Books and Documents(13 Jul 2012 NewAgeIslam.Com)
(Yoga Vashishta Tr. Prince Dara Shikoh -1) جوگ بسشت: بیراگ پرکرن : بسوامترا کا رامچندر کو مانگنا

 

Yoga Vashishta, Translated from Sanskrit into Persian by Prince Mohammad Dara Shikoh

جوگ بسشت

منہاج السّالکین

قدیم

شہزادہ محمد دارا شکوہ

ترجمہ

ابوالحسن

خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ

 

تقسیم کار

صدر دفتر

 مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،جامعہ نگر، نئی دہلی ۔۔۔110025

شاخیں

مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، اردو بازار ،نئی دہلی ۔۔۔۔110006

مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، پرنسس بلڈنگ ،بمبئی ۔۔۔۔400002

مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، جامعہ لمیٹڈ ،یونیورسٹی ،مارکیٹ ،علی گڑھ ۔۔۔202001

1992

قیمت : چالیس روپے

لبرٹی آرٹ پریس (پروپرائٹر ز مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ ،نئی دہلی میں طبع ہوا

حرفے چند

ایک دوسرے کو سمجھے بغیر ،اندھوں ،بہروں، اور گونگوں کی زندگی گزارتے ہیں ایک عرصہ بیت گیا ۔

دیوالی مبارک ہو، کی جگہ، محرم مبارک ہو ،سننے کی نوبت بھی آچکی ۔ یہ آخر کب تک ! کب تک ہم دیوار سے

دیوار ،دوکان سے دوکان ملے کے پڑوسی ایک دوسرے کے لیے انجان بنے رہیں گے ، اور پھر اجنبی بن کر ایک

دوسرے کو بھنبھوڑ تے رہیں گے ، ایک دوسرے کا خون پیتے رہیں گے ۔شاید اکثر جانور باہم ایک دوسرے

کو ہم نے بہتر سمجھتے ہیں ۔شاید اسی لئے جانور کی اکثریت ہم سے شریف تر ثابت ہوتی جارہی ہے۔

شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے مری بات!

اردو والے کتنے زندہ تھے کبھی ! اور اردو کتنی ثر وتمند زبان رہی ہے، اور کیسی شان

سے سینہ تان کے پورے دیش میں سب سے بڑی سیکولر زبان ہونے کی مدعی بن سکتی ہے۔

اس کا کچھ اندازہ ان کتابوں سے لگتا ہے جو ہم یکے بعد دیگر ے پیش کریں گے۔ ان میں سے ایک آج پیش خدمت ہے

۔۔عرب

دستخط

ڈاکٹر عابد رضا بیدار

ڈائریکٹر ، خدا بخش اورینٹل لائبریری

پٹنہ ، بہار

(1)

 

بعون صناع مکین         ومکان وفضل خلاق زمین و زمان

مجموعہ معارف وحقائق ذخیرہ ٔ اسرا ر ووقائس مشعل

راہ سالکین دستاویز مستندد عارفین الموسوم بہ

منہاج السالکین

          ترجمہ

جوگ بسشت

ترجمعہ عالم ربانی خضر طریقت نروانی جناب مولانامولوی ابوالحسن

صاحب تربیت وصحبت یافتہ جناب سیّد مظفر علی شاہ صاحب قد سرو

مطبع نامی منشی نول کشور واقع میں لکھنوطبع ہوا

(2)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ہمارا شکرا ور احسان اسی حضرت کی نذہے جس کے نور سے دنیا کے سارے ذرے چمک دمک رہے ہیں اور کائنات کی مورتیں اسی کی قدرت کے پردہ میں دلہن کی طرح گھونگھٹ کیے ہیں ۔بڑی ہی شان اس کی اور عظیم ہی برہان  اسکی اور بیحد درد وجس میں دکھلاوٹ اور بناوٹ کا ذرا میل نہیں اس دربار کے نثار میں جس کے جمال دکھلانے کی خاطر دنیا کے عجائبات کی سجاوٹ ہے اور جس قدر پیدائش ہے اسی کے نور کی پھیلاوٹ ہے پھر عالی ثراد صاحبوں کو معلوم ہوکہ سابق میں جو عالموں نے جوگ بسشٹ کا

(3)

