certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

غرض یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری اور تعلیمات ملکی اتحاد و سالمیت کے لیے تیر بہدف او رمفید نسخہ ہے۔ اگر ہمارے اکابرین مملکت اور لیڈران ان بنیادوں پر ریاست کو پروان چڑھائیں تو ہر قسم کے انتشار و افتراق سے بچ سکتے ہیں ۔ ملک اور باشندگان ملک دونوں پر امن زندگی گزار سکتے ہیں او رہر طرف پھیلی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی کاخاتمہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

اب تک کی تحریروں سے یہ بات واضح ہو چکی کہ ذات باری تعالیٰ کا دیدار ممکن اور واقع ہے اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کی منجملہ خصوصیات میں سے ایک وصف خاص ہے جیسا کہ اکابر ائمہ و محدثین کی تحریروں سے واضح ہے کہ اللہ نے چند جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کو کسی نہ کسی ایک خاص وصف کے ساتھ  ضرور متصف فرمایا ہے جو ان کی ذوات مقدسہ میں تمام صفات پر نمایاں ہوتی ہے مثلاً موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کو اللہ نے کلیم بنایا یعنی اللہ نے موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کو اپنے ساتھ شرف کلام سے مشرف فرمایا...

مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ میں ۱۹۲۱ء میں اپنی پہلی گرفتاری پر برطانوی حکومت کی جانب سے دائر مقدمۂ بغاوت میں مجسٹریٹ کے سامنے اپنا تحریری بیان پیش کیا تھا۔ یہ بیان ’قول فیصل‘ کے نام سے پوری دنیا میں اور بالخصوص تعلیم یافتہ حلقوں میں مشہور ہے۔ یہ بیان اپنے اوپر عاید کیے جانے والے الزامات کی صفائی کے لیے نہیں تھا۔ بلکہ ہندوستان کی آزادی کا ایک منشور تھا اور ہر آزادی پسند شخص کی صدائے دل تھی۔ انھوں نے دنیا کے سامنے اس منشور کو پیش کرکے ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد کو ایک نیا رخ عطا کیا تھا۔

 

بالکل یہی مفہوم اس تاریخی حقیقت سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گئی اور ان کے لئے جان و مال کا تحفظ یقینی ہو گیا تو ہجرت کا حکم منسوخ کر دیا گیا ، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے واضح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا کوئی حکم باقی نہ رہا ۔ لہٰذا ، اب کسی بھی انتہا پسند مذہبی لیڈر یا کسی اسکالر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ہندوستان سے کسی اور ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دیں ، اور اس کی وجہ صاف ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کو مذہب کی آزادی اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

البقلی رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو دوبار دیکھا ہے اور یہ دوسری بار دیکھنے کا ماجرا ہے کیونکہ جب آپ نے پہلی بار اپنے رب کو دیکھا تووہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کچھ نہ تھا اس لیے وہاں یہ نہیں فرمایا کہ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ( النجم :۱۷) آپ کی بصر اِدھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھنے سے متجاوز ہوئی بلکہ اسی کی ذات کو دیکھنے میں محو اور مستغرق رہی اور جب آپ نے دوسری بار واپسی کے بعد اللہ تعالیٰ کود یکھا تو آپ کے سامنے جنت دوزخ اور دیگر عجیب و غریب نشانیاں بھی تھیں لیکن آپ اور کسی طرف متوجہ نہیں ہوئے بلکہ صرف اسی کی ذات کو ٹکٹکی باندھ کر لگاتار دیکھتے رہے ۔ ( روح البیان ج ۹ص ۲۶۹‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۰ھ)

 

