Urdu Section(26 May 2014 NewAgeIslam.Com)
Muslims Must Be Honest About Qur’an مسلمانوں کو قرآن کے تعلق سے غیر جانبدار رویہ اختیار کرنا چاہیے

 

 

طارق فتح

20 مئی 2014

اسلامی جہادی تنظیم بوکو حرام کے عیسائی اسکولی طالبات کو غلام بنائے جانے کے بعد مسلم دانشوران اپنا گہرا محاسبہ کرنے کے بجائے نقصان کی تلافی میں لگے ہوئے ہیں۔

ٹورنٹو سٹار سے لیکر دی انڈپینڈینٹ لندن اور سی این این ڈاٹ کام تک کے اخبارات میں مسلمانوں کے کالمز شائع ہو رہے ہیں جن میں ایسے شرعی قوانین کے کسی بھی حوالہ سے گریز کیا گیا ہے جن میں جنگ میں قید کی جانے والی غیر مسلم خواتین کو باندی بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

در اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ اسلامی قانون کے تحت مسلم فوجیوں کو غیر مسلم قیدیوں کو باندی بنانے کی اجازت دی گئی ہے۔

قرآن کی سورۃ 33 اور آیت 50 ملاحظہ کریں:

" اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں۔ "

وضاحت طلب کرنے پر ایک سعودی عالم نے جنسی غلامی کی اجازت پر ایک فتوی جاری کیا۔

انہوں نے کہا: "الحمد للہ، اسلام مسلمانوں کو اپنی باندی سے جماع کرنے کی اجازت دیتا ہے اگر چہ اس کی ایک بیوی یا کئی بیویاں ہوں یا وہ شادی شدہ ہی نہ ہو.... ہمارے نبی (اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی ایسا کیا تھا اور صحابہ کرام، متقین اور علماء کرام کا بھی یہ عمل رہا ہے۔"

آٹھویں صدی عیسوی میں جب عربی فوج نے ہندوستان پر حملہ کیا تو وہ ہزاروں جنگی قیدیوں کو دمشق میں خلیفہ ولید کے پاس لے گئے جس نے نئے ابھرتے ہوئے عرب اشرافیہ کے درمیان ان خواتین کو تحفے کے طور پر پیش کیا۔

نویں صدی کے فارسی مورخ البلاذری اپنی کتاب The Origins of the Islamic State میں لکھتے ہیں کہ جب عرب جنرل محمد بن قاسم نے سال 711عیسوی میں ہندوستان پر حملہ کیا تو غیر مسلم قیدیوں کو موت یا غلامی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا اختیار دیا۔

شہر رور میں ساٹھ ہزار قیدیوں کو غلام بنا دیا گیا تھا جن میں سے "تیس خواتین شاہی خاندان" سے تعلق رکھنے والی تھیں اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ خلیفہ کے خزانہ میں شامل کر کے دمشق روانہ کر دیا گیا تھا اور باقی کو "اسلامی فوج" کے درمیان تقسیم کر دیا گیا۔

انیسویں صدی کے ہندوستانی اسلامی اسکالر عبداللہ یوسف علی جن کا ترجمۂ قرآن زیادہ مستند سمجھا جاتا ہے انہوں نے مذکورہ بالا قرآنی آیت پر حاشیہ لگاتے ہوئے ایمانداری دکھانے کی جرات کی ہے: "اب ایسی صورت حال پیدا نہیں ہوتی اس لئے کہ بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے جنگ کی صورت حال مکمل طور پر تبدیل کر دی گئی ہے اور غلامی کو ختم کر دیا گیا ہے۔"

لیکن آج مسلمانوں کے اندر حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت بہت کم ہے۔ میں نے (the Toronto Star) ٹورنٹو سٹار اور دی انڈپینڈینس (The Independent) کے کالم نگاروں سے سوال کیا کہ انہوں نے ان آیات کو موضوع بحث کیوں نہیں بنایا جن میں مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میں نے ایک عورت سے جس نے سی این این کے Christiane Amanpour سے یہ کہا تھا کہ ‘‘بوکو حرام کو اسلام کی سمجھ نہیں ہے ’’ یہ سوال کیا کہ آپ ان شرعی قوانین کے بارے میں بات کیوں نہیں کرتی جن سے غیر مسلم عورتوں کو باندی بنانے کی اجازت ثابت ہوتی ہے۔ وہ بھی خاموش ہو گئیں۔

آج ہم مسلمان ایک معمہ کا شکار ہیں۔ اگر عربی جنرل بن قاسم آٹھویں صدی میں ہندوستان میں غیر مسلم خواتین کو باندی بنانے کے لیےہمارا ہیرو ہے تو آج نائجیریا میں اسی کام کے لئے بوکوحرام کو غلط کیوں کہا جا سکتا ہے؟

آج ہم سب مسلمانوں کو عبداللہ یوسف علی کی آواز بلند کرنے کی ضرورت ہےکہ: ‘‘ساتویں صدی عیسوی میں جو چیز ماذون تھی وہ اب بیسویں صدی میں قابل عمل نہیں ہے"۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آسانی سے نہ تو ایمانداری آتی ہےاور نہ ہی ہمت پیدا ہوتی ہے۔

(انگریزی سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ، نیو ایج اسلام)

ماخذ:

http://www.torontosun.com/2014/05/20/muslims-must-be-honest-about-quran

 

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islamic-society/tarek-fatah/muslims-must-be-honest-about-qur’an/d/87136

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/tarek-fatah,-tr-new-age-islam/muslims-must-be-honest-about-qur’an--مسلمانوں-کو-قرآن-کے-تعلق-سے-غیر-جانبدار-رویہ-اختیار-کرنا-چاہیے/d/87197