certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

ہمارے نبی حضرت محمدﷺ مکہ مکرمہ میں دوشنبہ کے روز ۹ ربیع الاول (۵۷۱ء) کو پیدا ہوئے۔ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کے والد عبداللہ کا انتقال ہوگیا۔ جب ۶ سال کی عمر ہوئی تو آپ کی والدہ آمنہ کا انتقال ہوگیا۔ جب ۸ سال ۲ ماہ ۱۰ دن کے ہوئے تو آپ کے دادا عبدالمطلب بھی فوت ہوگئے۔ جب ۱۳ سال کے ہوئے تو چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کی غرض سے ملکِ شام روانہ ہوئے مگر راہ سے ہی واپس آگئے۔ جوان ہوکر آپﷺ نے کچھ دنوں تجارت کی۔

 

لیکن ان سب کے باوجود اس مقام پر یہ سوال ضرور پید ا ہوتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی منشاء احادیث کی ترویج و اشاعت کرنا اور مسلمانوں کو اس پر عمل کی تلقین کرنا تھی تو پھر آپ ﷺ نے اس کی کتابت سے کیوں منع فرمایا ؟ تو اس اعتراض کا جواب خود اسی حدیث کے سیاق و سباق سے واضح ہے ، حدیث کا متن یہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف کتابت حدیث سے منع فرمایا تھا اور اس کی وجہ محدثین یہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ابتدائے اسلام کا ہے اور اس زمانہ میں کتابت حدیث سے رسول اللہ ﷺ کا منع فرمانا ان چند امور میں سے ایک ہے ....

 

اگررسول کا قول ہی نا قابل قبول ہوجائے توکتاب اللہ کاکوئی وزن نہیں رہ جائے گا۔ غورکیجئے رسول نے لاکھوں باتیں ارشاد فرمائیں انہیں میں یہ فرمایا۔ مجھ پر یہ قرآن نازل ہوا۔ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مجھ پر یہ سورت نازل ہوئی سننے والے صحابہ کرام نے ان کو کتاب اللہ جانااور مانا اور جن ارشادات کے بارے میں یہ نہیں فرمایا، احادیث ہوئیں۔ اب کوئی بتائے ایک منہ سے دو قسم کی باتیں نکلیں ایک قسم کی باتیں مقبول اور دوسری مردود یہ کس منطق سے درست ہوگا ایک قسم کو مردود قرار دینے کا مطلب ہوگا دوسری قسم کو بھی مردود قرار دینا۔ غرضیکہ حدیث کے ناقابل قبول ماننے کے بعد قرآن کا بھی ناقابل قبول ہونا لازم ہے’’۔ (بحوالہ : مقدمہ نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری مصنفہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ،صفحہ ۱۲)

جنہوں نے یہ اور ان جیسے سوالات رکھنے کے لئے مجھے کال کئے میں ان لوگوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ نیو ایج اسلام اپنے نقطہ نظر پر قائم ہے ، اگر چہ ہم اپنے کالم نگاروں کو اظہار رائے کی مکمل آزادی عطا کرتے ہیں ۔ جو پیراگراف کچھ قارئین کو ناگوار گزرا میں اس کے بارے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس میں جناب غلام رسول دہلوی نے جن خیالات کا ظہار کیا ہے مجھے نہیں لگتا کہ وہ ان خیالات کے حامل ہیں ۔ انہوں نے اس پیراگراف کی شروعات ‘‘کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں’’ جملے سے کی ہے ۔ ممکن ہے کہ کہا جائے کہ اس ‘‘کچھ لوگ’’ میں وہ بھی شامل ہیں ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کہنا درست ہوگا ۔ اس پورے مضمون کا انداز گفتگو اور سیاق و سباق ایک اور ہی نظریہ پیش کرتا ہے ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں غلام رسول دہلوی اپنے اس پیرا گراف میں صرف اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا پاکستان کے وزیر اعظم عمران نبی ﷺ کی اسلامی ریاست مدینہ کے اپنے سابق نظریہ پر کاربند رہیں گے یا بعد کی ان پالیسیوں پر عمل درآمد کریں گے جنہوں نے فقہائے اسلام اور پاکستان کے دہشت گرد نظریہ سازوں کی نظروں میں سابقہ پالیسیوں کو منسوخ کر دیا ہے ۔ وہ اپنے اس پیراگراف میں صرف یہ وضاحت طلب کرتے ہوئے دکھائی دے رہیں کہ عمران خان کس مدینہ ماڈل کی پیروی کریں گے ؛ میثاق مدینہ پر مشتمل ابتدائی مدینہ ماڈل کی جس میں کثیر ثقافتی اقدار کو فروغ حاصل تھا یا اس زمانے کی پالیسیوں کی جس میں ‘‘مدینہ کی اسلامی ریاست کی ایک جارحانہ تصویر ہمیں دیکھنے کو ملتی ہے جس میں غزوات، توہین رسالت کا قانون، یہودیوں اور عیسائیوں کا ریاست سے نکالا جانا اور ‘‘لا اکراہ فی الدین’’ جیسے قرآن کے پرامن آیات کا منسوخ کیا جانا بھی پایا جاتا ہے’’۔

We Should Take Lesson from Death  ہمیں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
Mohammad Najeeb Qasmi, New Age Islam
We Should Take Lesson from Death ہمیں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
Mohammad Najeeb Qasmi, New Age Islam

آج (18-11-2018) ۹ ربیع الاول کی صبح ۹۵ سال کی عمر میں مشہور داعی اسلام حاجی محمد عبد الوہاب صاحب انتقال فرماگئے۔ حاجی صاحب کرنال (ہریانہ) کے رہنے والے تھے۔ یہ خطہ اترپردیش کے مشہور ضلع سہارن پور کے قریب واقع ہے۔ پیدائش ۱۹۲۳ء میں دہلی میں ہوئی تھی۔ موصوف قبیلہ راؤ راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ مشہور بزرگ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلیفہ تھے۔ تقسیم سے قبل انہوں نے بطور تحصیل دار فرائض انجام دیے تھے۔

 

جشن میلا د النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اہتمام کرنا یقیناًمستحسن او ر باعث اجر و ثواب عمل ہے لیکن اس موقع پر اگر انعقاد میلاد کے بعض قابل اعتراض پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے انہیں بر قرار رہنے دیا جائے توہم میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات سے محروم رہیں گے۔ جب تک اس پاکیزہ جشن میں طہارت ، نفاست او رکمال درجہ کی پاکیزگی کا خیال نہیں رکھا جائے گا سب کچھ کرنے کے باوجود اس سے حاصل ہونے والے مطلوبہ ثمرات سمیٹنا تودرکنار ہم اللہ تعالیٰ او راس کے رسوک مکّرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی مول لیں گے۔

 

عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ہم نعت پاک کے جو کیسیٹ بجاتے ہیں ان میں نعتوں کے درمیان اشتعال انگیز نعرے بھی ہوتے ہیں جو مسلکی تعصب کے مظہر ہوتے ہیں ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں غیرمسلم اکثریت میں ہیں اور وہ ہمارے ہر بات پر نظر رکھتے ہیں ۔ اس طرح کے نعرے مسلکی اختلافات کو ہوادیتے ہیں اور غیر مسلموں میں بھی منفی رد عمل کا باعث بنتے ہیں۔ یہ کیسیٹ کسی بڑی سازش کا حصہ ہیں ۔ لہذا، مسلمانوں کی مذہبی اور ملی تنظیمیں اس طرح کے کیسیٹوں کا نوٹس لیں اور مسلمانوں کو ایسے کیسیٹ بجانے سے روکیں جو مسلکی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کونقصان پہنچانے والے ہیں۔ نعتیہ کیسیٹ میں اشتعال انگیزنعرے داخل کرنے کے پیچھے کون لوگ ہیں یہ پتہ لگانا ضروری ہے۔

میلاد النبی کی آمد آمد ہے ماہ ربیع الاول اپنے نام کے لحاظ سے ہر پل ہر سو خوشیاں اور بہار برسائے ہوئے ہے اور کیوں نہ ہو تشریف آوری جو جان بہار کی ہے کیوں بہار کا وجود بھی ظہور سرکار کا محتاج تھاجیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود حضور کو مخاطب کر کے فرما یا محبوب ‘‘لو لاک لما خلقت الافلاک و الارضین ’’ لہٰذا  جب زمین و آسمان ہی نہ ہوتے تو  خزاں و بہار ، شمس و قمر ، برق و ثمر اور دیگر موجودات کہاں ہوتے ۔

تکبر میں مبتلا شخص اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت و انعام کواپناذاتی کمال و صف سمجھنے لگتا ہے قرآن کریم میں ابلیس کا قصہ بار بار ذکر ہوا ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے آگ سے پیدا کیا، ظاہر ہے اس میں کواس کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا، لیکن اس نے اسی کو وجہ افتخار بنا لیا جس سے مغلوب ہوکر اللہ کے حکم سے سرتابی کر بیٹھا او ربندگی کے حق کو ادانہ کر سکا، غرور و تکبر میں مبتلا لوگ اپنی خواہشات کو اپنا آلہ بنا لیتے ہیں …

 

غرض یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذہبی رواداری اور تعلیمات ملکی اتحاد و سالمیت کے لیے تیر بہدف او رمفید نسخہ ہے۔ اگر ہمارے اکابرین مملکت اور لیڈران ان بنیادوں پر ریاست کو پروان چڑھائیں تو ہر قسم کے انتشار و افتراق سے بچ سکتے ہیں ۔ ملک اور باشندگان ملک دونوں پر امن زندگی گزار سکتے ہیں او رہر طرف پھیلی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی کاخاتمہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

اب تک کی تحریروں سے یہ بات واضح ہو چکی کہ ذات باری تعالیٰ کا دیدار ممکن اور واقع ہے اور یہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کی منجملہ خصوصیات میں سے ایک وصف خاص ہے جیسا کہ اکابر ائمہ و محدثین کی تحریروں سے واضح ہے کہ اللہ نے چند جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کو کسی نہ کسی ایک خاص وصف کے ساتھ  ضرور متصف فرمایا ہے جو ان کی ذوات مقدسہ میں تمام صفات پر نمایاں ہوتی ہے مثلاً موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کو اللہ نے کلیم بنایا یعنی اللہ نے موسیٰ علی نبینا علیہ السلام کو اپنے ساتھ شرف کلام سے مشرف فرمایا...

مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ میں ۱۹۲۱ء میں اپنی پہلی گرفتاری پر برطانوی حکومت کی جانب سے دائر مقدمۂ بغاوت میں مجسٹریٹ کے سامنے اپنا تحریری بیان پیش کیا تھا۔ یہ بیان ’قول فیصل‘ کے نام سے پوری دنیا میں اور بالخصوص تعلیم یافتہ حلقوں میں مشہور ہے۔ یہ بیان اپنے اوپر عاید کیے جانے والے الزامات کی صفائی کے لیے نہیں تھا۔ بلکہ ہندوستان کی آزادی کا ایک منشور تھا اور ہر آزادی پسند شخص کی صدائے دل تھی۔ انھوں نے دنیا کے سامنے اس منشور کو پیش کرکے ہندوستان کی آزادی کی جد و جہد کو ایک نیا رخ عطا کیا تھا۔

 

بالکل یہی مفہوم اس تاریخی حقیقت سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو گئی اور ان کے لئے جان و مال کا تحفظ یقینی ہو گیا تو ہجرت کا حکم منسوخ کر دیا گیا ، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے واضح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت کا کوئی حکم باقی نہ رہا ۔ لہٰذا ، اب کسی بھی انتہا پسند مذہبی لیڈر یا کسی اسکالر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ مسلمانوں کو ہندوستان سے کسی اور ملک کی طرف ہجرت کی دعوت دیں ، اور اس کی وجہ صاف ہے کہ ہندوستان مسلمانوں کو مذہب کی آزادی اور جان و مال کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔

البقلی رحمہ اللہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج اپنے رب کو دوبار دیکھا ہے اور یہ دوسری بار دیکھنے کا ماجرا ہے کیونکہ جب آپ نے پہلی بار اپنے رب کو دیکھا تووہاں اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کچھ نہ تھا اس لیے وہاں یہ نہیں فرمایا کہ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى ( النجم :۱۷) آپ کی بصر اِدھر اُدھر متوجہ ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو دیکھنے سے متجاوز ہوئی بلکہ اسی کی ذات کو دیکھنے میں محو اور مستغرق رہی اور جب آپ نے دوسری بار واپسی کے بعد اللہ تعالیٰ کود یکھا تو آپ کے سامنے جنت دوزخ اور دیگر عجیب و غریب نشانیاں بھی تھیں لیکن آپ اور کسی طرف متوجہ نہیں ہوئے بلکہ صرف اسی کی ذات کو ٹکٹکی باندھ کر لگاتار دیکھتے رہے ۔ ( روح البیان ج ۹ص ۲۶۹‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۰ھ)

 

کبھی مسلکی اختلاُفات صرف شیعہ سنی تک محدود تھے، پھر یہ آگے بڑھ کر وہابی خانقاہی کی حدوں میں پہنچے ، اختلافات کاکارواں یہیں نہیں ٹھہرا اس نے بریلوی دیوبندی کا رنگ اختیار کیا، لیکن اب یہ کارواں ایسی پر خار راہوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں امت مسلمہ کی تکالیف میں مزید اضافہ ہونا یقینی ہے، جی ہاں ان دنوں سو شل میڈیا پر اجمیر کے صوفیوں اور اعلیٰ حضرت کے مریدوں کے درمیان زبانی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ملک کی دو بڑی خانقاہوں یعنی کچھوچھہ شریف اور اجمیر شریف کے درمیان بھی اختلافات کو ہوا دینے والے میسیج خوب وائرل ہورہے ہیں۔

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اگر انسان کو اس کی غلطی پر متنبہ کیا جائے اور درست تنقید کی جائے تو اسے بُرا نہیں ماننا چاہئے، بلکہ اسے قبول کرنا اور اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا چائیے ،اسی لئے شریعت میں امر بالمعروف او رنہی عن المنکر یعنی: نیکی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے عمل کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔منکر سے مراد ہر ایسی چیز ہے جو روکے جانے کے لائق ہو، جس پر نکیر کرنے کا حکم ہو او رجوکسی بھی درجہ میں نا پسندیدہ ہو، البتہ جو عمل بس درجہ نا پسندیدہ ہوگا، اس سے منع کرنے کا اسلوب بھی اسی درجہ کا ہوگا۔

 

’’ سدرۃ ‘‘ بیری کا ایک درخت ہے او راس کی جڑیں چھٹے آسمان میں ہیں اور اس کا تنا ساتویں آسمان میں ہے اور سدرہ ساتویں آسمان او راس سے اوپر والوں کے درمیان برزخ ہے‘ نیچے سے جو چیزیں اوپر چڑھتی ہیں وہ سدرہ سے اوپر نہیں جاسکتیں ‘ اوپر سے جو چیزیں نیچے اترتی ہیں وہ سدرہ سے نیچے نہیں جاسکتیں او رہمارے نبی سیدنامحمد صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج جاتے ہوئے سدرہ سے اوپر گئے اور واپسی میں سدرہ سے نیچے بھی آئے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مخلوق کی ایک حد ہے اور تمام مخلوق میں صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہیں جن کی کوئی حد نہیں ہے‘ آپ جب نیچے سے اوپر گئے تو نیچے والوں کی حد توڑ دی اور جب اوپر سے نیچے آئے تو اوپر والوں کی حد توڑ دی۔

 

واقعہ معراج مختلف کتب حدیث میں تیس سے زائد صحابہ کرام سے مروی ہے اور کسی ایک حدیث یا روایت میں بھی معراج کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مکمل موجود نہیں ۔ مثلاً صحیح بخاری کی کسی حدیث یا کسی بھی روایت میں معراج کی رات مسجد اقصی جانے کاکوئی ذکر نہیں ہے بلکہ اس کا ذکر امام مسلم اور امام نسائی نے اپنی اپنی کتابوں میں کیا ہے ، مزید یہ کہ کسی روایت میں شق صدر کا کوئی حوالہ نہیں تو کسی روایت یا حدیث میں براق پر سواری کا ذکر نہیں ۔ یونہی امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت موسی علیہ السلام کو اپنی قبر میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھے جانے کی کوئی روایت نقل نہیں کی بلکہ اس روایت کو امام مسلم ، امام نسائی اور دیگر محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، اسی طرح صحاح کی کسی بھی کتاب میں برزخ کے حالات و واقعات دیکھنے کے حوالے سے کوئی روایت نہیں ہے بلکہ ان روایات کو امام بیہقی ، امام ابن جریر ، حافظ ابن کثیر علامہ حلبی اور دیگر محدثین نے اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ۔

 

صرف یہی نہیں بلکہ بعد کے ادوار میں علماء ، فقہاء ، محدثین اور مفسرین کی غالب اکثریت کا بھی ہمیشہ وہی موقف رہا ہے جو حضرت ابن عباس کی حدیث سے واضح ہے ، حتیٰ کہ معاصر ین میں امام اہلسنت مجدد مائۃ ماضیہ و حاضرہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی (رحمہ اللہ ) نے بھی اپنے فتویٰ میں حضرت ابن عباس کے ہی قول کو ترجیح دی اور انہیں کے موقف کو ثابت کیا اور دیوبندی فرقہ کے ایک قدر آور عالم مولانا الیاس گھمن نے بھی اپنے فتویٰ میں اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ بحیثیتِ خصوصیتِ خاصہ حضور پر نور نبی اکرم ﷺ کے حق میں ذات باری تعالیٰ کا دیدار حق اور ثابت ہے بلکہ انہوں نے اپنے فتویٰ میں حدیث عائشہ کی وہ توجیہ اور حدیث ابن عباس کے ساتھ اس کی وہ تطبیق بھی پیش کی ہے جو علمائے سلف سے منقول ہے ، باوجود اس کے کہ علمائے دیوبند کے نزدیک نبی ﷺ کی شان و عظمت کا کوئی بھی پہلو ثابت کرنے سے بزم خویش ان کی توحید خالص کے نظریہ پر زد پڑتی ہے جیساکہ ان کی کتابوں سے واضح ہے ۔

 

حیض یا ماہواری کے عمل سے گزرنے والی کسی بھی عمر کی پارسی یا غیر پارسی عورتیں فائر ٹیمپل میں داخل نہیں ہوتیں، اور سمرتی ایرانی کو اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ عورتوں کو ’عبادت کرنے کا حق حاصل ہے، بے حرمتی کرنے کا نہیں۔‘تو ثابت یہ ہوا کہ دنیا واقعی گول ہے! اگر آپ ایک ہی سمت میں چلتے رہیں تو گھوم کر وہیں پہنچ جائیں گے جہاں سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ بس شرط یہ ہے کہ راستے میں کوئی عبادت گاہ نہ پڑے کیونکہ پھر ہو سکتا ہے کہ آپ سپریم کورٹ پہنچ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی بصر آپ کے دل میں رکھ دی حتیٰ کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھ لیا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو رویت کرد یا، ایک قول یہ ہے کہ آپ نے سر کی آنکھوں سے حقیقتہ دیکھا، پہلا قول حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا، یہ حضرت ابو ذر اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے ، دوسرا قول حضرت انس او رایک جماعت کا ہے، نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ تم کو اس پر تعجب ہے کہ خلت حضرت ابراہیم کے لئے ہو، کلام حضرت موسیٰ کے لیے ہو اور رویت حضرت سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہو ! نیز حضرت ابن عباس نے فرمایا ہم بنو ہاشم یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دوبار دیکھا ۔

 

رؤیت باری تعالیٰ کے حوالے سے یہی سوال مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمہ اللہ سے کیا گیا تو آپ نے اس کے جواب میں ایک مکمل رسالہ لکھا جس کا نام ‘‘منبہ المنیۃ بوصول الحبیب الی العرش و الرؤیۃ’’ (محبوب خدا ﷺ کی عرش تک رسائی اور دیدار الٰہی کے بارے میں مطلوب سے خبردار کرنے والا) رکھا جس میں آپ نے رؤیت باری تعالی کے حوالے سے احادیث رسول ﷺ ، آثار صحابہ ، اقوال تابعین و ائمہ متقدمین کو یکجا کیا ہے اور سب سے اخیر میں آپ لکھتے ہیں : ‘‘ائمہ متاخرین کے جدا جدا اقوال کی حاجت نہیں کہ وہ حد شمار سے خارج ہیں ’’۔

 

دلچسب بات یہ ہے کہ علمائے دیوبند کہ جنہوں نےخالص توحید پرستی کے نام پر آفتاب رسالت حضور رحمت عالم محمد ﷺ کی شان اقدس میں زبردست گستاخیاں کی ہیں جس کا ثبوت اکابر علمائے دیوبند کی وہ کتابیں ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کفریہ عبارتوں سے بھری پڑی ہیں ، لیکن انہوں نے بھی ہمارے نبی ﷺ کے لئے رویت باری تعالیٰ کو جائز اور حق مانا ہے ، مناسب ہے کہ علمائے اہلسنت کا موقف بیان کرنے سے قبل علمائے دیوبند کا موقف بیان کر دیا جائے تاکہ اس میں کوئی شک و ارتیاب باقی نہ رہے کہ ہمارے بنی ﷺ کے حق میں رویت باری تعالیٰ کا جائز اور ثابت ہونا ایک امر مسلم ہے ۔ دیوبندی مسلک کے ایک ممتاز عالم دین مولانا الیاس گھمن سے رویت باری تعالیٰ کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس پر صحابہ کرام اور علمائے دیوبند کے موقف کی وضاحت بھی طلب کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے یہ صاف لکھا کہ صحابہ کرام کی اکثریت کا یہی موقف ہے کہ ہمارے نبی ﷺ کو رویت باری تعالیٰ ہوئی اور علمائے دیوبند کا بھی یہی موقف ہے ، فتویٰ کی تفصیل حسب ذیل ہے ؛

 

دیکھی جانے والی شئی کی اگر کوئی حد اور انتہاء ہو اور دیکھنے والے کی نظر ان تمام حدود اور اطراف و نہایت کا احاطہ کر لے تو گویا اس کی نظر نے اس شئی کو گھیر لیا ۔ اور اسی طور پر دیکھنے کا نام”ادراک“ہے، لیکن اگر دیکھنے والے کی نظر دیکھی جانے والی شئی کے تمام اطراف و جوانب کا احاطہ نہ کر رہی ہو تو ایسا دیکھنا ادراک نہیں ہوتا۔ الحاصل ، دیکھنا ایک جنس ہے جس کے تحت دو انواع ہیں (یعنی دیکھنا دو طرح کا ہوتا ہے) ، ایک احاطے کے ساتھ دیکھنا اور دوسرا احاطہ کے بغیر دیکھنا اور صرف اسی کو (یعنی احاطے کے ساتھ دیکھنے کو ) ”ادراک“ کہا جاتا ہے۔ پس نفیٔ ادراک سے صرف دیکھنے کی ایک قسم کی نفی ثابت ہوتی ہے اور ایک نوع کی نفی جنس کی نفی کو مستلزم نہیں ۔ پس اﷲ کے ”ادراک“ کی نفی اﷲ کی ”رویت“ کی نفی کو مستلزم نہیں۔ امام رازی

 

کیا رویت باری تعالیٰ ان مادی نگاہوں سے ممکن ہے ؟ کیا کوئی فرد بشر اس کا متحمل ہے کہ وہ اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کر سکے ؟ اس سلسلے میں متقدمین صحابہ کرام کے درمیان دو اقوال پائے جاتے ہیں ۔ ایک یہ ہے کہ ان دنیاوی نگاہوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار سوائے ذات مصطفیٰ ﷺ کے تمام لوگوں کے لئے قطعا یقینا ناممکن اور امر محال ہے کہ یہ وصف خاص ہے ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ اور یہ واقع ہے آپ ﷺ کے حق میں کہ آپ ﷺ نے معراج کی رات اپنے ماتھے کی نگاہوں سے جلوہ ذات حق کا مشاہدہ کیا ، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ دنیاوی آنکھوں سے ذات باری تعالیٰ کا دیدار کلیۃ ناممکن اور محال ہے۔جو اس کے کلیۃ ناممکن اور محال ہونے کا قول کرتے ہیں وہ قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیتوں سے دلیل لاتے ہیں،

 
1 2 3 4 5 6 7 8 ... 138 139 140


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • "The Mutazilite theologians argued that human free will was....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Excellent reply from Sultan Shaheen sahib to Zawahiri. However...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This Man should be removed from human rights council because....
    ( By Prabhakar Chitrala )
  • Sultan do you want spread terrorism by muslims.? World....
    ( By Prabhakar Chitrala )
  • Does Hats Off understand anything at all? It is not that the western....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Good article
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Whether Hamza Yusuf is included in or excluded from the U.S. Government's ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is not a freedom of religion issue. It is an equal rights issue.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • It's funny that women need a male guardian, women can drive and now can watch football matches....
    ( By Dr. D. Natarajan )
  • The efforts of Sultan Shahin are commendable.'
    ( By Amitabh Tripathi )
  • The issue is not defamation of Islam. The history of Islam is such that nobody ( non-Muslim ) ....
    ( By Biplab Sensarma )
  • How much do you know about Indian intolerance? # Angnao'
    ( By Sarajit Kumar Bairagi )
  • Indian people need loves each other such as Hindu, Christian, sikh, Muslim and others. If you....
    ( By Md Afuan )
  • @Kaushallya Hegde Kumblar Why are you supported pakistan Hindu, because they are not included...
    ( By Md Afuan )
  • @Kaushallya Hegde Kumblar Why are you supported pakistan Hindu, because they are not included ....
    ( By Md Afuan )
  • @Md Afuan Don’t be hypocrite,where is freedom of expression in Pakistan. The moment you write ....
    ( By Kaushallya Hegde Kumblar )
  • Very good attempt. All countries including India should be religiously tolerant'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Sarajit Kumar Bairagi because both are victims of intolerance.
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Abu Basim Khan Why are you adding the question of Dalit to question of Muslim?'
    ( By Sarajit Kumar Bairagi )
  • Any comment about Indian democracy, follow up and implementation of constitutions, atrocities...
    ( By Abu Basim Khan )
  • By zehadi intolerance Muslims are harming themselves. See isis .'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Md Afuan soudi arab is bombing Yemen'
    ( By Bhabesh Mitra )
  • @Abu Basim Khan He is trying to legitimate robbery n killing of Iraq n Afghanistan.'
    ( By Mansoor Hakkim Ahamed )
  • @Mansoor Hakkim Ahamed yes, it is hired by Modi and party. Some financial tips, he get from...
    ( By Abu Basim Khan )
  • Sameera Latif Journalist
    ( By Paul Jeyaprakash )
  • What nonsense is he talking about in India thousands of mobs have been done by bjp and Congress ...
    ( By Aamir Shaban )
  • Which human rights council biggest criminal and theives are sitting in UN nations.'
    ( By Aamir Shaban )
  • @Jasrotia Jjames Aabraham True tand is the principal cause of strife the world over'
    ( By Randeep Singh )
  • @A.J. Philip Cash Prize is very less. Sounds like double hiran oil sponsored award in the village tournament.'
    ( By Mohammad Arif )
  • @Liyakhath Ali Does not it mean that "content " he raised is not truth/facts?
    ( By Ananda Padmanabhan )
  • The act that hindu extreamist doing it is inherited from islam. Hindus always the believer of secularism. ...
    ( By Raju Dev Nath )
  • @Manorsnjan Mishra Good explaination'
    ( By Raju Dev Nath )
  • Hindustan is place Hindus in world .In past many religions came, converted people, damaged most...
    ( By Manorsnjan Mishra )
  • Jehadi are most successful in their mission and misguide immature muslim youth to be a part of. ...
    ( By Sanesh Ram Maurya Maurya )
  • They burnt, shoot many journalist openly making the video viral, if they will feel that type of torture ....
    ( By Prativa Dash )
  • Mr.Mohammad Arif The author has invincibly enlisted many instances of terrorism in which....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Indian Muslims as far as possible drop Arabian tint , tilt and refrain from servitude to Arab world....
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • Genocide of Hindu- Khafirs is still in full swing in Bangaladesh...
    ( By Dr.A.Anburaj )
  • "Laws of many Western democracies are more Islamic than the Sharia of Islamists." nothing can be ....
    ( By hats off! )
  • Even Sunnah also demands Muslims to love their enemies instead of promote hatred and yet Muslim extremists promote hatred with polytheists ....
    ( By zuma )