certifired_img

Books and Documents

Urdu Section

Is Violence the Only Way Out  کیا تشدد ہی آخری راستہ ہے؟
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam
Is Violence the Only Way Out کیا تشدد ہی آخری راستہ ہے؟
Mushtaq Ul Haq Ahmad Sikander, New Age Islam

اس نظم و ضبط کا آغاز چیزوں کو پڑھنے اور معاملات کو سمجھنے سے ہوتا ہے ، پھر ان اصولوں کو اپنے ذہن و دماغ میں جذب کرنے اور اس کے بعد انہیں زمین پر لاگو کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم بحیثیت ایک معاشرہ صبر کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ، اور اگر ہم اس کے لئے کڑی محنت نہیں کرتے ہیں تو اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے نوجوانوں نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس سے اجتماعی خودکش اور تباہی ہمارا مقدر بننے والی ہے۔

 

خلاصہ یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو اپنی روز مرہ کی زندگی کے تمام معاملات میں مسلمانوں کو اعتدال پسندی کا درس دیا ہے۔ انہیں اس شیطان کو خوش کرنے والی کسی بھی قسم کی انتہاپسندی سے بچنا چاہیے جو انہیں سیدھی راہ سے گمراہ کرتا ہے۔ اعتدال پسندی اور توازن کی اس تعلیم کے ساتھ مسلمان انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہروں کا مقابلہ کرسکتے ہیں جن سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کو خطرہ ہے۔

 

اسلام کا مطلب (خدا کی مرضی) کے آگے سر تسلیم خم کرنا اور مسلم کا معنی خدا کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کرنے والا ہے۔ قرآن یہودیوں ، عیسائیوں اوت محمد ﷺ سے ما قبل نبیوں کو مسلمان تصور کرتا ہے ، ان روایتی معنوں کے برعکس جن میں آج مسلمانوں کو دیکھا جاتا ہے۔ جی ہاں ، میں نے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اگر وہ محمد ﷺ سے پہلے کے زمانے میں تھے تو ان کے لئے مسلمان ہونا کیسے ممکن ہے۔" اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم "مسلمان" کی تعریف کس انداز میں کرتے ہیں۔

      اقبال بنیادی طور پر صوفی مفکر اور شاعر تھے اگر چہ ا نکو عام طور پر عجمی تصوّف کے مخالف کے طور پر گردانا جاتا ہے لیکن اس تاثر کیلئے کسی حد تک وہ خود بھی ذمہ دار ہیں۔ماہرین اقبالیات نے اقبال کی ایرانی یا عجمی تصوف پر تنقید کو ان کے کلام کے تناظر میں سمجھنے کی بھر پور کوشش نہیں کی ہے۔ اقبال عجمی تصوّف کو اسلام مین اجنبی پودا تصورنہیں کرتے ہیں اور انکو ہم ایرانی صوفیانہ مفکر ین کی صف میں کھڑا دیکھ سکتے ہیں ۔ اور ان کو کچھ صوفیا پر تنقید یا تصوّف کو باہری اثرات سے پاک کرانے یا اسلامائز کرنے کی سعی انہیں عجمی صوفیہ کی صف سے الگ نہیں کرتی ہے۔ انکا اختلاف عجمی صوفیہ سے دراصل تعبیر کا اختلاف ہے اور بڑی حد تک نزاعِ لفظی۔

Where to Find Peace and Tranquility?  امن و شانتی کہاں تلاش کریں؟
Ghulam Ghaus Siddiqi, New Age Islam
Where to Find Peace and Tranquility? امن و شانتی کہاں تلاش کریں؟
Ghulam Ghaus Siddiqi, New Age Islam

در حقیقت اطمینان قلب بہت بڑی دولت ہے جس کسی کو یہ حصہ مل جائے وہ کامیاب ترین انسان ہے ، اگرچہ وہ بظاہر دوسروں کی نظر میں وہ کوئی معمولی سا غریب انسان ہو، لیکن اطمینان قلب اس غریب انسان کے لیے اتنی بڑی دولت اور پونجی ہے کہ جس کا احساس اور اندازہ  صرف وہی کر سکتا ہے ۔ اس کے برعکس دنیا کا بڑا سے بڑا لیڈر اور ارب پتی اگر اطمینان قلب حاصل کرنے  کے ہدف سے محروم رہا اس کی لیڈر شپ یا دولت اسے کبھی کامیاب نہیں بنا سکتی اگرچہ وہ بظاہر دوسروں کی نظر میں کامیاب ہی کیوں نہ ہو۔در حقیقت ایسا شخص اپنی ناکامی کی مشقتیں بر داشت کر رہا ہوتا ہے جس کا اندازہ دوسروں کو نہیں ہوتا۔

 

یہ نظریہ ہزاروں سالوں سے موجود رہا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا ایک بامعنی زندگی کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کو خدا کی نعمتوں کا امین بن کر زندگی بسر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ روزہ اور نماز کے علاوہ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات تقویٰ کا ایک اعلیٰ ترین عمل ہے۔ قرآن دولت حاصل کرنے کا روحانی فریم ورک اور اسے خرچ کرنے کے لئے عملی ہدایات دونوں فراہم کرتا ہے۔

 

روزہ خود کو مضبوط بنانے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ زہد و تقویٰ کا ایک صوفیانہ طریقہ ہے جو انسان کے اندر ضبط نفس کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ اور ضبط نفس ہی روحانی طاقت کا دوسرا نام ہے۔ ضبظ نفس کا جذبہ ہر قسم کی کامیابی کی کلید ہے اور جو خود کو کنٹرول کرسکتا ہے وہ پوری دنیا کو کنٹرول کرسکتا ہے۔ روزہ اپنی باطنی شخصیت کو مضبوط کرنے کی ایک سالانہ مشق ہے۔

 

اور جہاں تک کشمیر میں "اسلامی حکومت" کے قیام کی بات ہے تو ذاکر موسی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہندوستان اور اس کی ریاست کشمیر میں رہنے والے مسلمانوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لئے ان کی تمام بنیادی مذہبی آزادی حاصل ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ روحانی معنی میں وہ پہلے سے ہی ‘‘اسلامی حکومت’’ میں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے  ہے کہ یہاں کوئی خلیفہ یا مسلم حاکم نہیں بلکہ یہاں ہندوستان میں مسلمان قیامت کے دن اپنے اعمال کے لئے صرف اللہ تعالی کی بارگاہ میں جوابدہ ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جو مذہبی آزادی حاصل ہے وہ روحانی ترقی کے حصول اور تقوی کی راہ اختیار  کرکے  اللہ اور اس کے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔

 

جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ دیوبندی مسلمانوں کی آنے والی نسلوں نے اسلام کی انتہائی قدامت پرست اور علیحدگی پسند روایت کو قبول کر کیا۔ لہذا، اسلام کے دیوبندی پیروکاروں کو اسلام پسند عسکریت پسندی کے راستے پر آسانی کے ساتھ لگا دیا گیا۔ کئی محققین نے دیوبند اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی فقہی نظریات کے درمیان مماثلت کا بھی انکشاف کیا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی مشرقی پاکستان میں طالبانی عسکریت پسند مقامی دیوبندی مدارس کے فارغ التحصیل ہیں۔ لال مسجد جیسے انتہا پسند اسلامی مدرسے کا بھی نظریاتی تعلق دیوبندی مکتبہ فکر کے ساتھ سامنے آیا تھا۔

 

اے لوگو! جو شخص اس ماہ میں اپنے اخلاق کو نیک بنائے اس کے لیے پل صراط سے گزرنے کا پروانہ ہے جس دن قدم متزلزل ہونگے، اور جو کوئی اس ماہ میں اپنے نوکروں سےکم خدمت لے خداوند عالم اس کے حساب کو کم کرے گا، اور اس کے ساتھ سختی نہیں کرے گا، اور جو کوئی اس ماہ میں شر اور برائی سے دور رہے خداوند عالم اپنے غضب کو اس سے دور رکھے گا جس دن وہ اس سےملاقات کرے، اور جو کوئی اس ماہ میں یتیم کا اکرام کرے خداوند تبارک و تعالیٰ روز قیامت اسے مکرم بنائے گا ، جو کوئی صلہ رحمی کرے وہ روز قیامت خداوند عالم کے سایہ رحمت میں رہے گا اور جو قطع رحم کرے خداوند روز قیامت اس سے اپنی رحمت قطع کر لے گا۔اور جو شخص اس ماہ میں مستحب نمازیں بجا لائے خداوند عالم آتش جہنم سے آزادی و برأت کا پروانہ اس کے لیے کھولے گا۔۔۔

 

تمام ادیان اور ملل میں روزہ معروف ہے ‘ قدیم مصری ‘ یونانی ‘ رومن اور ہندو سب روزہ رکھتے تھے ‘ موجودہ تورات میں بھی روزہ داروں کی تعریف کا ذکر ہے ‘ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا چالیس دن روزہ رکھنا ثابت ہے ‘ یروشلم کی تباہی کو یاد رکھنے کے لیے یہود اس زمانہ میں بھی ایک ہفتہ کا روزہ رکھتے ہیں ‘ اس طرح موجودہ انجیلوں میں بھی روزہ کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور روزہ داروں کی تعریف کی گئی ہے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزہ فرض کیا گیا تھا اسی طرح تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے ‘ تاکہ مسلمانوں کو روزہ رکھنے میں رغبت ہو کیونکہ جب کسی مشکل کام کو عام لوگوں پر لاگو کردیا جاتا ہے تو پھر وہ سہل ہوجاتا ہے۔

 

اس کے علاوہ بھی بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں مذہب ، رنگ اور نسل سے قطع نظر امن ، رحمت ، عفو و درگزر اور انصاف کا ایک مثالی نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔ اس مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ احسان اور عفو و درگزر پر قائم رہتے ہوئے نامساعد حالات میں صبر کا مظاہرہ کرنا نبی ﷺ کی سنت ہے۔ لیکن بدقسمتی سے آپ ﷺ کی یہ پیاری سنت آج ہماری زندگی سے غائب ہو چکی ہے- نہ صرف یہ کہ یہ سنت ہماری زندگیوں سے غائب ہو چکی ہے بلکہ ہم میں سے کچھ لوگ اس سنت کے خلاف بھی کام کر رہے ہیں۔

لہٰذا، اسلام کے خلاف جمہوریت یا سیکولرازم کو پیش کرنا جہادیوں کا ایک بنیادی ہتھکنڈہ رہا ہے جسے الظواہری سے ذاکر موسی تک تمام جھوٹے اسلامی نظریہ سازوں نے استعمال کیا ہے۔ لیکن اس کے برعکس قرآن اور سنت میں ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں کہ جن کی بنیاد پر ہمارے لئے اسلامی اصولوں کی مطابقت میں جمہوریت اور سیکولرزم دونوں کو اپنانا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن کی ان دو آیتوں کو پیش کرنا ہی کافی ہے۔

 

مختصر یہ کہ خواہ مسلم ممالک ہوں یا غیر مسلم ممالک عیسائیوں ، یہودیوں اور ہندوؤں سمیت غیر مسلموں کے ساتھ دنیاوی معاملات میں پر امن بقائے باہمی کے قیام کو فروغ دینا کبھی بھی ممنوع نہیں رہا ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی فرائض کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کر لینا چاہئے یا شریعت اسلامیہ کے خلاف غیر مسلموں کے مذہبی رسوم و روایات کو اپنا کر انہیں خوش کرنا چاہئے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا کی محولہ بالا تحریر ہمیں دوسروں کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کو فروغ دینے کا ایک متوازن معیار فراہم کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ ہم سے اپنے مذہب پر صبر اور استقامت کے ساتھ قائم رہنے کا مطالبہ بھی کرتی ہے۔

 
Why Should We Be Grateful To God?  خدا کی شکر گزاری کیوں ضروری؟
Sant Rajinder Singhji
Why Should We Be Grateful To God? خدا کی شکر گزاری کیوں ضروری؟
Sant Rajinder Singhji, Tr. New Age Islam

اگرچہ اب پالتو جانوروں کے لئے بیوٹی سیلون، معالج اور یوگا کلاس دستیاب ہیں ، لیکن ان پالتو جانوروں کے پاس وہ استعداد نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ہمیں اپنی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی زندگی صرف احساس اور زندہ رہنے کے لئے ضروری حیوانی فطرت تک ہی محدود ہے۔ وہ یہ سوچنے اور سمجھنے سے عاری ہیں کہ وہ کون ہیں ، وہ یہاں کیوں ہیں ، اور کہاں جا رہے ہیں۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم ایک ایسی مخلوق کی شکل میں پیدا ہوئے کہ خود کو جان سکتے ہیں اور خدا کو بھی پہچان سکتے ہیں۔ اور اس کے لئےہمیں خدا کا شکریہ ادا کرنا چاہئے۔

 

ادھر کئی برسوں میں بعض اقلیتیں ایک مضبوط جوابی بیانیہ جاری کر کے ان قیادتوں کو چیلنج کرنے میں کامیابی رہی ہیں۔ مندر اور گوہا کے درمیان مباحثے سے یہ بات ابھر کر سامنے آئی ہے کہ مسلم اقلیت ابھی خود اپنی نمائندگی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ وہ اپنی اذیتوں ، کلفتوں ، اضطراب اور ناکامیوں کی نمائندگی کے لئے اب بھی دوسروں کے ہی محتاج ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کے حوالے سے صرف دوسروں کے بارے میں ہی لکھا جانا چاہئے ، بلکہ اس کا مقصد اس امر کو واضح کرنا ہے کہ مسلم معاشرے کے پاس ابھی بھی اپنی کوئی آواز نہیں ہے۔

 

ایک مطالعہ کے مطابق پاکستان میں محصول سالانہ نجی عطیہ کی رقم تقریبا 554 بلین روپے کے برابر ہے جس میں سے اکثر رقم مدارس ، مساجد اور غریب و نادار لوگوں کو دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر لوگوں کو ان کے صدقات و عطیات کے مستحقین کا کوئی علم ہی نہیں ہے۔ کیا یہ ہمیں انتہا پسندی کا اصل شکار بناتا ہے یا اس کے مرتکبوں کی صف میں لاکر کھڑا کرتا ہے؟

 

اگرچہ گلوبلائزیشن کو مثبت طور پر دیکھا جاسکتا ہے ، لیکن بہت سے دانشور اسے استعماریت اور ثقافتی حملے کی علامت سمجھتے ہیں ، جس سے لوگوں کی شناخت اور ثقافتی انفرادیت کو خطرہ ہے۔ اسی طرح ، القاعدہ اور داعش کی تخلیق صرف عراق اور شام کی فوجوں کو تباہ کرنے کے لئے نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا مقصد ان کے ثقافتی اور تاریخی ورثہ اور ان کی قومی شناخت کو بھی تباہ کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ داعش نے ان دونوں ممالک کے تاریخی مقامات کو تباہ کر دیا ہے۔

 

لیکن وہ اپنی ذاتی اور سماجی زندگی کو انسانی فطرت کے بنیادی قوانین اور ہدایت کے مطابق گزارنے سے گریزاں ہے ، جسے قرآن کریم سے اخذ کر کے ہمارے سامنے "شریعت" کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اپنی مخلوق کی بنیادی خوبیوں اور خامیوں کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اسی لئے اس نے انسانی فطرت اور سماجی رویے کے اصولوں کی ہدایت کے طور پر "شرعی" قوانین پیش کئے۔ قرآن کی آیات سجدہ انسانوں سے شعوری طور پر "شرعی" قوانین کی تابعداری کا بھی مطالبہ کرتی ہیں۔ اور اسی سے ایک مسلمان کے سجدے اور کائنات کے دیگر تمام اشیاء کے سجدوں کے درمیان امتیاز پیدا ہوتا ہے۔

 

عین اس وقت جب مسلمانوں پر چوطرفہ حملے ہورہے ہیں ، جب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ فرقہ پرستوں کے نشانے پر ہیں، مسلمانوں کی درسگاہیں ان کے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھارہی ہیں ، یہ سوال میرے ذہن میں اپنی پوری شدت کے ساتھ اس وقت آیا جب ہمارے ایک دوست نے یہ پوچھا کہ مسلمان پچھلے ایک ہزار سال سے کیا کررہے ہیں؟ یہ تو آج تک اپنا ایک نصاب تعلیم و تربیت بھی طے نہیں کر سکے ہیں۔

 

فرانس کے صدر کے مطابق دشمن اسلامی دہشت گردی ہے جس نے مذہب اسلام کو اغوا کر لیا ہے۔ لیکن مشرق وسطی میں ہر ریاست کے پاس دہشت گردی کی اپنی ایک الگ ہی تعریف ہے - ترکی کے لئے پی کے کے (Partiya Karkerên Kurdistanê ‘‘کردش ورکر پارٹی’’) کے کُرد اور پی وائی ڈی (Partiya Yekîtiya Demokrat‎) دہشت گرد ہیں، اسرائیل کے لئے حماس کے فلسطینی دہشت گرد ہیں ؛ سعودی عرب کے لئے یمنی حوثی دہشت گرد ہیں ، متحدہ عرب امارات کے لئے اخوان المسلمین دہشت گرد ہیں، اور اسی طرح یہ فہرست مزید طویل ہو سکتی ہے۔

 
Religious Extremism  مذہبی انتہا پسندی
Javed Ahmad Ghamidi
Religious Extremism مذہبی انتہا پسندی
Javed Ahmad Ghamidi

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی یہ سنت پوری شان کے ساتھ قائم رہی، لیکن بعد کے زمانوں میں جب حکمران اپنے اعمال کی وجہ سے اِس کے اہل نہیں رہے تو جمعہ کا منبر خود اُنھوں نے علما کے سپرد کر دیا۔ مذہب کے نام پر فتنہ و فساد کو اصلی طاقت اِسی سے حاصل ہوئی۔ یہ صورت حال تبدیل ہونی چاہیے اور ہمارے حکمرانوں کو پورے عزم و جزم کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اِس نماز کا اہتمام اب حکومت کرے گی اور یہ صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو ریاست کی طرف سے اِس کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے۔ اِس کا منبر حکمرانوں کے لیے خاص ہو گا۔

 

صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی دیگر متعدد حقائق سے اس کی تصدیق ہوتی ہے:جلسہ گاہ ایسے بڑے بڑے بینر سے بھرے ہوئے تھے جن سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے لئے نیتش سرکار کے منصوبوں کی تشہیر ہو رہی تھی۔مولانا رحمانی نے اپنی تقریر میں ‘‘اس ریلی کو زبردست کامیاب بنانے میں ہر قسم کا تعاون پیش کرنے کے لئے’’ وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔مقریرین نے جنوری سے پورے بہار میں رونما ہونے والے مسلم مخالف تشدد کے خلاف لب کشائی میں ایک لفظ بھی بولنے کی زحمت گوارہ نہیں کی۔

 

قانون نافذ کرنے والے کسی بھی ادارے کی عدم موجودگی میں خود مسلمانوں کو زندہ و جاوید حدیث کی شکل اختیار کرنا تھا۔ مطالعہ حدیث کو رواج بخشنے سے شاہ ولی اللہ کا ایک اور مقصد پورا ہوا کہ اس سے دیگر برادریوں کے ساتھ برصغیر کے مسلمانوں کے مشترکہ ثقافتی اور مذہبی اقدار کا نام و نشان تک مٹ گیا۔

 

اگر دیگر نمازیوں کی عبادت میں خلل واقع ہونے کی وجہ سے تلات قرآن میں بھی آواز بلند کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے تو تیز آواز کے ساتھ آذان اور نماز میں قرآن کی تلاوت بھی ممنوع ہونی چاہئے اس لئے کہ اس سے پڑوس میں رہنے والے مریضوں، چھوٹے بچوں اور عمردراز لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آذان نماز کا ایک لازمی حصہ نہیں ہے۔ مکہ میں تین سال اور ایک سال مدینہ میں بغیر آذان کے نمازیں ادا کی گئی ہیں۔

 


Get New Age Islam in Your Inbox
E-mail:
Most Popular Articles
Videos

The Reality of Pakistani Propaganda of Ghazwa e Hind and Composite Culture of IndiaPLAY 

Global Terrorism and Islam; M J Akbar provides The Indian PerspectivePLAY 

Shaukat Kashmiri speaks to New Age Islam TV on impact of Sufi IslamPLAY 

Petrodollar Islam, Salafi Islam, Wahhabi Islam in Pakistani SocietyPLAY 

Dr. Muhammad Hanif Khan Shastri Speaks on Unity of God in Islam and HinduismPLAY 

Indian Muslims Oppose Wahhabi Extremism: A NewAgeIslam TV Report- 8PLAY 

NewAgeIslam, Editor Sultan Shahin speaks on the Taliban and radical IslamPLAY 

Reality of Islamic Terrorism or Extremism by Dr. Tahirul QadriPLAY 

Sultan Shahin, Editor, NewAgeIslam speaks at UNHRC: Islam and Religious MinoritiesPLAY 

NEW COMMENTS

  • scientists (IMHO) probably will get it wrong when they stray into humanities. laws of science are...
    ( By hats off! )
  • You discuss the central idea of this article both historically and theologically. Through your discussion, many significant ....
    ( By Meera )
  • ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر قوم و مذہب کے لوگ بلا تفریق مذہب و ملت آباد ہیں، ہندستان میں ہندوؤں کے بعد مسلمان ...
    ( By ڈاکٹر ساحل بھارتی )
  • none of the articles is fruitful - people do not read nor do they accept = they do what their mind says ....
    ( By rss )
  • New Zealand's Prime Minister is a shining example for regressive societies. No wonder she sticks in Hats ....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Hats Off's hatefulness has reached nihilistic proportions. He is need of help.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • What she writes is a hundred times better than Hats Off's bilious vomitus.....
    ( By H S )
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تجاویز کہ مدارس کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ (معلومات حاصل کرنے کا حق)کے تحت لانے کی تجویز خود ...
    ( By عبدالمعید ازہری )
  • the author does not have proper understanding of Naskh therefore his article is full of errors and does...
    ( By Alifa )
  • With people like Apoorvanand, India can't be so bad. Fortunately there are....
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Jacinda Ardern has set a great example for India...
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • Religions should bring us together instead of driving us apart.
    ( By Ghulam Mohiyuddin Faruki )
  • a very simple minded woman with very mediocre capacity of analysis. incapable...
    ( By hats off! )
  • not to worry. it is a matter of parity. islam hates the kuffar as much...
    ( By hats off! )
  • ‘Lesson for World Leaders’: Imam Thanks New Zealand PM after Prayers" another islamist...
    ( By hats off! )
  • Only a hateful ex-Muslim would call Erdogan a "moderate Muslim". A much...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • This is a bogus article because it uses arbitrary, self-serving or false arguments to support its contentions...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • I agree with Mr Sultan Shahin that Islam needs to change itself from within...
    ( By A S MD KHAIRUZZAMAN )
  • Good article! It has given good suggestions. We should do self-introspection and reform ourselves. For ...
    ( By Kaniz Fatma )
  • the west should embrace all the muslims or else... but all Islamic....
    ( By hats off! )
  • Naseer sb., There is no compulsion in any of Jesus's sermons. He never said anything like, "“Kill....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb., It is not a question of believing or not believing in the Quran. It is a question of believing.....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Happy Holi, everyone.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • GM sb says "In Christianity, there is no compulsion in religion. 2Ti 2:24 As the ....
    ( By Naseer Ahmed )
  • "It appears" is not the primary evidence. It is the supporting evidence to what the Quran...
    ( By Naseer Ahmed )
  • Hats Off's frenzied animus seems to be eating him from within. I hope he does not explode.
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Hats off's literalism is a mirror image of Naseer sb.'s literalism. One...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • More rubbish from Hats Off! Violent extremism, by whatever name, is the same....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Yes, good call. BUT the President's comments connecting ANZAC with the deranged....
    ( By Rashid Samnakay )
  • there is a huge difference. the isis were quoting the Quran...
    ( By hats off! )
  • it is really a gladdening thought that there is nothing even remotely...
    ( By hats off! )
  • islam is about copting religions, grabbing mal e ghanimat, lying to mislead....
    ( By hats off! )
  • What is Hats Off talking about? Where does Wajahat Ali say anything...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Naseer sb. says, "It appears that the people before Moses called themselves....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Bandage treatment of marriage and inheritance laws will not help. What....
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • The rise of Wahhabism, white nationalism and Hindu nationalism has shrunk...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • Very good article! The call to reject hate, intolerance, exclusion and violence must be vigorous and oft-repeated...
    ( By Ghulam Mohiyuddin )
  • what do you call a person who believes in a text that gratuitously denigrates...
    ( By hats off! )
  • Religion is from God and God alone can tell us about the history of His religion....
    ( By Naseer Ahmed )