Urdu Section(23 May 2019 NewAgeIslam.Com)
Is It Permissible to invent a Religious Idea Having no Roots in Quran? کیا کوئی ایسا دینی تصور پیش کیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد قرآن میں نہ ہو؟


مصباح الہدیٰ قادری ، نیو ایج اسلام

21 مئی 2019

قرآن فہمی ایک ایسا  عنوان ہے  جس پر ماضی میں علماء نے کافی طبع آزمائی کی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔  علماء جب  بھی علوم القرآن  پر کچھ لکھنے کے لئے قلم اٹھاتے ہیں تو اپنے اپنے علمی ذوق اور فکری رجحان کے مطابق قرآنی نکات پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض اہل علم اپنی علمی استعداد کے مطابق قرآن کی لغوی تعبیر و تشریح کرتے ہیں اور بعض اہل علم روایتی انداز میں سیاق و سباق ، شان نزول ، عمل رسول ، تاریخی حقائق ، اقوال صحابہ و تابعین  اور ائمہ فن کے وضع کردہ تفسیری اصول و نکات کی روشنی میں قرآن کا مطالعہ قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

ہر شخص اپنی سمجھ اور علمی سطح کے مطابق قرآن کا پیغام سمجھنے اور آسان ترین انداز میں اسے قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ قرآن کی ایک قابل تحسین خدمت ہے۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بسا اوقات بعض اہل علم مفہوم قرآن کی تسہیل اور تعمیم میں تفسیر  قرآن کے اصول و مبادیات کا التزام نہیں کر پاتے جس کے نتیجے  میں مفہوم تبدیل ہو جاتا ہے اور بعض مقامات پر قرآن کی معنیً تحریف بھی لازم آتی ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ جب صرف لغت کی روشنی میں قرآن کی کسی ایسی آیت کی تعبیر کی جاتی ہے جس میں ایمان یا عمل کے حوالے سے کوئی اصول ، کوئی تصور یا کوئی نقطہ نظر بیان کیا گیا ہو تو محض لغت کی رو سے اس کا ترجمہ یا اس کی تعبیر و تشریح  پیش کرنے کی صورت میں فساد ظاہر ہے۔  اس لئے کہ کوئی اصول ، کوئی تصور یا کوئی نقطہ نظر محض لغت کی مدد سے نہیں سمجھا جا سکتا۔  اگر کسی آیت میں فقہی احکام و مسائل کا بیان ہو تو اسے سمجھنے کے لئے ہمیں فقہی اصول و مبادیات کا سہارا لینا ہی ہو گا،    اگر کسی آیت میں ایمان و عقیدے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہو تو اسے سمجھنے کے لئے علم کلام کا سہارا لینا ہو گا، اگر کسی آیت میں تاریخی حقائق و واقعات کا ذکر ہے تو اسے سمجھنے کے لیے تاریخ کا مطالعہ سامنے رکھنا ہو گا ، بالکل اسی طرح جس طرح ہم قرآن کی ان آیتوں کو سمجھنے کے لئے  embryology  (علم الجنین)کے اصول و مبادیات کو سامنے رکھتے ہیں جن میںانسانوں کی مادی تخلیق اور شکم مادر میں جنین کے تخلیقی مراحل کا اجمالی ذکر ہے۔

الغرض! نہ تو محض لغت کے سہارے اور نہ ہی اپنی رائے کی مدد کے قرآن کی درست ترجمانی کی جا سکتی ہے۔  میں یہ نہیں کہتا کہ قرآن کو سخت اور پیچیدہ بنا کر بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے،  بلکہ قرآن کو اس انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو لوگوں کے لئے قریب الفہم ہونے کے ساتھ ساتھ اصولی ، فکری اور نظریاتی طور پر اپنی بنیاد سے منسلک بھی ہو۔  قرآن کے بعض اجزا ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اپنی اصولی ، فکری اور نظریاتی بنیادی سے الگ کر کے  آزادانہ  طور  پر پیش کئے جاتے  ہیں تو وہ بجائے سر چشمہ ہدایت بننے کے ضلالت و گمراہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لئے کہ جب ہم قرآن کے کسی جز کو اس کی اصولی ، فکری اور نظریاتی بنیادی سے الگ کرتے ہیں تو در اصل ہم اس سے متعلق قرآن کی ایسی دیگر متعدد آیتوں کی نفی کر دیتے ہیں جو حقیقت میں اس جز کا بیان ہوتی ہیں ۔  اس کی ایک واضح مثال میں جناب نصیر احمد صاحب کے ایک کمنٹ سے دینا چاہوں گا جو انہوں نے راقم السطور کے ایک مضمون پر کیا تھا۔ وہ تقویٰ کے بارے میں اپنی رائے پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

)Taqwa is therefore "heedfulness" which means both being attentive to what one reads and being meticulous in following what one learns.(

’’یعنی تقویٰ نام ہے ’’توجہ‘‘ کا جس مطلب یہ ہے کہ انسان جو پڑھے اس پر پوری توجہ رکھے اور جو سیکھے اس پر احتیاط کے ساتھ عمل کرے‘‘۔

ایک تو وہ حصول ہدایت کے لئے خوف خدا کو ضروری نہیں سمجھتے اور نہ ہی تقویٰ کا وہ پیش کرتے ہیں جو قرآن نے بیان کیا ہے۔ تقویٰ کا یہ تصور موصوف نے کہاں سے اخذ کیا ہے خدا ہی بہتر جانے۔  انہیں اس کی تائید میں قرآن کی کوئی آیت ضرور پیش کرنی چاہئے۔  اس لئے کہ تقویٰ کے بارے میں قرآن کا جو واضح بیان ہے اس کا اس کی اس تصور سے کوئی مناسبت ظاہر نہیں ہوتی۔  قرآن کہتا ہے:

ذَٰلِكَالْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِهُدًىلِّلْمُتَّقِينَ (2) الَّذِينَيُؤْمِنُونَبِالْغَيْبِوَيُقِيمُونَالصَّلَاةَوَمِمَّارَزَقْنَاهُمْيُنفِقُونَ (3) وَالَّذِينَيُؤْمِنُونَبِمَاأُنزِلَإِلَيْكَوَمَاأُنزِلَمِنقَبْلِكَوَبِالْآخِرَةِهُمْيُوقِنُونَ (4) أُولَٰئِكَ عَلَىٰهُدًىمِّنرَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَٰئِكَهُمُالْمُفْلِحُونَ (2:5)

ترجمہ: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں، اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو - وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں - اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں - وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے۔ کنز الایمان

اس آیت میں اللہ نے واضح انداز میں ایمان بالغیب، نماز، انفاق فی سبیل اللہ، قرآن ، سابقہ کتب سماویہ اور آخرت پر ایمانا  کو تقویٰکا معیار قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی قرآن کی متعدد آیتیں ایسی ہیں جن میں تقویٰ کے جزوی اور لازمی معانی بیان کئے گئے ہیں ۔ یہاں اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ تقویٰ، متقین، اتقوا، تتقون، یتقون کے معانی میں ڈرنا ، بچنا، احتراز کرنا اور پرہیز کرنا   شامل نہیں ہے بلکہ اہل علم یہ جانتے ہیں کہ یہ تمام باتیں تقویٰ، متقین، اتقوا، تتقون، یتقون جیسے الفاظ کے لغوی معنیٰ میں شامل ہیں ۔ اور قرآن کے اندر بھی یہ معانی  اس کے دیگر مشتقات میں استعمال ہوئے ہیں ،  مثلاً:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَآمَنُواقُواأَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًاوَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌغِلَاظٌشِدَادٌ لَّا يَعْصُونَاللَّهَمَاأَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم :6)

ترجمہ: اے ایمان والو! اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس پر سخت کرّے (طاقتور) فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہو وہی کرتے ہیں۔ (ترجمہ: کنز الایمان)

URL: http://newageislam.com/urdu-section/misbahul-huda,-new-age-islam/is-it-permissible-to-invent-a-religious-idea-having-no-roots-in-quran?-کیا-کوئی-ایسا-دینی-تصور-پیش-کیا-جا-سکتا-ہے-جس-کی-بنیاد-قرآن-میں-نہ-ہو؟/d/118678

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism