Urdu Section(28 May 2014 NewAgeIslam.Com)
Cultural Narcissism- Part 2 (تہذیبی نرگسیت حصہ (2

 

 

مبارک حیدر

 

تہذیبی نرگسیت

بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے تباہی اور قتل عام اس تحریک کا حصہ ہے جو پچھلی تین دہائیوں کے دوران نشوو نما پاتی رہی ہے، اُس فکری تحریک کی عملی شکل ہے جسے اس کے مخالف دہشت گردی کہتے ہیں۔ کچھ عرصہ سے اس خیال کااظہارکیا جارہا تھا کہ سیاسی عمل کی بحالی سے دہشت گردی کا عمل کمزور پڑ جائے گا۔شاید وہ تحریک جسے دہشت گردی کہا جارہا ہے اس کی قیادت بھی اس ’’جمہوری چال‘‘ کے ممکنہ اثرات کو نظر انداز نہیں کرتی۔

لہٰذا بروقت اقدام کے ذریعے قائدین تحریک نے سیاسی عمل کو نشانے پر رکھ لیا ہے۔ تجزیہ کی نظر سے دیکھا جائے تو اب یہ بات واضح دکھائی دیتی ہے کہ ملک میں سیاسی عمل سے جو فضا قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی یعنی جو قدم 27 دسمبر2007ء کو راولپنڈی میں اٹھایا گیا تھا، ویسے ہی اقدام بار بار اٹھائے جائیں گے لیکن اس کا نشانہ ایک مخصوص فریق ہوگا،سبھی نہیں۔مخصوص فریق وہی ہے جس کے نمائندوں میں محترمہ بے نظیر شہید بھی تھیں۔ اس فریق میں سب وہ قوتیں شامل ہیں جو اس عالمی تحریک اسلام سے خائف ہیں۔ یہ قابل غور ہے کہ اس قتل عام اور محترمہ کی شہادت پر احتجاج اُنھی ممالک کی حکومتوں نے کیا جو خود اس تحریک کانشانہ بن رہے ہیں یا بننے والے ہیں۔ یعنی امریکہ، برطانیہ، فرانس، بھارت، چین، انڈونیشیا، افغانستان اورمصر کی حکومتیں۔ یہ وہ حکومتیں ہیں جنھیں اس تحریک سے شدید اختلاف ہے اور شاید خوف بھی۔ یہ تحریک کیا ہے ؟ہم سب جانتے ہیں اگرچہ اس کا کھلے بندوں اقرار کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں مذہبی جماعتوں، سیاستدانوں، دانشوروں، تاجر طبقوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پاکستان کی مقتدرہ کے کئی عناصر اس کے حامی ہیں۔صرف کھلم کھلا اظہار یکجہتی کرنے یعنی ریکارڈ پر آنے سے گریز کیا جاتا ہے۔کیونکہ حکومت کا ایک عنصر جو عالمی رائے کے مطابق حکمت عملی پر گامزن ہے ، ابھی کسی حد تک موثر ہے۔یہ غلبہ اسلام کی تحریک ہے جس سے ملک کے تمام مسلمان اصولی طور پر کسی نہ کسی حد تک متفق ہیں،اور اس کے مقاصد واضح ہیں، یعنی مرحلہ وار ساری دنیا میں اسلام کی سربلندی اور نفاذ۔مراحل کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔

پہلا مرحلہ۔ اس مرحلے پر پاکستان اور افغانستان میں ایک سچی اسلامی حکومت کا قیام مقصود ہے جو خلافت علیٰ منہاج نبوت کی عملی شکل ہوگی اور دونوں ملکوں کی سرحدوں کو جنھیں اسلام تسلیم نہیں کرتا، ختم کرکے ایک مضبوط عسکری بنیاد پر خلافت اسلامیہ کا احیا ہوگا، جس کا دارالخلافہ غالباً شمالی علاقوں میں ہوگایا ممکن ہے کہ کامیابی کے اگلے مرحلوں میں حرمین شریفین کے قریب کسی جگہ پر ہو۔لیکن یہ تب ممکن ہوگا جب مشرق وسطیٰ میں کچھ رکاوٹیں دور ہوجائیں گی۔ یعنی ایران کا موجود نظام، جو اگر چہ اس وقت تحریک کے لئے طاقت کا باعث ہے لیکن بالآخر اسے ختم کرنا ضروری ہوگا،کیونکہ یہ مرکزی خلافت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

اس تحریک خلافت کا عملی تجربہ پچھلی صدی کے آخری برسوں میں کیا جا چکا ہے۔اگرچہ امریکہ کی قوت قاہرہ نے اس خطے میں اپنے اتحادیوں کی مدد سے طالبان کی حکومت کو ختم کردیا لیکن یہ خاتمہ نہ تو فطری تھا نہ مکمل،یعنی وہ طاقتور بنیاد جس پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی تھی،نہ صرف ختم نہیں ہوئی بلکہ اور مضبوط ہوئی۔ یعنی افغان اور پاکستانی قوم کے وہ عقائد مزید مضبوط ہوگئے جن پر غلبۂ اسلام کے نظریہ کی بنیاد ہے۔ لہٰذا طالبان حکومت کا خاتمہ فطری نہ تھا۔ جبکہ نامکمل یوں تھا کہ طالبان پوری افغان قوم میں، پاکستان کے شمالی علاقوں میں، پاکستان کے ان گنت مدرسوں اوردینی اداروں میں اور پاکستان کی مسلح افواج، مقتدر اداروں اور متمول و با اثر طبقوں میں موجود تھے، جنھیں ختم نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ ہمارے ان عقائد کے ترجمان تھے جنھیں طویل عرصہ سے ہر سطح پر راسخ کیا گیا تھا۔ لہٰذا اس غیر فطری اور نامکمل اقدام سے طالبان کو صرف وقتی اور جزوی نقصان ہوا۔

دوسرا مرحلہ۔ پاک افغان علاقوں میں قیام خلافت کے پہلے مرحلہ کی تکمیل کے فوراً بعد تحریک کے سامنے جو مرحلہ ہوگا وہ ان وعدوں کی تکمیل کا ہوگا جو اسلامی حکومت کے قیام کی بنیاد ہیں۔یعنی عوام کے مسائل کا حل اور خیر و خوبی سے لبریز معاشرہ کا قیام۔ اگر یہ وعدے پورے نہیں ہوتے تو اسلامی انقلاب سے لوگوں کے بددل ہونے کا شدید خطرہ موجود ہوگا۔بے شمار خاندان جن کے نوجوان بیٹوں نے خود کش حملوں میں جام شہادت نوش کیا اور عوام کی وسیع اکثریت جن کی روز مرہ زندگی میں محرومیاں ہیں اور جن کا ایمان اس بات پر راسخ کیا گیا تھا کہ اسلام ہی سب مسائل کا حل ہے، جس کے نفاذ سے اللہ کی رحمتوں کا فوری نزول ہوگا،اب قیام خلافت کے بعد نتائج کے لئے بے قرار ہوں گے۔ایران میں انقلاب اسلامی کو اتنی الجھنوں کا سامنا نہ تھا کہ یہ ملک تیل سے مالا مال اور شاہ کے طویل دور حکومت سے خوشحال تھا ، صرف دینی اورسماجی مسائل تھے جو چند ہزار افرادکو پھانسیاں دینے سے یا لاکھ دو لاکھ افراد کی قید و جلا وطنی سے یا پھر عورتوں کو حجاب کا پابند کرنے سے کافی حد تک حل ہوگئے۔وہاں کے شیعہ انقلاب کو ایک اور آسانی یہ تھی کہ ولایتِ فقیہ کا نظریہ اختیار کرکے علما نے اجتہاد کے ایسے راستے کھول لیے جن سے جدید دور کے اکثر فکری اور مادی اصول جوں کے توں رائج رکھے جاسکتے تھے۔مثلاً ظاہری حلیہ ہی لے لیں۔شیو کرنے اور جدید لباس(سوائے ٹائی )پہننے پرکوئی پابندی نہیں لگائی گئی،عورتوں کو اعلیٰ تعلیم اور ملازمت سے روکا نہیں گیا، سرکاری ادارے ،جمہوری ادارے پورے مغربی انداز سے جاری ہیں۔یہ آسانی امامت کے نظام میں ممکن ہے جس کے اہل تشیع قائل ہیں۔جبکہ قیام خلافت کے بعد پاک افغان اسلامی معاشرے کو زبردست مالی، معاشی، انتظامی اور معاشرتی مسائل کا سامنا ہوگا۔ اگرچہ ترغیب و تبلیغ سے یا شرعی تعزیر و تادیب سے عوام کو سادہ زندگی کااسلامی اصول اپنانے پر قائل کیا جائے گا۔ اور قوی امید ہے کہ وہ دنیاوی خوشحالی کے جدید کافرانہ نظریات کو دلوں سے نکال دیں گے۔ افغان طالبان کے دور میں زندگی کو سادہ کرکے قرون اولیٰ کے عرب معاشرہ کے قریب لانے کا تجربہ کامیاب رہا تھا۔مسلم عوام اسلام کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اور حضورﷺ کے دور کی سادگی تو وہ سعادت ہے جسے حاصل کرکے ہمارے مسلم عوام سرشار ہوجاتے ہیں چاہے غریب ہوں یا امیر۔ثبوت کے طور پر دیکھیں خوشحال مڈل کلاس کے مردوں کے حلیوں کی تبدیلی اور ان کی عورتوں کا بڑھتا ہوا حجاب اور ہر پابندی کا خوشی سے خیر مقدم۔ لہٰذا کچھ عرصہ بنیادی اصلاحِ معاشرہ پر صرف ہوگا۔ یعنی اسلام کے ان مخالف عناصر کا شرعی حکم کے مطابق خاتمہ کیا جائے گا جنہوں نے تحریکِ خلافت کی مخالفت کی،یہودونصاری ٰ کی حمایت کی یا ان سے مدد لی اور تحریک کو دہشت گرد ی کا نام دے کر روکنے کی کوشش کی۔(یاد رہے کہ کسی سیاسی پارٹی کی قیادت یا عوام دونوں کا قتل اسی اصول سے جائز قرار پاتا ہے اور تمام خود کش حملوں میں اسی اصول کے تحت ان لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے جو کسی نہ کسی انداز سے تحریک کی مخالفت کرتے ہیں یا مخالفوں کی حمایت کرتے ہیںیا خاموش رہ کر تحریک کے دشمنوں کی بالواسطہ مدد کرتے ہیں۔ ان میں حکومت کے اہلکار اور کام میں لگے ہوئے عوام برابر کے قصوروار ہیں)۔ عورتوں کوچادر اور چاردیواری میں بھیجنے کا کام مکمل کیا جائے گا،اقامت صلوٰۃ کا نظام قائم کیا جائے گا، غرضیکہ افغان قوم کے سابقہ تمام تجربوں سے استفادہ کرتے ہوئے ملک پاکستان میں بھی نفاذ اسلام کے مراحل تیزی سے مکمل کیے جائیں گے۔ یہ سب دوسرے مرحلے کا پہلا حصہ ہوگا۔

اس مرحلے کا اصل چیلنج بہرحال عوام کے لئے خوشحالی مہیا کرنا ہوگا۔ خوشحالی کے لئے وسائل درکار ہوں گے جو کہ دونوں ملکوں میں موجود نہیں۔ خوشحال طبقوں کی زمین اوردولت چھین کر عوام میں تقسیم کرنے کا تصور اشتراکی ہے اور اسلام کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے، لہٰذا اس غیر اسلامی اور ظالمانہ طریقہ کار سے کام نہیں لیا جاسکتا۔ جبکہ جدید صنعت اور زراعت کیلئے اسلامی معاشرہ زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔ اسلام کی سر بلندی اور غلبہ اسلام کے لئے کفار کے خوشحال ممالک کو فتح کرنے کا حکم اسلام نے واضح طور پر دیا ہے۔ ان خوشحال ملکوں کی وہ دولت جو انہوں نے پچھلی صدیوں میں مسلمانوں کی حکومتیں ختم کرکے لوٹ لی تھیں، دراصل مسلمانوں کی دولت ہے، جس پر ان کا فطری حق ہے۔ علاوہ اس کے امیر المومنین کے اولین فرائض میں ہے کہ سارے عالم میں دعوت اسلام اور غلبۂ اسلام کا انتظام کرے۔ لیکن اس عظیم مشن کی تکمیل کے لئے عالم اسلام کی صف بندی کی ضرورت ہے۔ لہٰذا تمام مسلمان ممالک کو امیر المومنین کا یہ حکم پہنچا یا جائے گا کہ وہ دنیا میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حکومت قائم کرنے اور جاہلیت کے ہر نظام کو نیست و نابود کرنے کے لئے مملکت اسلامیہ کی اطاعت کریں۔خدشہ ہے کہ مسلمان قوموں کے موجودہ حکمران اس حکم کو نہیں مانیں گے۔ چنانچہ ان کے غیر اسلامی اور جاہلیتی نظام ریاست کو درہم برہم کرنے کے لئے خود کش حملوں اور اگر ممکن ہوا تو باقاعدہ جیش روانہ کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔اس تحریک انقلاب کے لئے عوام کو تیار کیا جائے گا اور شہادت کے مرتبہ سے پوری طرح آگاہ کیا جائے گا۔ ہرمسلم ملک میں چونکہ اسلامی نظام کو قائم کرنے کے لئے عوام کا دل و دماغ تیار ہے لہٰذا جاہلیت کی حامی حکومتوں کے خلاف بغاوت مشکل نہیں ہوگی۔

تیسرا مرحلہ۔یہ اس وقت ممکن ہوگا جب ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام مسلمان ممالک مرکزی اسلامی قیادت کی حاکمیت تسلیم کرکے اسلامی مشن کی تکمیل کے لئے سینہ سپر ہوجائیں گے۔یہ وہ لمحہ ہوگا جب مشرق وسطیٰ کے پچاس کروڑ مسلمان اس خواب کو پورا کرنے کے لئے کمربستہ کھڑے ہوں گے جودین اسلام کو تمام دینوں پر غالب کرنے اور دنیا سے جاہلیت کے ہر نقش کو مٹانے کے لئے ہر عظیم مسلم مفکر نے دیکھا اورجو ہر مسلمان کی نفسیات میں گندھا ہوا ہے ، وہ خواب جسے اقبال نے اپنے ولولہ انگیز کلام سے جدید دور کے مسلمانوں کی روح میں تازہ کیا،جسے سید مودودی اور سید قطب نے اپنی ایمان افروز تحریروں سے روشن کیا اور جسے ضیاء الحق شہید نے عملی طور پر ممکن بنادیا۔

اس مرحلے پر برصغیر ہند میں عظمت اسلام کی بحالی کے لئے بھارت کو وہ چوائس دیا جائے گا جو امیر المومنین حضر ت عمر فاروقؓ نے قیصرو کسریٰ کودیا تھا یعنی (1) اسلام قبول کرلویوں تم ہمارے بھائی بن جاؤ گے، (2) اطاعت قبول کرکے جزیہ ادا کرو تم ہماری رعایا بن کر امن میں آجاؤ گے،(3) ورنہ جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ ،تلوار ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی۔

ظاہر ہے اس جنگ میں فتح اسلام کا مقدر ہے، لہٰذا بھارت پر اسلام کا پرچم لہرا دیا جائے گا۔یوں بھارت اور بنگلہ دیش کے چالیس کروڑ مسلمان بھی اسلامی لشکر کی طاقت بن جائیں گے اورجزیہ کے نتیجے میں نہایت قابل قدر وسائل بھی مملکت کو حاصل ہوجائیں گے ۔

اگلے مرحلے میں چین کی باری ہوگی۔ بھارت سے جو وسیع وسائل حاصل ہوں گے ان کی مدد سے اوراس جذبۂ ایمانی کی بدولت جو ہرمسلم کو فلسفہ شہادت سے حاصل ہوتا ہے، پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اسلامی لشکر کو چین کے نظام دہریت پر فتح حاصل ہوگی، جیسے روس پر ہوئی تھی۔ روس اور بھارت کی تباہی کے بعد چین پر فتح اسلامیان عالم کا تیسرا بڑا کارنامہ ہوگا۔اسلامی لشکر اور اسلامی معیشت کو بھارت ،چین اور مشرق بعید کی خوشحالی کافرانہ معیشتوں سے،مال غنیمت کی صورت میں جو فوائد حاصل ہوں گے وہ غازیوں کی وقتی تھکن اورمالی تکالیف کو دور کردیں گے۔

آخری مرحلے میں یورپ اورامریکہ کو فتح کیا جائے گا، افریقہ آسٹریلیا وغیرہ کو قریب کے گورنر فتح کرکے سارے عالم میں مملکت اسلامیہ کو غالب و بالا کردیں گے۔ یوں اللہ تبارک وتعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہوجائے گا جواس نے ’’لیظہرہ علیٰ دین کلہ‘‘ میں کیا تھا۔

یہ ہے وہ فکری تحریک جس کے عملی اقدامات کوچند مسلمان دہشت گردی سمجھتے ہیں۔اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ چند لوگ نہیں بلکہ کروڑوں مسلمان اسے دہشت گردی کہتے ہیں،پھر بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تحریک غیر اسلامی ہے کیونکہ جن نظریات پراس تحریک کی بنیاد ہے انہیں کبھی چیلنج نہیں کیا گیا۔آج تک ایسی کوئی فکری تحریک ،عالم اسلام میں یا ہمارے اس خطہ میں نہیں ابھری جس نے یہ کہنے کی کوشش کی ہو کہ یہ نظریات اسلامی نہیں۔ اور یہ تو اور بھی ناقابل تصور ہے کہ کسی نے اس ملک کے کسی بھی علاقے میں کبھی یہ کہنے کی جرات کی ہو کہ یہ نظریات چاہے اسلامی بھی ہیں پھر بھی نا قابل عمل ہیں۔وہ اسلامی نظریات جن پر اس تحریک کی بنیاد ہے اور جنھیں چیلنج نہیں کیا جاتا،وہ ہر مسلمان کی نظر میں ایمان کا حصہ ہیں۔جو لوگ تحریک سے اختلاف کرتے ہیں ، وہ بھی ان نظریات کے اسلامی ہونے سے انکار نہیں کرتے،بس اتنا کہتے ہیں کہ اسلام امن کا دین ہے، اسلام تشدد نہیں سکھاتا، اسلام تو بڑا متوازن ہے،اسلام تو مروت برداشت سکھاتا ہے۔لیکن ان مروّتی خیالات کی حمایت میں اسلامی نصاب سے کچھ پیش نہیں کیا جاتایعنی کوئی فکری استدلال اس سلسلے میں مسلمانوں کے ذہن کو تبدیل کرنے کے لئے پیش نہیں کیا جاتا۔نہ ہی مروّتی اسلام کے حامی مسلمان دین کے علوم پر ایسی دسترس رکھتے ہیں جو علماء دین کو لاجواب کردے یا اس تحریک کے پروانوں کو سوچنے پر مجبور کردے کہ ان کی نظر میں جو اسلام کی خدمت ہے دراصل اسلام نے تو اس کا حکم ہی نہیں دیا۔کچھ لوگ اسلام کو متوازن یا بامروت ظاہرکرکے اسلام کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مولانا مودودی اورسید قطب کا موقف یہ ہے کہ مغرب کے ملحدانہ اور جاہلیتی نظریات نے ان کے ذہنوں کو اتنا مرعوب کردیا ہے کہ وہ اسلام کو مغربی معیاروں پر فٹ کرنیکی کوشش کرتے ہیں۔سید قطب نے واضح الفاظ میں لکھا کہ جو لوگ جہاد کو مدافعتی جنگ کی حد تک محدود کرنا چاہتے ہیں وہ دراصل مغرب سے مرعوب ہوکر یا اپنی بزدلی کی وجہ سے اسلام کی واضح تعلیمات کو مسخ کرتے ہیں جبکہ اسلام نے بغیر معذرت کے واضح طورپر حکم دیا ہے کہ دنیا میں ہر نظام جاہلیت کو بزور شمشیر ختم کردیا جائے۔

یہ بھی سچ نہیں کہ مسلم عوام ’’دہشت گردی ‘‘کی اس تحریک کے خلاف ہیں جس کا ایک کھلا مرکز جامعہ حفصہ کی شکل میں سامنے آیا۔سبھی جانتے ہیں کہ مملکت کے قوانین کی رو سے جامعہ مذکورہ کے اقدامات کی حمایت کرنابھی سنگین جرم بنتا تھا، جامعہ حفصہ کی انتظامیہ اور طلبا نے مملکت کے قوانین کی رو سے بغاوت کی تھی جو کہ جرائم میں سب سے سنگین جرم ہے۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ عوام اور علمائے دین ہی نہیں بلکہ دانشوروں اور میڈیا کے لوگوں نے، حتیٰ کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے حکومت کے اس اقدام کی کھلے عام مذمت کی جو اس بغاوت کو کچلنے کے لئے کیا گیا،حالانکہ حکومت نے یہ اقدام بے حد تذبذب اور مسلسل مذاکرات کی حالت میں کیا۔اس کے برعکس جامعہ حفصہ کی بغاوت کوبغاوت کہنے کی جرأت کم لوگوں کو ہوئی اورجن لوگوں نے ایسی جرأت کی انہیں دھمکیاں ملیں اور پھر اٹھارہ اکتوبر کا واقعہ اور بعد میں محترمہ بینظیر کی شہادت اس کا تسلسل ہیں، انہی دنوں اسلام آباد کے ہوٹل میں دھماکہ ہوا۔چند روز بعد سرکاری امام مسجدکو نکال کر جن لوگوں نے لال مسجد پر دوبارہ قبضہ کیا ، ان کے لئے میڈیا اور عوام میں حمایت صاف دکھائی دی۔مولانا عبدالعزیز کی توہین کی وسیع پیمانے پر مذمت کی گئی۔ انتخابات میں عوام کی نمائندہ حکومت کو مسلسل نفرت اور تذلیل کا سامنا اسی وجہ سے ہے۔

قبائلی علاقہ جات میں ہونے والے سرکاری آپریشن کو شدید مخالفت کا سامنا ہے جو برملا کی جارہی ہے،جس کو کسی ڈھکے چھپے انداز سے کہنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ پاکستانی فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ سوات میں علانیہ ایک الگ مملکت کے انداز سے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے گئے۔ اس کے باوجود پاکستان کے کسی بڑے شہر میں لوگوں کی نجی محفلوں میں کوئی شخص جرات نہیں کرسکتا کہ حکومت کے کسی اقدام کی حمایت کرے یا بغاوت کرنے والوں کے خلاف نفرت کااظہار کرے۔ یہ سب تحریک غلبہ اسلام کی عوامی تائید کے ثبوت ہیں۔

پاکستان کے طول و عرض میں خوشحال،تعلیم یافتہ اور بلند آواز طبقوں میں شعائر اسلامی اور مخصوص حلیہ و لباس کی مقبولیت جس رفتار سے بڑھ رہی ہے، اس سے آنکھیں بند کرنے والوں کی ذہنی حالت پر شتر مرغ کی مثال یاد آتی ہے، چند لڑکیوں اور لڑکوں کا گٹار بجانا یا اشتہاروں میں لڑکیوں کاواہیات انداز سے ’’آزادی ‘‘کا اظہار کرناکچھ بھی ثابت نہیں کرتااور تقریباً سو فیصد یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر آپ ان لڑکوں اور لڑکیوں کو ذرا سا کریدیں تو اوپر کی پتلی جھلی کے نیچے آپ کو وہی بنیاد پرست مسلمان ملے گا جس کا ایمان ہے کہ اسلام ہی دنیا کے سبھی مسائل کا حل ہے، اسلام ہی سب سے مکمل اور اچھا نظام ہے اور مسلمان ہی دنیا پر غالب آنے کا حق رکھتے ہیں۔

امریکہ سے نفرت کی نفسیات کا مطالعہ کریں تو اس کی بنیادیں نہ تو قومی آزادی کے جذبوں میں ملیں گی نہ ہی انسانی ہمدردی یا انصاف کے تقاضوں میں۔ اس نفرت کی جڑیں اسلامی تشخص میں ہیں۔ افغانستان یا عراق میں امریکی کارروائی کی شدید مخالفت کو صحیح تناظر میں سمجھنے کے لئے یاد کریں وہ رد عمل جو اسی عراق پر اسی امریکہ کے 1990ء والے حملے میں تھا۔ جب عراق نے کویت پر قبضہ کیا تھا تب امریکہ کے خلاف کوئی احتجاج اس لیے غیر ضروری تھا کیونکہ امریکہ ایک زیادہ اسلامی ملک (کویت جہاں شیخ حکمران تھا) کو ایک کم اسلامی ملک (عراق جہاں ایک جدید طرز کا آمر مسلط تھا) کے قبضہ سے آزاد کرا رہا تھا۔ اس سے پہلے بھٹو نے اپنی حکومت کے خلاف امریکہ کے اقدامات پر واضح ثبوت پیش کیے تو ہمارے علما دین اور غلبہ دین کے حامی، امریکہ کی بجائے بھٹو کے خلاف ڈٹے رہے کیونکہ بھٹو ان کے عظیم مشن کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ بھٹو کے ان تمام اقدامات کے باوجود جو اسلامی ممالک کو متحد کرنے کے لئے اس نے اٹھائے، اسلام پسند قوتوں کو یقین تھا کہ بھٹو کی جدید یت اصلی اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہے لہٰذا اگر امریکہ بھٹو کو ختم کرتا ہے تو امریکہ کا یہ اقدام قابل ستائش ہے۔اسی طرح افغان جنگ میں روس کے خلاف امریکہ ہمارے عوام و خواص کا ہیرو تھاکیونکہ وہ ایک اسلامی ملک کو دہریوں کے چنگل سے آزاد کروا کر اسلام کی خدمت کررہا تھا۔اسی اصول سے امریکہ پچاس برس تک ہمارا محبوب اتحادی رہا۔ حتیٰ کہ طالبان حکومت کے دوران بھی دیر تک مسلم ضمیر پر امریکہ کو ئی بوجھ نہیں بنا کیونکہ اسے ہماری اسلام پسند ی پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ امریکہ نے ساٹھ برس میں دنیا کی بیسیوں مقبول حکومتوں کے تختے الٹائے ہیں جن میں مصدق اور سوئیکارنوکی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ویت نام پر 25برس جنگ کے دوران کروڑوں ٹن بم برسائے ہیں لیکن مسلم ضمیر بوجھل نہیں ہوا۔یہ حقیقت ہے کہ اسلام ہی وہ واحد صداقت ہے جس کی حمایت یا مخالفت ہمارے لئے کوئی اہمیت رکھتی ہے۔ غیر مسلم ظالم ہو لیکن اسلام کی حمایت کرے تو قبول، غیر مسلم مظلوم ہو لیکن اسلام کا مخالف تو ہماری توجہ کا مستحق نہیں۔ دنیا کی مختلف تہذیبوں نے اپنے اپنے وقتوں میں دوسری تہذیبوں اور قوموں کو فتح کیا ان کے علاقوں پر ظلم کیے ہر فتح مفتوح کی نظر میں ظالمانہ ہوتی ہے۔ روم نے غلاموں پر ظلم کیے، خسروانِ ایران نے بھی محکوم علاقوں اور غلاموں پر ظلم کیے۔ برصغیر میں آریا فاتحین نے دراوڑ تہذیب کو تباہ کرکے نئی تہذیب قائم کی، منگولوں اور تاتاریوں نے دنیا کو تاراج کیا،یورپی اقوام نے نوآبادیاتی نظام قائم کیا تو قوموں پر جبر اور استحصال کے ذریعے کیا۔ آج کارپوریٹ امریکہ ایک طاقتور ڈائنوسار کی طرح براعظموں کو کچلتا پھر رہا ہے تو کچلے جانے والوں کو اذیت ہوتی ہے۔ فتح کے اس پہلو پر دنیا کی ہر تہذیب کے لوگ تنقید کرتے ہیں، اگر تہذیب کے عروج کے دنوں میں ایسا نہیں ہوتا تو یہ تنقید آنے والی نسلیں ضرور کرتی آئی ہیں۔خود فاتح کی اپنی قوم سے احتجاج اورمخالفت کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔لیکن اسلامی تاریخ کو دیکھیں تو چودہ سو برس میں کبھی ایسا نہیں ہواکہ کسی مسلم مفکر یا عالم نے مسلمانوں کی فتوحات کے عمل پر اعتراض کیا ہوکیونکہ یہ مسلم ایمان کا حصہ بنا دیا گیا ہے کہ ہروہ چیز جو اسلام کے نام پر کی جائے وہ صداقت ہے۔

URL for Part 1:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-1---(تہذیبی-نرگسیت-حصہ(-1/d/87216

URL for this part:

http://newageislam.com/urdu-section/mobarak-haider/cultural-narcissism--part-2-(تہذیبی-نرگسیت-حصہ--(2/d/87236