Urdu Section(16 Apr 2014 NewAgeIslam.Com)
Is Ambiguity a Reward? ابہام ہی باعث ثواب ہے؟

 

 

 

 

مجاہد حسین، نیو ایج اسلام

16اپریل2014

طالبان کے درمیان پھوٹ پڑنے والی جنگ کے بارے میں جتنی معلومات پاکستانی ذرائع ابلاغ سے موصول ہورہی ہیں اُن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ لڑائی کی شدت غیر معمولی ہے اور طالبان کے درمیان جھگڑے کی اصل وجوہات اپنے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں بھتہ وصولی ، پنجابی و پشتون طالبان چپقلش اورتاوان کے لیے اغواء ہوئے لوگوں کی ملکیت جیسے اُمور ہیں۔دوسری طرف مذاکراتی ٹیم کے ارکان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ معمولی نوعیت کا جھگڑا تھا جس کو احسن انداز میں نبٹا دیا گیا ہے اور اب مزید کوئی جھگڑا نہیں ہوگا۔ظاہر ہے طالبان اور اُن کے ممدوحین کشت خون کے لیے ایسا جھگڑا بہت معمولی نوعیت کا ہی ہوسکتا ہے جس میں صرف تین دنوں میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔بعض ناقدین کا خیال ہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اس معمولی جھگڑے کو بہت زیادہ مبالغہ کے ساتھ پیش کیا ہے اور یہ طالبان کے خلاف ایک گھناونی سازش ہے۔یہ ایسے ہی جیسے ہم صدیوں پر محیط باہمی مذہبی جنگوں اور قتل و غارت کے لاتعداد واقعات کو اور اُن سے متعلقہ جزئیات کو قالین کے نیچے چھپا دینے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اکثر ایسا سب کچھ ثواب کی نیت سے سرانجام دیتے ہیں۔

اس تمام عمل کے محرکات کو بیان کرتے ہوئے ہم یہی جواز لاتے ہیں کہ اس طرح اہل ایمان کے دلوں میں وسوسے پیدا ہوں گے جو بحثیت مجموعی اُمت مسلمہ کے لیے نہ صرف مضر ثابت ہوں گے بلکہ اغیار اِن سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش بھی کریں گے۔اب اگر طالبان آپس میں گھتم گتھا ہوگئے ہیں تو اس قتل و غارت کو محض اس لیے چھپا لیں کہ اگر اِس کی جزئیات سے عام لوگ واقف ہو گئے تو اُن کے دلوں میں طالبان کے بارے میں وسوسے پیدا ہوجائیں گے اور اس طرح اُمت مسلمہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق رہے گا۔تو ثابت ہوا کہ طالبان کی باہمی قتل وغارت اہل اسلام کی اندرونی چپقلش ہے اور جو طالبان نہیں یا اُن سے متفق نہیں وہ اغیار کے زمرے میں آتے ہیں۔لہذا بہتر یہی ہے کہ اغیار ’’دو بھائیوں‘‘ کے درمیان کشیدگی سے فائدہ نہ اُٹھا پائیں۔

تاریخ عالم اس بات کی شاہد ہے کہ شاید دنیا کی کسی بھی مسلح تحریک کو اس قدر عجلت میں پذیرائی حاصل نہیں ہوئی جتنی افغانستان اور پاکستان میں گروہ در گروہ بٹی ہوئی مسلح تنظیم طالبان کو حاصل ہوئی ہے ، حالاں کہ یہ دنیا کی وہ غالباً واحد مسلح تنظیم ہے جس کے اصل موقف کے بارے میں کوئی بھی تیقن سے بات نہیں کرسکتا۔اس تنظیم کی مطبوعات نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ جن مطبوعات کو اب طالبان مطبوعات کا نام دیا جاتا ہے، اُن کے خالق دیگر ذیلی گروہوں کے نیم خواندہ افراد ہیں جو چھوٹے چھوٹے پمفلٹس، فتاوی اور غیر مستقل رسائل کی صورت میں گاہے بگاہے کچھ نہ کچھ تحریری شکل میں سامنے لاتے رہتے ہیں۔اگر ہم محض ماضی قریب کے چند طالبان رہنماوں کے ارشادات کا جائزہ لیں تو ایسی تضاد بیانی سے واسطہ پڑتا ہے کہ جس کی کوئی دیگر مثال نہیں ملتی۔

 مثال کے طور پر بیت اللہ محسود،حکیم اللہ محسود اور تازہ ترین امیر المومنین ملاں فضل اللہ کے جاری کردہ ارشادات و بیانات کو دیکھیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ اس قدر بے ربطی و تضاد بیانی کے باوجود نہ صرف اِنہیں مانا جاتا ہے بلکہ عقیدت ہے کہ روز افزوں۔اصل میں انٹرنیٹ پر بلاگز اور غیر مستقل ویب سائٹس اور قبائلی علاقوں میں منظر عام پر آنے والے طالبانی بیانات کو پاکستان کے شہری علاقوں میں موجود اُن کے ممدوحین جاری کرتے ہیں جبکہ کبھی کبھار عدنان رشید اوردیگر پڑھے لکھے عملی طالبان کی طرف سے بھی بعض تحریریں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔

طالبانی تحریروں اور اُن کے محاسن پر گفتگو کو کسی دوسرے کالم کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں، اس وقت جو موضوع ہے اس پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے ہاں طالبان تحریک اور اس کے اجزائے ترکیبی کا معروضی جائزہ نہیں لیا گیا۔مثال کے طور پر پاکستان کے کسی تعلیمی ادارے یا کسی تربیتی ادارے میں بھی اس طرح کا نصاب موجود نہیں ہے جس سے ہم طالبان اور اُن کے اتحادی گروہوں کے بارے میں کچھ جان سکیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ گذشتہ پانچ چھ برسوں میں مجھے بعض حساس اداروں،تربیتی ورکشاپس،غیر سرکاری اداروں کے لیکچرزاور اس نوعیت کے لاتعداد پروگرامز میں جانے کا اتفاق ہوا ہے جہاں موضوع بحث پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ جنگ و جدل تھا، لیکن ہمیشہ بنیادی تاریخی واقعات اور انتہائی عام قسم کی معلومات سے آگے بڑھنے کو کوئی تیار ہی نہیں ملتا۔

ایسی صورت حال میں گفتگو کا جو حال ہوسکتا ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ذرائع ابلاغ عمومی تصور کی تیاری میں نہایت بنیادی کردار ادا کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ مطالعے کا عمومی رحجان بھی بنیادی سماجی شعور اور مسائل سے آگہی فراہم کرتا ہے۔لیکن ہمارے ہاں جدید تعلیم اور تصور سازی کا تمام تر کام ذرائع ابلاغ نے اپنے سر لے لیا ہے اور حیران کن امر یہ ہے کہ ہم نے اس کو بہت متانت اور تابعداری کے ساتھ قبول بھی کر لیا ہے۔چونکہ معلومات اور علم کا کوئی دوسرا متبادل سماجی سطح پر مفقود ہے اس لیے ذرائع ابلاغ سے حاصل شدہ علم کو ہی کافی قرار دیدیا گیا ہے۔جو کچھ ہمارے ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں وہی علم ہے اور اُس سے آگے یا ادھر اُدھر علم کو کوئی وجود نہیں۔ہم یہ سوچتے تک ہی نہیں کہ ہمارے ذرائع ابلاغ ہمیں لاحق مسائل میں سے نوئے فیصد کا ذکر بھی نہیں کرسکتے اُن کے بارے میں عمومی آگہی تو بہت دور کی بات ہے۔

مثال کے طور پر کیا کسی اخبار یا ٹیلی ویژن پر پاکستان میں گذشتہ تین عشروں سے جاری مہلک فرقہ وارانہ جنگ کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہو سکتی ہے؟عام لوگوں کو یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اس فرقہ وارانہ جنگ کے اصل محرکات کیا تھے؟ کون کون اس میں ملوث تھا اور آج بھی ہے؟ کس نے کس کو کس قدر مسلح کیا اور تربیت فراہم کی؟ کون کون سے عہدیداروں نے اپنے دور اقتدار میں فرقہ پرستوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا؟ آج کتنے خاندان ایسے ہیں جن کا اس جنگ میں سب کچھ اُجڑ چکا ہے، اُن کا کیا حال ہے اور وہ کیونکر اس حال کو پہنچے ہیں؟سرکاری اداروں نے پاکستان میں انتہا پسندی میں کیا کردار ادا کیا ہے؟ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا اس حوالے سے کیا کردار ہے؟ہمارے سماج کے بااثر افراد ، اداروں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس سلسلے میں کیسا کردار ادا کیا ہے؟فرقہ واریت صرف ایک موضوع ہے اس طرح کے سینکڑوں موضوعات ہیں جن پر کہیں بھی نہ کچھا لکھا جاسکتا ہے، نہ بولا جاسکتا ہے اور نہ ہی اِن پر کسی کھلے مذاکرے کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

آپ کسی بھی محفوظ ترین سطح پر اِن موضوعات پر گفتگو کرکے دیکھ لیں، اول تو کوئی سننا ہی نہیں چاہے گا اور اگر ناچار سن بھی لے گا تو یقین کرنا محال ہوگا اور اگر وہ آپ سے متفق ہو بھی گیا تو اس کا آخری مخلصانہ مشورہ یہی ہوگا’’ چھوڑو اِن موضوعات کو کیوں اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہو‘‘ لیکن اجتماعی رائے یہی ہوگی ’’ایسی باتوں سے کیا فائدہ؟ یہ آپس کے اختلافات اور باہمی کمزوریاں ہیں، اِن کو نشر نہ کرو، اِن سے ہم سب کو نقصان ہوگا اور اغیار فائدہ اُٹھائیں گے‘‘

مجاہد حسین ، برسیلس (Brussels) میں نیو ایج اسلام کے بیرو چیف ہیں ۔ وہ حال ہی میں شائع شدہ کتاب ‘‘پنجابی طالبان’’  سمیت نو کتابوں کے مصنف ہیں۔  تقریبا دو دہائیوں سے وہ تحقیقاتی صحافی کی حیثیت سے معروف اخبارات میں لکھ رہے ہیں۔ ان کی تحریریں پاکستان کے سیاسی اور سماجی وجود اوراسکے  اپنی تشکیل کے فوراً بعدسے ہی مشکل دور سے گزرنے سے متعلق موضوعات کا وسیع پیمانے پر احاطہ کرتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں مقامی، علاقائی اور عالمی سطح پر دہشت گردی اور سلامتی سے متعلق امور ان کے مطالعہ کے خصوصی شعبے رہے ہیں۔ مجاہد حسین کے پاکستان اور بیرون ملک کے سنجیدہ حلقوں میں کافی قارئین ہیں۔ آزاد اور غیر جانبدارانہ طرز فکر کو ماننے والے مصنف مجاہد حسین، بڑے پیمانے پر طبقوں، اقوام، اور انسانیت کو درپیش چیلنجوں کا ایماندارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/mujahid-hussain,-new-age-islam/is-ambiguity-a-reward?-ابہام-ہی-باعث-ثواب-ہے؟/d/66569