ترجمہ کیا تو فقط سنسکرت کے الفاظ کے معنی لکھ دیے اور اس کتاب کی باریک بانون پر اُن صاحبوں نے غور نہیں فرمائی اور فائدے اس کے جو اصل مطلب تھے  نہیں کھلے اس لیے سنہ ایک ہزار  چھیا سٹھ میں  ارشاد فرمایا حضور جہان پناہ بلند اقبال خدا گاہ محمد دارا شکوہ خلف شاہجہان بادشاہ نے خدا ان کے ملک و سلطنت کو رکھے اور جو صاحب ولایت اور جوہر مقدس ہیں سلاطین میں انتخاب اور اولیٰ الامر خلفا کے جانشیں قدرت کے نمونے اور زمانے کے اچھّون میں بڑھے چڑھے ۔ ایوان اطلاق کے محرم کا ر اخلاق اور محبت کے ان میں سب  اثار ہیں فرمایا کہ ترجمے جو پہلے ہوئے ہیں اس سے مایا کے چاہنے والوں کو فائدہ نہیں ملتا میرا جی چاہتا ہے کہ اس مقدس کتاب کا اس سے بہتر ترجمہ ہوا ور ان حضرات کے کلام اس تحقیق کے موافق درج ہوں جو اکثر موفون پرہم بیان کریں ۔ اور اس بڑے کام کے اہتمام کا باعث یہ تھا جو فرمایا کہ اس کتاب کے انتخاب کا ترجمہ جو شیخ صوفی کے ساتھ منسوب ہے  ہم نے مطالعہ کیا تو رات کو خواب میں دیکھا کہ دوبزرگ قبول صورت ایک اونچے پر دوسرے کسی قدر ان سے نیچے کھڑے معلوم ہوئے  جو اونچے پر کھڑے تھے بسشٹ تھے اور دوسرے رامچند ۔ اور ان دونوں بزرگ کی صورت میں جو تفاوت دیکھا گیا تھا کہ بسشٹ کی داڑھی میں تھوڑے سفید بال تھے اور رامچند  کی داڑھی میں بال نہ تھے چونکہ اس کتاب کے دیکھنے سے مجھے فائدہ حاصل ہوا تھا بے اختیار بسشٹ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آداب تسلیمات بجا لا یا بسشٹ نے نہایت مہربانی سے ہاتھ میری پیٹھ پر رکھا اور فرمایاکہ اے رامچند سچا طالب ہے اور سچی طلب میں تیرا بھائی ہے اس سے بغل گیر ہو رامچند کمال محبت کے ساتھ مجھے سے ملے اس کے بعد بسشٹ نے رامچند کے ہاتھ میں مٹھائی دی تاکہ مجھے کھلادے میں نے  وہ شیرینی کھائی اس خواب کے دیکھنے پر ترجمہ کی خواہش از سرنو زیادہ ہوئی اور دربار عالی کے حاضرین میں سے ایک شخص مقرر اس خدمت پز ہوا اور ہندوستان کے پنڈتوں نے جو روایت سچے اور تحریر تقریر کے اچھے اور اپنے وقت کے بڑھے چڑھے تھے اس کتاب کے اسرار لکھنے میں اہتمام اور انصرام کرایا اور ایک نسخہ نہایت چھان بین اور پختگی سے لکھ کر یہ ٹھہرا یا کہ اس کی اصل باتیں  بخیسہ اس کتاب کی اصل ہوں اور تقریریں گیتا اور جوگ شاستر اور دوسرے پرانوں سے بڑھائی جائیں اور بعض ہندی الفاظ جو ترجمہ میں ایک بار فارسی لفظوں سے بولے گئے وہی الفاظ کبھی

گیتا ایک کتاب کا نام ہے جس میں حقائق اور معارف تحریرہیں اور کشن یعنی کنھیا نے راجہ باندہ کے بیٹے ارجن کو ارشاد کیے 12پرُان وہ کتاب ہے جس میں اسلاف کا احوال ہو جیسے شاہان نامدار اور عارفان خدارسیدہ 12

(4)

ضرورت کے وقت دوسری جگہ بھی   لکھے جائیں اور کبھی سابق کی شرح پرنظر کی جائے اور بخیسہ وہی لفظ لائے جائیں اس واسطے کہ اصطلاحات معلوم ہوگئیں تو کوئی طریقہ ان دونوں میں سے ہو کچھ مشکل مطلب کے سمجھنے میں نہ ہوگی۔ اب کتاب کے اور اس کے معافی کی شرح کی جاتی ہے۔ یہ کتاب چھ پر کرن یعنی چھ باب پر تقسیم ہے ۔ پہلا بیراگ پرکرن۔ دوسرا مجھ بیو ہار پر کرن۔ تیسرا اتپت پرکرن ۔ چوتھا استھت پرکرن پانچوا ں ایشم پرکرن ۔ چھٹا پرمان پر کرن ۔ بیراگ دنیا و ارون کی رسوم اور عادتوں سے نفرت کرنا اور بھاگنا اور مجھ بیوہاران مراتب سے پیچھا چھڑا نے کا بندوبست کرنا اور اتپت دنیا کے ظہور کی شروعات اور استحصت دنیا کے ظہور کی پایداری اور ایشم دنیا کے ظہور کا خاتمہ ۔ او رپرہان مکت یا نجات ہے باربار کے اوتار سے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

        اس کتاب میں6 باب ہیں اور اسے مزید  مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے

        جوگ  بسشت

1 بیراگ پرکرن       صفحہ4-26

             بسوامترا کا رامچندر کو مانگنا     صفحہ 4-16

            بسوامترا رامچندر مکالمہ (حصہ ایک) صفحہ 16-24

            بسوامترا رامچندر مکالمہ (حصہ دو) صفحہ 24-33

            مہا پرلے کی نشانیاں صفحہ 33-40

            رام چندر کا کلام  صفحہ 40-48

              سکھدیو کی حکایت صفحہ  48-57

               کامدہین  اور راجہ ہر چند کا واقعہ صفحہ 57- 62

  2              مجھ بیوہار پرکرن

نِت اور انِت کی تحقیقات صفحہ   63-74

شبم، بچار،  سنتوکھ  اور سادہ سنگم صفحہ 74-82

3   اتپت پرکرن صفحہ  83-193

عالم کی مود اور ظہور کی ابتدا صفحہ  83-93

فلسفہ اتپت صفحہ 93-99

جیون مکُت کا گیان صفحہ 100- 105

حکایت منڈپ پاکھان صفحہ106-124   

 دوسرے آکاس میں سرستی اور لیلا صفحہ 125-140

راچھسنی یعنی شیطانہ کی حکایت صفحہ  141- 157

حکایت برھما صفحہ 157-163

 اندر اور اہلیا کی حکایت صفحہ 172 163-

دل کی داستان صفحہ182  172-

دل کے وجود کا  سبب اودّیا صفحہ 183-193

4    استھت پرکرن صفحہ193-229

شوکر کی حکایت صفحہ 193-203

باسنا میں پھنسناصفحہ215 203-

اودّیا کا دور کرنا صفحہ  215- 221

واشور برہمن  کی حکایت صفحہ 221-229

5   ایشم پرکرن صفحہ 230-265

سدّھ کی باتیں صفحہ 229-240

راجہ بل کی حکایت صفحہ 240- 247

اودھ میں ایک برہمن کی حکایت صفحہ259 247-

کابل میں  اکال صفحہ  259-265

6   پرمان پرکرن صفحہ  266-319

اودّیا کی اقسام صفحہ 265-277

بسشٹ کاکیلاس پہاڑ کے اندر عبادت صفحہ 277- 286

راجہ بھاگیر تھ کی حکایت صفحہ 286-301

سرب تیاگ   صفحہ 301-319

 

بیراگ دنیا وارون کی رسوم او رعادتوں سے بھاگنا اور نفرت کرنا

بیراگ پر کرن کی شروعات

بالمیک کتاب جو گ بسشٹ کے مصنف فرماتے ہیں کہ سجدہ میرا اسی کے سامنے ہے کہ زمین اور آسمان میں اور ان کے درمیانی چیز وں میں اندر اورباہر اس کو عیاں دیکھتا ہوں اور وہی ہے سب چیز و ں کا احاطہ کرنے والا اور وہی ہے آپ گیا اور ہی ہے روح اعظم ۔ اس کتاب کے لائق وہی ہے جو آپ کو بندھو اجان کر رہائی کا ارمان رکھے اور نہ وہ اس قدر بھّدی سمجھ کا ہو کہ چاہے کتنا ہی اس کو سمجھا دیں اور پھر بھی نہ سمجھے اور نہ  ایسا ہو کہ معرفت کی حد کو پہنچ گیا کہ اس کتاب کا محتاج نہ ہو بالمیک کا ایک شاگرد تھا بھردواج نام اس نے ایک دن اکیلے گڑِ گڑِ ا کر استاد سے پوچھا کہ اے حضور علامہ رامچند ر معرفت اور آزادی میں کہ جیون مکت  ہے کامل ہوکر راج کاج میں کس طرح جی لگاتے تھے اس کی حکایت جو تحقیق ہو بیان فرمائیے ۔ بالمیک بولے سچا رامچندر کی حکایت جو پوچھی تجھے میں بیان کرونگا اور اس کے سننے سے تیری ناواقفیت جاتی رہے گی رامچندر ایک بڑا، راجہ ہندوستان کے ملک میں کامل انصاف اور بہادری اور سخاوت او رمعرفت میں تھا اور اس کتاب کی تصنیف سے اصل مطلب 

یہ  قول مترجم کا ہے کہ مطالعہ کرنے والا اچھی طرح سے سمجھے  12

بیان کرنا حقائق اور معرفت الہی کا ہے جو رامچندر کی حکایت کے اندر  معلوم ہوگا ہر گاہ بالمیک نے کتاب جوگ بسشٹ رامچندر کی پیدائش کے

جیون مکت سے یہ مراد ہے کہ حالت حیات میں  مہد ا حقیقی سے جاملے اور بدن سے بھی اس کو تعلق رہے اور بدیہہ مکت یہ ہے کہ جسم کو چھوڑ دے اور مبدر سے جاملے اس واسطے کے محققان واصل کے نزدیک ثابت ہے کہ جب تک مادیات کا استعمال کرنا ہی کس قدر محجوب رہتا ہے اور صفائی کا مل اور خلوص جو ہر کا غیر ممکن ہے  12

(5)

زمانے سے بیشتر تصنیف کی تھی چاہئے سب جگہ حکایت میں لکھتے کہ ایسا اور ایسا ہوگا نہ یہ کہ ایسا اور ایسا ہوا لیکن وہ بڑے عارف تھے اور آئندہ کے واقعات کی ان کو اطلاع تھی اس واسطے ہونے والی باتوں کو ہوا لکھا ہے ۔ پہلے اشلوک میں جیون مکت یعنی رہائی قید تعلقات سے بیان ہوئی تھی اب چاہتے ہیں کہ رہائی کے حصول کا طریق بیان کریں پھر فرماتے ہیں کہ اے صاحب جہان کو جو آسمان کی رنگت کی طرح وہم اور خیال ہے ایسا بھول جانا چاہئے کہ پھر اس کی یاد نہ آوے اور ہر گز اس کا خطرہ تیرے دل میں نہ گذرے اور جب تجھے یقین ہوگیا کہ جہاں وہم اور خیال ہے اور درحقیقت اس کا وجود نہیں چاہئے کہ تو خاطر کا تعلق اس سے دور کرے اور جب یہ امر تیرے دل میں بیٹھ گیا تو انتہا درجہ کا خط کہ رہائی کا پھل ہی تجھے حاصل ہوگا او راگر خلاف اس کے جو بتلا یا عمل کرے اور اصلی غرض بھول جائے تو رہائی سے بہرہ مند نہ ہوگا اور سب سے اچھی راہ دنیا کی چیزوں کی طرف جانا ہی چاہئے وہ مزہ اور دل کا سرور ہواور چاہئے محنت اور دکھ ہو۔ اور باسنا دوقسم ہے ایک سدِّھ باسنا کہ اچھے کاموں کی چاہت اس سے ہو اور وہ تناسخ کے موقوف ہونے کا سبب ہے۔

(6)

دوسرا ملین باسنا پریشانی کا سبب اور اس کی صورت جہالت اور گھمنڈی ۔ اور سدھ باسنادل کے آرام کا سبب ہے جیسے بھنا ہوا بیج کہ ہر گز نہیں جمتا اور نہ پھل دے اور اس کو تھوڑے دن بدن کی محافظت کے لیے رکھ چھوڑ تا ہے ۔ اب رامچندر کا قصہ شروع کر کے کہتا ہے کہ رامچندر روشن دل نے جس راہ سے کہ جیون مکت کا مقام پایا تجھے بتلا تا ہوں جی لگا کر سنوں۔اس مقام کے مالک کو ناتوانی اور بڑھاپا اور موت کا خوف نہیں ہوتا ۔ رام چندر نے جب مکتب کی قید سے چھٹی پائی اور پڑھنے سے فراغت ہوا تھوڑے دن لڑکوں کی طرح کھیل کود میں  رہے اس کے بعد دل میں ان کے آیا کہ سفر کیجئے اور متبرک مقامات دیکھئے تو رخصت کی خاطر اپنے باپ  دسرتھ کے سامنے گئے اور ا ن کے قدم بوس ہوکر عرض کی مجھے تمنا اس کی پیدا ہوئی ہےکہ مقامات بزرگ کی زیارت کروں اور جنگلوں کی سیر کروں ۔ امیدوار ہوں کہ میری یہ آرز و آپ کی مہربانی سے پوری ہو آپ کے فیض سے کوئی حاجت مند محروم نہیں گیا ہے۔ اس طریقہ سے رام چندر نے رخصت باپ سے چاہی اور اپنے ساتھ بسشٹ کو لے گئے جو اس زمانے میں بڑے عارف اور رام چندر کے استاد تھے ان کی درخواست منظور کی اور رخصت دے دی رام چندر اچھی ساعت دیکھ کر بھائی سمیت گھر اور کوس منڈل سے

(7)

باہر آئے کہ اودھ کا شہر اس کو لگتا ہے اور سفر بھر اچھّے کاموں میں صدق اور صفا کے ساتھ مشغول رہتے اور فیض کے بھرے مقامات جیسے بنارس اور گنگا سے بڑے دریا اور برندا بن ایسے بیابان او رکاملون کے مقامات مثل جگناتھ اور دوار کا سی زمین اور سمندر کے کناروں اور پہاڑ کے غاروں میں سب جگہ دل کی حضور ی اور خاص توجہ سے عبادت کرتے تھے  چندروز میں شتابی سے روئے زمین اور اس کے تمام مکانات کی سیر کی اس کے بعد اودھ میں مراجعت کی جیسے مہادیو دنیا  کے چوطرفہ گھوم کر پہاڑ کیلاش میں جہاں وہ رہتے ہیں آگئے ۔ (اور مہادیو ان تینوں دیوتاؤں میں کے ہیں جو تین صفات الہی کے ظاہر کرنے والے ہیں  ایک برہما پیدائش دنیا کے  دوسرے بشن پایداری دنیا کے تیسرے مہادیو فنائے دنیا کے ظاہر کرنے والے ہیں ۔اور دیوتا دیوی لوک کی خلفت ہی جوزمین سے بہت اونچا طبقہ ہے اور بہت صفات میں فرشتوں کے مشابہ ہیں) جب اودھ میں رام چندر پہونچے لوگوں نے کلی کو چوں میں ہر طرف سے  پھول نچھاور کیے جیسے راجہ اندر کا فرزند امراوتی کے باہر سے جو اس کے باپ کا مکان ہے اندر آئے اور اندرراجہ دیو لوک کا ہے رام چندر اودھ میں پہونچنے کے بعد ہمیشہ ان مقامات کی حکایات بیان کیا کرتے جن کو وہ دیکھ آئے تھے اور ہر روز سویرے کی پوجا کر باپ کے سلام کو جاتے اور دن کے پچھلے پھر تذکرہ حقائق اور معارف کا بسشٹ اور اس کے برادر

(8)

والوں کے ساتھ کیا کرتے اور کبھی باپ کی اجازت سے شکار کو نکل جاتے اور شکار سے پھر کر ہمیشہ اشنان کرتے اور مراسم اس کے بجالا تے اور دن کو بھائی بندوں اور دوست اشناؤں کےساتھ کھانا تناول کرتے اور راتوں کو پنڈتوں کے ساتھ صحبت رکھتے اور اس مدت میں ایسے ایسے کام میں مشغول رہتے کہ بادشاہ پسند کریں اور دانا لوگ سراہیں اور معرفت کے پیاسوں کو آب حیات کا مزہ دیں اور چاند کی طرح ان کے دلوں کو نورانی کریں جب رام چندر کی عمر سولہ برس کے قریب پہنچی جس طرح بدن اس کا دبلا اور مُرجھایا ہوگیا اور بارہا ملول ہوکر دنیا کے کام کاج سے ہاتھ اٹھا لیتے اور نہایت رنج اور دردمندی سے تصویر کےموافق کسی سے کچھ بات نہ کرتے اور اُداسی اس کی یہاں تلک پہنچی کہ ضروری کام نہانے دھونے اور کھانے پینے سےبھی باز رہے مگر خدمت گار لوگ مصلحتاً اِن کا موں کی اسے یاد دلادیتے جب راجہ دسرتھ نے لڑکے کایہ حال دیکھا تو دوبارہ اسے گود میں لیا اور میٹھی باتیں کر اس سے پوچھا کہ فرزند تجھے میں بہت ملول اور آرزودہ پاتا ہوں کی درد یا غم لاحق ہوا رام چندر بولے مجھے عالم کی طرف سے اور دنیا کے کاموں سے کچھ غم اور درد نہیں ہے اس کے سوااور کچھ

(9)

نہ کہتا اس درمیان میں بشو امتر کو اس وقت کے کامل رکھیشرون میں سے  شہر اودھ میں راجہ دسرتھ کی ملاقات کے ارادہ سے آئے ( رکھشیر عابد ریاضت کش کو کہتے ہیں ) راجہ دسرتھ بسوامتر کی نورانی صورت کو دیکھ کر تعظیم کو اُٹھ کھڑے ہوئے اور سنہری کرُسی اُن کے بیٹھنے کے لئے منگائی اور نہایت تواضع او رنیاز مند ی سے پانی بھرا برتن جسے ارگہٖ کہتے ہیں اپنے ہاتھ سے ان کے سامنے رکھا جب بسوامتر کرسی نشیں ہوئے راجہ نے دوبارہ پاؤں دھونے کے لئے اشارہ کیا اور دودھ دیتی ایک گائےنذر کے طور پر حاضر کی  کہ ہندؤں کے اعتقاد میں اعلیٰ طریقہ یہی ہے ۔بڑی آؤ بھگت کے بعد جو بزرگوں کے واسطے چاہئے راجہ نے ہاتھ جوڑ کر نہایت ادب اور اخلاص سے باتیں  شروع کیں او رکہا کہ آپ کے دیدار جو یکا یک ملے بڑی دولت ہے کہ حاصل ہوئی اور آپ کی مہربانی اپنے حق میں دیکھ کر میں ایسا خوش ہوا کہ جیسے کنول کا پھول سورج کو دیکھ کر اور وہ سر ور آپ کے دیدار سے مجھے حاصل ہوا جو رہائی اور نجات کا پھل ہے ۔اور آپ کا تشریف لانا گویا آب حیات کا ہاتھ آنا ہے اور اکال کے دنوں میں جیسے  مینگھ برسے اور اندھے کو بینائی او رمُردہ آدمی کو دوبارہ زندگی مل جائے ۔ پھر راجہ نے خاطر داری کی  راہ سے پوچھا کہ جس راستے تشریف لائے کس طرح طے ہوا اور آپ کے مدنظر کیا ہے۔

(10)

اور آپ ایسے بزرگ کو نذر کیا گذرانی جائے اور آنا آپ کا یہاں پر کہ میرے اعتقاد میں امید اور خوف غم اور غصہ اور کوئی مطلب اور غرض نہیں غنیمت جانتا ہوں اور اگر کوئی مقصد دل میں ہو اسے ہنابنا جان کر اشارہ کیجئے کہ فوراً اس کا بندوبست کیاجائے اور دنیا کے اسباب سے جو خواہش ہو حاضر کروں اور جوراج کو دل چاہتا ہو تو جان ودل سے پیش کش کروں اور جو ارادہ ہو کہ مجھے اور میرے فرزند وں کو اپنا غلام بناؤ تو بھی قبول اور منظور ہے۔یہ کلام بشوا متر سن کر اس قدر راضی او رخوش ہوئے کہ خوشی کے مارے پسینا چہرے پر آگیا اور کہا اے بڑے راجہ اس طرح کی سخاوت اور جوانمردی کی نشان ہمت بلند کا ہے آپ ایسے بزرگ سے نہایت خوشنما ہی کہ دوصفت کمال کی آپ میں ہیں جو روئے زمین کے راجہ لوگوں میں سے کسی کو حاصل نہیں ایک عالی خاندان دوم تربیت بسشٹ کی مگر ان چیزوں میں سے جو آپ نے ذکر کیں میں کچھ نہیں چاہتا اور کسی دنیا کے کام سے میری خاطر کوئی تعلق نہیں ایک جگ میں نے شروع کیا ہے جو نجات کا سبب ہواور راکچھوں سے اندیشہ ہے کہیں برہم اُسے نہ کردیں ( جگ ایک خاص عبادت ہے جس سے مطالب دنیا اور آخرت کے منجملہ کوئی مطلب حاصل ہوا اور راچھس لوگ جو خلائق کا برُا چاہتے ہیں قصداً اس کو بگاڑ دیتے ہیں) اے راجہ آپ ایسے بڑے کاموں کی حفاظت کے لائق ہیں اور راچھسوں کے دفع کرنے پر نہایت

(11)

قدرت رکھتے ہیں اور میں ایک ترغیبی کے سبب جو عنقریب ظہور میں آئے گا آپ کے پاس التجا لایا ہوں کہ آپ کا ایک فرزند رام چندر نام جس کی پناہ میں تمام عالم ہے اور وہ ایک شیر بھی قوی دل اور قاتل ہے شیطانوں کا اور جو کام چاہے قدرت تام سے انجام دے سکتا ہے اور ہر چند عمر میں کم نظر آتا ہے لیکن کمال ہمت اور مردان گی کا ہے ہر گاہ تمہارے فرزندوں میں سب سے بڑا ہے سزاوار اس کے ہے کہ میرے ساتھ اس کو روانہ کیجئے اور میں زور باطن سے اس کا نگہبان ہوں تاکہ وہ شریر راچھسوں کا ا سر اُڑائے اور انکا شر اس کو نہ پہونچے اس

وجہ سے کہ تمہارا چہیتا بیٹا ہی اس کے رخصت کرنے میں تامل نہ کیجئے کہ دنیا میں کوئی چیز اسی نہیں ہے کہ بزرگ اور نامور لوگ اس کو نہ دے سکیں اور اس مقدر میں خاطر میری جمع ہے اور اپنے علم الیقین سے آپ کو خبر دار کرتا ہوں کہ راجھس رام چندر کے ہاتھ سے قتل ہونگے اور معلوم کیجئے کہ مجھ  ایسا عالم اس کا ارادہ نہیں کرتا جس کا انجام نہ جانے ۔رام چندر کی بزرگی اور قدرت کو پہچانتا ہوں کہ وہ چاہے تمام عالم کو ایک پل میں نیست نابود کردے اور پھر چاہے تو موجود کرے۔ بسشٹ اور تمام کاملین حقیقت کے واقف کار اس کو پہچانتے ہیں آپ کو

نام ہے عارف کلر مل مرشد رام چندر اور وزیر راجہ دسرتھ باپ رام چندر کا  12

قول کی سچائی بزرگی اور نیک نامی درکار ہوتو اس پیارے فرزند کو میرے ساتھ کردو

(12)

بشوامتر روشن دل جو دناؤ ں کے پیشوا ہیں او رکلام ان کا تاثیر رکھتا ہے یہ بات کہہ کر چپ کے ہورہے راجہ دسرتھ یہ سخن سنکر حیران اور بے چین ہوگئے اور دوگھڑی تک بے خود رہے جب ہوش آیا تو نہایت غریبی اور عاجزی سے جواب دیا کہ رام چندر کے ابھی سولہ برس بھی پورے نہیں ہوئے اور راچھسوں کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں رکھنا میرے نزدیک یہ مصلحت ہے کہ خود میں اپنے لشکر عظیم کو ساتھ لے کر آپ کے ساتھ چلوں اور اس کے شریر گروہ کے ساتھ لڑوں ۔رام چندر اب تلک گھر میں رہا کیا ہے اور اس نے ہر گز لڑائی نہیں  دیکھی او رمجھے اس نوہزار سال کی عمر میں ہزار تمنا سے چار فرزند نصیب ہوئے اور  ان میں بھی بڑا بیٹا اور لئیق رام چندر ہی ہے اگر وہ مجھے علیحدہ کروگے اور کوئی صدمہ خدانخواستہ اسے پہونچا تو مجھکو مرا سمجھو اور یہ بھی کان رکھ کر سنو اگر راون اس معرکہ میں آگیا تو مجھے کیا کسی کو طاقت اس سے لڑنے کی نہیں ہے۔ ہر ایک زمانے میں ہر قوم کی طاقت او ردولت انواح انواح طرح کی ہوتی ہے کبھی ہے کبھی نہیں  کبھی کم کبھی زیادہ اگر سنا ہو آپ نے کہ کسی وقت میں اندر کی کمک کو راچھسو ں پر چڑھائی کرتا اور فتح پاتا تھا او روقت او رطالع تھا لیکن

۱؎نام راجہ لنکا کا ہے کہ ایک جزیرہ ہے سمندر کا اور راجہ رام چندر نے اس کو شکست دے کر قتل کیا اور رامائن میں اس کی کیفیت ہے12

(13)

فی الحال راون نے اس گروہ میں ایسی طاقت اور قدرت پائی ہے کہ ہم ایسون کواس کے مقابلہ میں قدم بڑھانا مشکل ہے اور اس زمانے میں گذشتہ زمانے کی نسبت تمام کمالات میں نقصان کلّی آگیا اور دل گروہ والے آدمی کم رہ گئے ہیں چنانچہ اب رگھ بنسی ہارا ماندہ ہوگی ہے بڑھاپے سے لاچار ۔( اور رگھ بنسی وہ شخص ہے جو رگھ کی اولاد سے ہو رگھ ایک بڑے راجہ تھے اور راجہ دسرتھ ان کی اولاد سے ہیں اور رگھ بنسی سے اشارہ اپنی طرف کیا۔)بشوامتر راجہ دسرتھ کی یہ باتیں جو سابق کے قول کو قرار کے بر خلاف تمہیں سن کر ناخوش ہوا او رکہا اے راجہ تو اپنے پہلے اقرار سے پھر اچاہتا ہے دل کا مضبوط شیر تھا اب ہرن بنا چاہتا ہے ۔ اے راجہ اگر تو نامرد ی کرتا ہے اور جس کام کی تجھ سے مجھے امید تھی اس کے انجام سے عہدہ برآ نہیں ہوتا او رقول وقرار کو توڑے ڈالتا ہے ہم جیسے آئے ویسے چلے جاتے ہیں اے فرزند کلا ہنیسہ اب تو اپنی تمام قوم کے ساتھ خوشی سے چین کیا کر کہ بعد اس کے میری طرف سے کوئی تکلیف نہ ہوگی لیکن یہ بدنامی تو خوب جانتا ہے جو قول وقرار توڑ نے سے تیرے تصیب ہوگی ۔ (کلا ہنیسہ ایک بڑا راجہ تھا راجہ دسرتھ کے بزرگوں میں سے

۱؎رگھ نام ہے ست جُگ کے راجہ کا اور نبس نسل کو کہتے ہیں اور رگھ نسبی کے معنی ہیں راجہ رگھ کی نسل سے 12

(14)

جو نیک صفات خصوصاً قول پورا کرنے میں بڑی کوشش کرتا تھا ) جو نہیں بشوامتر کا غصہ بڑھا تمام زمین کانپ  اٹھی اور دیوتا ڈر گئے وقعۃً بسشٹ نے بشوامتر کو غضبناک دیکھ کر راجہ دسرتھ سے کہا کہ آپ ہمیشہ بڑی مہمین کرتے رہے اور راچھسوں کی فوجوں کو کئی مرتبہ مارکر ہٹا چکے ہیں اور راجہ جہواک کی اولاد کی بارہا مدد کی اور اس کے دشمنوں کو مار تباہ کیا ہے جواپنے قول کو تم پورا نہ کر وگے دنیا میں دوسرا کون ہے جو پورا کرے اور سب لوگ تمہاری پیروی لڑائیوں میں کرتے ہیں افسوس ہے کہ آپ یہ طریقہ اپنا ترک کرتے ہیں اور جو یہ خیال ہے کہ رام چندر کم عمر میں اور زبردست دشمن راچھسوں سے کام پڑے گا تو یہ وسواس دل میں  نہ کرو اس واسطے کہ جب بشوامتر جیسے شجاع رامچندر کی حفاظت کرتے ہیں تو کیا خطرہ ہے جیسے گرڑنے آب حیات کی محافظت کی تھی جو سب جانو روں کا بادشاہ ہے رام چندر نے لڑائی کا علم سیکھا ہو یا نہیں اس کے سامنے راچھس قائم نہ رہینگے راجہ دسرتھ نے جو یہ نصیحت بسشٹ کی سنی تو کس قدر ان کو تسکین ہوئی اور رام چندر کے نوکر چاکر وں کو بلا کر پوچھا کہ رام چندر کہاں ہیں اور کیا کام کرتے ہیں نوکروں نے عرض کیا رام چندر جب سےسفر کر کے آئے ملول رہتے ہیں اور ضروری کام چھوڑ کر کہتے ہیں دولت اگر ہوکیا فائدہ نہ ہو تو کیا نقصان

نام عارف کا ہے جس کے آنے کا ذکر راجہ دسرتھ کی ملاقات کے لئے پہلے ہوچکا ہے12

(15)

اور گھرکا سامان ہوا اور نہ ہوا سب برابر ہے اور تمام عالم بالکل وہم اور خیال باطل ہے اور جب کبھی بات کرتے ہیں اور جو بات کہتے ہیں اسی طرح کی کہتے ہیں نہیں تو خاموش رہتے ہیں کھانے پینے اور پوشاک پہننے کی طرف رغبت نہیں رکھتے سنیاسی اور تپسی کے موافق گزارہ کرتے ہیں۔( سنیاسی تارک الدنیا کوکہتے ہیں او رتپسی مرتاض کو ) راجا کی چاہت اور راجہ کے بیٹے ہونے کا گھمنڈ ان میں نہیں اور نہ کسی چیز کی پرواہ اور نہ کسی برُی چیز سے کراہت ہے اور اکثر اوقات یہ کلمے دھیمی اور دردناک آواز سے کہتے ہیں کہ افسوس پچھلی عمر ایسے کاموں میں تلف کی جو نجات کے وسیلے نہیں ہیں ان سے جو کچھ مانگئے دے دیتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں کہ یہ محنت اور رنج کی مایا کیلئے چاہتا ہے اے راجہ رام چندر کی ایسی حالت پرُ درد ہوگئی ہے ہم نہیں جانتے اس کا علاج کیا کریں مگر یہ راجہ اس بابت فکر کریں۔ کون استاد دانشمند اور طبیب حاذق دنیا میں ہے کہ رام چندر کو اچھی تدبیر سے حالت اصلی پرلائے۔ بشوا متر نے یہ باتیں جو را م چندر کے خدمت گار وں سے سنیں بولے کہ جب رام چندر کا یہ حال ہے تو ہم جولی ان کے ہو پیار اخلاص سے فوراً میرے پاس انہیں لے آؤ جیسے ایک ہرن دوسرے  ہرن کو لاتا ہے یہ رنج ان کو نہ دنیا کی چاہیتی چیزوں کے نہ ملنے سے ہے بلکہ رکھنے اٹھانے چھوڑنے اور سنگوانے کی فکر سے ان کی یہ حالت ہوگئی ہے نادانی ان کی عین نادانی ہے

(16)

 جس سے بڑا نیتجہ حاصل ہوگا اور یہ غم اور درد ان کا جس وقت کامل استاد کے ارشاد سےجاتا رہے گا تو معرفت اور نجات کے  مقام میں آرام پائے گا اور بعد ازاں کہ جمعیت اور سکون کے درجہ کو پہنچے گا راج کے کاج میں جو باپ دادا کا طریقہ ہے کوئی اٹھا نہ رکھےگا ابھی بشوامتر باتیں کرہی رہے تھے کہ رام چندر باپ کی خدمت میں آئے اول سلام باپ کو کیا ازاں بسشٹ اور بسوامتر او ربرہمن اور خاندان کے بزرگوں کو اور راجہ کے نوکروں نے رام چندر کو سلام کیا تو سب کو مہربانی سے خوش کیا کسی کو کن آنکھوں سے اور کسی کو بات چیت سے اور پھر ادب کے ساتھ بیٹھ گئے راجہ نے کہا فرزند اللہ نے تجھے کامل بخشی اور حظ عظیم کے قابل کیا یعنی معرفت عطا فرمائی سزا دار نہیں ہے کہ ناداں جاہل کی طرح محنت اور غم میں جان دو بلکہ مناسب ہے کہ  تم سا چَترُ سمجھ دار دانا برہمن او رکامل مرشدون کی ہدایت پر عمل کرے اور نجات کے درجہ کو پہونچے نہ یہ کہ غافل او رغمگین رہے ۔ اے فرزند غم درد کرنے کا  یہی علاج ہے کہ غفلت وکمین راہ نہ پائے ۔پھر ان سے بسشٹ نے کہا کہ اے راج کنور بڑا دشمن تو دل کا تعلق دنیا کے ظاہری سامان سے ہے جس کے جمع کرنے میں محنت او ربچانے میں وقت اور جاتے رہتے ہیں حسرت ہے اور تو بڑا پہلوان  شیردل ہے کہ اس دشمن پر فتح یاب ہوا ہے ۔پھر ایسے ہوکر کس واسطے دریائے غفلت او رنادانی میں ڈوبے جاتے ہو۔

URL:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/(yoga-vashishta-tr.-prince-dara-shikoh--1)-جوگ-بسشت--بیراگ-پرکرن---بسوامترا-کا-رامچندر-کو-مانگنا/d/7910