certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

 قرآن کریم کی آیات اور احادیث کریمہ سے خشوع اور تواضع کی اہمیت اور فخر و تکبر کی مذمت ثابت ہوتی ہے۔ فخر و تکبر ہماری روحانی خوبیوں کو مٹا دیتا ہے جبکہ خشوع و تواضع سے ہمیں روحانی کمال اور انسانیت کا شعور حاصل ہوتا ہے اور نتیجۃً یہ قیام امن اور سکون کا مصدر بن جاتا ہے۔اور اس طرح خشوع و تواضع رضائے الٰہی کے حصول کا ایک سرچشمہ ہے۔

 

حضرت ابو نصر السراج فرماتے ہیں کہ سہیل بن عبد اللہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) مریدین و معترضین (مبتدئین) کے احوال کی طرف اشارہ کیا ہے ، کیوں کہ ان کے احوال کبھی ان کے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے (توبہ کی اپنی تعریف میں) متحققین (عرفائے کاملین اور مقربان بارگاہ) کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس لئے کہ ان کے قلوب پر اللہ کی عظمت و جلال کا غلبہ اور اس کے ذکر کو دوام حاصل ہوتا ہے لہٰذا انہیں اپنے گناہوں کو یاد کرنے کی مہلت ہی میسر نہیں ہوتی۔ اور اس کی مثال حضرت رویم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ جب آپ سے توبہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ‘‘توبہ سے توبہ کر لینے کا نام ہی توبہ ہے’’۔

 

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ ھ‘‘ رحمۃ للعالمین’’ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سارے جہان کے لیے رحمت ہیں) کوئی ہو جن ہو یا انس مومن ہو یا کافر ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والوں کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لائے۔ مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیر عذاب ہوئی اور خسف، مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا دئے گئے۔

 

(توبہ کے حوالے سے) خواجہ سہیل تستری کا مسلک یہ ہے کہ (التوبۃ ان لا تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ کبھی فراموش نہ کرے اور ہمیشہ اس کی ندامت میں غرق رہے تاکہ تیرے اعمال (صالحہ) کی کثرت پر تیرے دل میں کبھی عجب اور تکبر پیدا نہ ہو۔ اور حضرت جنید بغدادی کا مسلک یہ ہے کہ (ان تنسیٰ ذنبک) یعنی توبہ یہ ہے کہ تو اپنے گناہ بھول جائے۔ اور مذکورہ بالا دونوں اقوال کے درمیان تضاد صرف ظاہری ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی تضاد یا تناقص نہیں ہے۔ اس لئے کہ گناہ فراموش کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس گناہ کی حلاوت تیرے دل سے ایسی نکلے کہ تیری کیفیت یہ ہو جائے گو کہ تو نے کبھی اس گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

جب (توبہ کے بارے میں) یہ جان چکے تو تمہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ توبہ میں دوام شرط نہیں ہےکہ جس گناہ سے توبہ کی جائے اس کا ارتکاب زندگی بھر نہ ہو، (بلکہ بعد میں) اگر تائب بہک جائے اور وہ دوبارہ اس گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو (دوبارہ گناہ کے ارتکاب سے قبل تک وہ تائب تھا اور اس مدت میں) اسے توبہ کا اجر ملے گا۔ اس جماعت (صوفیاء) میں بھی ایسے تائب ہو گزرے ہیں جو اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد پھر گناہوں میں مبتلاء ہوئے اور پھر توبہ بجا لائے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے (اپنے گناہوں سے) ستر مرتبہ توبہ کی اور ہر بار (توبہ کے بعد) گناہوں میں مبتلا ہوتا رہا، یہاں تک کہ جب میں نے اکھترویں مرتبہ توبہ کی تو مجھے (اپنی توبہ پر) استقامت نصیب ہوئی اور اس کے بعد پھر گناہوں کی طرف میرے قدم نہیں اٹھے۔

 

مکتوب شریف کے اس اقتباس سے اب یہ بات متحقق ہو گئی کہ توبہ رجوع الی اللہ کا نام ہے۔ اور مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ہر انسان کی توبہ مختلف ہوتی ہے۔ عوام کی توبہ دار المعصیت (گناہوں کی دنیا) سے دار الاطاعت (اطاعت و فرمانبرداری کی دنیا) کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ خواص یعنی نیک بندوں کی توبہ اللہ کے انعامات اور احسانات کے سامنے اپنے اعمال اور اپنی نیکیوں کو کمتر اور حقیر جاننا ہے۔ اور خواص الخاص یعنی مقربین بارگاہ کی توبہ ذات وحدہ لا شریک کے سامنے خود کو عاجز اور معدوم سمجھنا اور خود اپنے وجود کو ایک گناہ تصور کرنا ہے۔

 

اردوگان سے پہلے ترکی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قرضوں کی وحشیانہ زنجیر میں جکڑا ہوا تھا اورعالمی طاقتوں کی مداخلت کا اڈہ بن چکا تھا۔ اردوگان نے نہ صرف یہ کہ ان تمام قرضوں کو چکا یا بلکہ ان عالمی اداروں کو قرض بھی دیا۔اردوگان سے پہلے تاریخی شہراستنبول مفلسوں کا شہر بنا ہوا تھا، اردوگان نے اسے دنیا کا بہترین شہر بنا یا اور استنبول کی تاریخی عظمت کی واپسی کی۔

 

(اللہ کے فرمان) وَ تُوبُو اِلَی اللہِ جَمیعاً ایُّھا المُسلِمُونَ لَعَلّکُم تُفلِحون کا راز یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سالک (ریاضت و مجاہدات کی سواری سے پراواز کر کے ) جس مقام پر کمند ڈالتا ہے (وہ اس کے سفر کی انتہاء نہیں ہے بلکہ ) اس سے بھی آگے ایک اعلیٰ مقام موجود ہے، اور (سالک کے لئے) اپنے موجودہ مقام سے نکلنا اور اس سے اعلیٰ مقام حاصل کرنا (راہِ سلوک و معرفت میں) فرض ہے ورنہ سفر ِسلوک (اور سیر الی اللہ) ناقص و ناتمام رہے گا۔

 

 لیکن میں چاہتا ہوں کہ ہماری مسلم برادری سب سے پہلے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کے تصور برادشت کو اختیار کرے اور پھر اس کے بعد دوسری برادریوں کو بھی ٹولیرینس کی دعوت دے ۔ اس کے لئے میں تمام مسلم دانشوروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ رواداری کے اقدار اور اس کی اہمیت پر ایک خاص نصاب تیار کریں اور اپنے مدرسوں ، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مذہبی یا سیکولر اداروں میں اس کی تعلیم دیں۔ غیر مسلم تنظیمیں بھی لازمی طور پر ایسا ہی ایک نصاب تیار کریں تاکہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے اور ملک کے تمام طبقوں میں ٹولیرینس کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔

 

لہٰذا ، ایک بزرگ سے یہ سوال کیا گیا کہ اللہ نے جو یہ فرمایا ہے کہ ‘‘وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا’’، ‘‘تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو’’ اس کا کیا معنیٰ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تو بہ ہر لحظہ ہر فرد بشر پر فرض ہے؛ کافروں پر فرض ہے کہ کفر سے توبہ کریں اور ایمان لے آئیں ، گنہگاروں پر فرض ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اللہ کی اطاعت و فرماں برداری اختیار کریں، محسنین (نیکوکارں اور متقیوں) پر فرض ہے کہ وہ (افعال) حسنہ سے احسن کی طرف قدم بڑھائیں ، عرفاء (واقفانِ اسرارِ الٰہیہ) پر فرض ہے کہ وہ اپنے ایک ہی مقام پر جمے نہ رہیں بلکہ (سالکان راہ حق کی) روش اختیار کریں (یعنی توبہ کے ذریعہ اپنے موجودہ مقام سے اعلیٰ مقام کی طرف ترقی کریں) اور آب و گِل کے مکینوں (انسانوں) پر فرض ہے کہ وہ پستی سے بلندی کی طرف پرواز کریں۔ جس سالک کو جو مقام حاصل ہو اس پر اس کا رکنا گناہ ہے جس سے اسے توبہ کرنا چاہئے۔

 

یہ اس مکتوب شریف کا صرف ایک ایمان افروز اقتباس ہے ۔ انشاء اللہ اس مکتوب شریف کو کئی حصوں میں اردو ترجمہ ، قرآن و حدیث کے استدلال اور اس کے باریک نکات کی پوری تفصیل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ آپ قارئین کی خدمت میں شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ کے مکتوبات شریف کو تسہیل و تفصیل کے ساتھ پیش کرنے کا خیال اس لئے پیدا ہو کہ اب تک آپ رحمۃ اللہ علیہ کے  مکتوبات کے جو تراجم اردو زبان میں شائع ہوچکے ہیں وہ اس تسہیل و تفصیل کے ساتھ نہیں ہیں اس لئے اردو کے ایک عام قاری کا اسے پڑھنا اور اس سے درست معنیٰ اخذ کرنا قدرے دشوار ہے ، البتہ علماء ان تراجم سے خوب سیرابی حاصل کرتے ہیں ۔

 
The Exigency of Muslim Reform  مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam
The Exigency of Muslim Reform مسلم اصلاحات کی شدید حاجت
Syed N Asad, New Age Islam

دنیا بھر میں اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے  شریعت کو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ جو تعلیمات جو ذاتی ترقی، وسائل کی حصولیابی ، آزادی اور مختلف گروہوں کے ساتھ ہم آہنگی اور خوشیوں کی حتمی حصولیابی میں معاون ہیں صرف وہی اسلام کے حقیقی مقصد اور اس کی روح کی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی انتظامیہ اب تک ان طلباء کے بارے میں خاموش ہے جنہیں یونیورسٹی کے مختلف ثقافتی کلبوں سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر ایک خبر کی طرح پھیل گئی اور سوشل میڈیا پر مسلم برادری کی جانب سے ان طالب علموں کے خلاف ایک زبردست رد عمل دیکھنے کو ملا۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں کفر و ارتداد کا مرتکب قرار دیکر قتل کر دیا جانا چاہئے۔ بہرحال وہ تینوں طالب علم اپنے فون بند کر کے ابھی چھپے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیا ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری حج میں فرمایا کہ، "اے لوگوں، میں تمہیں عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیتا ہوں کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر تمہارا کوئی حق نہیں ہے یہاں تک کہ وہ کوئی سنگین واضح گناہ (فاحشة مبینة)نہ کر بیٹھیں۔ اگر وہ ایسا کر بیٹھیں تو ان سے اپنا بستر الگ کر لو اور ہلکی مار لگاؤ ، لیکن وہ باز آ جائیں تو ان کے خلاف حد سے تجاوز نہ کرو"۔

 

روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جو اللہ کے رسول و نبی ہیں ان کا یہ معمول تھا کہ وہ بغیر مہمان کے کھانا نہیں کھاتے تھے جب تک کوئی مہمان ان کے دسترخوان پر نہیں ہوتا کھانا نہیں کھاتے لیکن ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ آپ کے پاس کئی دنوں سے مہمان نہیں آ رہے تھے اور تلاش کرنے پر بھی کوئی نہیں مل رہا تھا، جب کئی دن گزر گئے تو آپ کو ایک بزرگ(بوڑھے) مسافر نظر آئے انہوں نے اس مسافر کو اپنا مہمان بنا لیا اور اپنے گھر لے کر آئے کھانا کھانے کے لیے دسترخوان بچھایا گیا پھر آپ اپنے مہمان کو لے کر دسترخوان پر بیٹھے آپ نے فرمایا: اللہ کے نام سے کھانا شروع کیجیے!

 

ایک زمانہ تھا جب، مدارس تحریک سےاجتماعی طور پر وجود میں آتے تھے۔ مقامی لوگوں کا معمولی چندہ بھی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ رمضان میں باقاعدگی سے گوشوارہ چھپتا تھا، جو عوامی جانچ پڑتال کی راہ کھول دیتا تھا۔ تب لوگ مدارس کو ملّی اثاثہ سمجھتے تھے اور موقع پڑنے پر اس کے دفاع میں اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔  1970کی دہائی سے رفتہ رفتہ، مدارس بھی، دُکان کی طرح ، افراد کی ملکیت بنتے گئےجن میں مہتمم کی اجارہ داری ہوتی ہے۔ چندہ بھی ’’باہر ‘‘سے آنے لگا۔ گوشوارہ کی روایت اٹھادی گئی۔جب مقامی چندہ کم یا ختم کیا گیا تو مقامی بچّوں کا جھنجھٹ کیوں پالا جائے، جن کے والدین کبھی بھی آکر دیکھ سکتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔

 

کیا آر ایس ایس کو اس بات کا خطرہ ہونا چاہئے کہ جس شخص کو انہوں نے مدعو کیا اسی نے ان کی نظریاتی تردید کر دی اور جس مقصد کے پیش نظر انہیں بلایا گیا تھا وہ مقصد فوت ہو گیا؟ بہت سے تبصرہ نگاروں نے بھی یہی سمجھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی فرق تلاش کیا جائے تو جو آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا اور جو پرنب مکھرجی نے کہا ان دونوں کے درمیان بہت ادنیٰ فرق ہے۔ بلاشبہ ان دونوں کا تعلق مختلف سیاسی نظریات سے ہے لیکن جب قوم پرستی کی بات آتی ہے تو ان تمام کے بیان سے ایک وسیع پیمانے پر اتفاق رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ اب ہم اس نقطہ نظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

 

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پر امید ہو کر یہ ٹویٹ کیا ہے کہ عسکریت پسندوں کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ‘‘ان کی سرگرمیاں لاحاصل ہیں’’ ، اور دونوں ڈی جی ایم او کی جانب سے سرحد پر جنگ بندی کے فیصلے کو برقرار رکھے جانے کا استقبال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ۔ "اس سے قرب و جوار میں رہنے والوں کو کافی راحت ملی ہے۔ ہماری سرحدوں پر امن ایک بڑے پیمانے پر مفاہمت کے لئے سب سے پہلا اور لازمی قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ مسلسل جاری رہے گا......"

 
The importance of Zikr  ذکر کی اہمیت
S. Arshad, New Age Islam
The importance of Zikr ذکر کی اہمیت
S. Arshad, New Age Islam

قرآن میں بھی ذکر کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ کبھی کبھی لگتاہے کہ اسلام میں بھی ذکرایک بنیادی فریضہ ہے حالانکہ اس کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں گیاہے اور نہ ہی اسے اسلام کے پانچ بنیادی ستون میں رکھا گیاہے مگر قرآن میں ذکر پر اتنا زور دیاگیاہے کہ اسے ایک فرض کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ۔ قرآن میں ذکر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ قرآن کو کئی جگہ ذکر کہاگیاہے اور قرآن کی تلاوت فرض کردی گئی ہے ۔

 

یہ تمام احادیث اور اس طرح کی مزید روایات ہیں جن سے پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ معلوم ہو جاتا ہے کہ شبِ قدر ستائیسویں رات ہے۔ اگرچہ احادیث 23 ویں شب کے بارے میں بھی ہیں، بلکہ 27 ویں کے بعد اگر کسی شب کے بارے میں کچھ واضح روایات ہیں تو وہ تیئیسویں شب ہے، مگر جس طرح کے جزم و یقین کے ساتھ ستائیسویں شب کے بارے میں احادیث وارد ہیں ایسا کسی اور شب کے بارے میں نہیں ہے۔ پھر درجنوں صحابہ اور جمہور علماے امت کا اتفاق بھی اسی پر ہے کہ ستائیسویں شب ہی شبِ قدر ہے۔

 

شب قدر جسے اللہ نے لیلۃ القدر کے مبارک خطاب سے نوازہ وہ حسین و جمیل رات جو قرآن کریم کو اپنے آغوش رحمت میں لے آئی اس کے فضائل و برکات کا کیا کہنا اس میں خود قرآن کریم کا نزول ہی سب سے بڑی فضیلت کی بات ہے لیکن صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ اس میں اور بھی بے شمار رحمت و برکت کا نزول ہوتا ہے جیسے: فرشتوں کی پیدائش ہوئی، حضرت آدم علیہ السلام کا مادہ جمع ہونا شروع ہوا، نبی اسرائیل علیہ السلام  کی توبہ قبول ہوئی۔ انسانوں کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ رات  بھر آسمانوں کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

 

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام مسلمانوں کا ایک قومی مذہب ہے۔ اور چونکہ اس کی پشت پر آج چودہ صدیوں کی تہذیبی تاریخ موجود ہے جسے اسلام ہی کے توسیعہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اس لئے غیر مسلم ہی نہیں مسلمانوں کے لئے بھی حقیقی اسلام کا راست ادراک کچھ آسان نہیں ۔ گویا ہماری تہذیبی تاریخ حقیقی اسلام کے ادراک میں ایک ایسا حجاب بن گئی ہے جس کے چاک کرنے کا خیال تو کسی کو کیا آئے خود اس حجاب کاشعور بھی کم ہی لوگوں کو ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ مضمون ذاکر موسی جیسے انتہاپسندوں سے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہندوستانی سیکولرزم مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور تمام مذہبی برادریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہندوستانی سیکولرزم مذہب مخالف نہیں ہے بلکہ یہ اسلام سمیت تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنے اپنے طور پر مذہبی فرائض و ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔

 

یقینا، جنگ جمل پوری امت مسلمہ کے لئے عظیم تباہی کا سبب بنی جس میں حضرت طلحہ اور زبیر (رضی اللہ عنہما) سمیت ہزاروں ہزار صحابہ قتل کئے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گرفتار کی گئیں۔ اس کے باوجود آج ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی ایک فریق کو جنگ جمل کا مورد الزام ٹھہرائیں۔ ایک طرف نبی ﷺ کی پیاری بیٹی حضرت فاطمہ کے شوہر اور آپ ﷺ کے چچا کے بیٹے حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف نبی ﷺ کی محبوب زوجہ محترمہ اور تفسیر ، حدیث، فقہ اور دیگر عربی اور اسلامی علام میں ماہر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

 

اس کے بعد مظاہر فطرت پر نظر کرنا ، تاریخ انسانی کا مطالعہ کرنا اور اپنے نفس پر غور و فکر کرنا اور کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کے دل میں ایک خدا کا خیال پید کرے گی؛ اس کائنات کی ہر شئی اس کے ذہن کو اس حقیقت وحدہ لاشریک کی طرف متوجہ کرے گی۔ وہ ہر جگہ اس کی عظمت و جلال کا مشاہدہ کرے گا۔ صرف وہی اللہ کی معرفت حاصل کر سکتا ہے جو خدا میں فنا ہو چکا ہے۔ خدا کی معرفت ایک ایک ایسا تحفہ ہے جو ان لوگوں کو عطا نہیں کیا جاتا جو اس کے علاوہ دوسری چیزوں میں بھی مشغول ہوں۔

 
1 2 3 4 5 6 7 8 ... 135 136 137


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )