Urdu Section(17 Mar 2018 NewAgeIslam.Com)
Significance of Patience And Thankfulness In Islam اسلام میں صبر وشکر کی اہمیت

 

کنیز فاطمہ ، نیو ایج اسلام

صبر و شکر جیسے اوصاف ایک مومن مسلمان کی نشانی ہوتے ہیں۔  زندگی کے ناخوشگوار  حالات میں ایک سچا مومن  صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور اپنے رب کے  اصولوں کے مطابق چلتے ہوئے اپنے ایمان کی حفاظت کرتا ہے ۔

 صبر کے لغوی معنی " روکنا "  اور " برداشت کرنا " کے ہیں اور اس کا مفہوم یہی ہے کہ اگر کبھی کسی مسلمان پر مشکل وقت آ جاۓ جس میں اسے پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ جاۓ تو ایسے حالات میں اسے مایوسی کا راستہ نہیں اپنانا چاہیۓ بلکہ اپنے رب  سے وابستہ رہتے ہوۓ امید کی شمع روشن رکھنی چاہیۓ ۔

عربی زبان میں صبر کا معنی ‘‘برداشت سے کام لینا’’، ‘‘خود کو کسی بات سے روکنا یا باز رکھنا ’’ کے ہیں۔اور اس کا مفہوم یہی ہے کہ کبھی کسی مسلمان پر مشکل وقت آجائے جس میں اسے دقت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے تو ایسے حالات میں اسے صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے اور مایوسی کا راستہ نہیں اپنانا چاہئے ۔ اور شکر کے لغوی معنی  ‘‘اظہارِ احسان مندی’’ اور  ‘‘جذبہ سپاس گزاری’’ کے ہیں۔

 شرعی اصطلاح میں صبر کا مفہوم یہ ہے کہ عقل کو  نفسانی خواہشات سے بچایا جائے اس کو عقل پر غالب نہ آنے دیا جائے اور اسی طرح  شریعت مطہرہ نے جو حدود قائم کئے ہیں اس  سے تجاوز نہ کیا جائے۔

اسلامی تعلیمات میں صبر اور شکر دونوں کلیدی مقام کے حامل اوصاف و اخلاق ہیں۔ اسلام نے صبر و شکر کو اپنانے پر بہت زور دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں ان دونوں کے تعلق سے جابجا تاکیدی و ترغیبی ہدایات ملتی ہیں۔

اللہ رب العزت نے سورہ آل عمران کی آخری آیت میں ارشاد فرمایا:

‘‘اے ایمان والو! صبر کرو اور ثابت قدمی میں (دشمن سے بھی) زیادہ محنت کرو اور خوب مستعد رہو، اور (ہمیشہ) اللہ کا تقویٰ قائم رکھو تاکہ تم کامیاب ہو سکو’’۔ (آل عمران، 3: 200)۔ اس  آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے چار باتوں کی تلقین  فرمائی: (۱) صبر (۲)  مصابرہ (۳) رباط (۴) تقویٰ

ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

ترجمہ : ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (القصص، 28 : 54)

صبر کرنے والوں کو  دیگر نیک اعمال کے مقابلہ بے حساب اجر سے نوازا جائے  گا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:

ترجمہ : ’’(محبوب میری طرف سے) فرما دیجئے : اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے جو اس دنیا میں صاحبانِ احسان ہوئے، بہترین صلہ ہے، اور اللہ کی سرزمین کشادہ ہے، بلاشبہ صبر کرنے والوں کو اُن کا اجر بے حساب انداز سے پورا کیا جائے گاo‘‘ ( الزمر، 39 : 10)

مندرجہ بالا آیت مقدسہ کے تحت حضرت صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:

‘حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا سوائے صبر کرنے والوں کے کہ انہیں بے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا اور یہ بھی مروی ہے کہ اصحاب مصیبت و بلا حاضر کئے جائیں گے نہ ان کے لئے میزان قائم کی جائے گی نہ ان کے لئے دفتر کھولے جائیں گے۔ ان پر اجرو ثواب کی بے حساب بارش ہوگی۔ یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے انہیں دیکھ کر آرزو کریں گے کہ کاش وہ اہل مصیبت میں سے ہوتے او ران کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے کہ آج یہ صبر کا اجر پاتے’’ (حاشیہ کنز الایمان)

اللہ تعالیٰ ہمیشہ  صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ایک مقام پر  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقینا اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے‘‘۔(البقرة، 2: 153)

حضرت مولانا حافظ صلاح الدین یوسف اپنی تفسیر احسن البیان میں رقمطراز ہیں:

’’انسان کی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں: آرام و راحت (نعمت) یا تکلیف و پریشانی۔ نعمت میں شکر الہٰی کی تلقین اور تکلیف میں صبر اور اللہ سے استعانت کی تاکید ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اسے خوشی پہنچتی ہے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے۔ دونوں ہی حالتیں اس کے لئے خیر ہیں‘‘۔ (صحيح مسلم)

صبر کی دو قسمیں ہیں: ایک محرمات اور معاصی کے ترک اور اس سے بچنے پر اور لذتوں کے قربان اور عارضی فائدوں کے نقصان پر صبر۔ دوسرا احکام الہٰیہ کے بجا لانے میں جو مشقتیں اور تکلیفیں آئیں انہیں صبر و ضبط سے برداشت کرنا۔ بعض لوگوں نے اس کو اس طرح سے تعبیر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ باتوں پر عمل کرنا، چاہے وہ نفس وبدن پر ہی گراں ہوں اور اللہ کی ناپسندیدہ باتوں سے بچنا، چاہے خواہشات و لذات اس کو اس کی طرف کتنا ہی کھنچیں‘‘۔ (ابن کثير)

صبر کی طرح قرآن مجید میں شکر کی بھی فضیلت بیان کی گئی ہے ۔شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ جذبۂ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ ارشاد باری تعالی ہے :

ترجمہ : ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘ (النساء، 4 : 147)۔ اس آیت کریمہ میں یہ بات قابل غور ہے  کہ اللہ رب العزت  نے ایمان کا تذکرہ  شکر کے ساتھ  کیا ہے اور ان دونوں کو رفع عذاب کا سبب قرار دیا۔

ایک اور آیت میں  اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

ترجمہ : ’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کروo‘‘ (البقره، 2 : 152)

حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو  اکثر قیام فرماتے اور اللہ تعالی کی عبادت  میں مشغول رہا کرتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ترجمہ : ’’کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘ (صحیح مسلم)

اس سے یہ معلوم ہوا کہ  صبر و شکر دونوں لازم و ملزوم ہیں اور اللہ رب العزت  نے ان دونوں اوصاف کا تذکرہ ایک ساتھ کیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ :  ‘‘تو وہ کہنے لگے : اے ہمارے رب! ہماری منازلِ سفر کے درمیان فاصلے پیدا کردے اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں(عِبرت کے) فسانے بنا دیا اور ہم نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے منتشر کر دیا۔ بیشک اس میں بہت صابر اور نہایت شکر گزار شخص کے لئے نشانیاں ہیں‘‘ ( السباء، 34 : 19)

حضرت مغیرہ بن عامر سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ترجمہ ’’صبر نصف ایمان ہے، اور شکر نصف ایمان اور یقین کامل ایمان ہے۔‘‘ (بيهقی، شعب الايمان)۔ یعنی یقین دونوں کی اصل ہے اور یہ دونوں اس کے پھل ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ہر وقت صبر و تحمل کی سواری پر سوار رہیں، مصائب، تکالیف، پریشانیاں اور غم آتے رہیں گے مگر ہر موقع پر ہمارا درماں صبر ہی ہے اور ہر حال میں اللہ کا شکر بجالائیں یہی ہمارے ایمان کی لذت ہے ۔الله تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبروشکر  کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم !!

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/kaniz-fatma,-new-age-islam/significance-of-patience-and-thankfulness-in-islam--اسلام-میں-صبر-وشکر-کی-اہمیت/d/114626

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism