Urdu Section(25 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)
ISIS Sympathisers In India Have Started Resurfacing: ہندوستان میں داعش کے حامی پھر سر اٹھانے لگے ہیں : نادیہ مراد کو نوبل پرائز اور اقوام متحدہ کے ذریعہ نادیہ کی حمایت کی مذمت داعش کے حامی کالم نویس نے کی


نیو ایج اسلام ایڈٹ ڈیسک

داعش نے اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان 30جون 2014ء کو موصل میں کیاتھا اور اس کے بعد انہوں نے پورے مشرق وسطی میں دہشت پھیلا دی تھی ۔ انہوں نے غیر مسلموں کو قتل عام کیا اور ہزاروں عورتوں کو یرغما ل بنالیا اور ان کے ساتھ جنسی غلاموں جیسا سلوک کیاگیا ۔ حتی کہ انہوں نے ان مسلمانوں کو بھی قتل کیا جو ان کے مسلک یا نظریات سے اتفاق نہیں رکھتے تھے ۔بہت سے صوفیو ں کے مزارات کو مسمار کیا، صحابہ کی قبروں کی بے حرمتی کی اور یہاں تک کہ پیغمبروں کے مزارات کو بھی مسمار کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ شرک کو مٹارہے تھے ۔بہت سی مسلم تنظیمں اور علماء ان کی نام نہاد خلافت سے متاثر ہوئے اور کھلے اور چھپے طور پر اس کی حمایت کی ۔ہندوستانی اردو میڈیا نے بھی ان کی حمایت میں مضامین اور خبریں شائع کیں اوران کی خلافت کو خلفائے راشدین کی خلافت کی توسیع کے طور پر پیش کیا۔ اسلامی تنظیموں اور علماء نے ان دہشت گردوں کو اسلام کا سچا علمبردار بنا کر پیش کیا جس سے مسلم نوجوان ان کی طرف راغب ہوئے اور کئی نوجوان داعش میں شامل ہوگئے ۔


نیوایج اسلام نے داعش کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی اور حکومت اور عوام کو اس کے خطرناک عزائم اورغیر اسلامی سرگرمیوں اور اسلام کی غلط تشریحوں سے مسلسل آگاہ کرتارہاتھا۔اس نے روز اول سے ہی مسلمانوں اور حکومت کو آگاہ کیاتھا کہ داعش اسلام کے دشمن ہیں اور وہ اسلام کی شبیہ خراب کرنا چاہتے ہیں ۔نیوایج اسلام نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ملک کو داعش کے منفی اثرات اور دہشت گردی سے بچانے کے لئے اس تنظیم پر ملک میں فوری طور پر پابندی لگائے ۔تاخیر سے ہی سہی ، حکومت نے فروری 2015ء میں اس پا پابندی عائد کی ۔

اس پابندی کا عائد ہونا تھا کہ اردو میڈیا میں داعش کی حمایت میں مضامین آنے بند ہوگئے ۔ نام نہاد صحافیوں ، داعش کے حامی علماء اور اسلامی تنظیموں نے خاموشی اختیار کرلی ۔ کئی داعش حامی صحافی قانون کی گرفت سے بچنے کے لئے صوفی تنظیموں میں شامل ہوگئے اور سیکولر عنوانات پر مضامین لکھنے لگے ۔

بہرحال، حالیہ دنوں میں اردو کے اخبارات کے مضامین اور خبروں کے تیور سے یہ اندازہ ہورہاہے کہ داعش کے حامی پھر سے ملک میں سر اٹھانے لگے ہیں ۔اخباروں اور صحافیوں نے دبی زبان میں داعش کی حمایت میں مضامین اور تجزیاتی مضامین شائع کرنے لگے ہیں ۔ان میں داعش کا دفاع کیاجاتاہے اور داعش کے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کو اسلام کا دشمن قراردیاجاتاہے ۔اسی طرح کا ایک مضمون حال میں ایک اردو اخبار ’’اخبار مشرق ‘‘ (کلکتہ) کے ۹ نومبر کے شمارے میں شائع ہواہے جس کے مضمون نگار منیر احمد (ٹمکور ) ہیں ۔منیر احمد نے اس مضمون میں جس کا عنوان ہے ’’نوبل انعام یافتہ نادیہ مراد کون ہیں‘‘ میں نادیہ کو امن کا نوبل انعام دینے پر اقوام متحدہ کی مذمت کی ہے اور عصمت دری کی شکار نادیہ مراد کو اسلام کی دشمن ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ داعش نے اس کی عصمت دری اس کی اسلام دشمنی کی سزا کے طور پر کی ہے ۔اس لئے اس کی عصمت دری جائز ہے ۔انہوں نے یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کی کہ داعش کے خلاف لکھنا یا بولنا اسلام کے خلاف لکھنے یا بولنے کے مترادف ہے ۔اس سے یہ واضح ہوتاہے کہ منیر احمد داعش کے حامی ہیں اور اس کے دہشت گردانہ نظریات میں یقین رکھتے ہیں ۔

منیر احمد کے مضمون کے اہم نکات درج ذیل ہیں :

نادیہ مراد یزیدی کرد قوم سے تعلق رکھتی ہے جو اسلاکے کے خلاف اندرونی (نظریاتی) سازشوں کا ایک حصہ ہے ۔

یزیدی لوگ شیطان اور یزید کی پوجا کرتے ہیں جس نے حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت کا قتل عام کیاتھا ۔

یزیدیوں نے مسلمانوں میں اختلافات کے بیج بوئے اور ان کے ندر تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی ۔اسی لیے خلافت عثمانیہ کے دور میں اس پر 72 مرتبہ حملے کئے گئے ۔ صدام حسین نے بھی ان پر حملہ کیا۔ اب داعش نے بھی اس قوم پر حملہ کیا۔اس حملے میں ہزاروں افراد مارے گئے اور بہت سی لڑکیوں کو اغوا کرلیاگیا اور ان کی عصمت دری کی گئی اور نہیں فروخت کیاگیا۔انہی میں سے ایک نادیہ مراد تھی ۔ بعد میں وہ داعش کے قبضے سے بھاگ نکلی اور اپنی جیسی ظلم کی شکار لڑکیوں کی حمایت میں مہم چلائی ۔

ان کے ساتھ ہوئے ظلم کی خبریں یورہپ میں شائع ہوئیں ۔ ٹی وی چینلوں نے خاص طور سے انکی داستان کو نشر کیا۔اور داعش کی آڑ میں اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی ۔داعش کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیاگیا۔ نادیہ نے جذباتی انداز میں اپنی داستان پیش کی ۔

بالاخر اسے اقوام متحدہ نے اپنے پلیٹ فارم پر تقریر کرنے کی اجازت دی ۔اسے امن کا نوبل پرائز دیا گیا ۔ دیگر ممالک نے بھی انعام دیا ۔

شیطان کی پوجا کرنے والی اس یزیدی عورت کا یہی اصل چہرہ ہے ۔اس طرح مغرب نے پھر ایک بار اسلام کو بدنام کرنے والی ایک عورت کو انعام و اکرام سے نوازا ہے ۔انہوں نے اسلام کے خلاف لوگوں کو بھڑکایاہے اور اسلام کا مذاق اڑانے والوں کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔

ان لوگوں نے اس سے قبل پاکستانی سائنس داں عبدالسلام کو بھی نوبل پرائز دیا تھا جبکہ وہ قادیانی تھا۔

مغربی ممالک رہہنگیائی مسلمانوں کی آہ وبکا کو نہیں سنتے مگر مٹھی بھر یزیدی قوم کے افراد کی کہانی کو پھیلاتے ہیں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں ۔

کالم نگار نے اس مضمون میں داعش سے اپنی ہمدردیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے مگر بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔وہ کہیں بھی یہ نہیں لکھتے کہ داعش نے مسلمانوں کا قتل عا م کیا اور ان کی عورتوں کی عصمت دری کی ۔ انہوں نے عزت گھر کی لڑکیوں اور عورتوں کو اس جنگ میں شامل ہونے کی دعوت دی اور جہاد کے نام پر ان کے ساتھ عیاشی کی ۔انہوں نے یہ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے کہ نادیہ مراد اسلام کی دشمن ہے اس لئے داعش کے ذریعہ اس کا ریپ غلط نہیں تھا ۔وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ داعش نے وہی کیا جو خلافت عثمانیہ اور صدام حسین نے ان کے ساتھ کیا تھا ۔

در حقیقت اقوام متحدہ کے ذریعہ نادیہ کی حمایت اور اسے نوبل پرائزسے سرفرازی نے داعش کے مظالم کو ایک بار پھر دنیا کے سامنے واضح کردیا ہے اور اس کی کالی کرتوتوں کو نادیہ نے طشت از بام کردیا ہے اس لئے ہندوستان میں داعش کے حامیوں میں بے چینی پھیل گئی ہے ۔منیر احمد بھی داعش سے اپنی ہمدردی کو چھپانہیں سکے کیونکہ ان کی نگاہ میں داعش اسلامی خلافت کے حقیقی علمبردار ہیں ۔

کالم نگار کی نگاہ میں وہ تمام عورتیں جو داعش کے ذریعہ قتل کی گئیں ، ریپ کی گئیں اور دیگر مظالم کی شکار ہوئیں وہ سب اسلام کی دشمن تھیں اس لئے وہ کسی ہمدردی کی مستحق نہیں تھیں ۔انکی نگارہ میں کسی بھی غیر مسلم عورت کا ریپ اور قتل صرف محض اس لئے جائز ہے کہ وہ اسلامی عقیدے نہیں رکھتیں ۔ یہ بہت ہی خطرناک طرز فکر ہے جس کی قرآن میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔

لفظ یزیدی کے متعلق بھی عام طور پر لاعلمی کی وجہ سے غلط فہمییاں ہیں ۔ دراصل اس قوم کانام ایزدی قوم ہے۔ ایزد فارسی کا لفظ ہے جس کا معنی خدا ہے اور ایزدی کا معنی خدا پر ایمان رکھنے ولا۔ یہ قوم توحید پرست تھی مگر بعد میں دوسری قوموں کی طرح بھی اس قوم میں بہت سے غلط عقائد داخل ہوگئے ۔ یہ قوم اسلام کے ظہور سے قبل ہی دنیا میں موجود تھی اس لئے یہ کہنا کہ یہ اسلام کے خلاف کسی سازش کا حصہ ہے لاعلمی پر مبنی ہے ۔اگر کسی قوم کے عقائد اسلامی عقائد سے میل نہیں کھاتے تو اس قوم کے افراد کو اسلام کا دشمن نہیں کہاجاسکتا۔لفظ یزید کا استعمال کرکے اس کے صحیح تلفظ کے متعلق عوام کو نہ بتاکر منیر احمد یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ لوگ قاتل امام حسین یزید کے حامی ہیں ۔ تاریخ میں کہیں یہ ثابت نہیں ہے کہ خلافت عثمانیہ نے ان کی عورتوں کے اغوا اور ریپ کو درست قرار دیاتھا ۔ صدام حسین کی کردوں سے لڑائی تھی مگر وہ سیاسی تھی نہ کہ مذہبی اور ان کے دورمیں بھی یزیدی عورتوں کے ریپ کے معاملات نظریاتی طور پر سامنے نہیں آئے تھے ۔منیر احمد جیسے نام نہاد کالم نویسوں کا حقوق انسانی کے تئیں بیزاری افسوسناک ہے اور ان کے مسلم ہونے پر ایک بد نما داغ ہے ۔

یہ مضمون اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ ہندوستان میں داعش کے حامی پھر سے سر اٹھانے لگے ہیں اور نفرت ، تشدد اور دہشت کی آئیڈیالوجی کی اشاعت کرنے لگے ہیں ۔اس نئے منظرنامے کا تجزیہ ضروری ہے تاکہ اس کے منفی اثرات کا پتہ لگایاجاسکے ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/new-age-islam-edit-desk/isis-sympathisers-in-india-have-started-resurfacing--the-nadia-murad’s-nobel-peace-prize-is-condemned-by-urdu-media-sympathetic-to-isis/d/117549

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/new-age-islam-edit-desk/isis-sympathisers-in-india-have-started-resurfacing---ہندوستان-میں-داعش-کے-حامی-پھر-سر-اٹھانے-لگے-ہیں---نادیہ-مراد-کو-نوبل-پرائز-اور-اقوام-متحدہ-کے-ذریعہ-نادیہ-کی-حمایت-کی-مذمت-داعش-کے-حامی-کالم-نویس-نے-کی/d/117554

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism