certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (02 Mar 2019 NewAgeIslam.Com)


Ayodhya: Hindu Muslim Joint Religious Heritage اجودھیا: ہندو مسلم مشترکہ مذہبی میراث


سہیل ارشد، نیو ایج اسلام

ہندوستان میں اجودھیا (ایودھیا) کو ایک مذہبی مقاک کی حیثیت سے جانا جاتاہے ۔ ہندوؤں کا عقیدہ ہے ان کے بھگوان رام یہیں پیدا ہوئے تھے ۔ اس شہر کو کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتاہے جیسے اودھ، اپراجیتا، پسویا، سیتابرہمن پوری ، شوسلا، نندنی وغیرہ۔ یہ شہر اترپردیش کے سرجو ندی کے کنارے آباد ہے ۔ یہاں ہندوؤں کے دوسرے مقدس مذہبی مقامات بھی ہیں جیسے ہنومان گڑھی ، رام کی پیڑھی ، ناگیشور ناتھ کا مندر اور دیگر ہندو زیارت گاہین ہیں ۔ اسی طرح یہاں مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق شیث علیہ السلام اور حضرت نوح علیہ السلام کے مزارات بھی یہاں ہیں جو آٹھ نوگز طویل ہیں ۔ مورخین کا خیال ہے کہ حضرت شیث علیہ السلام نے ایودھیا کو بسایا اور انکے پرپوتے حضرت ہند بن حام نے اس شہر کو وسعت دی ۔

حضرت نوح علیہ السلام کے دور میں سیلاب آیا اور وہ اپنے کنبے اور پیروکاروں کے ساتھ ترکی کے علاقے میں پہچادئیے گئے مگر یہ تاریخی شواہد اور قرآن کے ذریعے سے ثابت ہوتاہے کہ حضرت نوح علیہ السلام سیلاب سے قبل ہندوستان کے علاقے ہی میں تبلیغ دین کا کام کررہے تھے ۔ اس طرح شیث علیہ السلام کے خاندان کا ہندوستان کے کسی علاقے میں سکونت پذیرہونا ناقابل یقین نہیں ہے ۔ ایودھیا میں کچھ قبروں کے بارے میں یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ شیث علیہ السلام کے اہل بیت کی ہیں ۔پانچویں دہائی میں دلی کے ایک صوفی عبدالرشید ہما کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ ان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں حضرت شیث علیہ السلام کا شجرہ نسب دیا ہواتھا ۔

 اس شجرے میں رام کو انہی کی نسل میں دکھایاگیاتھا۔مگر عبدالرشید ہما کا یہ بھی کہنا تھا کہ رام اسلامی عقائد سے منحرف ہوگئے تھے۔ یہ بھی کہاجاتاہے کہ موجودہ ہریانہ کے علاقے میں چالیس انبیاء آرام فرماہیں ۔ ہریانہ کے ہی میوات علاقے میں نوح نام کا ایک قصبہ آج بھی ہے ۔تنورنام کی جگہ جہاں سے پانی ابلنا شروع ہوا وہ کیرالا کے ملاپورم میں ساحل سمندر پرواقع ہے ۔لہذا، یہ بعید ا ز قیاس نہیں کہ حضرت شیث علیہ السلام کی اہل خاندان ایودھیا کے علاقے میں سکونت پذیر رہے ہوں ۔یہاں آٹھ نو گز کی جو قبریں ہیں وہ انہی نبیوں کی قیاس کی جاتی ہیں اور اس بارے میں روایتیں صدیوں سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں ۔حالانکہ مغل دربار کے دانشورارن جیسے ابوالفضل اور فیضی ان روایتوں کو درست نہیں مانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین اکبری میں ایودھیا میں حضرت نوح علیہ السلام کی قبر مبارک کا ذکر نہیں کیاگیاہے۔ جبکہ یہاں کوتوالی کے عقب میں ایک مقبرہ ہے جس کے متعلق لکھاہواہے کہ یہ حضرت نوح علیہ السلام کا ہے۔

 مگر شیخ عبدالحق محدث دہلوی جیسے صوفیاء ان روایتوں پر یقین رکھتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیوں نے اس جگہ کو خور د مکہ اور مدینتہ الاولیاء بھی کہا۔یہاں بے شمار صوفیاء اور اولیا ء کے مزارات ہیں ۔ ان میں کچھ کے نام ہیں سید علاء الدین خراسانی ، دولت شاہ قلعہ ، کمال الدین شہید، شاہ اکبر چشتی مودودی ، کالے پہلوان ، نوگزی پیر، حضرت مخدوم بندگی نظام ، عبدالکریم شہید، شمس الدین فریاد رس، گلاب شاہ، رحیم شاہ، نصیرالدین ، تین درویش، جلال الدین شاہ مسافر شہید، بڑی بی صاحبہ (حضرت چراغ دہلوی کی بڑی بہن )، قاضی عبدالطیف۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مشہور خلیفہ حضرت نصیرالدین چراغ دہلوی کا ایودھیا آبائی وطن تھا ۔ انکی پیدائش ہی ایودھیامیں ہوئی۔ یہیں انہوں نے شیخ شمس الدین یحیی اودھی سے قرآن سیکھا ۔حضرت شیخ نصیرالدین کے کئی مریدین بھی یہاں مدفون ہیں جن مین شیخ زین الدین اودھی ، شیخ فتح اللہ اودھی ، اور علامہ کمال الدین اودھی اہم ہیں ۔ ان صوفیوں کا ایودھیا میں قیام اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ صوفیوں کی نگاہ میں یہ شہر انبیاء کا مسکن رہا ہے ۔

ایودھیا میں مسجدوں اور خانقاہوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ یہاں کبھی مسلمانوں کی بڑی آبادی تھی ۔ یہاں 103مساجداور 80 مقبرے ہیں ۔

ایودھیامیں اتنے سارے اولیاء و صوفیاء کے قیام اور اسے اپنی ریاضت کا مرکزبنانے کے پیچھے یہی عقیدہ کارفرما رہاہوگا کہ یہاں یہ یہاں شیث علیہ السلام اور ان کے خاندان کے دیگر پیغمبران کی قبریں ہیں ۔ اس لئے وہ اس مقام کو مقدس اور متبرک سمجھتے تھے ۔ اگر عبدالرشید ہما کا خیال درست ہے کہ رام حضرت شیث علیہ السلام کے نسل سے تھے تو پھر ایودھیاء کو ہندوؤں مشترکہ مذہبی میراث تسلیم کرنا پڑے گا۔

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/s-arshad,-new-age-islam/ayodhya--hindu-muslim-joint-religious-heritage--اجودھیا--ہندو-مسلم-مشترکہ-مذہبی-میراث/d/117896

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamophobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content