کبھی مسلکی اختلاُفات صرف شیعہ سنی تک محدود تھے، پھر یہ آگے بڑھ کر وہابی خانقاہی کی حدوں میں پہنچے ، اختلافات کاکارواں یہیں نہیں ٹھہرا اس نے بریلوی دیوبندی کا رنگ اختیار کیا، لیکن اب یہ کارواں ایسی پر خار راہوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں امت مسلمہ کی تکالیف میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے، جی ہاں ان دنوں سو شل میڈیا پر اجمیر کے صوفیوں اور اعلیٰ حضرت کے مریدوں کے درمیان زبانی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ملک کی دو بڑی خانقاہوں یعنی کچھوچھہ شریف اور اجمیر شریف کے درمیان بھی اختلافات کو ہوا دینے والے میسیج خوب وائرل ہورہے ہیں۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی غلطی پر متنبہ کیا جائے اور درست تنقید کی جائے تو اسے بُرا نہیں ماننا چاہئے، بلکہ اسے قبول کرنا اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا چائیے ،اسی لئے شریعت میں امر بالمعروف او رنہی عن المنکر یعنی: نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے عمل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔منکر سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو روکے جانے کے لائق ہو، جس پر نکیر کرنے کا حکم ہو او رجوکسی بھی درجہ میں نا پسندیدہ ہو، البتہ جو عمل بس درجہ نا پسندیدہ ہوگا، اس سے منع کرنے کا اسلوب بھی اسی درجہ کا ہوگا۔

 

’’ سدرۃ ‘‘ بیری کا ایک درخت ہے او راس کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے اور سدرہ ساتویں آسمان او راس سے اوپر والوں کے درمیان برزخ ہے‘ نیچے سے جو چیزیں اوپر چڑھتی ہیں وہ سدرہ سے اوپر نہیں جاسکتیں ‘ اوپر سے جو چیزیں نیچے اترتی ہیں وہ سدرہ سے نیچے نہیں جاسکتیں او رہمارے نبی سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج جاتے ہوئے سدرہ سے اوپر گئے اور واپسی میں سدرہ سے نیچے بھی آئے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق کی ایک حد ہے اور تمام مخلوق میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے‘ آپ جب نیچے سے اوپر گئے تو نیچے والوں کی حد توڑ دی اور جب اوپر سے نیچے آئے تو اوپر والوں کی حد توڑ دی۔

 

واقعہ معراج مختلف کتب حدیث میں تیس سے زائد صحابہ کرام سے مروی ہے اور کسی ایک حدیث یا روایت میں بھی معراج کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مکمل موجود نہیں ۔ مثلاً صحیح بخاری کی کسی حدیث یا کسی بھی روایت میں معراج کی رات مسجد اقصی جانے کاکوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اس کا ذکر امام مسلم اور امام نسائی نے اپنی اپنی کتابوں میں کیا ہے ، مزید یہ کہ کسی روایت میں شق صدر کا کوئی حوالہ نہیں تو کسی روایت یا حدیث میں براق پر سواری کا ذکر نہیں ۔ یونہی امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت موسی علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھے جانے کی کوئی روایت نقل نہیں کی بلکہ اس روایت کو امام مسلم ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، اسی طرح صحاح کی کسی بھی کتاب میں برزخ کے حالات و واقعات دیکھنے کے حوالے سے کوئی روایت نہیں ہے بلکہ ان روایات کو امام بیہقی ، امام ابن جریر ، حافظ ابن کثیر علامہ حلبی اور دیگر محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔

 

صرف یہی نہیں بلکہ بعد کے ادوار میں علماء ، فقہاء ، محدثین اور مفسرین کی غالب اکثریت کا بھی ہمیشہ وہی موقف رہا ہے جو حضرت ابن عباس کی حدیث سے واضح ہے ، حتیٰ کہ معاصر ین میں امام اہلسنت مجدد مائۃ ماضیہ و حاضرہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی (رحمہ اللہ ) نے بھی اپنے فتویٰ میں حضرت ابن عباس کے ہی قول کو ترجیح دی اور انہیں کے موقف کو ثابت کیا اور دیوبندی فرقہ کے ایک قدر آور عالم مولانا الیاس گھمن نے بھی اپنے فتویٰ میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ بحیثیتِ خصوصیتِ خاصہ حضور پر نور نبی اکرم ﷺ کے حق میں ذات باری تعالیٰ کا دیدار حق اور ثابت ہے بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ میں حدیث عائشہ کی وہ توجیہ اور حدیث ابن عباس کے ساتھ اس کی وہ تطبیق بھی پیش کی ہے جو علمائے سلف سے منقول ہے ، باوجود اس کے کہ علمائے دیوبند کے نزدیک نبی ﷺ کی شان و عظمت کا کوئی بھی پہلو ثابت کرنے سے بزم خویش ان کی توحید خالص کے نظریہ پر زد پڑتی ہے جیساکہ ان کی کتابوں سے واضح ہے ۔

 

