certifired_img

Books and Documents

Forward this page

Thank you for your interest in spreading the word on New Age Islam.
Your Email:
Your Name:
Send To: (To send to multiple addresses, please separate e-mail IDs with commas.)
Your Personal Message:
You are going to email the following:

اس نظم میں شاعر نے کہیں دور اشارہ کر کے ایک مسجد کی نشاندہی کی ہے ۔ برگدی گھنی چھاؤں میں ماضی اور حال گناہگار نمازی کی طرح رات کی تاریک کفن کے نیچے اپنے اعمال پر آہ و زاری کرتے ہیں ۔ اسی برگد کی چھاؤں میں ایک ویران سی مسجد ہے جس کا ٹوٹا ہوا کلس پاس بہتی ہوئی ندی کو تکا کرتا ہے ۔ اسی مسجد کی ٹوٹی ہوئی دیوار پر کوئی الّو (چنڈول) کوئی پھیکا سا گیت چھیڑ دیا کرتا ہے ۔

دیگر مضمون: اختر الایمان کی نظم ’ مسجد‘ ایک دلکش مرقع ہے