Books and Documents(16 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)
Ulema and the Society علما ء اور معاشرہ

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

اس باب میں ان طریقوں اور عوامل پر روشنی ڈالی جائے گی کہ جن کے ذریعہ علماء معاشرہ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں یہاں ان اداروں کے بارے میں تذکرہ کیا جائے گا کہ جو معاشرہ میں علماء کی حاکمیت کو مضبوط اور مستحکم کرتے ہیں، ان میں سے مدرسہ پر ہم پچھلے صفحات میں ذکر کر آئے ہیں کہ کس طرح ان مدارس نے علماء کو معاشرہ میں ایک ایک خاص مقام دیا اور ایک وقت تک یہ مدارس انتظامیہ کےلئے مذہبی عہدے داروں کی تربیت کرتے رہے ،مگر جب مسلمان حکمرانوں کا دور ختم ہوا اور انگریز بر سر اقتدار آئے تو ان مدارس کی سیاسی حیثیت ختم ہوگئی اور اب سرکاری تنخواہ دار ملازمین کے بجائے علماء کا گزر عوام کے چندوں پر ہونے لگا جس سے کہ ان کا سماجی مرتبہ بری طرح متاثر ہوا لیکن معاشرہ میں کچھ مذہبی رسومات اور مذہبی ادارے ایسے ہیں کہ جو اب تک اس کی سماجی او رمذہبی ضروریات کو پورا کرتے ہیں او ر انہیں کےسہارے علماء کا وجود بھی قائم ہے۔

علماء اور مسجد

مسلمان دور حکومت میں حکمرانوں اور امراء کا یہ دستور تھاکہ وہ فتح کی خوشی میں یا نیکی و تقویٰ کے اظہار کے طور پر مساجد کی تعمیر کراتے ہوئے او ران کے اخراجات کےلئے اس سے منسلک وقف کی جاگیر یا جائداد ہوا کرتی تھی جس سے کہ امام خطیب اور موذن کو تنخواہیں ملا کرتی تھیں ۔ ابتدا میں ریاست مساجد کے ملازمین کا تقرر کرتی تھی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی تھی اس لئے مساجد کاعملہ حکومت کی ہدایت پر عمل کرتا تھا اور لوگوں کو حکومت کا وفادار رہنے کی تلقین کرتا تھا۔

لیکن جب انگریزی اقتدار قائم ہوا تو صورت حال بالکل بد ل گئی اس دوران میں کئی مذہبی جماعتیں پیدا ہوئیں جن کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں میں مذہبی شناخت کو قائم رکھا جائے اور اپنے عقائد و نظریات کے تحت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی جماعت میں شامل کیا جائے۔ان کی سرگرمیوں کے مراکز مدرسہ او رمسجد تھے اس لئے ان جماعتوں کی کوشش تھی کہ اپنے پیروکاروں کی تعداد بڑھانے کی خاطر زیادہ سے زیادہ مساجد پر قبضہ کیا جائے، مساجد کی تعداد پر قبضہ یا ان پر اپنے اثر و رسوخ قائم کرنے سے ان مذہبی جماعتوں کی طاقت بڑھ جاتی تھی ۔ اس لئے جب پہلے سے بنی ہوئی مساجد پر کسی نہ کسی مذہبی جماعت کا قبضہ ہوگیا تو پھرہر ایک جماعت نے جگہ جگہ نئی مساجد کی تعمیر شروع کردی۔ اس مرتبہ نئی تعمیر شدہ مساجد کی خاص بات یہ تھی کہ یہ عوام کے چندے سے بن رہیں تھیں اور اس طرح مذہبی جماعتوں اور ان کے عقائد کی تبلیغ و تشہیر میں وہ بھی برابر کا حصہ لے رہےتھے۔

مساجدکی تعمیر میں چندے کا یہ استعمال کئی لحاظ سے قابل ذکر ہے لیکن یہ سلسلہ جس کی ابتداء نو آبادیاتی دور سے ہوئی تھی اب تک قائم ہے اور اس طرح تعمیر مسجد کےلئے چندہ ایک مستقل ادارہ کی شکل اختیار کرچکا ہے کیونکہ یہ چندہ مسجد کے ملازمین اور اس کے متولین کےلئے ذریعہ آمدنی ہے اس لئے مسجد کی تعمیر جب ایک مرتبہ شروع ہوتی ہے تو پھر یہ ختم نہیں ہوتی ہے اس میں مسلسل تبدیلی کی جاتی رہی ہے اس کی زیب و آرائش کےلئے قیمتی ٹائلز استعمال کئے جاتے رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض مساجد تو ضرورت سے زیادہ آرائش کا شکار ہوجاتی ہیں اس کےپس منظر میں جو مقصد ہوتا ہے وہ یہ کہ چندہ کا استعمال جائز قرار دیا جائے اور تعمیر کے کام کو جاری رکھ کر چندہ وصول کیا جاتا رہے۔

اس سے پہلے جو مسجدیں بنائی جاتی تھیں ان کے اخراجات کےلئے وقف کی جائداد ہوتی تھی یا حکومت کی جانب سے اس کے اخراجات ادا کئے جاتے تھے مگر اب یہ صورت حال نہیں ہے اس لئے نئی مسجدوں کے اخراجات کےلئے اور مستقل آمدنی کے ذرائع کےلئے اب ان کے ارد گرد دکانیں تعمیر کردی جاتی ہیں جو کہ مسجد کے اخراجات کو پورا کرتی ہیں، اس طر ح سے مسجد کے امام ‘خطیب’ اور موذن کے لئے مسجد نہ صرف مالی آٗمدنی پوری کرتی ہے بلکہ ان کے مذہبی مرتبہ کو قائم رکھتی ہے۔

انگریزوں کے زمانہ میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ جن میں ایک فرقہ کےلوگوں نے کسی مسجد پر زبردستی قبضہ کر لیا اور پھر وہاں دوسرے فرقہ کے لوگوں کو عبادت کرنے سے روک دیا۔ خصوصیت سے اس قسم کے جھگڑے اہل حدیث اور دوسرے فرقوں کے درمیان بہت ہوئے جن میں کہ اہل حدیث کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ دوسری مساجد میں جاکر اپنے طریقہ سے نماز پڑھیں چونکہ وہ آمین کو زور سے ادا کرتے تھے۔ اس لئے دوسرے فرقہ والے ان کے اس طریقہ عبادت کو پسند نہیں کرتے تھے ۔ اس لئے ایسا اکثر ہوا کہ ان کے جانے کے بعد مسجد کو دھوکر پاک و صاف کیا جاتا تھا ورنہ دوسری صورت میں انہیں زبردستی مسجد سے باہر کردیا جاتا تھا اور نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

بی ۔ ڈی۔ مٹکاف نےاپنی کتاب ‘‘دور برطانیہ میں اسلامی احیاء’’ میں اس قسم کی بہت سی مثالیں دی ہیں ۔ مثلاً محمد سعد اللہ اور اس کےساتھی کہ جواہل حدیث تھے انہیں مئو کی ایک مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دی گئی اور انہوں نے آخر کار قریبی جنگل میں جاکر نماز پڑھی۔ اور بعد میں انہوں نے علیحدہ سےاپنی مسجد تعمیر کی چونکہ اہل حدیث کےساتھ یہ تعصّبانہ برتاؤ ہوتا تھا اس لئے انہوں نے اس کے خلاف برطانوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ انہیں عام مسجدوں میں نماز پڑھنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ 1889ء میں اس مقدمہ کا فیصلہ لکھتے ہوئے جسٹس محمود جوکہ سر سید کے لڑکے تھے نے لکھا کہ:

ایک مسجد پرقبضہ کرنے یا اس پر صرف اپنا اثر رکھنے کاحق کسی بھی مسلمان فرقہ یا مسلک کا حق نہیں ہے۔ وہابی یا محمدی چونکہ مسلمان ہیں اس لئے یہ ان کا حق ہےکہ وہ کسی بھی مسجد میں نماز ادا کریں۔ لیکن اگر کوئی محمدی یا وہابی نماز کی ادائیگی سے کسی دوسرے فرقہ کے جذبات کو مجروح کرتاہے یا ان کی عبادت میں خلل اندازی کرتا ہے تو یہ قدم قابل تعریف نہیں ۔

اس کے علاوہ مٹکاف نے او ربہت سے ایسے واقعات لکھے ہیں کہ جن میں اہل حدیث، برطانوی حکومت اور دوسرے فرقے ملوث تھے ۔ مثلاً 1892ء میں میرٹھ میں مذہبی فسادات کوروکنے کی غرض سے مجسٹریٹ نےشہری مساجد کو تقسیم کردیا تھا اس تقسیم کے نتیجہ میں 5 مساجد اہل حدیث کو دی گئی جب کہ باقی مساجد حنفی مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو ۔

مساجد کی یہ جنگ نو آبادیاتی دور سے لے کر اب تک جاری ہے۔ اب ہر فرقہ او رمذہبی جماعت نے ہر محلّہ میں اپنی علیحدہ سے مسجد قائم کر رکھی ہے اور ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس پر ان کا قبضہ باقی رہے۔ جب کہ دوسرے فرقوں کی جانب سے یہ کوشش جاری رہتی ہے کہ ایک دوسرے کی مسجد پر کیسے قبضہ کیا جائے۔ اس ڈر اور خوف کی وجہ سے ہر فرقہ والا اپنی جگہ ہوشیار رہتا ہے اور کسی دوسرے فرقہ والوں کو اپنی مسجد میں قدم نہیں رکھنے دیتا۔ او راب ہو یہ رہا ہے کہ جیسے جیسے نئی مذہبی جماعتیں بن رہی ہیں او رنئے فرقہ پیدا ہورہے ہیں اس طرح سےمسجدوں کی تعد اد بھی بڑھ رہی ہے اور اس لئے اب ہر محلّہ میں 4 یا 5 مسجدیں بالکل قریب قریب ہوتی ہیں کہ جن کے مینار وں پر طاقتور لاؤڈ اسپیکر ز نصب ہوتے ہیں ہر مسجد میں موذن امام سے لے کر ایک مدرسہ بھی ہوتا ہے ۔ معاشی طور پر مسجد اپنے اخراجات پورے کرنے کے قابل ہوتی ہے کیونکہ یہ آمدنی دوکانوں سے آتی ہے اور مزید چندہ کے ذریعہ اس آمدنی کو بڑھایا جاتا ہے۔

اسلامی دور کےابتدائی زمانہ میں مسجد سیاسی و سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہوا کرتی تھی لیکن فرقہ وارانہ تعصّبات اور نفرتوں کی وجہ سے مسجد کا درجہ اب وہ نہیں رہا بلکہ اس کے برعکس اب مسجد میں مذہبی جذبات کو ابھارا جاتاہے اور دوسرے فرقوں کے خلاف نفرت کو پیدا کیا جاتا ہے۔

موجودہ دور میں مسجد کی اس اہمیت کو محسوس کرتےہوئے آمرانہ حکومتوں اور جمہوری رہنماؤں نے بھی مسجد کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

حکومت نے محکمہ اوقاف قائم کرکے بڑی بڑی اور اہم مساجد کواپنی نگرانی میں لے لیا ہے اور اب یہاں پر امام و موذن اور خطیب کا تقرر بھی حکومت کی جانب سے ہوتاہے ، حکومت کےتنخواہ دار ہونے کی حیثیت سےمسجد کے یہ امام و خطیب اب ہر حکومت کو چاہے وہ فوجی ہو، آمرانہ ہو ، یا جمہوری اس کی حمایت کرتے ہیں اور اسے عین اسلامی قرار دیتے ہیں ۔ حکومت کی تبدیلی کےساتھ ان کی وفاداریاں بھی بدل جاتی ہیں اور یہ نئی حکومت کےاسلامی ہونے کی دلیل تلاش کرنے لگتے ہیں ۔

علماء اور مناظرہ

ہندوستان میں برطانوی حکومت سےپہلے عوام کے سامنے مناظرے کاکوئی دستور نہیں تھا ، علماء اور ہندو پنڈت مسجدوں او رمندروں میں مذہبی موضوعات پر تقریر یا بحث و مباحثہ کر لیتے تھے ۔ اکبر کے دور میں ضرورعلماء اور عیسائی مشنریوں کےدرمیان مناظرے ہوئے مگر یہ بھی در بار تک محدود ہوا کرتے تھے ۔ اکثر اس بات کی کوشش ہوتی تھی کہ دوسرے کے مذہب کو نہ تو برا کہا جائے اور نہ ان کی مذہبی رسومات پر حملہ کیا جائے۔ اس طرح دونوں مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے درمیان ایک قسم کا خاموش سمجھوتہ تھا وہ کسی کے مذہبی عقیدوں کوجھوٹا ثابت کرنے کی فکر میں نہیں رہتے تھے اور اس طرح انہوں نے آپس میں پر امن طریقہ سے رہنا سیکھ لیا تھا ۔

مذہبی رواداری اور امن پسندی کا اس وقت خاتمہ ہونا شروع ہوا جب عیسائی مشنری تبلیغ کی غرض سے ہندوستان اٗٓ نا شروع ہوئے مشنریوں کی جماعتیں جدید تعلیم و تربیت ، تنظیمی ڈھانچہ ،ڈسپلین ،حکومت و عہدے داروں کی سرپرستی کی وجہ سے زیادہ فعال اور موثر تھیں ۔ انہوں نے اسلام اور ہندوستان کے مذاہب کا مطالعہ اس مقصد کے تحت کیا تھا کہ ان کی خامیوں کو اجاگر کیا جائے اور ان پر حملہ کر کے انہیں شکست دی جائے۔انہوں نے چھاپہ خانے کی ایجاد سے بھرپور فائدہ اٹھایا او ربڑی تعداد میں اپنے مذہبی عقیدوں پر کتابیں اور پمفلٹس لکھے اور ان کو اٗٓزادانہ طریقے سے لوگوں میں تقسیم کیا۔ انہوں نے تبلیغ کےلئے بھی نئے نئے طریقوں کواختیار کیا کہ جس سے ہندوستان کے لوگ اب تک واقف نہیں تھے۔ مثلاً وہ بازاروں ، تہواروں ، تقریبات کے موقعوں پرلوگوں کو اکٹھا کرلیتے تھے اور ان کے درمیان کھڑے ہوکر اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنا شروع کردیتے تھے 30 مارچ 1989 ء میں لاہور ٹربیون نے لکھا کہ :

‘‘ آج یہاں پر گلیوں میں تبلیغ کرنے کا بڑا فیشن ہوگیا ہے تمام انارکلی میں ہندو، مسلمان ،عیسائی ، آریہ ، اور برہمو مبلغ بڑے خلوص اور جذبہ کے ساتھ مجمع میں گھر ے ہوئے غور سے سننے والوں کے درمیان اپنے عقائد کی خوبیاں بیان کرتے نظر اٗٓتے ہیں۔

مناظروں کا جب سلسلہ شروع ہوا تو اس کی وجہ سے علماء بھی بڑے سرگرم ہوگئے کیونکہ ان کے مذہب پرجو حملے ہورہے تھے اگر ان کاجواب نہیں دیا جاتا اور اپنے عقائد کی سچائی کو بیان نہیں کیا جاتا تو اس صورت میں عام مسلمانوں کے گمراہ ہونے کا خطرہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے نہ صرف ان سوالوں کا جواب ڈھونڈ ا کہ جو اسلام کے بارےمیں کئے جارہے تھے بلکہ عیسائیت اور ہندو مذاہب کو اس نظر سے پڑھا کہ ان میں کیا کیا کمزوریاں ہیں اور ان پر کس طرح حملہ کیا جائے۔

لیکن یہ مناظرہ صرف اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان ہی نہیں تھا بلکہ یہ مسلمانوں کے مذہبی فرقوں کے درمیان بھی ہونے لگا کہ جس میں ہر فرقہ او رمسلک کے علما ء اپنے عقائد کو دوسروں پر ترجیح دیتے تھے۔

مناظرہ کرنے کا جب فیصلہ ہوجاتا تھا تو اس کاطریقہ کار یہ ہوتا تھا کہ مخالف جماعتیں مناظر ے سے پہلے شرائط طے کیا کرتی تھیں مثلاً کتنے دن جاری رہے گا، 5 دن یا 15 دن، اور جو مباحثہ میں ہار جائے گا اسے اپنا مذہب چھوڑ کر مخالف کے عقائد کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ لیکن مناظر کے آخر میں ہمیشہ سے یہ مسئلہ ہوتا تھا کہ کوئی بھی اپنی شکست تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا تھا اور ہر ایک خود کو فاتح قرار دیتا تھا۔ اس سلسلہ میں ہر ایک یہ کوشش کرتا تھا کہ اسے مناظرہ کے آخر میں بولنے کا موقع دیا جائے تاکہ اس کے مخالف کو اس کا جواب دینے کا موقع نہیں ملے ، اور اس سے فائدہ اٹھا کر وہ یہ اعلان کردے کہ اس نے اپنے حریف کو زیر کر لیا ہے۔

عام طور سے اس قسم کے مناظروں اور مباحثوں میں دلائل کی بنیاد علمی نہیں ہواکرتی تھی بلکہ دونوں کوشش کرتے تھے کہ مذاق ، استہزا ، طنز اور لطیفوں کے ذریعہ اپنے حریف کو لاجواب کردیں ۔ جن مقبول عام موضوعات پربحث ہوتی تھی وہ حضرت عیسیٰ کی روحانیت ، تثلیث کا عقیدہ، بائبل میں تحریف و اضافے کائنات کی تخلیق ویدوں قرآن اور بائبل کے الہٰی ہونے کا ثبوت اور نجات حاصل کرنے کے طریقے۔

ویسے تو لاتعداد مناظرے مسلمانوں ، عیسائیوں اور ہندوؤں کے درمیان ہوئے مگر کچھ ایسے مناظر ے ہیں کہ جن کی تفصیلات مشہور علماء کی سوانح عمریوں میں یا اس زمانہ کے پمفلٹوں میں مل جاتی ہیں اسی قسم کا ایک مناظرہ 1870ء میں چاند پور میں ہوا اور ‘‘میلہ خداشناسی’’ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں مسلمان عیسائی اور ہندو مبلغین نے حصہ لیا ۔ مسلمانوں کی جانب سے مولانا قاسم ناناتوی (وفات 1879) اور مولانا محمود الحسن نے مباحثہ میں شرکت کی ۔

جرمن مشنری مبلغ کا رل پمفانڈر کے ساتھ جو مناظر ے ہوئے انہوں نے پورے ہندوستان میں بڑی شہرت حاصل کرلی تھی، او راس کے مد مقابل کے طور پر مولانا رحمت اللہ عثمانی کا نام آتا ہے جنہوں نے ہر بار اسے لا جواب کردیا کہا جاتا ہے کہ وہ 1854ء میں آگرہ میں اس بری طرح شکست خور دہ ہوا کہ اس کے بعد وہ ہندوستان چھوڑ کر چلا گیا۔

اس طرح ہندو مبلغوں کے ساتھ بھی مناظرے ہوتے تھے جن میں ہر بار علماء اپنی فتح کااعلان کرتے تھے ان ہی میں سےایک مناظرہ پنڈت دیا نند سرسوتی ےساتھ ہوا کہ جس میں وہ وعدہ کے باوجود شریک نہیں ہوا او راس طرح اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی ۔ جب مناظروں کاسلسلہ شروع ہوا تو مسلمانوں کے فرقوں کے علماء بھی ایک دوسرے سے بحث کرنے سے باز نہیں رہے ان مناظروں میں سب سے مشہور وہ ہے کہ جس میں مولانااسماعیل شہید ( وفات 1831) او رمولانا فضل حق خیر آبادی (وفات 1861) کےدرمیان ہوا موضوع اس کا تھا ‘‘ امکان نذیر’’ یعنی کیا خدا رسول اللہ جیسا پیغمبر پیدا کرسکتا ہے یا نہیں ؟ اس مناظرہ نے دلی کی فضا میں کافی تلخی اور کشیدگی پیدا کی، اگرچہ کسی کی واضح فتح تو ثابت نہیں ہوئی مگر دونوں کے حامی اپنے راہنما کو بر تر ثابت کرتے رہے۔ آگے چل کر یہ مناظرے دیوبندیوں ، اہل حدیث، اور بریلویوں کے درمیان بھی زور شور سے ہوئے۔

مناظرے کے اس سلسلہ نے معاشرہ پر گہرے اثرات ڈالے ۔ پہلی مرتبہ مذہبی بحثوں میں عام لوگوں کو شریک کیا گیا جس کی وجہ سے ان کامذہبی شعور بیدار ہوا اور ساتھ میں انہیں اپنی اہمیت کااحساس ہوا۔ مناظرہ کی حیثیت بہت جلد ایک مقبول ادارے کی ہوگئی کیونکہ سیر و تفریح کے کم مواقع کی وجہ سے عوام کےلئے مناظرہ ایک ایسا موقع ہوگیاکہ وہ اس میں ذوق و شوق سےشرکت کرکے مقرروں کی خطابت سے محظوظ ہوتے اور ان کے لطیفوں و فقرہ بازیوں سے لطف اٹھاتے ۔ اس سے علماء کامعاشرہ میں اثر و رسوخ بڑھ گیا کیونکہ مسلمان عوام میں یہ احساس ہواکہ علماء ان کے مذہب کا دفاع کر کے خود ان کا دفاع کررہے ہیں لہٰذا وہ علماء کو اپنا نمائندہ سمجھنے لگے اور اس کام کو کرنے کی وجہ سےا ن کی عزت پہلے سے زیادہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد سے علماء کےلئے یہ مشکل نہیں رہا کہ وہ لوگوں سےچندہ کی زیادہ سے زیادہ اپیل کریں ۔ اب اس نیک کام میں مسلمان امراء بھی حصہ لینے لگے۔

اس کےساتھ ہی مناظروں کی وجہ سے مختلف مذاہب کےماننے والوں کے درمیان تناؤ بھی پیدا ہوا اور اس تناؤ نے بعد میں فرقہ وارانہ حالات کو پیدا کیا اور خصوصیت سےہندو مسلمان معمولی سے مذہبی معاملات پر ایک دوسرے سے شدت سے لڑائی جھگڑا کرنے لگے۔

مناظروں کا سلسلہ اس وقت کم ہونا شروع ہوا جب چھاپہ خانہ کے قیام کی وجہ سے مذہبی تبلیغی لٹریچر بڑی تعداد میں چھپنے لگا اور لوگوں کو یہ مواد گھر بیٹھے ملنے لگا اس کے ساتھ ہی جب یورپی تعلیم یافتہ طبقے میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو انہوں نے ان مذہبی جھگڑوں سے خود کو دوررکھا اور اس کے مقابلہ میں سیکولر خیالات کی تبلیغ کی اس لئے آہستہ آہستہ یہ روایت ختم ہوتی چلی گئی اور آخر میں جب سیاسی تحریکیں شروع ہوئیں تو انہوں نے لوگوں کی توجہ مذہب سے ہٹا کر سیاسی معاملات کی طرف کر دی ، کیونکہ سیاسی مسائل میں ہر مذہب و عقیدے سے فرد کو دلچسپی تھی اس لےٗ اس نے سیاسی سرگرمیوں کو مزہب سے زیادہ ضروری سمجھا اور اس میں بھرپور حصہ لینے لگا۔

علماء اور وعظ

مذہبی موضوعات پر وعظ مسلمانوں کے معاشرہ میں ایک پرانی روایت ہے۔ اکثر وعظ مسجدوں میں نماز سے پہلے یا بعد میں دیئے جاتے تھے ۔ ان وعظوں کی ایک خصوصیت ہوتی تھی اور اب بھی ہے کہ ان میں قرآن و حدیث سے حوالہ دیئے جاتے تھے تاکہ لوگوں کو متاثر کیا جاسکے، اور وعظ کو اس کے ذریعہ سے قبولیت مل سکے۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان وعظوں میں مسلمانوں کو مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کو کہا جاتا تھا اور اس بات سے روکا جاتا تھا کہ وہ مذہب کے خلاف اپنی زندگی میں کوئی عمل کریں ۔

ماضی میں یہ بھی دستور تھا کہ حکمران اور امراء علماء کو اور مشہور خطیبوں کو اپنے گھروں پر مجلسوں میں بلایا کرتے تھے اور ان سے وعظ سناکرتے تھے تاکہ اس  طرح سے وہ اپنے مذہبی لگاؤ اور اپنی پرہیزگاری کو لوگوں پر ثابت کریں اور لوگوں میں ان کےبارےمیں یہ تاثر ابھرے کہ وہ نیک او رمذہبی امور کی پابندی کرنے والے ہیں ۔ وعظ کہ ان مجلسوں میں علماء کو یہ موقع ملتا تھا کہ وہ اپنے سامعین سے مخاطب ہوکر ان کی برائیوں اور ان کی لغزشوں پرانہیں ٹوکیں اور تنبیہہ کرتے ہوئے کہ وہ دنیاوی معاملات میں زیادہ نہ ملوث ہوں ، انہیں راہ راست پر لانے او رمذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کو کہتے تھے ۔ علماء کو جب ایک مرتبہ ممبر پر چڑھنے او ربولنے کاموقع ملتا تھا تو وہ خودکو سامعین سے زیادہ برتر سمجھتے تھے ، اور انہیں جس طرح سے چاہتے تھے مخاطب ہوتے تھے چونکہ اس قسم کی کوئی روایت نہیں تھی کہ وعظ کےدوران یا بعد میں اس پر تنقید کی جائے، سوالات پوچھے جائیں یا واعظ کو چیلنج کیا جائے اس لئے سامعین خاموشی سے وعظوں کو سناکرتے تھے، اور اسے مذہبی طور پر ثواب گردانتے تھے ۔ اسی ذہنیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واعظ اپنے سامعین کو برا بھلا کہتا تھا ۔ ان کی بدعنوانیوں کا ذکر کرتا تھا اور ان کی غیر مذہبی باتوں پر انہیں ٹوکتا تھا ۔

اگرچہ وعظ کےموضوعات بدلتے رہتے تھے مگر ان کا تعلق اکثر مذہبی امور اور معاملات سے ہوا کرتا تھا اور ان میں دنیا کی بے ثیاتی ، دنیاوی معاملات میں لوگوں کا زیادہ دلچسپی لینا، نماز ، روزہ، اور دیگر مذہبی معمولات سےرو گردانی کرنا ان کے محبوب موضوعات تھے ۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ لوگوں نے مذہب کی تعلیمات کو بگاڑ کر اسے خراب کردیا ہے۔ لہٰذا اسلام کی خالص روح کو دوبارہ سےلانے کی ضرورت ہے۔

ہندوستان میں جب مغلوں کا زوال ہوا ، اور ان کے ہاتھ سے سیاسی طاقت جانا شروع ہوئی تو مسلمانوں نے اسے اپنا زوال قرار دیا لہٰذ اس موقع پر علماء کو زوال کاموضوع ہاتھ لگ گیا اور انہوں نے ان کے زوال کا سبب مذہب سےدوری بتایا اور اس بات پر زور دینا شروع کیاکہ اگر وہ مذہب کو ہندووانہ رسومات سے پاک کرلیں تو ان کی زندگیوں میں تبدیلی آسکتی ہے ۔ اس قسم کی تبلیغ کرنے والوں میں سید احمد شہید اور ان کے پیروکار پیش پیش تھے۔ اور کہا جاتا ہے کہ ان وعظوں میں اس قدر تاثیر ہوتی تھی کہ وہ جہاں جاتے تھے لوگوں کو جمع غفیران کےوعظ سننے کےلئے جمع ہوجاتا تھا ۔ خاص طور سے اسماعیل شہید اس طرح سے بولتے تھے کہ لوگ وعظ سنتے ہوئے زار و قطار روتے تھے ۔

لوگوں کو جو دوسرے موضوعات پسند تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ کیوں اس دنیا میں دولت جمع کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور زیادہ دولت جمع کرنا خرابی کی طرف لے جائے گا ظاہر ہے کہ یہ باتیں ان لوگوں کو پسند آتی تھیں جو محروم تھے اور جن کے پاس دولت نہیں تھی سید احمد شہید اور ان کےساتھی اس طرح سےدولت مندوں کوبر ا کہہ کر انہیں ایک لحاظ سےاس پر آمادہ کرتے تھے کہ وہ اپنی دولت کا صحیح استعمال ان کی مدد کرکےکریں۔ بعد میں ان کے وعظوں میں پنجاب میں سکھوں کی حکومت اور اس کی خرابیوں کے بارے میں تفصیلات آنے لگیں اور مسلمانوں کو وہ اس پر آمادہ کرنے لگے کہ وہ سکھوں کے خلاف جہاد کریں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو ان کے ظلم وستم سے نجات دلائیں اور وہاں اسلامی حکومت قائم کر کے شریعت کو نافذ کریں ۔

چنانچہ اس دور میں جب کہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں آہستہ آہستہ اپنے اقتدار کو بڑھا رہی تھی اس وقت وعظ کا سننا لوگوں میں بڑا مقبول ہوگیا تھا ۔ ہر مسجد میں واعظ مذہب کے بارے میں وعظ کہتے اور اپنے سامعین کےمذہبی جذبات کو ابھارتے او رمعاشرہ کے تمام مسائل کاحل مذہبی تعلیمات میں ڈھونڈتے ۔ چنانچہ اس طرح سے سیاسی انتشار کےاس عہد میں عالم اور وعظ انتہائی اہم ہوگئے جو اپنے زور خطابت اور زبان کی خوبی سے لوگوں کو متاثر کرتے تھے۔

اس طرح سے وعظ بھی ایک قسم کی تفریح بن گیا تھا او رلوگ اس سے لطف ضرور اٹھاتے تھے مگر وعظ ان کی زندگیوں میں یا ان کے نقطہ نظرمیں کوئی تبدیلی نہیں لاسکا نہ تو وہ زوال کےاسباب کو سمجھ سکے او رنہ مسلمانوں کی اس پر أٓشوب دور میں صحیح راہنمائی کرسکے ۔ اس لئے وعظ کا سننا محض ثواب حاصل کرنے تک محدود رہا ۔

علماء اور فتویٰ

مسلمان ریاست میں مفتی کی یہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں قاضی کی رہنمائی کےلئے مختلف سیاسی و سماجی و معاشی امور پر فتوےجاری کرے۔ لہٰذا جب مغل حکومت کا خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ ایسٹ انڈیا کمپنی کو اقتدار مل گیا تو ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ دشواری پیش آئی کہ وہ اپنی رہنمائی کےلئے کس طرح فتویٰ حاصل کریں ۔ اگر چہ کمپنی نے اپنے ابتدائی دور حکومت میں مغل سلطنت کےڈھانچہ کو برقرار رکھا تھا اور اپنی ملازمت میں مفتیوں کورکھا تھا مگر بعد میں آہستہ آہستہ انہوں نے اینگلو سیکسن قانون کو نافذ کر کے شریعت کو ختم کردیا۔

اس صورت حال میں علماء نے آزادانہ طور پر مسلمانوں کی رہنمائی کےلئے فتوے دینے کا طریقہ شروع کردیا لیکن اس میں ایک خرابی یہ تھی کہ مختلف مکاتیب فکر کےعلماء ہر مسئلہ پر علیحدہ فتوے دیا کرتے تھے اور اس طرح ایک دوسرے سےان کا اختلاف ہوا کرتا تھا اورعلماء کی اسی تقسیم نے مسلمانوں کو بھی کئی جماعتوں اور حصوں میں بانٹ دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک فرقہ کےلئے جو چیز قانونی تھی دوسرے کے لئے وہ حرام یا غیر قانونی بن گئی اور اس کے بعد فتویٰ کا جواب دوسرے فتویٰ سے دیا جانے لگا کہ جس نے ایک عام مسلمان کو پریشان کردیاکہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔

اس کے بعد دوسری روایت یہ شروع ہوئی کہ ہر عالم نے اپنے فتویٰ کو صحیح ثابت کرنے کےلئے اسے حجاز کےعلماء کےپاس بھیجنا شروع کردیا جو کہ ہرفتویٰ کو بغیر تصدیق کئے اس پر اپنی مہر ثبت کردیتے تھے اور اس بنیاد پر اس فتویٰ کے صحیح ہونے کا ہندوستان میں پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے اس طرح سے فتویٰ جاری کرنے کی وجہ سے مسلمان معاشرے میں انتشار پیدا ہوگیا اور عام لوگوں کےلئے یہ مشکل ہوگیا کہ وہ ان فتووں کی روشنی میں کوئی صحیح فیصلہ کرسکیں ۔

لیکن اس دوران میں جس قسم کےفتوے جاری ہوئے ان سے اس عہد کے سیاسی و سماجی اور معاشی حالات کا پتہ چلتا ہے اور یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ کس تیزی سےبدل رہا تھا اور علماء کےلئے ان تبدیل ہوتے ہوئے حالات کو سمجھنا کس قدر دشوار ہورہا تھا ۔ مثلاً کمپنی کے ابتدائی زمانے میں جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا ہندوستان دارالحرب ہے یا دارالامان، تو مولانا عبدالعزیز (وفات 1824) نے یہ فتویٰ دیا کہ اگرچہ اب ہندوستان مسلمانوں کےلئے دارالحرب بن گیا ہے ، مگر ان کےلئے یہاں سےہجرت کرنا فرض نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک اور فتویٰ میں انہوں نے کہاکہ دارالحرب میں سود و صول کرنا اور دینا دونوں جائز ہوجاتے ہیں ۔

علماء کی اہمیت اس وقت او ربڑھ گئی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی عدالتیں قائم کرلیں اور مقدمات کا فیصلہ ان عدالتوں میں ہونے لگا ان حالات میں علماء نے اس بات کی کوشش کی مسلمان اپنے جھگڑوں او رمعاملات کافیصلہ ان سےکرائیں اور انگریزی عدالتوں سے رجوع نہیں کریں ۔ اس لئے مسلمانوں نے ہدایات کےلئے علماء کی جانب رخ کرنا شروع کردیا ۔ اگرچہ جن معاملات میں ان سے استفسار کیا جاتا تھا ان کا تعلق عقائد، رسومات، شادی بیاہ و طلاق کےمسائل جائداد کےجھگڑے، کافروں کےساتھ روابط مرتد اور باغیوں کے ساتھ تعلقات جائیداد کی خرید و فروخت اور سیاسی حالات اور ان سے متعلقہ سماجی مسائل ہواکرتے تھے ۔

ان مسائل کے حل کےلئے اور سوالات کاجواب دینے کے لئے تمام مشہور علماء نے دارالافتاء قائم کئے جہاں سےخط و کتابت یا زبانی وہ تمام ہندوستان کے مسلمانوں کو مذہب کی روشنی میں ہدایات دیاکرتے تھے اور فتویٰ جاری کرتے تھے جب چھاپہ خانہ قائم ہوا تو ان کے فتویٰ چھپنا شروع ہوگئے اور ان کی سر کولیشن بھی بڑھ گئی اس لئے تمام مشہور علماء نے اپنے فتاویٰ کو کتابی شکل میں چھاپنا شروع کردیا تاکہ ان کے ذریعہ اپنے سماجی و معاشی اور دوسرے معاملات میں ہدایات لے سکیں ۔

ہندوستان میں سیاسی آزادی کی جد وجہد کے دوران علماء بہت زیادہ سرگرم ہوگئے اور سیاسی مسائل پر انہوں نے فتویٰ دینا شروع کردیئے اس نے مزید اور الجھن پیدا کی، کیونکہ ایک طرف دیوبند کےعلماء کا فتویٰ تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہے ، اس لئے انگریزوں کو ہندوستان سےنکالنے کےلئے ہندوؤں سے تعاون کرنا چاہئے ، اس لئے ان کے پیروکاروں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ اور غیر ملکی حکومت کےخلاف ہر تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔

دیوبند کےعلماء کے اس رویہ کی احمد رضا خاں نے مخالفت کی اور انہوں نے ہندوستان کو دارالامن قرار دیا کیونکہ یہاں پر مسلمانوں کو پوری مذہبی آزادی تھی اس لئے انہوں نے ہندوؤں کے ساتھ تعاون کی ممانعت کی اور خلافت تحریک میں بھی یہ علیحدہ رہے اس طرح سے جب دیوبند کے علماء نے ہندوستان میں ایک قومی نظریہ کی حمایت کی تو مسلم لیگ کے علماء نے دو قومی نظریہ کو جائز قرار دیتے ہوئے فتویٰ دیا اور یہ دلیل دی کہ چونکہ ہندوستان دارالسلام نہیں بن سکتا ہے اس لئے پاکستان کا قیام ضروری ہے۔

پاکستان کےقیام کے بعد بھی علماء کےفتوے و د ینے کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا ہے کہ جمہوریت اسلامی ہے یا نہیں ۔ بینکنگ سسٹم اسلام کی تعلیمات کےمطابق ہے یا نہیں ۔ کثیر جماعتی نظام اسلام سےمطابقت رکھتا ہے یا نہیں اور اسلام میں مذہبی اقلیتوں کوکون سے حقوق مل سکتے ہیں؟ اس صورت حال میں سیاست سے زیادہ مذہب کی اہمیت ہوگئی ہے۔

حالانکہ دانش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ مسائل کو صرف سیاسی بنیادوں پر حل کیا جائے اور اس میں ملک و قوم کےمفاد کو پیش نظر رکھا جائے۔ معاشی معاملات کو آج کل کےمعاشی نظریات و افکار کی روشنی میں حل کیا جائے ، اگر ان مسائل کو مذہب کی روشنی اور فتوں کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے اور انتشار پھیلے گا ۔

دیکھا جائے تو فتویٰ علماء کےہاتھ میں ایک خطرناک ہتھیار ہے اور اکثر اس کا غلط استعمال ہوتا ہے ۔ وہ آسانی کےساتھ اپنے مخالفین کو کافر قرار دے دیتے ہیں اور ان کے نکاح توڑنے کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اس کے استعمال سے وہ لوگوں کے ذہنی جذبات کو اشتعال دلاتے ہیں اور اپنی حاکمیت کو قائم کرتے ہیں ۔ عیسائیوں میں پوپ کو یہ اختیار ہے کہ وہ چاہے تو کسی کوعیسائیت سے خارج کردے، لیکن ہمارے ہاں ہر عالم اپنے فتویٰ کے ذریعہ کسی کو بھی کافر قرار دے سکتا ہے اور اس کے قتل کا بھی فیصلہ صادر کرسکتا ہے۔

علما ءاور تعویذ

قدیم زمانہ میں بہت سے معاشرہ میں تحریری حروف او راعداد کو جادوئی سمجھا جاتا تھا او ریہ اعتقاد تھا کہ ان میں اس قدر طاقت ہوتی ہے کہ یہ بیماریوں کو دور کر سکتےہیں او ران کے ذریعہ سماجی او رمالی مشکلات پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ اس عقیدے پر آگے چل کر تعویذ مقبول ہوئے او رعلماء روحانی علوم کے ماہروں نے تعویذ تیار کرنے کا سلسلہ شروع کیا کہ جو درخواست گزار کی ضروریات کےمطابق ہوتا تھا اور اس کے لئے بطور تریاق کام کرتا تھا ۔

ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ تعویذ دینے کا کام صرف ان لوگوں کا ہے کہ جو خاص صلاحیتیں رکھتے ہوں اس لئے علماء نے اس پر اپنی اجارہ داری قائم کرلی کیونکہ ان کی اپنی دلیل کےمطابق وہ اپنی مذہبی قابلیت اور روحانی صلاحیت کی وجہ سے اس قابل ہیں کہ تعویذ دےسکیں اور صرف ان ہی کےدیئے ہوئے تعویذ میں اثر ہوتا ہے ۔ اس لئے بعض علماء او ران کےخاندانوں نے خاص خاص بیماریوں یا مسائل کے بارے میں تعویذ دینے میں اپنا مقام حاصل کرلیا تھا اور جب تک وہ اجازت نہیں دیتے تھے کوئی بھی تعویذ دینے کا اہل نہیں تھا ۔ اس طرح سے ایک طرف تو تعویذ دینے کےکام کی وجہ سے علماء اور ان کے خاندانوں کا اثر و رسوخ بڑھا دوسرے ان کےلئے مستقل مالی آمدنی کاذریعہ بھی ہوگیا ۔

ہندوستان او رپاکستان میں اس عقیدے کی جڑیں بڑی گہری ہیں کہ تعویذ بیماریوں ، مسائل اور پریشانیوں کا سب سے بڑا حل ہے اس سلسلہ میں پڑھے لکھے اور جاہل کی کوئی قید نہیں بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ تعویذ کے ذریعہ وہ اپنے مسائل پر قابو پالیں گے اس یقین کی وجہ سے تعویذ دینے والے عامل کو معاشرہ میں ایک خاص روحانی مقام مل گیا ، اور ساتھ ہی میں یہ اس کی آمدنی کا ایک ذریعہ بھی بن گیا اگرچہ وہ اس کو فیس کے بجائے ہدیہ کا نام دیتا ہے تاکہ اس کے وقعت لوگوں کی نظروں میں گرے نہیں اور اس کے ساتھ ایک تقدس وابستہ رہے ۔

چھاپہ خانہ کی ایجاد کے بعد بہت سے علماء نے تعویذوں کی کتابیں چھاپنا شروع کر دیں تاکہ اس طرح سے وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک جا سکیں اور یوں ان کی آمدنی کتابوں کی فروخت سے ہونے لگی ۔ لیکن اکثر لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ اس تعویذ میں زیادہ اثر ہوتا ہے جو براہ راست کسی عامل سے حاصل کیا جاتا ہے بالمقابل اس کے جو کتاب سے نقل کیاجاتا ہے ۔

لیکن تعویذ وں پر مبنی جو کتابیں چھپی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ معاشرہ میں لوگوں کےکیا مسائل ہیں اور وہ کیوں ان کاحل تلاش کرناچاہتے ہیں اکثر تو تعویذ عام بیماریوں کے بارے میں ہوتےہیں جن میں آنکھوں اور دانتوں کا درد ، بخار، خسرہ، چیچک وغیرہ شامل ہیں ۔ دوسری قسم کے وہ تعویذ ہیں کہ جو تجارت میں منافع کا باعث بنتے ہیں ، ان میں سے اکثر ایسے تعویذ ہیں کہ جو دولت مند بنانے میں مدد کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جن سے پوشیدہ اور دفن شدہ خزانے دریافت کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تیسری قسم میں عورتوں کے مسائل آتے ہیں کہ کس طرح سے محبوب کی محبت حاصل کی جائے یا مرد کس طرح سے عورت کو اپنی طرف مائل کرے اس سے کس طرح ملاقات کرے او رکس طرح اسے حاصل کرے اس حصہ میں وہ تعویذ بھی ہوتے ہیں کہ جن میں بیویاں اپنے شوہروں کی محبت حاصل کرنے کےلئے استعمال کرتی ہیں او ران کے ذریعہ اپنے رقیبوں پر غلبہ حاصل کرتی ہیں ۔

تعویذوں کے ان مجموعوں میں مردوں کی نامردی کےبارے میں بھی تعویذ ہوتے ہیں اور یہ استعمال بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنی نا مردی کیسے ختم کریں کس طرح زیادہ جنسی لذت حاصل کریں او رکس طرح اپنی مرادنگی سے عورت کو قابو میں کریں ۔

اس قسم کے تعویذوں کا ایک مجموعہ مشہور عالم احمد رضا خاں بریلوی (وفات 1915) کا ہے جس کا عنوان ہے ‘‘شمع شبستان رضا ’’ اس میں بیماریوں اور سماجی و معاشی مسائل کے تعویذوں کے علاوہ اس قسم کے تعویذ بھی ہیں کہ کرکٹ میچ کیسے جیتا جائے؟ اس کتاب کے ایڈیٹر نے اس تعویذ کےبارے میں بتاتے ہیں ہوئے لکھا ہے کہ ایک مرتبہ میرٹھ اور بریلی کے دو اسکولوں کے درمیان کرکٹ میچ ہوا کیونکہ بریلی کی ٹیم کمزور تھی اس لئے اس کے میچ جیتنے کی کوئی توقع نہیں تھی جب کچھ لوگوں نے اس سلسلہ میں احمد رضا خاں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہاکہ ٹیم میچ سے پہلے ایک دعا پڑھے جو ان کو میچ میں فتح دلائے گی چنانچہ یہ عمل کامیاب ہوا اور بریلی کی ٹیم جیت گئی ۔ یہ عمل ان کے مجموعہ میں موجود ہے اور کرکٹ میں جیتنے کے لئے شاید آج بھی با عمل ہو ۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اس سے فائدہ اٹھا نا چاہئے ۔

اس کے علاوہ اس میں اس قسم کے تعویذ بھی ہیں کہ دشمنوں کو کیسے قتل کیا جائے؟ اور ان پر کس طرح سے قابو پایا جائے؟

اگرچہ تعویذوں کےبارے میں علماء پر اختلاف بھی ہیں او رکچھ علماء اس کے قائل نہیں کہ تعویذوں کااستعمال کیا جائے، مگر تعویذوں کااستعمال ان حالتوں میں بڑھ جاتے ہیں جب معاشرتی ، سماجی اور معاشی مسائل کا کوئی حل نظر نہیں آئے ۔

خاص طور سے دیہاتی علاقوں میں کہ جہاں لوگوں کو علاج و معالجہ کی سہولتیں نہیں ہیں اور نہ ہسپتال ہیں نہ حکیم و ڈاکٹر ان حالات میں تعویذ اور عامل ان کےلئے آخری سہارا ہوتے ہیں اسی لئے پاکستان میں گاؤں دیہاتوں کی عمارتوں کی دیواروں پر عاملوں کے اشتہار ات ہوتے ہیں کہ جو ہر مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں ۔ اس لئے شادی و بیاہ کی کامیابی لڑکے کی پیدائش ناراض شوہر کی خوشنودی او رمستقبل کی خوش حال زندگی کے لئے ان عاملوں کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

آئندہ یہ تو ممکن ہے کہ لوگ بیمار یوں کےلئے ڈاکٹروں یا نیم حکیموں کے پاس جانے لگیں مگر سماجی مسائل کا حل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا نظر آتا ہے کہ تعویذوں کا اثر دیر تک قائم رہے گا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL for Twelve: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-the-society--علما-ء-اور-معاشرہ/d/106013

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,