حیض یا ماہواری کے عمل سے گزرنے والی کسی بھی عمر کی پارسی یا غیر پارسی عورتیں فائر ٹیمپل میں داخل نہیں ہوتیں، اور سمرتی ایرانی کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو ’عبادت کرنے کا حق حاصل ہے، بے حرمتی کرنے کا نہیں۔‘تو ثابت یہ ہوا کہ دنیا واقعی گول ہے! اگر آپ ایک ہی سمت میں چلتے رہیں تو گھوم کر وہیں پہنچ جائیں گے جہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ بس شرط یہ ہے کہ راستے میں کوئی عبادت گاہ نہ پڑے کیونکہ پھر ہو سکتا ہے کہ آپ سپریم کورٹ پہنچ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی بصر آپ کے دل میں رکھ دی حتیٰ کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھ لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو رویت کرد یا، ایک قول یہ ہے کہ آپ نے سر کی آنکھوں سے حقیقتہ دیکھا، پہلا قول حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا، یہ حضرت ابو ذر اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے ، دوسرا قول حضرت انس او رایک جماعت کا ہے، نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تم کو اس پر تعجب ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے ہو، کلام حضرت موسیٰ کے لیے ہو اور رویت حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو ! نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنو ہاشم یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ۔

 

رؤیت باری تعالیٰ کے حوالے سے یہی سوال مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمہ اللہ سے کیا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں ایک مکمل رسالہ لکھا جس کا نام ‘‘منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرؤیۃ’’ (محبوب خدا ﷺ کی عرش تک رسائی اور دیدار الٰہی کے بارے میں مطلوب سے خبردار کرنے والا) رکھا جس میں آپ نے رؤیت باری تعالی کے حوالے سے احادیث رسول ﷺ ، آثار صحابہ ، اقوال تابعین و ائمہ متقدمین کو یکجا کیا ہے اور سب سے اخیر میں آپ لکھتے ہیں : ‘‘ائمہ متاخرین کے جدا جدا اقوال کی حاجت نہیں کہ وہ حد شمار سے خارج ہیں ’’۔

 

دلچسب بات یہ ہے کہ علمائے دیوبند کہ جنہوں نےخالص توحید پرستی کے نام پر آفتاب رسالت حضور رحمت عالم محمد ﷺ کی شان اقدس میں زبردست گستاخیاں کی ہیں جس کا ثبوت اکابر علمائے دیوبند کی وہ کتابیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کفریہ عبارتوں سے بھری پڑی ہیں ، لیکن انہوں نے بھی ہمارے نبی ﷺ کے لئے رویت باری تعالیٰ کو جائز اور حق مانا ہے ، مناسب ہے کہ علمائے اہلسنت کا موقف بیان کرنے سے قبل علمائے دیوبند کا موقف بیان کر دیا جائے تاکہ اس میں کوئی شک و ارتیاب باقی نہ رہے کہ ہمارے بنی ﷺ کے حق میں رویت باری تعالیٰ کا جائز اور ثابت ہونا ایک امر مسلم ہے ۔ دیوبندی مسلک کے ایک ممتاز عالم دین مولانا الیاس گھمن سے رویت باری تعالیٰ کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس پر صحابہ کرام اور علمائے دیوبند کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے یہ صاف لکھا کہ صحابہ کرام کی اکثریت کا یہی موقف ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کو رویت باری تعالیٰ ہوئی اور علمائے دیوبند کا بھی یہی موقف ہے ، فتویٰ کی تفصیل حسب ذیل ہے ؛

 

دیکھی جانے والی شئی کی اگر کوئی حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والے کی نظر ان تمام حدود اور اطراف و نہایت کا احاطہ کر لے تو گویا اس کی نظر نے اس شئی کو گھیر لیا ۔ اور اسی طور پر دیکھنے کا نام”ادراک“ہے، لیکن اگر دیکھنے والے کی نظر دیکھی جانے والی شئی کے تمام اطراف و جوانب کا احاطہ نہ کر رہی ہو تو ایسا دیکھنا ادراک نہیں ہوتا۔ الحاصل ، دیکھنا ایک جنس ہے جس کے تحت دو انواع ہیں (یعنی دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے) ، ایک احاطے کے ساتھ دیکھنا اور دوسرا احاطہ کے بغیر دیکھنا اور صرف اسی کو (یعنی احاطے کے ساتھ دیکھنے کو ) ”ادراک“ کہا جاتا ہے۔ پس نفیٔ ادراک سے صرف دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوتی ہے اور ایک نوع کی نفی جنس کی نفی کو مستلزم نہیں ۔ پس اﷲ کے ”ادراک“ کی نفی اﷲ کی ”رویت“ کی نفی کو مستلزم نہیں۔ امام رازی

 

کیا رویت باری تعالیٰ ان مادی نگاہوں سے ممکن ہے ؟ کیا کوئی فرد بشر اس کا متحمل ہے کہ وہ اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کر سکے ؟ اس سلسلے میں متقدمین صحابہ کرام کے درمیان دو اقوال پائے جاتے ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ ان دنیاوی نگاہوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار سوائے ذات مصطفیٰ ﷺ کے تمام لوگوں کے لئے قطعا یقینا ناممکن اور امر محال ہے کہ یہ وصف خاص ہے ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ اور یہ واقع ہے آپ ﷺ کے حق میں کہ آپ ﷺ نے معراج کی رات اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کیا ، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ دنیاوی آنکھوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار کلیۃ ناممکن اور محال ہے۔جو اس کے کلیۃ ناممکن اور محال ہونے کا قول کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیتوں سے دلیل لاتے ہیں،

 

آدمی انصاف سے کام لے تو اسی قدر تقریر ومثال کافی ہے شہد کی پیالی اطاعت الٰہی ہے اور زہر کا کاسہ اس کی نافرمانی اور وہ عالی شان حکماء انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام۔اور ہدایت اس شہد سے نفع پانا ہے کہ اﷲ ہی کے ارادے سے ہوگا اور ضلالت اس زہر کا ضرور پہنچنا کہ یہ بھی اسی کے ارادے سے ہوگا مگر اطاعت والے تعریف کئے جا ئیں گے اور تمرد(سرکشی)والے مذموم و ملزم ہو کر سزا پائں گے۔ پھر بھی جب تك ایمان باقی ہے " فَیَغْفِرُ لِمَن یَّشَآءُ" (جسے چاہے بخش دے۔ت)باقی ہے

 

تم میں خدا نے کیا پیدا کیا ؟ ارادہ و اختیار،تو ان کے پیدا ہونے سے تم صاحب ارادہ۔صاحب اختیار ہوئے یا مضطر،مجبور،ناچار،صاحبو ! تمھاری اور پتھر کی حرکت میں فرق کیا تھا،یہ کہ وہ ارادہ و اختیار نہیں رکھتا اور تم میں اﷲ تعالٰی نے یہ صفت پیدا کی عجب عجب کہ وہی صفت جس کے پیدا ہونے نے تمھاری حرکات کو پتھر کی حرکات سے ممتاز کردیا،اسی کی پیدائش کو اپنے پتھر ہوجانے کا سبب سمجھو یہ کیسی الٹی مت ہے ؟ اﷲ تعالٰی نے ہماری آنکھیں پیدا کیں ان میں نور خلق کیا اس سے ہم انکھیارے (دیکھنے والے) ہوئے نہ کہ معاذ اﷲ اندھے یونہی اس نے ہم میں ارادہ و اختیار پیدا کیا اس سے ہم اس کی عطاکے لائق مختار ہوئے،نہ کہ الٹے مجبور۔

 

باایں ہمہ کسی کا خالق ہونا،یعنی ذات ہو یا صفت،فعل ہو یاحالت،کسی معدوم چیز کو عدم سے نکال کر لباس وجود پہنا دینا،یہ اسی (اللہ عز و جل) کاکام ہے ، یہ نہ اس نے کسی کے اختیار میں دیا نہ کوئی اس کا اختیار پاسکتا تھا،کہ تمام مخلوقات خود اپنی حد ذات میں نیست ہیں (یعنی ان کی حقیقت معدوم ہونا ہے ، لیکن یہ موجود ہیں اس لئے کہ اللہ نے انہیں عارضی طور پر وجود بخشا ہے) ، ایك نیست دوسرے نیست کو کیا ہست بناسکے (یعنی جس کی حقیقت خود معدوم ہونا ہو وہ کیا کسی معدوم کو پیکر وجود عطاء کرے) ، ہست بنانا اسی کی شان ہےجو آپ اپنی ذات سے ہست حقیقی وہست مطلق ہے(یعنی اللہ عز و جل کا موجود ہونا حقیقی ، مستقل ، دائمی ، ازلی اور ابدی ہے وہ اپنے وجود اور بقا میں قطعاً کسی کا محتاج نہیں) ، ہاں یہ اس نے اپنی رحمت اور غنائے مطلق سے عادات اجراء فرمائے کہ بندہ جس امر کی طر ف قصد کرے اپنے جوارح ادھر پھیر ے ،مولا تعالٰی اپنے ارادہ سے اسے پیدا فرمادیتا ہے۔

 

"اے محمد !ان اشخاص کو زیادہ ہدایت مت کرو،ان کےلئے اسلام کے واسطے مشیت ازلی نہیں ہے،یہ مسلمان نہ ہوں گے "۔اور ہر امر کے ثبوت میں اکثر آیات قرآنی موجود ہیں،تو پس کیونکر خلاف مشیت پروردگار کوئی امر ظہور پذیر ہوسکتا ہے،کیونکہ مشیت کے معنی ارادہ پروردگار عالم کے ہیں،تو جب کسی کام کا ارادہ اﷲ تعالٰی نے کیا تو بندہ اس کے خلاف کیونکر کرسکتا تھا۔اور اﷲ نے جب قبل پیدائش کسی بشر کے ارادہ اس کے کافر رکھنے کا کرلیا تھا توا ب وہ مسلمان کیونکر ہوسکتا ہے " یَہدِی مَن یَّشَآءُ"[1]۔ القرآن الکریم ۲/ ۲۷۲ کے صاف معنی یہ ہیں کہ جس امر کی طرف اس کی خواہش ہوگی وہ ہوگا۔پس انسان مجبور ہے اس سے باز پرس کیونکر ہوسکتی ہےکہ اس نے فلاں کام کیوں کیا،کیونکہ اس وقت اس کو ہدایت ازجانب باری عزاسمہ ہوگی وہ اختیار کرے گا۔علم اور ارادہ میں بین فرق ہے،یہاں من یشاء سے اس کی خواہش ظاہر ہوتی ہے۔

 

رسول اللہ نے جو صادق ومصدوق ہیں فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک شخص اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع رہتا ہے پھر یہ چالیس دن میں بستہ خون کی شکل میں ہوجاتا ہے، پھر چالیس دن میں گوشت کا لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرشتہ کو بھیجتا ہے اور چار چیزوں یعنی رزق، موت، بدبخت یا نیک بخت ہونے کے متعلق لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے واللہ تم میں ایک یا فرمایا آدمی دوزخیوں کا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ یا گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے اس پر کتاب (نوشتہ تقدیر) غالب آتی ہے پس وہ جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے اور اس میں داخل ہوجاتا ہے اور ایک شخص جنتیوں کے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک یا دو گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے، اس پر کتاب غالب آجاتی ہے پس وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے۔ (الحدیث)

 

سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ہمارے لئے ہمارے دین کو واضح کریں۔ گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے کیا ان سے متعلق ہے جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے یا اس چیز سے متعلق ہیں جو ہمارے سامنے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ان سے متعلق ہیں جنہیں لکھ کر قلم خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر جاری ہو چکی ہے سراقہ نے عرض کیا پھر ہم عمل کیوں کریں؟ زہیر نے کہا پھر ابوالزبیر نے کوئی کلمہ ادا کیا لیکن میں اسے سمجھ نہ سکا میں نے پوچھا آپ نے کیا فرمایا؟ تو انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمل کئے جاؤ ہر ایک کے لئے اس کا عمل آسان کردیا گیا ہے۔ (الحدیث)

 

آپ نے دیکھا کہ کس طرح اول الذکر آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ کائنات کا ہر ذرہ تقدیر الٰہیہ کا پابند ہے اور کائنات میں ایک ورق بھی اس کی مرضی کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا ، جبکہ ثانی الذکر آیتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ انسانوں کو ان کے اچھے یا برے اعمال کی بنیاد پر ثواب و عذاب کا حقدار ٹھہراتا ہے ۔ یہ ایک ایسا عقدہ ہے جسے حل کرنے سے بڑے بڑے اہل علم اور ارباب عقل و خرد عاجز ہیں ۔ بلکہ کتنے ہی اہل علم و دانش اس مسئلے میں اصابت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے گمراہی اور بدعقیدگی کی گھاٹیوں میں گم ہو کر رہ گئے ۔ اہل اسلام کے لیے بھی خاص طور پر یہ مسئلہ غیر معمولی اہمیت کا حامل اس لئے ہے کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لانا اسلامی عقیدے کا ایک جزو لاینفک ہے ۔

 

لیکن دوران مطالعہ جب میری نظروں سے پاکستان میں جہادیوں کے سرخیل بدنام زمانہ مولانا مسعود اظہر کی کتاب "جہاد ایک محکم اور قطعی فریضہ" کا حوالہ گزرا تو حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کیوں کہ اس کتاب میں اس نے جہاد کے حق میں قرآن کی 400 سے زائد آیتوں کو نقل کیا ہے ، جب میں نے ان آیتوں کا سرسری طورپر جائزہ لیا تو اس میں میری دلچسپی بڑھی اور میں نے انٹرنیٹ پر مزید مواد سرچ (search) کرنا شروع کیا تو یہ پایا کہ صرف تحریری ہی نہیں بلکہ تقریری طور پر بھی اپنے تمام تر جہادی مواد اس نے انٹرنیٹ پر ڈال رکھے ہیں۔

 
Abrogation in Quran, Part-8  مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam
Abrogation in Quran, Part-8 مسائل تنسیخ ؛ چند بنیادی مباحث
Misbahul Huda, New Age Islam

اگر غلام احمد پرویز  صاحب کی مذکورہ دلیل کو حق بجانب مان لیا جائے تو اس سے یہ بھی ماننا لازم آئے گا کہ عرب میں اسلام کے روز اول سے اب تک حالات کے اندر کوئی تبدیلی ہی واقع نہیں ہوئی اور بعد کے ادوار میں اسلام دنیا کے جن جن خطوں تک پہنچا وہاں اس زمانے سے لیکر اب تک حالات میں نہ تو کوئی تبدیلی پیدا ہوئی اور نہ ہی کوئی تغیر رونما ہوا ، لہٰذا احکام اسلام میں بھی نسخ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اور یہ خیال سرا سر باطل ہے۔  اور لطف کی بات یہ ہے کہ غلام احمد پرویز اپنی اسی کتاب ‘‘لغات قرآن کے صفحہ 1609 کے آخری پیراگراف کی آخری سطر میں لکھتے ہیں ‘‘تنزیل وحی میں یہ اصول (یعنی بعض مسائل کی تنسیخ) بھی کار فرما رہا ہے۔(لغات القرآن ۔ ص 1609– مطبوعہ ادارہ طلوع اسلام)’’ ،  اور پھر آگے خود ہی لکھتے ہیں ‘‘یہ حقیقت اپنی جگہ رہتی ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ایسی نہیں جو منسوخ ہو ۔ اس غیر متبدل صحیفہ آسمانی کا ایک ایک حرف اپنے مقام پر اٹل ہے اوراٹل رہے گا (لغات القرآن ۔ص 1613)’’۔ شاید  ان کے نزدیک قرآن ‘‘وحی منزل’’ نہیں ۔  یا للعجب!

 
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 ... 135 136 137


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • I congratulate Mr.Parvez for this lovable article.It is an eye opener for all particularly Wahhabis. Every religion/sect ....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Good article! Islam stresses moderation and balance in all aspects of life; in beliefs, worship, conduct, relationships, ideas, ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • Islam means peace and Muslims believe and should believe in peace. '
    ( By Kaniz Fatma )
  • very good reply "‘It’s Not Jihad but Jahalat’"
    ( By Kaniz Fatma )
  • Hats Off claims to be a critic of all religions but it seems his venom is exclusively directed at just one religion!....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off is just trying to find something nasty to say. What does Jacinda Ardern's magnanimous...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • you are incapable of surprises. nothing new here. sort of desertification....
    ( By hats off! )
  • it is a mistake for india to develop "interests" in afghanistan. eventually all muslim....
    ( By hats off! )
  • so new zealand pm is a shining example of tokenism. how about women...
    ( By hats off! )
  • Madness has no religion
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Prof. Hoodbhoy knows humanity and human affairs a lot better than Hats Off does..,.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • The word "Jihad" should be expelled from our lexicon. There is no place....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )