Books and Documents(29 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)
Sharia and Iranian Theory of Kingdom شریعت اور ایرانی نظریہ بادشاہت

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

ایک مسلمان حکمران کی کیا خصوصیات ہونی چاہیں؟ اس مسئلہ پر عباسی خلافت کے قائم ہونے کے فوراً بعد ایرانی دفتری لوگوں اور علماء میں سیاسی اقتدار کے لئے پہلا تصادم ہوا تھا، علماء کا موقف تھاکہ مسلمان حکمران کےلئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے احکامات کی پیروی کرے اور اس کی بالادستی قائم کرتے ہوئے اپنی ذاتی مفادات اور سیاسی معاملات کو اس کے ماتحت کردے۔

اس کے مقابلہ میں ایران کے دفتری یا عہدے دار ایران کے قدیم نظریہ بادشاہت کا احیاء چاہتے تھے کہ جس میں بالا دستی حکمران کو تھی اور شریعت کو اس کے مفادات او رمرضی کے مطابق بدلتے رہنا چاہیے تھا ۔ چنانچہ انہو ں نے ایک اچھے حکمران کا جو تصور قدیم ایران میں تھا، اس کا دوبارہ سے احیاء کیا او ربہت سارا ادب عربی زبان میں منتقل کردیا کہ جس میں بادشاہ عادل کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ ان میں 8 ویں اور 9 ویں صدیوں میں جو کتابیں دربار کے آداب پر لکھی گئیں ۔ ان کی روشنی میں عباسی خلفاء نے اپنے دربار میں قدیم ایرانی رسومات کو قائم کیا اور اس کے ساتھ ہی ریاستی اداروں کو اس طرح سے تشکیل دیا کہ وہ حکمران کی مرضی و خواہش کے تابع رہیں۔

عباسی حکومت کی کمزوری او رنئی حکومتوں کے قیام کے بعد علماء اور ایرانی دفتری لوگوں میں ایک بار پھر یہ تصادم ہوا کہ مسلمان حکمران کو کیسا ہونا چاہئے؟ کیا اسے شریعت کے ماتحت ہوناچاہئے یا خود مختاری او رمطلق العنان؟ اس مقصد کے تحت دونوں گروہوں نے ایک ایسا ادب تخلیق کیاکہ جس میں انہوں نے حکمران کو ہدایت کی کہ اس کے لئے کون سا راستہ مناسب ہے۔ چنانچہ علماء کی جانب سے نمائندہ تحریر الماوردی (وفات 1058) کی ہے جس نے اپنی کتاب ‘‘الاحکام السطانیہ’’ میں ایک ایسی حکومت کانقشہ پیش کیا ہے کہ جس میں حکمران شریعت کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کرے اور شریعت کے نفاذ میں علماء سے ہدایات لیتا رہے، خلیفہ یا حکمرا ن کے فرائض بیان کرتے ہوئے الماوردی ان باتوں پر زور دیتا ہے۔

1۔ دین کی حفاظت کرے اور اگر کسی شخص نے کوئی بدعت کی ہو، یا دین کے سلسلہ میں شک کا اظہار کیا ہو، تو اس صورت میں یہ خلیفہ کا کام ہے کہ اسے دلائل دےکر قائل کرے اس کے شک کو دور کرے۔ اور حق بات کو اس ذہن میں بٹھا ئے اور کوشش کرے کہ دین کے احکامات نافذ ہوں اور ان میں کوئی خلل واقع نہ ہو اور مسلمان امت برائیوں و لغزشوں سےمحفوظ رہے۔

2۔اگر دو گروہوں میں جھگڑا ہوتو اسے شریعت کے احکامات کے تحت حل کرے تاکہ انصاف قائم ہو۔

3۔ شریعت کو نافذ کرے تاکہ جن باتوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ ان کا ارتکاب کوئی شخص نہ کرے، او رلوگوں کے حقوق غصب نہ ہوں۔

4۔ پہلے اسلام کی دعوت دے، نہ ماننے پر مخالفین اسلام پر جہاد کرے۔ خدا کی جانب سے خلیفہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کو دوسرے تمام مذاہب پر حاوی کردے۔

5۔خوف اورجبر کےبغیر شریعت کے مطابق ٹیکس وصول کرے۔

6۔ بیت المال سےمستحقین کےلئے وظیفے اور تنحواہیں مقرر کردےاور دیکھے کہ یہ تنخواہیں انہیں پابندی سے ملا کریں۔

7۔ دیانت داروں کو اپنا قائم مقام اور قابل اعتماد لوگوں کو حاکم و عامل مقرر کرے، اور خزانہ کوایسے ہی لوگوں کے سپرد کرے (الاحکام السطانیہ (اردو ترجمہ) کراچی ۔1965ء ص۔32۔34)

غزالی (وفات 1111)نے اپنی کتاب ‘‘نصیحت الملکوک ’’ میں اس بات کی کوشش کی ہے کہ خلافت او رسلطنت کوملا دیا جائے تاکہ یہ ادارہ مذہب کی حفاظت کرسکے۔ اس میں غزالی کےنزدیک بہترین حکمران وہ ہے کہ جو مذہب کی حفاظت کرتا ہے۔ احکام دین کا نفاذ کرتا ہے۔ مذہبی و پرہیزگار لوگوں کا خیال کرتا ہے اور انکساری کےساتھ پیش آتا ہے۔

اس کے مقابلہ میں ایرانی نقطہ نظر سے سلجوق وزیر نظام الملک نے سیاست نامہ اور کے کاؤس (وفات 1082) نے قابوس نامہ لکھا ۔ سیاست نامہ میں بادشاہت کے جن فرائض کا ذکر کیا ہے اور اس میں جن اوصاف پر زور دیا گیا ہے وہ ایران کے قدیم نظریہ بادشاہت کےمطابق ہیں۔ مثلاؑ اس میں بادشاہت کےلئے عادل اور انصاف پسند ہوناضروری قرار دیاگیا ہے۔ اور اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ معاشرہ کی طبقاتی تقسیم کو برقرار رکھتے ہوئے ان میں توازن قائم رکھے ۔ خاص کر بادشاہ کا فرض ہے کہ وہ قدیم امراء کی مراعات کا خیال رکھے او ران کے مرتبہ کو قائم رکھے ۔ نظام الملک عدل کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اللہ کی مرضی و خوشنودی عدل اور انصاف میں ہے۔ جب بھی رعایا او رمخلوق سےنیک سلوک کیا جائے گا اوران پر ظلم و ستم نہیں ہوگا تو مخلوق ہمیشہ بادشاہ کےلئے دعائے خیر کرے گی۔ ‘‘کفر کے باوجود ملک باقی رہ سکتا ہے ، لیکن اگر ملک میں ظلم و ستم بڑھ جائے تو اس کی وجہ سے ملک کی بقا کو خطرہ ہوتا ہے۔’’

نظام الملک سیاست نامہ میں مے نوشی کے آداب بھی بتاتا ہے او رلکھتا ہے مخصوص مے نوشی کی محفلوں کےساتھ ساتھ ایسی محفلیں بھی ہوں کہ جن میں عام لوگ جو کہ شراب کے عادی ہیں وہ شریک ہوں ۔ البتہ جو دن مخصوص لوگوں کےلئے ہوں ان میں صرف چیدہ چیدہ شریک ہوں ۔ ( سیاست نامہ ۔ اردو ترجمہ ، کراچی ۔ ص ۔16۔17۔131۔141)

سیاست نامہ میں ایک خود مختاری اور مطلق العنان حکمراں کا تصور ہے کہ جو شریعت سے بالاتر ہے اور علماء اس کے ماتحت ہیں۔

قابوس نامہ میں ایک نوجوان شہزادہ کی تربیت کےلئے ہدایت ہیں کہ ایک اچھے فرماں روا کےلئے کیا خصوصیات ہونی چاہئیں اس میں بھی ایرانی تصورات کو پیش کیا گیا ہے اور بادشاہ کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں۔

مذہبی اور سیکولر ادب میں دونوں میں اس بات کو تسلیم کرلیا گیا ہے ایک حکمران کی شخصیت انتہائی اہم ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے معاشرہ کی زندگی بدل جاتی ہے اس کو تسلیم کرتے ہوئے دونوں جانب سےاس بات کی کوشش کی گئی کہ حکمران کو اپنے اپنے نظریات کے تحت ڈھال لیا جائے ۔ مذہبی ادب میں اس بات پر زو ردیا گیا ہےکہ بادشاہ کو شریعتی احکامات کے نفاذ اور ان کو قائم کرنے کےلئے علماء کی ضرورت ہے۔ اس لئے انہیں ریاست میں شریک کیا جائے اور ان کےمشوروں کومانا جائے تاکہ اسلام کا فروغ ہو۔ کیونکہ امت کی بھلائی اسی میں ہے۔

اس کے برعکس ایرانی دانشوروں اور سیاستدانوں نے جو ادب تخلیق کیا اس میں بادشاہ مطلق العنان ہے اور اس کے لئے لازمی ہے کہ ملک میں عدل و انصاف قائم کرنے کےلئے وہ امراء اور دانشمندوں سے مشورہ کرے اور انہیں سلطنت کے معاملات سپرد کردے۔

اس تصادم میں بھی علماء کو ناکامی ہوئی اور حکمرانوں کو شریعت کے ماتحت نہیں کرسکے کیونکہ ان حکمرانوں کامفاد اس میں تھا کہ وہ اپنے اپنے خاندان کےاستحکام کےلئے ایرانی روایات کو اختیار کریں اور ان سیکولراداروں کی سرپرستی کریں کہ جو ان کی سلطنت کے استحکام کےلئے ضروری ہیں کیونکہ شریعت ان کی حکمرانی میں حائل ہوتی تھی اس لئے انہوں نہ خاموشی سےاسے نظر انداز کردیا۔ مثلاً شریعت کےتحت مذہبی اقلیتوں کو ذمی تصور کیا جانا چاہئے ، اور انہیں اعلیٰ وکلیدی عہدو ں پرمقرر نہیں کرنا چاہئے ۔ مگر یہ حکمران ا س بات پر مجبور تھے کہ سلطنت کےانتظام کےلئے عیسائیوں اور یہودیوں کااعلیٰ عہدوں پر تقرر کریں اور ان پر اعتماد کرتے ہوئے حکومت کی ذمہ داریاں ان کے سپرد کریں۔ اس لئے جہاں اس قسم کی مجبوریاں پیش آئیں وہاں حکمرانوں نے شریعت کے بجائے حکومت کے مفاد کو اپنے پیش نظر رکھا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,