجود ہمیں کبھی ایک لمحے کے لئے بھی نفس کے دجل اور مکر سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیوں کہ یہ انسان کا ایک خفیہ دشمن ہے ، اس کے تعاون کے بغیر شیطان کے لئے بھی کوئی راستہ نہیں بچتا۔ اور اہل علم و معرفت یہ جانتے ہیں کہ شیطان کو شیطان بنانے والا بھی خود اس کا نفس ہی ہے۔

 

ہمارے نبی حضرت محمدﷺ مکہ مکرمہ میں دوشنبہ کے روز ۹ ربیع الاول (۵۷۱ء) کو پیدا ہوئے۔ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کے والد عبداللہ کا انتقال ہوگیا۔ جب ۶ سال کی عمر ہوئی تو آپ کی والدہ آمنہ کا انتقال ہوگیا۔ جب ۸ سال ۲ ماہ ۱۰ دن کے ہوئے تو آپ کے دادا عبدالمطلب بھی فوت ہوگئے۔ جب ۱۳ سال کے ہوئے تو چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کی غرض سے ملکِ شام روانہ ہوئے مگر راہ سے ہی واپس آگئے۔ جوان ہوکر آپﷺ نے کچھ دنوں تجارت کی۔

 

لیکن ان سب کے باوجود اس مقام پر یہ سوال ضرور پید ا ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی منشاء احادیث کی ترویج و اشاعت کرنا اور مسلمانوں کو اس پر عمل کی تلقین کرنا تھی تو پھر آپ ﷺ نے اس کی کتابت سے کیوں منع فرمایا ؟ تو اس اعتراض کا جواب خود اسی حدیث کے سیاق و سباق سے واضح ہے ، حدیث کا متن یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف کتابت حدیث سے منع فرمایا تھا اور اس کی وجہ محدثین یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ابتدائے اسلام کا ہے اور اس زمانہ میں کتابت حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا منع فرمانا ان چند امور میں سے ایک ہے ....

 

اگررسول کا قول ہی نا قابل قبول ہوجائے توکتاب اللہ کاکوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔ غورکیجئے رسول نے لاکھوں باتیں ارشاد فرمائیں انہیں میں یہ فرمایا۔ مجھ پر یہ قرآن نازل ہوا۔ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجھ پر یہ سورت نازل ہوئی سننے والے صحابہ کرام نے ان کو کتاب اللہ جانااور مانا اور جن ارشادات کے بارے میں یہ نہیں فرمایا، احادیث ہوئیں۔ اب کوئی بتائے ایک منہ سے دو قسم کی باتیں نکلیں ایک قسم کی باتیں مقبول اور دوسری مردود یہ کس منطق سے درست ہوگا ایک قسم کو مردود قرار دینے کا مطلب ہوگا دوسری قسم کو بھی مردود قرار دینا۔ غرضیکہ حدیث کے ناقابل قبول ماننے کے بعد قرآن کا بھی ناقابل قبول ہونا لازم ہے’’۔ (بحوالہ : مقدمہ نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری مصنفہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ،صفحہ ۱۲)

جنہوں نے یہ اور ان جیسے سوالات رکھنے کے لئے مجھے کال کئے میں ان لوگوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ نیو ایج اسلام اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے ، اگر چہ ہم اپنے کالم نگاروں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی عطا کرتے ہیں ۔ جو پیراگراف کچھ قارئین کو ناگوار گزرا میں اس کے بارے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں جناب غلام رسول دہلوی نے جن خیالات کا ظہار کیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ وہ ان خیالات کے حامل ہیں ۔ انہوں نے اس پیراگراف کی شروعات ‘‘کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں’’ جملے سے کی ہے ۔ ممکن ہے کہ کہا جائے کہ اس ‘‘کچھ لوگ’’ میں وہ بھی شامل ہیں ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کہنا درست ہوگا ۔ اس پورے مضمون کا انداز گفتگو اور سیاق و سباق ایک اور ہی نظریہ پیش کرتا ہے ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں غلام رسول دہلوی اپنے اس پیرا گراف میں صرف اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان کے وزیر اعظم عمران نبی ﷺ کی اسلامی ریاست مدینہ کے اپنے سابق نظریہ پر کاربند رہیں گے یا بعد کی ان پالیسیوں پر عمل درآمد کریں گے جنہوں نے فقہائے اسلام اور پاکستان کے دہشت گرد نظریہ سازوں کی نظروں میں سابقہ پالیسیوں کو منسوخ کر دیا ہے ۔ وہ اپنے اس پیراگراف میں صرف یہ وضاحت طلب کرتے ہوئے دکھائی دے رہیں کہ عمران خان کس مدینہ ماڈل کی پیروی کریں گے ؛ میثاق مدینہ پر مشتمل ابتدائی مدینہ ماڈل کی جس میں کثیر ثقافتی اقدار کو فروغ حاصل تھا یا اس زمانے کی پالیسیوں کی جس میں ‘‘مدینہ کی اسلامی ریاست کی ایک جارحانہ تصویر ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے جس میں غزوات، توہین رسالت کا قانون، یہودیوں اور عیسائیوں کا ریاست سے نکالا جانا اور ‘‘لا اکراہ فی الدین’’ جیسے قرآن کے پرامن آیات کا منسوخ کیا جانا بھی پایا جاتا ہے’’۔

We Should Take Lesson from Death  ہمیں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
Mohammad Najeeb Qasmi, New Age Islam
We Should Take Lesson from Death ہمیں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
Mohammad Najeeb Qasmi, New Age Islam

آج (18-11-2018) ۹ ربیع الاول کی صبح ۹۵ سال کی عمر میں مشہور داعی اسلام حاجی محمد عبد الوہاب صاحب انتقال فرماگئے۔ حاجی صاحب کرنال (ہریانہ) کے رہنے والے تھے۔ یہ خطہ اترپردیش کے مشہور ضلع سہارن پور کے قریب واقع ہے۔ پیدائش ۱۹۲۳ء میں دہلی میں ہوئی تھی۔ موصوف قبیلہ راؤ راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ مشہور بزرگ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلیفہ تھے۔ تقسیم سے قبل انہوں نے بطور تحصیل دار فرائض انجام دیے تھے۔

 

جشن میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کرنا یقیناًمستحسن او ر باعث اجر و ثواب عمل ہے لیکن اس موقع پر اگر انعقاد میلاد کے بعض قابل اعتراض پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے انہیں بر قرار رہنے دیا جائے توہم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ جب تک اس پاکیزہ جشن میں طہارت ، نفاست او رکمال درجہ کی پاکیزگی کا خیال نہیں رکھا جائے گا سب کچھ کرنے کے باوجود اس سے حاصل ہونے والے مطلوبہ ثمرات سمیٹنا تودرکنار ہم اللہ تعالیٰ او راس کے رسوک مکّرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی مول لیں گے۔

 

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہم نعت پاک کے جو کیسیٹ بجاتے ہیں ان میں نعتوں کے درمیان اشتعال انگیز نعرے بھی ہوتے ہیں جو مسلکی تعصب کے مظہر ہوتے ہیں ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں غیرمسلم اکثریت میں ہیں اور وہ ہمارے ہر بات پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس طرح کے نعرے مسلکی اختلافات کو ہوادیتے ہیں اور غیر مسلموں میں بھی منفی رد عمل کا باعث بنتے ہیں۔ یہ کیسیٹ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں ۔ لہذا، مسلمانوں کی مذہبی اور ملی تنظیمیں اس طرح کے کیسیٹوں کا نوٹس لیں اور مسلمانوں کو ایسے کیسیٹ بجانے سے روکیں جو مسلکی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کونقصان پہنچانے والے ہیں۔ نعتیہ کیسیٹ میں اشتعال انگیزنعرے داخل کرنے کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ پتہ لگانا ضروری ہے۔

میلاد النبی کی آمد آمد ہے ماہ ربیع الاول اپنے نام کے لحاظ سے ہر پل ہر سو خوشیاں اور بہار برسائے ہوئے ہے اور کیوں نہ ہو تشریف آوری جو جان بہار کی ہے کیوں بہار کا وجود بھی ظہور سرکار کا محتاج تھاجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود حضور کو مخاطب کر کے فرما یا محبوب ‘‘لو لاک لما خلقت الافلاک و الارضین ’’ لہٰذا  جب زمین و آسمان ہی نہ ہوتے تو  خزاں و بہار ، شمس و قمر ، برق و ثمر اور دیگر موجودات کہاں ہوتے ۔

تکبر میں مبتلا شخص اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت و انعام کواپناذاتی کمال و صف سمجھنے لگتا ہے قرآن کریم میں ابلیس کا قصہ بار بار ذکر ہوا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا، ظاہر ہے اس میں کواس کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا، لیکن اس نے اسی کو وجہ افتخار بنا لیا جس سے مغلوب ہوکر اللہ کے حکم سے سرتابی کر بیٹھا او ربندگی کے حق کو ادانہ کر سکا، غرور و تکبر میں مبتلا لوگ اپنی خواہشات کو اپنا آلہ بنا لیتے ہیں …

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • I congratulate Mr.Parvez for this lovable article.It is an eye opener for all particularly Wahhabis. Every religion/sect ....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Good article! Islam stresses moderation and balance in all aspects of life; in beliefs, worship, conduct, relationships, ideas, ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • Islam means peace and Muslims believe and should believe in peace. '
    ( By Kaniz Fatma )
  • very good reply "‘It’s Not Jihad but Jahalat’"
    ( By Kaniz Fatma )
  • Hats Off claims to be a critic of all religions but it seems his venom is exclusively directed at just one religion!....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off is just trying to find something nasty to say. What does Jacinda Ardern's magnanimous...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • you are incapable of surprises. nothing new here. sort of desertification....
    ( By hats off! )
  • it is a mistake for india to develop "interests" in afghanistan. eventually all muslim....
    ( By hats off! )
  • so new zealand pm is a shining example of tokenism. how about women...
    ( By hats off! )
  • Madness has no religion
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Prof. Hoodbhoy knows humanity and human affairs a lot better than Hats Off does..,.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • The word "Jihad" should be expelled from our lexicon. There is no place....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )