certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

قربانی کی حقیقت:قربانی کا عمل اگرچہ ہر امت کے لئے رہا ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مقرر کی تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ (سورۃ الحج ۳۴) لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی اہم وعظیم قربانی کی وجہ سے قربانی کو سنت ابراہیمی کہا جاتا ہے اور اسی وقت سے اس کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگئی۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی عظیم قربانی کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر حضور اکرم ﷺ کی اتباع میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے جو قیامت تک جاری رہے گی ان شاء اللہ۔

 
On the Meaning of Khatm e Nabuwwat  ختم نبوت کا معنیٰ
Naseer Ahmed, New Age Islam
On the Meaning of Khatm e Nabuwwat ختم نبوت کا معنیٰ
Naseer Ahmed, New Age Islam

اگر انہوں نے اپنے رہنما مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی کے بجائے ایک امام قرار دیا ہوتا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میری رائے میں احمدیہ کی ویب سائٹ قرآن کریم بہترین تفسیر فراہم کرتی ہے اور احمدی اچھے مسلمان ہیں جو نبی ﷺ اور اللہ کی عزت کرتے ہیں۔ ان کے عقائد اسلام کے لئے ذلت کا سبب نہیں ہیں ، اور وہ ایسے لوگ ہیں جن پر ہم فخر کر سکتے ہیں اور دوستی بھی کر سکتے ہیں۔ بہر حال، اللہ نے ہم سے ایسا کوئی وعدہ نہیں لیا ہے کہ ہم دوسروں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے پر مجبور کریں۔

 

تاہم، مدنی دور میں اسلامی ریاست کی ایک جارحانہ تصویر ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے جس میں غزوات، توہین رسالت کا قانون، یہودیوں اور عیسائیوں کا ریاست سے نکالا جانا اور ‘‘لا اکراہ فی الدین’’ جیسے قرآن کے پرامن آیات کا منسوخ کیا جانا بھی پایا جاتا ہے۔ پاکستان میں تقریبا تمام اسلام پرست سیاسی پارٹیوں کا نقطہ نظر یہی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کیا عمران خان مدینہ جیسے ویلفیئر اسٹیٹ کاحقیقی ماڈل اختیار کرتے ہیں جس کی بنیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھی تھی یا پھر اس راستے پر چل پڑتے ہیں جیسے پاکستان میں انتہا پسند نظریہ سازوں نے اغواء کررکھا ہے۔

 
The Myth of Jahiliyyah  ایام جاہلیت کا افسانہ
Arshad Alam, New Age Islam
The Myth of Jahiliyyah ایام جاہلیت کا افسانہ
Arshad Alam, New Age Islam

قبل از اسلام کا وہ دور جیسا کہ اسے ایام جاہلیت کہا جاتا ہے ویسا ہی ہے جیسا دنیا کے دیگر خطوں میں تاریکی کا ایک دور رہ چکا ہے۔ اور جس طرح روشن خیالی نے یوروپ کو تاریک دور سے نکال کر جدیدیت کی دہلیز پر لاکر کھڑا کر دیا اسی طرح اسلام نے بھی اس خطہ عرب اور اس کے باشندوں کو ظلم، جہالت ، بربریت اور وحشت کی تاریکی سے نکال کر انسانیت، علم و فکر، تہذیب و تمدن، اور روشن خیالی کی ایک نئی صبح سے آشنا کیا۔ اسلام کی جدید تاریخ میں سید قطب اور مودودی کے مطابق اب بھی اس دنیا کے بیشتر حصے جاہلیت کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اپنی اس خودساختہ جاہلیت کی تاریکی سے آزاد ہونے کے لئے اب بھی اسلام کا منھ تک رہے ہیں۔

 

تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈی لنکنگ (delinking) پالیسی اصولی اور عملی دونوں طور پر زبردست کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کے اس میں از سر نو منصوبہ بندی کرنے اور قوم کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے کے مواقع ‏ موجود ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سارے ملکوں نے اس پالیسی کو اپنایا جس کی بنیاد پر انہیں بڑی کامیابیاں ملیں۔ جرمنی اور جاپان نے تعلیم اور سائنسی ترقی کے شعبے میں زبردست کامیابی حاصل کی۔

 

شارحین حدیث نے عموماً‌ اس پیشین گوئی کی تشریح یہ کی ہے کہ نزول مسیح کے موقع پر کفر کا خاتمہ اور اسلام کا بول بالا ہو جائے گا اور اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔ تاہم ماضی قریب کے نامور محدث علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے اس رائے سے اختلاف ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں سیدنا مسیح کا نزول ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔

 
The Language of the Quran  قرآن کی زبان
Naseer Ahmed, New Age Islam
The Language of the Quran قرآن کی زبان
Naseer Ahmed, New Age Islam

قرآن کے اندر ہر کلیدی لفظ اور تصور کو ان دیگر آیات کی مدد سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے جن میں وہ کلیدی الفاظ وارد ہوئے ہیں اور اس سے کسی بھی طرح کی تعبیر و تشریح کی ضرورت بھی مرتفع ہو جاتی ہے اور اس طرح قرآن کی ہر آیت سے ایک واضح معنی اخذ کیا جا سکتا ہے اور قرآن کا یہ دعویٰ بالکل درست ہے کہ یہ ایک واضح کتاب ہے۔

 

( یہ تمام باتیں اس لئے کی گئیں) تاکہ تیرے دل میں یہ بات اتر جائے کہ اس کائنات سے اللہ کے اتنے اسرار و مہمات وابستہ ہیں کہ انسانی عقل میں ان کا احاطہ ممکن ہی نہیں ہے۔ اس کی دلیل میں قرآن کی یہ آیت ہی کافی ہے ، ‘‘وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ’’، ترجمہ؛ ‘‘اور جو کوئی ان میں ہیں اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی ہوتی اس کی پاکی نہ بولے ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے’’۔

 

بلا شبہ ہندوستان جیسے ایک کثیر ثقافتی اور کثیر مذہبی ملک میں سیکولرزم ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ سیکولرزم ہندوستان کی خصوصیت ہے ،اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام مذاہب کو یکساں احترام عطاء کرتا ہے اور اس کے آئین میں تمام باشندگان وطن کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق یکساں گزر بسر کرنے کی اجازت ہے ۔ لہذا تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ہندوستانی سیکولرزم کے اسی بنیادی تصور کو ذہن میں رکھیں اور ملک میں امن و شانتی قائم رکھیں ، اس کے لئے انہیں اجتماعی شکل میں پر امن بقائے باہمی کے نقاط کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، ہم ہندوستانیوں کو اپنے طالب علموں، بچوں اور شہریوں کو اس کے متعلق بتانا چاہئے تاکہ وہ ملک میں پنپنے والی کسی منفی ذہن سازی کا شکار نہ ہو سکیں۔

 

(۱) حقوق اللہ کی پابندی سے اس کائنات کا کوئی فرد بشر آزاد نہیں ، خواہ وہ اپنے زمانے کا نبی ، رسول ، ولی یا اللہ کا کتنا ہی مقرب بندہ کیوں نہ ہو ۔ (۲) حقوق العباد میں انسان تو انسان ہیں ، جانور ،چرند و پرند اور اللہ کی جاندار و غیر جاندار چھوٹی بڑی تمام مخلوق شامل ہے۔ (۳) حقوق اللہ یعنی اللہ بندوں پر عائد اپنے حقوق معاف کر سکتا ہے لیکن وہ کسی حق العباد کی پامالی معاف نہیں کرے گا۔ (۴)جب تک مظلوم معاف نہ کرے حق العباد اس وقت تک معاف نہیں ہوگا۔ (۵) انسان تو پھر بھی انسان ہے یہ کیوں نہ اللہ کی عبادت کرے ! اس کائنات میں پائے جانے والے تمام بہائم ، حیوانات و جمادات ، عظیم الشان اشجار و ابحار ، سربفلک پہاڑ اور چھوٹے چھوٹے چرند و پرند حتی کہ ماسویٰ اللہ ہر مخلوق کسی نہ کسی صورت میں اللہ کی بندگی اور تسبیح و تہلیل میں مشغول ہے اسی لئے انہیں حقارت کی نظر سے دیکھنا تقویٰ یعنی اللہ سے ڈرنے کے منافی ہے۔

 

انہیں اسلام کی کسی بھی موجودہ تنقید پر کھل کر بحث و تمحیص کرنے کے لئے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے۔ اس خود احتسابی کے بغیر یہ سمجھنا بڑا مشکل ہے کہ ہم بحیثیت ہندوستانی مسلمان کس طرح ہمارے ارد گرد کی دنیا کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اگر ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ کسی دوسرے مذہب کی طرح اسلام بھی دہشت گردی کا سبب بن سکتا ہے تو ہمارے اندر ایک ایسا خیالی نقطہ نظر پروان چڑھے گا کہ جس میں مسلمان مظلوم نظر آئیں گے اور 11/9 جیسے دہشت گردانہ واقعات صیہونیوں کی سازش معلوم ہوں گے۔

 

زبان کوئی بھی ہو اس کے اجزائے ترکیبی میں محاورے (idiom) کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ لیکن محاورے کے استعمال کی بھی دو شرائط ہیں ایک تو قبولیت عام اور دوسری محل استعمال ۔ اگر کوئی شخص پوری لغت اور تمام مقبول عام محاورے رٹ لے تو یہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوگی کہ وہ بہت عمدہ زبان لکھ سکے گا۔محل استعمال بڑی چیز ہے۔ اب صحافی حضرات اردو لکھتے ہوئے جب ’ میرا ماننا ہے‘، فلاں چیز کے چلتے‘ اور ’ آپ کو کیا لگتا ہے ؟‘ ( بمعنی آپ کا کیا خیال ہے) قسم کے ’ محاورے استعمال کرتے ہیں تو دل خون ہوجاتا ہے ۔ یہ عادات و لفظیات قبیحہ نیوز چینلوں کی دین ہیں اورعام تحریری اردو کا حصہ بن چکی ہیں ۔

تقویٰ (طاعت و بندگی کی) ایک عظیم سلطنت ہے جس میں نافرمانی و سرکشی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور اللہ کا دین بڑا غیرت مند ثابت ہوا ہے (اسی لئے) اس میں شرکتِ غیر (بے دینی) کا کوئی کام نہیں۔ یہ جو تمہارے سر پر (گناہوں کا) اتنا بھاری بھرکم بوجھ ہے در اصل وہی تقویٰ کی راہ میں تیری رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ جب تک تو راستے کے اس پتھر کو ریزہ ریزہ نہیں کر دیتا تب تک تیری زبان پر نیکی اور تقویٰ کی بات زیبا نہیں دیتی۔ جب تک تو خود بینی اور نفس پروری میں مشغول رہے گا بد بختی اور خسران و محرومی کے سائے تیرے اوپر دراز تر ہوتے جائیں گے۔ جب تک تو اپنے نفس میں مشغول رہے گا معرفت حق سے محروم رہے گا ، اور (یقین جان کہ) تو نے خود بینی اور نفس پروری سے کنارہ کشی اختیار کی نہیں کہ تجھے (ذات حق) سے آشانائی کی لذت مل گئی۔

 

جب خدا خود انسان کے سامنے ہوگا تو کون ہے جو اس کے خلاف بغاوت کی ہمت رکھے؟ ہر کوئی اس وقت اس کے آگے سر تسلیم خم کر رہا ہو گا۔ لیکن خدا کی بارگاہ میں وہی تسلیم و رضا معتبر ہے جو خدا کی بارگاہ میں پیش ہونے سے قبل بجا لائی جائے۔ جو لوگ گناہ اور غلط کام کرتے ہیں وہ خدا کے سامنے اس وقت سرنگوں ہوں گے جب وہ اس کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے۔ لیکن ایک مخلص انسان اسی دنیا میں اس کی طاعت و فرمانبرداری بجالاتا ہے۔

 

 اس لئے کہ حصولِ تقویٰ کے لئے جس طرح نیک راستے پر چلنا ضروری ہے اسی طرح قبائحِ نفس اور رزائل دنیا و مافیھا سے بھی اپنے وجود کو الگ کر لینا ضروری ہے۔ جیسا کہ صوفیائے کرام کی ایک واضح تعلیم ہے ‘‘ان تعلقت بذرۃ او تعلقت بک ذرۃ فانت فی حبالتھا’’، یعنی اگر تو کسی ذرۂ کائنات میں مشغول ہو جائے یا اس کائنات کا کوئی ذرہ تجھے (خود میں) مشغول کر دے تو پھر تُو اسی کا اسیر ہے’’۔ جب تک بندہ کائنات کے ہر ذرے سے خود کو الگ نہیں کر لیتا اور اپنی تمام تر تونائی صرف رضائے الٰہی کے حصول میں صرف نہیں کر دیتا اس وقت تک تقویٰ کا دعویٰ باطل ہے۔ اس لیے کہ تقویٰ کی بنیاد محبت الٰہی پر ہے اور محبت میں دوئی کی کوئی راہ نہیں ، یا تو انسان مکمل طور پر خدا کا بن جائے یا پھر اس دنیا کا اسیر ہو رہے۔

 

جب اللہ کی توفیق اوراس کی اعانت شامل حال ہوئی تو اس نے دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔ اب اس کائنات کی راتیں بھی سہانی بسر ہوتی ہیں کہ بندۂ خدا نے اسے خیرباد کہہ دیا اور اپنے راستے نکل پڑا۔ اس لئے کہ ایک مقولہ ہے ‘‘ان تعلقت بذرۃ او تعلقت بک ذرۃ فانت فی حبالتھا’’، یعنی اگر تو کسی ذرۂ کائنات میں مشغول ہو جائے یا اس کائنات کا کوئی ذرہ تجھے مشغول کر دے تو پھر تُو اسی کا اسیر ہے’’۔ اور تو اسی کا غلام بن کر رہ جائے گا ، اور جب تک تو ان کے اوصاف سے آزاد نہ ہو جائے تو تقویٰ کی بو بھی نہیں پا سکتا اس لئے کہ تقویٰ کی رِیت یہی رہی ہے کہ تیرا سارا وجود اسی (مالک حقیقی) کا ہو رہے۔

 

اردو زبان کی روز افزوں مقبولیت او راردو ناخواندہ طبقے کا اردو شاعر ی کے تئیں شغف اور پسندیدگی کا چہار سوعملی اظہار خوش آئند بھی ہے اورخوش کن بھی ،لیکن جیسے ہی زبان و ادب کے مستقل گرتے ہوئے معیار پر نظرجاتی ہے تودل خون ہو جاتا ہے۔ افسوس اورحیرت کامقام ہے کہ ادبی تخلیق ، تحقیق اور تدریس سے وابستہ ذمہ داران کی جانب سے اس صورت حال کی بابت کوئی تبصرہ یا اظہار تشویش تو کجا اس موضوع پر کہیں گفتگو تک نہیں ہوتی ۔یہ مجرمانہ خاموشی بر قرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب حسن زبان و بیان اور ادب کی اعلیٰ اقدار قطعی معدوم ہوکر قصہ پارینہ بن جائیں گی۔

 

لہذا خود کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکی پھوٹ ڈالنے والی سیاست سے الگ رکھنا مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور انہیں یہ واضح کر دینا چاہئے کہ مشکلات کے باوجودوہ دار القضاۃ پر سیکولر ریاست کے قوانین کو فوقیت دیں گے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مزاحمت اس سوال سے شروع ہو جانی چاہئے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا انہیں کیا حق ہے۔ کیا وہ ایک منتخب ادارہ ہے؟ اگر نہیں، تو پھر کس نے انہیں ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ آواز بننے کا حق دیا ہے؟ کیا وہ ہندوستانی مسلمانوں کی تکثیریت کی مناسب طریقے سے نمائندگی کرتے ہیں؟

 

تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ متقی کہلانے کا حقدار وہی انسان ہے جو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور اپنے نفس کی خواہشات اور فریب کاریوں کے چنگل سے آزاد ہو چکا ہو۔ اس لئے کہ جس نے خود کو اپنے وجود کی فتنہ انگیزیوں اور خواہشات نفسانی کی غلاظتوں سے پاک نہیں کیا وہ جہنم کا ایندھن ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ‘‘وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا’’، ترجمہ: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو’’۔ تمام انسانوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تاکہ (جہنم)تمرد و سرکشی میں پڑے رہنے والوں سے اپنا حصہ (بدلہ) لے لے ۔ پھر نیک اور متقیوں کو وہاں سے نکال دیا جائے گا اور نفس پرستوں کو جہنم کے گڑھے میں ڈال دیا جائے گا ، یہی معنیٰ ہے اللہ کے اس فرمان کا ‘‘ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتَّقَوا وَّنَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا’’، ترجمہ: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے’’۔

 

والدین کے فوت ہونے کے بعد اولاد کو چاہیے کہ وہ ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن و نماز وتدفین کو سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ ادا کریں ، ان کے لیے ہمیشہ دعاواستغفار کرتے رہیں ، صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کا ثواب انہیں ہمیشہ پہنچاتے رہیں ، اپنی نماز اور روزوں کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھیں اور ان کے واسطے بھی روزے رکھیں، والدین پر کوئی قرض ہو تو اسے جلدی ادا کریں ، ان پر کوئی فرض رہ گیا ہو تو بقدر قدرت اسے پورا کریں مثلا ان کی طرف سے حج بدل کرانا وغیرہ ، اگر والدین نے کوئی وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو تو اس کے نفاذ کی حتی المقدور کوشش کرنا ، ان کی قسم پوری کرنا ، ہر جمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لیے جانا ، وہاں یس شریف کی تلاوت کرنا اور اس کا ثواب ان کی روح کو پہنچانا ، والدین کے رشتہ داروں، دوستوں کے ساتھ عمر بھر نیک سلوک کرنا اور ان کا اعزاز و اکرام کرنا ،اور اسی طرح کوئی گناہ کرکے انہیں قبر میں ایذا نہ پہنچانا وغیرہ ۔

ایک طرف سے دعویٰ تھا کہ مسلمانوں کے عائلی مسائل شریعت کی روشنی میں ہی طے کئے جائیں گے تومخالفت میں دھمکی دی جارہی تھی کہ ملک میں متوازی عدلیہ نظام قائم نہیں ہونے دیا جائے گا۔دونو ں ہی باتیں غلط ہیں ۔مسلمانوں کے عائلی معاملات شرعی احکا مات سے ہی طے ہوتے چلے آئے ہیں اور موجودہ آئین کی روشنی میں آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ۔ سلطنت دور (1206-1526) میں تو خلافت اسلامیہ کی تقریباً پورے طور پر پیروی کی گئی،تمام مغربی مورخین نے اس زمانے کے ہندوستان کو مذہبی ریاست (theocratic state) سے موسوم کی ہے۔

 

عالمِ توحید کے تمام منازل متقیوں کا مقدر ہیں۔ جنت کے تمام مقامات و محلات ،اس کی تمام نعمتیں متقیین کے لئے ہی آراستہ کی گئی ہیں۔ اور تقویٰ کے بغیر راہ سلوک و معرفت میں کوئی چارہ کار نہیں۔ نفس کی کدورتوں اور دل پر لگے معصیتوں کے دھبے ہم سے تقویٰ کا پانی مانگتے ہیں۔ قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ہم تمام لوگوں کو جہنم کے اوپر سے گزاریں گے لیکن آخرت کی دنیا میں جس کے پاس تقویٰ کا لباس ہو گا وہ جہنم کے ساتوں طبقات سے ایسے گزر جائے گا جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے۔

 

شیخ ابن بیہ جو (فورم فار پرموٹنگ پیس ان مسلم سوسائٹی) کے چیئرمین بھی ہیں ، انہوں نے کہا کہ کونسل "معاشرے ، شہریوں اور پوری دنیا کے تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے بدعنوان فتوں اور تخریبی اثر و رسوخ سے ملک کی حفاظت کرنے کی ہر ممکن کوشش کریگی"۔ انہوں نے کہا کہ "کونسل کا کردار علماء کے لئے اس مبارک ملک میں ایک اہم قدم ہوگا"۔

 

اس تحریر میں مکتوب شریف کے بعض مقامات کی مناسب تسہیل و تفصیل کے لئے بنیادی طور پر زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری علیہ (متوفى 465 ہجری) کی فن تصوف میں امہات الکتب میں شمار کی جانے والی ایک مایہ ناز تصنیف رسالہ قشیریہ اور حضرت علی بن عثمان الجلابی المعروف بہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 465 ہجری) کی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب سے استفادہ کیا گیا ہے۔چونکہ آپ دونوں بزرگ ہم عصر ہیں اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے زین الاسلام حضرت عبد الكريم بن هوازن بن عبد الملك القشيری کا ذکر اپنی تصنیف لطیف کشف المحجوب میں بڑے ادب اور اونچے القاب کے ساتھ کیا ہے۔ نیز بعد کے تقریباً تمام صوفیائے کرام نے ان دو عظیم ہستیوں کی تصنیفات سے بھر پور استفادہ کیا ہے ،لہٰذا راقم الحروف نے بھی ان کے تحریری شہ پاروں سے استفادہ کر کے اپنی بات مستند کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

(ذا غور کر کہ بارگاہ ایزدی میں) جب فرشتوں نے کہا کہ ہم ان (انسانوں) کے ذریعہ برپا کئے جانے والے فساد اور قتل و غارت گری کی تاب نہیں رکھتے ، تو ندائی آئی کہ (ٹھیک ہے) اگر میں انہیں تمہارے دَر پر بھیجوں تو لوٹا دینا اور انہیں تم سے فروخت کرنے آؤں تو مت خریدنا، اس ڈر سے کہ ان کی معصیت میری رحمت سے بڑھ جائے گی ، یا تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ ان (کے وجود)کی آلودگی میری تنزیہہ و تقدیس کے دامن پر دھبہ لگا دیگی۔ (ائے نوریوں سن لو!) یہ وہ مشت خاک ہیں جو میری بارگاہ میں مقبول و مقرب ہیں۔ اور جب میں نے انہیں (اپنی بارگاہ میں) شرف قبولیت بخش ہی دیا ہے تو ان کی معصیت اور آلودگیوں سے انہیں کیا نقصان!

 
1 2 3 4 5 6 7 8 9 ... 135 136 137


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )