certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (12 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Colonial Era and Ulema نو آبادیاتی دور اور علماء

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

شاہ عبدالعزیز کے فتوے

ہندوستان میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی طاقت مضبوط ہوگئی اور اس نے سیاسی اقتدار حاصل کرلیا، تو اس کے ساتھ ہی ہندوستان کا سیاسی ڈھانچہ بھی تبدیل ہونا شروع ہوگیا او رمسلمان حکمران اور امراء کمزور ہوکر بے بس ہوگئے ۔ لہٰذا ان حالات میں ان کےلئے یہ لازمی تھا کہ ہندوؤں اور انگریزوں سےاپنے تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کریں، لیکن اس مرحلہ پریہ سوال بھی تھاکہ ان کی راہنمائی کون کرے؟ کیونکہ بادشاہتی ادارے کےکمزور ہونے کے ساتھ ہی اس کے تمام ماتحتی ادارے بھی زوال پذیر ہوچکے تھے ، لہٰذا لوگوں نے علماء کی جانب سے رجوع کیا کہ وہ ان کی راہنمائی کریں۔

علما ء کا نقطہ نظر ان بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں ایک نہیں تھا ۔مثلاً ان میں کچھ اب ہندوستان کو دارالحرب سمجھتے تھے ، جب کہ کچھ اسے اب تک دارلامن یا ان دونوں کے درمیان قرار دیتے تھے اور اس لئے انہوں نے مسلمانوں کو ہدایت کی کہ وہ ہجرت کر کے دوسرے ملک میں نہیں جائیں اور ہندوستان ہی میں رہیں کہ جہاں انہیں مذہبی امور کی آزادی ہے۔ لیکن کچھ علماء کی تعداد ایسی تھی کہ جنہوں نے اس چیز کوذہن میں رکھتے ہوئے کہ ان کا رابطہ انگریزوں سے نہ ہوجائے ۔ ہندوستان سے حجاز ہجرت کرلی اور اور وہاں پر ہی مستقل سکونت اختیار کرلی ۔ جو علماء حجاز نہیں جاسکے انہوں نے مسلمان ریاستوں میں بود و باش کو ترجیح دی تاکہ اس طرح وہ کم از کم انگریزوں سےدور رہیں گے۔

اس طرح علماء نے تو اپنے لئے کوئی نہ کوئی حل نکال لیا، ان میں سے وہ جنہوں نے ہندوستان کو دارالامن تسلیم کرلیا تھا ’’ انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمتیں بھی قبول کرلیں لیکن مسئلہ عام مسلمانوں کا تھا کہ وہ ان میں سے کون سی بات کو تسلیم کریں۔ بہر حال ایک چیز تو واضح تھی او روہ یہ کہ تمام مسلمانوں کےلئے ناممکن تھاکہ وہ ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک چلے جائیں ۔ ان پر یہ بات بھی واضح تھی کہ انگریزوں کی فوجی طاقت اس قدر زیادہ ہے کہ ان سے لڑکر انہیں یہاں سے نکالنابھی اب نا ممکن ہوگیا تھا ۔ مغل سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد، ان کے لئے ملازمتوں کا حصول بھی مشکل ہوگیا تھا ۔ لہٰذا اب ملازمتوں کی تلاش میں ہندو اور مسلمان دونوں کمپنی اور مقامی ریاستوں کی جانب رجوع کررہے تھے ۔ ان سارے عمل میں مذہبی شناخت انتہائی کمزور ہوگئی تھی کیونکہ مسلمان فوجیوں کو اگر ہندو راجہ کے ملازمت ملتی تو وہ اختیار کرنے پر مجبور تھا اور اگر اسے ہم مذہبوں سے جنگ بھی کرنا پڑے تو اس کےلئے اس میں کوئی جھجھک نہیں رہی تھی ۔

علماء کےلئے یہ صورت حال ضرور تشویش ناک تھی کہ اگر معاشرے میں اس طرح اشتراک ہوجائے گا تو مسلمانوں کی علیحدہ سے کوئی مذہبی شناخت نہیں رہے گی، ان حالات میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے کئی فتوے جاری کئے۔ مثلاً انہوں نے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ کافروں کی ملازمت کریں مگر بحیثیت فوجی کےنہیں تاکہ انہیں مسلمانوں سےجنگ نہ کرنی پڑے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے عہدوں اور حیثیتوں میں ان کی ملازمت کرنے میں کوئی حرج نہیں اور ایک مرتبہ جب ملازمت کرلیں تو پھر ان کی وفاداری بھی لازمی ہے۔ لیکن انہیں اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے کافروں کے ساتھ سماجی اور ثقافتی تعلقات نہ ہوں ۔ یہاں تک کہ وہ برتن کہ جو کافر استعمال کرتے ہوں ان کو ہاتھ نہ لگایا جائے، اگر بہت ہی ضروری ہو تو ان برتنوں کو اچھی طرح دھوکر صاف کیا جائے، پھر ان میں کھایا پیا جائے۔ اس طرح انہوں نے اس بات کی بھی سخت مخالفت کی کہ کافروں کے تہواروں اور تقریبات میں شامل ہوا جائے، ان کی عبادت گاہوں میں جایا جائے ۔

شاہ عبدالعزیز نے اس بات کی بھی اجازت دے دی تھی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت کو اختیار کرلیا جائے ، بلکہ انہوں نے اپنے بھتیجے عبدالحئی کو کمپنی کی ملازمت کرنے دی ۔ اگر چہ اس خبر کو سن کر اس وقت کےمشہور صوفی شاہ غلام علی نے سخت افسوس کااظہار کیا تھا ۔ اس پر عبدالعزیز نے ایک خط میں اپنے فیصلہ کو صحیح ثابت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس قسم کی ملازمت میں نہ تو اس بات کا خطرہ ہے کہ کافروں کے ساتھ تعلقات بڑھیں گے، نہ ہی ان کی خوشامد کرنا ہوگی۔ نہ جھوٹ بولنا پڑے گا، اور نہ ہی اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے مسلمانوں کو اس بات کی اجازت دے دی تھی کہ وہ انگریزی سیکھ سکتے ہیں، مگر ساتھ ہی ان کی ہدایت کی تھی کہ اس زبان کو سیکھ کر نہ تو وہ انگریزوں کی خوشامد کریں اور نہ اس کے ذریعہ ذاتی مفادات کو حاصل کریں ۔

لیکن ان تمام شرائط کے ساتھ بار بار مسلمانوں سے یہ کہا گیا کہ وہ انگریزوں سے دور رہیں، ان سے اپنے تعلقات کو نہ بڑھائیں اور نہ ہی ان کے طور طریق، لباس اور عادات کو اختیار کریں ۔ چنانچہ ان فتووں اور عام رجحانات کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت انگریزوں سے ملنے سےپرہیز کرتی تھی او راگر اپنے معاملات کی وجہ سے ملنا ہی پڑتا تھا، تو ملاقات مختصر ہوتی تھی اور اکثرلوگ تو مصافحہ کے بعد ہاتھ دھولیا کرتے تھے، اور جن لوگوں کے انگریزوں سےدوستانہ تعلقات تھے، جنہوں نے تھوڑی بہت انگریزی طور طریق اختیارکر لیے تھے ،انہیں معاشرہ میں عزت کی نگاہ سےنہیں دیکھا جاتا تھا او رایسا سمجھا جاتا تھا کہ اس نے اپنے معاشرہ کی توہین کی ہو۔ مثلاً جب محسن الملک نے سر سید احمد خاں کو چھری کانٹے کے ساتھ میز پر انگریزوں کی طرح کھاتے ہوئے دیکھا تو انہیں اس سے زبردست صدمہ ہوا، اور اپنے اس صدمہ پر قابو پانے میں انہیں کافی وقت لگا۔

اس وجہ سے علماء کے برعکس سرسید نے اس مہم کو چلایا کہ وہ مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ یورپی طرز زندگی اختیار کرنااسلام کےخلاف نہیں ۔ اس لئے اس کو اختیار کرکے انگریزوں کےساتھ تعلقات کو بڑھایا جائے، کیونکہ جب تک یوروپی تہذیب کو اختیار نہیں کیا جائے گا ، اس وقت تک انگریزی ذہن کونہیں سمجھا جا سکے گا، اپنے رسالہ تہذیب الاخلاق ، میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اہل کتاب کے ساتھ کھاناکھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ایک تو نئی تعلیم کی وجہ سے اور بدلتے حالات کی وجہ سے آہستہ آہستہ مسلمانوں کے اعلیٰ طبقوں میں یوروپی تہذیب و تمدن مقبول ہوتا چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی یوروپی تعلیم یافتہ طبقوں نے مسلمانوں کی رہنمائی کا دعویٰ کردیا۔ اس کے بعد سےعلماء اور ان میں رہنمائی کےلئے ایک کش مکش شروع ہوگئی۔ اس کش مکش میں فیصلہ اس بات پر ہوناتھا کہ کون بدلتے ہوئے حالات کو بہتر سمجھتا ہے اور ان کا عملی حل پیش کرتاہے؟

مذہبی تحریکیں

مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سے سب سے اہم سبب علماء کےنزدیک یہ تھا کہ وقت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں بہت سی ہندووانہ رسومات آگئیں تھیں، لہٰذا زوال کے اس عمل کو روکنے کےلئے ضروری تھا کہ اسلام کو ان رسومات سے پاک کیا جائے اور خالص اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے۔ صرف اسی صورت میں مسلمان اپناکھویا ہوامقام حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس لئے علماء کی ابتدائی نو آبادیاتی دور میں جو تحریکیں شروع ہوئیں ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ ثقافت جو ہندومسلم اشتراک سے پیدا ہورہی ہے اسے روکا جائے اور مسلمانوں میں مذہبی بنیاد پر علیحدہ سے شناخت کو ابھارا جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہو ں نے نو آبادیاتی دور کے مسائل سےمقابلہ کرنے کے بجائے اول تو ہندو اثرات کے خلاف تحریک شروع کی، جو بعد میں ذہنی جنگ کےساتھ ساتھ جسمانی جنگ میں بدل گئی۔

بنگال میں فرائضی تحریک ا س کی ایک مثال ہے، اس کے بانی حاجی شریعت اللہ (وفات۔ 1840) تھے، جنہوں نے ان پڑھ کسانوں میں کام کرنا شروع کیا اور ان کو اس پر تیار کیا کہ وہ اسلامی فرائض کو ادا کریں ۔ کسانوں میں ان کے پیغام کو اس لئے سنا گیا کہ وہ ہندو زمینداروں کے ہاتھوں استحصال کاشکار تھے،اور کسی ایسے راستے کی تلاش میں تھے کہ جو انہیں ان کے مظالم سےنجات دلائے ۔ حاجی شریعت اللہ نے ان کومنظّم کر کے ان میں ایک نیا جذبہ پیدا کردیا۔ ان کے کام کا طریقہ کار یہ تھا کہ اپنے ماننے والوں کی ایک برادری بنائی اور ان کا لباس بھی علیحدہ سے تجویز کیا تاکہ اس طرح سےان میں یکجہتی اور اتحاد کا احساس ہو۔ اس کے بعد انہوں نے علاقہ کو مختلف حصوں میں بانٹ کر وہاں اپنے خلیفہ متعین کئے ۔ گاؤں میں اپنی عدالتیں قاَؑم کیں تاکہ مسلمان باہمی جھگڑوں کا فیصلہ یہاں پرکریں اور برطانوی عدالتوں میں جانے سے گریز کریں ۔ کسانوں کی حمایت حاصل کرنے کےلئے انہوں نے زمین کے ٹیکس کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

ان کی وفات کے بعد جماعت کی رہنمائی ان کے لڑکے دو دو میاں (وفات۔ 1862) کو ملی۔ انہوں نے تحریک کے فوجی عنصر کو ختم کرکے اسے مذہبی تحریک میں بدل دیا۔ یہ تحریک اگر چہ نو آبادیاتی دور میں شروع ہوئی مگر اس نے نوآبادیاتی نظام کے مسائل سے ہٹ کر اس بات پر زور دیا کہ مسلمان اپنے مذہبی شناخت کو مستحکم کریں اس کے نیتجہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہوگئے کہ جس کافائدہ انگریزوں کو ہوا۔

اسی قسم کی ایک اور تحریک مغربی بنگال میں شروع ہوئی جسے تیتو میر (وفات۔1831) جو سید احمد شہید کے ایک مرید تھے، نے شروع کی، یہاں بھی انہیں مسلمان کسانوں کی حمایت حاصل ہوگئی کہ جو ہندو زمینداروں کے ہاتھ پریشان تھے ان مین اتحاد بر قرار رکھنے اور شناخت کا احساس بیدار کرنے کےلئے انہوں نےبھی حاجی شریعت اللہ کے طریقوں کو اپنایا، اور اپنے مریدوں کو علیحدہ سے لباس پہننے پر زور دیا تاکہ وہ خود کو ہندوؤں سےعلیحدہ کرسکیں ۔ تحریک کا جھگڑا بہت جلد ہندو زمینداروں سے ہوگیا کہ جس نے ان کے لئے لا قانونیت کی شکل پیدا کردی اور انہوں نے برطانوی حکومت کی حمایت سے اسے کچل کر ختم کردیا۔

تیسری تحریک سید احمد شہید کی تھی جو کہ شروع تو شمالی ہندوستان سے ہوئی، مگر اپنی سرگرمیوں کو انہوں نے سرحد کےعلاقہ میں منتقل کر دیا جہاں یہ سکھوں اور پٹھانوں سےلڑے، او ربالآخر کوٹ کےمقام پر سید احمد شہید کی شکست نے اس کی فوجی سرگرمیوں کو ختم کردیا۔

یہ تینوں تحریکیں اصلاحی تھیں اور ساتھ میں فوجی قوت و طاقت سے اپنے منصوبوں کوعملی جامہ پہنانا چاہتی تھیں ۔ مذہب کو ہندووانہ رسومات سے پاک کرنے کی مہم میں انہوں نے نہ صرف مسلمانوں میں اختلافات پیدا کئے بلکہ اپنی قوت و طاقت اور نفرت کو ہندوؤں کے خلاف کردیا اور انگریزوں کو اس کش مکش میں بالکل چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس کا اندازہ نہیں لگایا کہ ہندوستان میں مسلمان جماعت کی کیا طاقت ہے۔ مشترکہ ثقافت کی جڑیں کتنی گہری ہیں اور اہل برطانیہ جو مقامی حمایتی گروہوں کے سہارے اقتدار حاصل کررہےہیں اس کو کس طرح سے روکا جائے۔ ان تینوں تحریکوں کی ناکامی اور 1857ء کے ہنگامہ کے بعد، مسلمانوں کےلئے یہ نا ممکن ہوگیا کہ وہ فوجی قوت کے سہارے دوبارہ سےسیاسی طاقت کو حاصل کر سکیں۔

لہٰذا 1857ء کے بعد اصلاحی تحریکوں کےڈھانچہ میں زبردست تبدیلی آئی اور انہوں نے فوجی طاقت کےبجائے ایسے نظریات و خیالات کو پھیلانے کےلئے تعلیم کواستعمال کرنا شروع کیا ۔ دیوبند مدرسہ کا قیام اسی سلسلہ کی ایک کڑی تھا کہ جس میں تعلیم کےذریعہ مذہبی عقائد کو دوبارہ سےنئی زندگی دینے کی کوشش کی گئی ۔

ان اصلاحی تحریکوں کی مخالفت میں احمد رضا خاں (وفات ۔1921) نے ایک مہم شروع کی اور اپنی اس مہم میں انہوں نے تمام روایات ، رسم و رواج، اور عقائد کی حمایت کی جو کہ وقت کے ساتھ عام مسلمانوں میں رائج ہوگئے تھے اور اب ان کےمذہب کا ایک حصہ ہوگئے تھے، ان کے خیال میں انہیں ان سے محروم کرنا ان کی زندگی میں خلا پیدا کرنا تھا، لہٰذا انہوں نے خالص اور اصلاحی مذہب کی سخت مخالفت کی ’’ اور اپنے عقائد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کو مرکزی مقام دے کر اس کے گرد ساری تحریک کو متعین کردیا۔ و ہ سیدوں کو بھی اس لحاظ سےبہت زیادہ عزت کرتے تھے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد تھے ۔ وہ صوفیاء کے معتقد تھے، اور اس پر یقین رکھتے تھے کہ ان سے مدد کےلئے کہا جائے اور دینی و دنیوی مسائل کےلئے ان سے رجوع کیا جائے۔ مزاروں کی زیارت کی جائے منتیں مانی جائیں اور نذر و نیاز چڑھائی جائیں۔ اس طرح انہوں نے کوشش کی کہ ان کے زمانہ میں اسلام کی جو ارتقائی شکل موجود ہے اسے برقرار رکھا جائے ۔ انہوں نے اس پالیسی کو بھی اختیار کیا کہ سیاست سے دور رہا جائے اور اپنی تمام توانائی کو صرف مذہبی امور تک محدود رکھا جائے۔

ان تحریکوں کےاثرات مختلف ہوئے۔ مثلاً دیوبند تحریک نے تعلیم یافتہ متوسط، شہری طبقوں کو متاثر کیا۔ جب کہ بریلوی عقائد ان پڑھ ، اور دیہاتی علاقوں میں زیادہ مقبول ہوئے ، لیکن ان مذہبی تحریکوں کا اثر یہ ہوا کہ اب ہر سیاسی و سماجی اور معاشی مسئلہ مذہب کی روشنی میں دیکھا جانے لگا، جس کی وجہ سے اس مسئلہ کےحل میں رکاوٹ پیدا ہونے لگی اور اس نے جدیدیت کے خلاف دفاعی محاذ بنالیا۔

ان تحریکوں میں جو باہمی جھگڑے اور فساد ہونا شروع ہوئے اس نے بھی مسلمانوں کی توجہ جدید سیاسی مسائل سے ہٹا کر مذہب پر مرکوز کردی کیونکہ ہر مذہبی جماعت نے شدت کی پالیسی کو اختیار کرتےہوئے، ایک دوسرے کو گمراہ او رکافر کہنا شروع کردیا، تاکہ ان کے حمایتوں میں ان کی کوئی عزت نہیں رہے۔ اس طرح مسلمانوں کو متحد کرنے کے بجائے انہوں نے مسلمانوں کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے آخر یہ مختلف مذہبی جماعتیں کیوں ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہی تھیں ؟ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ ہر جماعت اس بات کی خواہش مند تھی کہ وہ اپنےپیروکار وں کو متحد رکھے، او رانہیں جماعت چھوڑ کر نہ جانے دے اس لئے انہوں نے ان میں جماعت کی شناخت کو بیدار کیا اور اپنے ماننے والوں پر یہ پابندی لگا دی کہ وہ دوسری مذہبی جماعت کے لوگوں سےکوئی رابطہ نہ رکھیں ، ان سے سلام و دعا نہیں کریں گے، نہ ان کےساتھ کھائیں گے او رنہ ان میں شادی بیاہ کریں گے۔

اس کا دلچسپ پہلو یہ تھاکہ ان میں سے ہر جماعت اس بات کا دعویٰ کرتی تھی کہ وہ مسلمانوں کی اکثریت کی نمائندہ ہے، اس لئے اگر ان کی جماعت کو کمزور کیا گیا یا اس کےخلاف کوئی سازش کی گئی تو یہ اسلام اور مسلم امہ کےخلاف سازش ہوگی، جو کہ ایک بڑا گناہ ہے۔

دراصل مغل سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد، مسلمان جس طرح سے کمزور ہوئے تھے، اس کا واحد علاج یہ ڈھونڈا جارہا تھا کہ انہیں متحد کیا جائے اور ان کےاختلافات کو ختم کرکے ان میں اتفاق کو پیداکیا جائے ، اس لئے ہر مذہبی جماعت نے اس کا دعویٰ کیا کہ وہ واحد جماعت ہے جو مسلمانوں کو متحد کرے گی، اور دوسری تمام جماعتیں اختلافات پیداکرنے والی ہیں اس لئے ہر جماعت اس مہم میں مصروف ہوگئی کہ اتحاد کی خاطر دوسری جماعتوں کو ختم کردیا جائے تاکہ صرف ایک جماعت اور اس کےعقائد پر پوری قوم کو ایک کیا جاسکے ۔ جب ان کی کوششوں میں رکاوٹیں آئیں تو انہوں نے مخالف جماعتوں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا، اور اس طرح انہیں اسلام کا دشمن گردانا۔

ایک وجہ ان مذہبی جماعتوں کی مخالفت کی یہ تھی کہ ان سب کا دار و مدار لوگوں کے چندوں پر تھا، اس لئے انہیں یہ خطرہ رہتا تھا کہ اگر ان کےپیروکار کم ہوگئے یا چھوڑ کر چلے گئے تو ان کے مالی و سائل پر اس کااثر پڑے گا۔ اس لئے انہوں نے غیر دوستانہ اور مخالفانہ رویہ کو اختیار کیا تاکہ ان کا علیحدہ سے وجود برقرار رہے۔

اپنے عقائد اور نظریات کی تبلیغ کےلئے ان مذہبی جماعتوں نےاپنے اپنے دینی مدارس قائم کئے تاکہ ان میں متشدد طالب علم اوراساتذہ کی تربیت کی جائے، لہٰذا ان مدرسوں میں فرنگی محل، دیوبند، ندوۃ العلماء، اور مدرسہ مظاہر العلوم خاص طور سے قابل ذکر ہیں کہ جنہوں نے ایک دوسرے سے مختلف سےمختلف مذہبی نظریات کو پھیلا یا ۔ ان کی اس تقلید میں ہندوستان کےمشہور شہروں میں بھی مدرسوں کا قیام عمل میں آیا جن میں لاہور، مراد آباد، رامپور، بدایوں، جبل پور، بریلی، مار ہروہ، پٹنہ ، کراچی، اور کلکتہ شامل ہیں ۔ ان مدرسوں کے قیام میں مسلمان امراء اور جاگیرداروں نے مالی طور پر مدد کی ، جس کی وجہ سے یہ مدرسے کام کرسکے۔

چندے پر انحصار کی وجہ سے علماء کے ذاتی کردار اور ان کی تعلیم و تبلیغ پر بہت زیادہ اثر پڑا، چونکہ چندہ دینے والوں کی اکثریت خوش حال اور دولت مند مسلمان تھے اس لئے علماء نے سماجی مسائل کونہیں چھیڑا ، اور غربت ، مفلسی، بھوک، صحت ، اور نا انصافیاں ان کے دائرے کار میں نہیں آئیں ۔ اس کے برعکس انہوں نے معاشرہ کے ڈھانچہ کو اسی طرح برقرار رہنے پر زور دیا او رہر تبدیلی کی مخالفت کی۔

چندوں پرانحصار کرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ علماء کا سماجی مرتبہ گھٹ گیا،اگرچہ ان کی مذہبی حیثیت تو باقی رہیں، مگر ان کی عزت کم ہوگئی۔

مذہبی تنظیمیں

ہندوستان میں نو آبادیاتی دور میں سیاسی و سماجی او رمذہبی جماعتوں کی تنظیم کا آغاز ہوا، اور جب عیسائی مشنری جماعتیں تبلیغ کی غرض سےآئیں تو ہندوؤں او رمسلمانوں دونوں نے ان سے تنظیمی امور کے بارےمیں بہت کچھ سیکھا، اور جب انہوں نے ان کا مقابلہ کرنے کےلئے اور اپنے اپنے مذہب کا دفاع کرنے کے لئے جماعتیں بنائیں تو ان کا ڈھانچہ اور تنظیم ان ہی مشنری جماعتوں کےمطابق رکھی ۔

مثلاً کسی بھی جماعت کےلئے اولین طور پر یہ لازمی تھا کہ اس کاکوئی منشور ہو جو اس تنظیم کو قانونی شکل دے سکے۔ پھر حکومت نے ہر جماعت کےلئے یہ لازمی قرار دیا تھاکہ اسے رجسٹرڈ کرایا جائے اس طرح یہ جماعتیں قانونی ہوجاتی تھیں ۔ پھر ان جماعتوں کو چلانے کے لئے اس کے باقاعدہ سے عہدے دار ہوتے تھے ان میں صدر، جنرل سیکریٹری ، خزانچی اہم عہدے ہوتے تھے، او رباقی اراکین یا مجلس مشاورت ہوتی تھی، جو کہ جماعت کی پالیسی کو طے کرتی تھی۔ جماعت کے مالی امور کےبارےمیں ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور اس کی تفصیل دی جاتی تھی کہ کتنے پیسے وصول ہوئے، اور کتنے خرچ ہوئے، پالیسی معاملات کےلئے اراکین کی پابندی سےمیٹنگیں ہوا کرتی تھیں اور ایک اجلاس سالانہ ہوتا تھا جس میں سال بھر کی سرگرمیوں کی تفصیل دی جاتی تھی اور حساب کتاب پیش کیا جاتا تھا۔

جماعتوں کے اس ریکارڈ کا فائدہ یہ ہوا کہ ہر جماعت کی تاریخ بنتی گئی اور اراکین و عام لوگوں کے علم میں یہ بات آتی رہی کہ جماعت کیا کررہی ہے، اور اس نے اب تک کیا حاصل کیا ہے؟ اگر یہ ضروری ہوا کہ بہت سی جماعتوں نے اپنے ریکارڈ کو پوری طرح سےمحفوظ نہیں رکھا، اور سستی و کاہلی ،جماعت میں لیڈروں کی تبدیلی نے بہت ریکارڈ ضائع کرا دیا، مگر اس کے باوجود جو تھوڑا بہت ریکارڈ محفوظ رہا اس سے اس عہدے کے بارے میں بہت سی معمولی مگر اہم معلومات حاصل ہو جاتی ہیں۔

علماء نے جب اپنی اپنی جماعتیں بنائیں تو ایسے منصوبوں کو پوراکرنے اوراپنے منشور پر عمل در آمد کے لئے یہ ضروری تھاکہ وہ عوام سےاپیل کرکے چندہ جمع کریں، چنانچہ جن جماعتوں کو زیادہ چندہ ملاانہوں نے اپنے پیسے سےاپنے لئے جائدادیں خریدیں، جماعت کا آفس، مدرسہ کی تعمیر، اور یتیم خانوں کا سلسلہ اس سے شروع ہوا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء کی ایک پیشہ ور جماعت وجود میں آگئی کہ جس نے معاشرے میں ان رفاعی کاموں کو اپنے ذمہ لے لیا اور چند وں کی وصولیابی نے خود ان کی مالی حالت کو بہتر بنا دیا ۔ ان میں سے کچھ جماعتوں اور تنظیموں نے اچھا کام کیا مگر اکثر کےبارے میں یہ شکایات ہیں کہ انہوں نے پیسے کھا لیے اور بد عنوانیوں اور غبن کےبعد ان تنظیموں کا خاتمہ ہوگیا۔

ایک طرف تو علماء کی شناخت مسجد، مدرسہ، اور رفاعی مذہبی اداروں سے تھی مگر جب بر صغیر میں سیاسی سرگرمیاں شرو ع ہوئیں اور سیاسی جماعتیں سر گرم عمل ہوئیں تو اس وقت علماء نے بھی اس ضرورت کو محسوس کیاکہ وہ خود کو مخض مذہبی تنظیموں تک محدود نہیں رکھیں، بلکہ سیاست میں بھی حصہ لیں، اور اس طرح سے اپنا سماجی رتبہ بھی بلند کریں ۔ علماء کے ان اداروں اور خواہشات کو مولانا شبلی نعمانی نے اپنی ایک تقریر میں اس طرح سے بیان کیا ہے:

‘‘ معزز حضرات! مسلمان دور حکومت میں دنیاوی اور مذہبی معاملات علماء کے ہاتھوں میں تھے ۔ علماء نماز اور روزہ کے مسائل کےساتھ ساتھ عدالتی مقدمات کے فیصلے بھی سنا تے تھے، وہ مجرموں کو سزائیں دیتے اور احکامات صادر کرتے تھے، سزائے موت یا قصاص کے فیصلے بھی وہی سناتے تھے۔ مختصراً یہ کہ دنیاوی اور دینوی دونوں معاملات انہیں کے ہاتھوں میں تھے ۔ اب صورت حال بدل گئی ہے اور دنیاوی امور برطانوی حکومت کےماتحت ہیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علماء اور مسلمانوں کی جماعت کےرشتہ اور روابط کس قسم کےہوں، اور انہیں حکومت سےکون سے معاملات لینا چاہئیں اور کو ن سے اس کے سپرد کرناچاہئیں اور کون سی ایسی باتیں ہیں کہ جن میں حکومت کو مطلق دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے ’’۔

لہٰذا علماء سیاست میں عملی طور پر اس لئے حصہ لینا چا ہتے تھے کہ برطانوی دور حکومت سے پہلے ان کے جو اختیارات تھے انہیں دوبارہ سے حاصل کیا جائے، اور اپنی سرگرمیوں کو صرف مذہبی معاملات تک محدود نہیں رکھا جائے بلکہ اس سے اور آگے بڑھ کر دنیاوی امور میں بھی ان کی رہنمائی کی جائے، اس مقصد کو حاصل کرنے کےلئے ضروری تھا کہ نئے سیاسی ڈھانچہ میں اپنی مذہبی و سیاسی جماعتیں بنائی جائیں اور اس پلیٹ فارم سے اپنے مطالبات کے لئے جد و جہد کی جائے اسی قسم کی ایک جماعت جو علماء نے بنائی اس کانام مجلس معرید الاسلام تھا ، جس کے قیام میں فرنگی محل کے علماء پیش پیش تھے، اور جس کا مقصد شریعت کا قیام او رمسلمانوں کی ترقی تھا ۔

اس کے بعد ہی دوسرے مذہبی فرقوں کی جانب سے بھی جماعتیں بننا شردع ہوگئیں کیونہ ہر فرقہ کے مذہبی عقائد مختلف تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی ایک جماعت تمام فرقوں کی نمائندگی کرتے ہوئے مطالبات پیش کرے۔ اس لئے 1907 ء میں شیعوں نے آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے نام سے اپنی تنظیم کا اعلان کیا۔ 1914 ء میں سنی نے جمیعۃ الہند کے نام سے جماعت بنائی ۔ ابتداء میں اس کا مقصد یہ تھا کہ یورپی حملوں کی وجہ سے خلافت اور مقدس مقامات کو جو خطرہ ہوگیا تھا، اس کےخلہاف جد وجہد کی جائے اور خلافت کے عہدے کو برقرار رکھا جائے۔

علماء نے ابتداء میں سیاسی جماعتوں سے کوئی روا بطہ نہیں رکھے، اور خصوصیت سے ایسی سیاسی پارٹیوں سےجن میں ہر مذہب او رمسلک کےلوگ شامل ہوتے تھے ۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ اگر ان پارٹیوں کےاجلاس میں شرکت کی جائے گی تو انہیں غیر مسلم خواتین کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا، اور اجلاس کے دوران انہیں اس کاموقع نہیں ملے گا کہ وہ نماز ادا کرسکیں۔

اس موقع پر ابوالکلام آزاد نے جو کہ اپنے ہم عصر علماء کی تنگ نظری ، کم علمی اور تشدد سے بیزار تھے، اس بات کی کوشش کی انہیں نئے سیاسی ماحول میں ایسی تربیت دی جائے کہ جس کے بعد وہ اس قابل ہوسکیں کہ سیاست میں حصہ لیں، اور بدلتے ہوئے حالات اورنئے پیدا ہونے والے مسائل کو سمجھ سکیں۔ آزاد اس وجہ سے علماء کو سیاست میں لانا چاہتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ہندوستان میں مسلمان صرف مذہب کے نام ہی پر متحد ہوسکتے ہیں اور انہیں مذہب کے ذریعہ ہی سیاسی طور پرسرگرم بنایا جاسکتا ہے، چنانچہ اس نظریہ کے تحت انہوں نے حزب اللہ کے نام سے ایک جماعت بنائی، تاکہ علماء کو اس کے ذریعہ تربیت دےکر با عمل بنایا جائے۔

اس سارے عمل کے پیچھے آزاد کی یہ فکر تھی کہ مذہب اور سیاست ایک ہیں، انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ، لہٰذا سیاسی فہم کےلئے ضروری ہے کہ اس کی تشریح مذہب کے ذریعہ کی جائے، اور یہ فیصلہ علماء کریں کہ کون سا سیاسی اقدام مذہب کےمطابق ہے۔

1914ء میں انہوں نے مدرسہ دارالارشاد قائم کیا تاکہ نوجوان علماء کو اپنے خیالات کے مطابق ڈھا لا جائے۔

علماء کی ان تنظیموں کا اثر یہ ہوا کہ ان کا طبقہ بہت جلد برصغیر کی سیاسی تحریکوں میں باعمل ہوگیا، کانگریس اورمسلم لیگ دونوں میں علماء کی شمولیت ضروری ہوگئی تاکہ ان کے ذریعہ سےمسلمان عوام کی حمایت حاصل کی جائے۔

علماء اور خلافت

جب مسلمانوں میں یورپی تعلیم یافتہ طبقہ ابھرا تو انہوں نے بھی ہندو تعلیم یافتہ طبقہ کی پیروی کرتے ہوئے، اپنےسیاسی حقوق کی بات کرنا شروع کردی، اور کانگریس کے مقابلہ میں اپنی سیاسی جماعت مسلم لیگ کی داغ بیل ڈالی ۔ اس طرح سے مسلمانوں میں سیاست و مذہب دو علیحدہ علیحدہ چیزیں رہیں۔ سیاسی رہنمائی کی ذمہ داری نئے تعلیم یافتہ طبقے نےاٹھالی، جب کہ علماء مذہبی امور اور مسلہ مسائل کے ذمہ دار رہے۔ اس لئے ابتداء میں جو بھی سیاسی مسائل تھے جیسے کہ اردو ہندی جھگڑا ، بنگال کی تقسیم، شملہ وفد اور مسلم لیگ کا قیام، ان سب میں علماء کو دوررکھا گیا او رمسلمانوں کی سیاسی لیڈر شپ نے ان مسائل کو خالص سیاسی اور اپنے طبقاتی مفادات کی روشنی میں دیکھا اور ان کا حل نکالا۔

لیکن یہ صورت حال اس وقت بدلی جب 14۔1912ء میں بلقان کی جنگیں ہوئیں او راس کے نتیجہ میں مسلمانو ں کے مقدس مقامات کے تحفظ اور خلافت کے ادارے کوبچانے کے سوالات سامنے آئے، اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے سیکولر اور مذہبی رہنما ایک دوسرے کے قریب آتے چلے گئے اور اس نے علماء کو یوں موقع فراہم کیا کہ وہ سیاست پر اثر انداز ہوں ۔

جب خلافت کامسئلہ ہندوستان کی مسلم سیاست میں ابھر کر آیا تو اس مسئلہ کی مذہبی نوعیت کی وجہ سے سیکولر لیڈر شپ نے علماء کو دعوت دی کہ وہ ان کےساتھ تعاون کریں تاکہ برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالا جائے کہ ترکی میں خلافت کو باقی رکھے، 1918 ء میں مسلم لیگ کے اجلاس میں ڈاکٹر انصاری نے ہندوستان کے سربرآوردہ علماء کو دعوت دی کہ وہ اس اجلاس میں شرکت کریں اور خلافت کے مسئلہ پر ایک متحدہ پالیسی کو اختیار کریں ۔ اس دعوت نے علماء میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کردیا، مولانا کفایت اللہ، مولانا عبدالباری، مولانااحمد سعید اورمولانا آزاد سبحانی نے اس میں شرکت کی۔ علما ء کو اس بات کا پورا پورا احسا س تھا کہ یورپی تعلیم یافتہ طبقہ کے ساتھ کام کرنے، اوران کے ساتھ تعاون کےبعد معاشرے میں ان کا سماجی اور سیاسی رتبہ بڑھ جائے گا، اور مسلمان جماعت کی رہنمائی کے مواقع انہیں اور زیادہ مل جائیں گے۔ اسی چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے مولانا کفایت اللہ نے کہاکہ:

میرا ہمیشہ سے یہ خیال رہا ہے کہ مسلمانوں میں سیاست او رمذہب ہمیشہ سے ایک رہے ہیں ، اور درحقیقت ان کا مذہب ہی ان کی سیاست اور ان کی سیاست مذہب ہے،بدلتے ہوئے حالات میں انہوں نے اپنے مذہب کو علماء کے حوالہ کردیا تھا، اور سیاست کو مسلم لیگ اور اس قسم کی سیاسی جماعتوں سے منسلک کردیا تھا، لیکن جب علماء کی ضرورت پڑی اور انہیں آواز دی گئی تو وہ کھلے دل اور خوشی سے آئے کہ ان کے ساتھ اتحاد کریں اور سیاسی جماعت میں شامل ہوں ۔’’

ایک دوسرے عالم محی الدین نے کہا کہ : ‘‘ اب تک علماء مذہب او رمسلمانوں کی سیاست کو دو مختلف چیزیں سمجھتے تھے لیکن دیکھا جائے تو اسلام میں یہ دونوں ایک ہیں۔ مسلمانوں کی سیاست ان کا مذہب ہے۔’’

اس نئی صورت حال میں سیکولر لیڈر شپ اس بات پر خوش تھی کہ علماء نے اس کے ساتھ تعاون کیا ہے اور اس سے ان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے، مگر انہیں میں چودھری خلیق الزماں نے علماء کے اشتراک اور اس کے نقصانات کو محسوس کرلیا تھا او رمتنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ :

وہ علماء کے ساتھ اشتراک کرکے درحقیقت آگ سے کھیل رہے ہیں، وہ یا تو ان کی ٹانگیں پکڑ کر کھینچ لیں گے، اور یا پورے ہندوستان کےمسلمانوں کو اپنے ساتھ بہا لے جائیں گے’’۔

آگے چل کر جب گاندھی نے خلافت تحریک کی حمایت کی تو یہ ایک عوامی جدوجہد بن گئی، او راس سے بھی علماء نے فائدہ اٹھایا جوبطور مذہبی رہنما کے سب سے آگے آگئے۔ حمزہ علوی نے اس پہلو کو نظر میں رکھتے ہوئے اپنے مقالہ ‘‘ پاکستان اور اسلام: نسل پرستی اور نظریہ ’’ میں لکھا ہے کہ : اس طرح سےمسلمان تنخواہ دار طبقہ کو مسلمان عوام سے کاٹ دیا گیا اوراس کی جگہ سے مذہبی رہنما ؤں یعنی علماء کو مسلمانوں کا سربراہ بنا دیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کےمذہبی جذبات کو ایک ایسے مسئلہ کےلئے ابھارا گیا کہ جس کی کوئی اہمیت نہیں رہی تھی اور جو اپنی موت آپ مرنے والا تھا ۔ حمزہ علوی لکھتے ہیں کہ اس نے مسلم لیگ کو کمزور کردیا، اور علماء کو سیاست میں لاکر انہیں علیحدہ سے اپنی پارٹی بنانے کا موقع دیا،جو انہوں نے 1919ء میں جمعیت علماء ہند کےنام سے قائم کی ۔

اس کے بعد علماء اور مسلم لیگ دونوں جماعتوں میں نہ صرف یہ کہ سرگرم ہوگئے بلکہ ملکی سیاست کا ایک اہم عنصر بن گئے ۔ سیاست او رمذہب کے اس ملاپ سےبرصغیر میں مسلمانوں کی سیاسی ذہنیت بری طرح سےمتاثر ہوئی اور ان میں سیاسی بوجھ اور سیاسی معاملات کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنے کی صلاحیت ختم ہوگئی، وہ ہر مسئلہ کو سیاست کے بجائے مذہبی نقطہ نظر سے دیکھنے لگے۔ مثلاً جب خلافت کامسئلہ اٹھا تو یہ مسلمانوں کے لئے خالص مذہبی تھا، مگر یہی مسئلہ ہندوؤں کےلئے سیاسی بن گیا ۔ اس کانتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں مذہبیت بڑھی تو ہندوؤں میں سیاسی شعور گہرا ہوا۔ اس طرح مسلمان سیاسی طور پر پس ماندہ ہوتے چلے گئے اور ان میں بدلتے حالات میں سیاسی تبدیلیوں کی سوجھ بوجھ کمزور ہوگئی ۔

علماء اور ہجرت

اس طرح خلافت تحریک نے علماء کو سیاسی میدان میں لاکھڑا کیا، اور انہوں نے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرکے اپنے لئے معاشرہ میں ایک سیاسی مقام حاص کرلیا۔ خصوصیت سےانہوں نے جہاد کے فتویٰ کو استعمال کرکے مسلمانوں کو مزید سرگرم بنا دیا۔ اسی قسم کا ایک فتویٰ جو ‘‘متحدہ فتویٰ’’ کہلاتا تھا، وہ علماء کی جانب سے جاری ہوا جس میں انہوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ چونکہ انگریز خلافت کو ختم کرناچاہتے ہیں اور مقامات مقدسہ پرقبضہ کرناچاہتے ہیں اس لئے ان کے خلاف بائیکاٹ کرناچاہیئے اور ان کی کوششوں کو روکنا چاہیئے ۔ اس کے ساتھ ہی علماء نے اس بات کی بھی کوشش کی کہ بر صغیر کے مسلمانوں کو شریعت کےماتحت کیا جائے، اس مقصد کےلئے انہوں نے شریعی عدالتیں قائم کرنا شروع کردیں، اور زکوٰۃ کی وصولی کابھی انتظام کرنا شروع کر دیا۔

سندھ میں بھی کچھ علماء نے اس قسم کا ایک فتویٰ شائع کیا کہ جس میں مسلمانوں پر زور دیا کہ اگر ان کو حکومت کی جانب سے خطاب ملے ہوں تو انہیں واپس کردیں، اور حکومت سےکسی قسم کاتعاون نہیں کریں کیونکہ عیسائی مسلمانوں کےمقدس مقامات پر سوروں کو مارتے ہیں، جوتوں سمیت چلتے ہیں ، سگریٹ پیتے ہیں، شراب کا استعمال کرتےہیں ۔ علماء نے مسجدوں کواپنے پروپیگنڈے کا ذریعہ بنایا، اور وہاں سے عیسائیوں کےاور حکومت کے وعظوں کا سلسلہ شروع کیا او رمسلمانوں سےکہا کہ وہ ان جہاد کےلئے تیار ہوجائیں ۔

ان حالات میں مسلمان پوری طرح سےعلماء کی گرفت میں آگئے، اس کا تجزیہ کرتےہوئے بی ۔ آر۔ نند ا نے اپنی کتاب ‘‘گاندھی : پان اسلام ازم ، امپیریل ازم اینڈ نیشنل ازم’’ میں لکھا ہے کہ :

‘‘تشدد پرستی اپنی بلندیوں پر پہنچ گئی او رہر طرف قسم قسم کی افواہیں پھیلنے لگیں، کہ برطانوی ہندوستان میں قرآن شریف کی تعلیم پر پابندی لگنے والی ہے، یا مکہ و مدینہ پرانگریزوں نے قبضہ کرلیا ہے اور کعبہ کوتباہ کردیا گیا ہے، اور جمعہ کے بجائے اب اتوار کو مذہبی عبادت کا دن مقرر کیا جارہا ہے’’۔

لہٰذا ان حالات میں مسلمانوں کےلئے دو راستے تھے : یا تو وہ جہاد کریں اور یا ہندوستان سےہجرت کر جائیں ، ابو الکلام آزاد نے اس موقع پرایک فتویٰ جاری کیاکہ جس میں ہجرت کا مشورہ دیا گیا۔

‘‘تمام دلائل شرعیہ ، حالات حاضرہ ، مصالح فہمہ امت مقتغیات صالحہ و موثرہ پر نظر ڈالنے کے بعد پوری بصیرت کے ساتھ اس اعتقاد پرمطمئن ہوگیا ہوں کہ مسلمانان ہند کے لئے بغیر ہجرت کےکوئی شرعی چارہ نہیں ۔ ان تمام مسلمانوں کےلئے جو اس وقت ہندوستان میں سب سے بڑا عمل انجام دینا چاہیں ضروری ہے کہ ہندوستان سے ہجرت کرجائیں ’’۔

اس فتویٰ کو مولاناعبدالباری فرنگی محل کی حمایت حاصل تھی اس فتویٰ کے نتیجہ میں تقریباً ہزاروں مسلمان ہجرت کرکے افغانستان چلےگئے جن میں سے دس ہزار راستے کی صعوبتوں یا افغانستان کے قیام کےدوران مارے گئے اور ہزاروں دیار غیر میں ذلیل و خوار ہوئے کہ جہاں افغان بھائیوں نے ان کے ساتھ ہر قسم کا سلوک روا رکھا ۔ یہ ہجرت تحریک بغیر کسی فائدے کے ختم ہوگئی ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہجرت کا موضوع 1947ء کےموقع پرپھر زیر بحث آیا، اور علماء نے اپنی کانگریس او رلیگ سے وابستگی کی بنیادوں پر اس مسئلہ پر بحث کی۔ جمعیت العماء ہند کے مولانا حسین احمد مدنی نے بڑے جذباتی انداز میں مسلمانوں سےاپیل کی کہ وہ ہجرت کر کے نہ جائیں اوراپنے پیچھے اپنے آباؤ اجداد کی قبریں ، مسجدیں، تاریخی عمارات، اور ثقافتی ورثہ چھوڑ کر نہ جائیں، کیونکہ اگر ان کی دیکھ بھال کرنے والاکوئی نہیں ہوا تو یہ تباہ ہوجائیں گی۔

اس کے برعکس مسلم لیگ کےمولانا شبیر احمد عثمانی نے ہجرت کے بارے میں یہ دلیل دی کہ رسول اللہ نے بھی ہجرت کی تھی، اور وہ بھی مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے ہر چیز کو چھوڑ گئے تھے لہٰذا ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کی پیروی کرتے ہوئے ہجرت کرناچاہئے او رپاکستان کو مدینہ بنانا چاہئے ۔

پاکستان بننے کے بعد اکتوبر 1947ء کو آزاد نے جامع مسجد میں خطابت سے بھر پور ایک تقریر کی۔ جس میں انہوں نے ہجرت کےعمل کی زبردست مذمت کی ‘‘ان کی تقریر کامتن درج ذیل ہے:

میرے عزیز! آپ جانتے ہیں کہ وہ کون سی چیز ہے، جو مجھے یہاں لے آئی ہے۔ میرے لئے شاہجہاں کی اس یادگار مسجد میں یہ اجتماع کوئی نئی بات نہیں ہے میں نے اس زمانہ میں جس پر لیل و نہار کی بہت سی گردشیں بیت چکی ہیں ، تمہیں یہیں سے خطاب کیا تھا۔ جب تمہارے چہروں پر اضمحلال کی بجائے اطمینان تھا اور تمہارے دلوں میں شک کی بجائے اعتماد ۔ آج تمہارے چہروں کا اضطراب اور دلوں کی ویرانی دیکھتا ہوں تو مجھے بے اختیار پچھلے چندبرسوں کی بھولی بسری کہانیاں یاد آجاتی ہیں ۔ تمہیں یاد ہے میں نے تمہیں پکارا تم نے میری زبان کاٹ لی، میں نے قلم اٹھایا اور تم نے میرے ہاتھ قلم کردیئے ۔ میں نے چلناچاہا تم نے میری پاؤں کاٹ دیئے، میں نے کروٹ لینی چاہی ، تم نے میری کمر توڑ دی ، حتیٰ کہ پچھلے سات برس کی تلخ نواسیات جو تمہیں آج داغ جدائی دے گئی ہے، اس کے عہد شباب میں بھی میں نے تمہیں خطرے کی شاہراہ پرجھنجھوڑ ا ، لیکن تم نے میر ی صدا سے نہ صرف احتراز کیا ، بلکہ غفلت و انکار کی ساری سنتیں تازہ کریں ۔ نتیجہ معلوم کہ آج ان ہی خطروں نے تمہیں گھیر لیا ہے، جن کا اندیشہ تمہیں صراط المستقیم سے دور لے گیا تھا ۔

سچ پوچھو تو میں ایک جمود ہوں یا ایک دور افتادہ صدا جس نے وطن میں رہ کر بھی غریب الوطنی کی زندگی گزاری ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو مقام میں نے پہلے دن اپنے لئے چن لیا تھا ، وہاں میرے بال وپرکاٹ لئے گئے ہیں یا میرے آشیانے کےلئے جگہ نہیں رہی، بلکہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میرے دامن کو تمہاری دست درازیوں سے گلہ ہے۔ میرے احساس زخمی اور میرے دل کو صدمہ ہے ۔ سوچو تو سہی تم نے کون سی راہ اختیار کی۔ کہاں پہنچے اور اب کہاں کھڑے ہو؟ کیا یہ خوف کی زندگی نہیں؟ کیاتمہارے حواس میں اختلال نہیں آگیا ہے؟ یہ خوف تم نے خود ہی فراہم کیا ہے۔ یہ تمہارے اپنے اعمال کے پھل ہیں ۔

ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں بیتا ، جب میں نے تم سے کہا تھا کہ دو قوموں کا نظریہ حیات معنوی کےلئے مرض الموت کا درجہ رکھتا ہے ، اس کو چھوڑ دو۔ یہ ستون جن پرتم نے بھروسہ کیا ہے۔ نہایت تیزی سے ٹوٹ رہے ہیں ۔ لیکن تم نے سنی ان سنی برابر کردی، اور یہ نہ سوچا کہ وقت اور اس کی تیز رفتار تمہارے لئے اپنا ضابطہ تبدیل نہیں کرسکتے۔ وقت کی رفتار تھمی نہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ جن سہاروں پر تمہیں بھروسہ تھا، وہ تمہیں لاوارث سمجھ کر تقدیر کے حوالے کرگئے ۔ وہ تقدیر جو تمہارے دماغی لغت کی منشاء سےمختلف مفہوم رکھتی ہے یعنی ان کے نزدیک فقدان ہمت کا نام تقدیر ہے۔

انگریز کی بساط تمہاری خواہش کے برخلاف الٹ دی گئی اور رہنمائی کےوقت بت جو تم نے وضع کئے تھے، وہ بھی دغا دے گئے، حالانکہ تم نے یہی سمجھا تھا کہ یہ بساط ہمیشہ کےلئے بچھائی گئی ہے اور ان ہی بتوں کی پوجا میں تمہاری زندگی ہے۔ میں نے زخموں کو کرید نانہیں چاہتا اور تمہارے اضطراب میں مزید اضافہ میری خواہش نہیں لیکن اگر کچھ دور ماضی کی طرف پلٹ جاؤ تو تمہارے بہت سی گرہیں کھل سکتی ہیں ایک وقت تھا میں نے ہندوستان کی آزادی کے حصول کا احساس دلاتے ہوئے تمہیں پکا را تھا او رکہا تھا ۔

‘‘ جو ہونے والا ہے اس کوکوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی ۔ ہندوستان کی تقدیر میں سیاسی انقلاب لکھا جا چکا ہے اور اس کی غلامانہ زنجیریں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے کٹ کر گرنے والی ہیں ۔ اگر تم نے وقت کا پہلو بہ پہلو قدم اٹھانے سے پہلو تہی کی اور تعطل کی موجودہ زندگی کو اپنا شعار بنائے رکھا تو مستقبل کا مورخ لکھے گا کہ تمہارے گروہ نے جو سات کروڑ انسانوں کا ایک غول تھا، ملک کی آزادی کے بارے میں وہ رویہ اختیار کیا جو صفحہ ہستی سےمحو ہوجانے والی قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔ آج ہندوستان کا جھنڈا اپنے پورے شکوہ سے لہرا رہا ہے۔ یہ وہی جھنڈا ہے جس کی اڑانوں سے حاکمانہ غرور کے دل آزاد قہقہے تمسخر کیا کرتے تھے ’’۔

یہ ٹھیک ہے کہ وقت نے تمہاری خواہشوں کے مطابق انگڑا’ئی نہیں لی، بلکہ اس نے ایک قوم کے پیدائشی حق کے احترام میں کروٹ بدلی اور یہی وہ انقلاب ہے جس کی ایک کروٹ نےتمہیں بہت حد تک خوفزدہ کردیا ہے۔ تم خیال کرتے ہو کہ تم سے کوئی اچھی شے چھن گئی ہے اور اس کی جگہ بری شے آگئی ہے۔ ہاں تمہاری بے قراری اسی لئے ہے کہ تم نے اپنے تئیں اچھی شے کےلئے تیار نہیں کیا تھا ۔ او ربری شے کو ملجا و ماویٰ سمجھ رکھا تھا ۔ میری مراد غیر ملکی غلامی سے ہے۔ جس کے ہاتھوں تم نے مدتوں حاکمانہ طمع کاکھلونا بن کر زندگی بسر کی ہے۔ ایک دن تھا کہ جب ہماری قوم کے قدم کسی جنگ کے آغاز کی طرف تھے اور آج تم اس جنگ کے انجام سے مضطرب ہو۔ آخر تمہاری اس عجلت پرکیا کہوں؟ کہ ادھر سر کی جستجو ختم نہیں ہوئی اور ادھر گمراہی کا خطرہ بھی پیش آگیا !۔

میرے بھائی ! میں نے ہمیشہ سیاست کو ذاتیات سے الگ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اس پر خار وادی میں قدم نہیں رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ میری بہت سی باتیں کنایوں کا پہلو لئےہوتی ہیں لیکن مجھے آج جو کچھ کہنا ہے،اسے بے روک ہوکر کہنا چاہتا ہوں متحد ہندوستان کا بٹوارہ بنیادی طور پر غلط تھا۔ مذہبی اختلافات کو جس ڈھب سے ہوا دی گئی اس کا لازمی نتیجہ یہی آثار و مظاہر تھے جو ہم نے اپنی آنکھوں سےدیکھے اور بد قسمتی سے بعض مقامات میں آج بھی دیکھ رہے ہیں۔

پچھلے سات برس کے روداد دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے ۔ البتہ ہندوستان کے مسلمانوں پر جو ریلا آیا ہے وہ یقیناً مسلم لیگ کی غلط قیادت کی فاش غلطیوں ہی کانتیجہ ہے لیکن میرے لئے اس میں کوئی نئی بات نہیں ۔ میں پچھلے دنوں ہی سے ان نتائج پر نظر رکھتا تھا۔

اب ہندوستان کی سیاست کا رخ بدل چکا ہے مسلم لیگ کےلئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اب یہ ہمارے اپنے دماغوں پر منحصر ہےکہ ہم کسی اچھے انداز فکر میں بھی سوچ سکتے ہیں یا نہیں ۔ اسی لئے میں نے نومبر کے دوسرے ہفتہ میں ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں کو دہلی بلانے کا قصد کیا ہے۔ دعوت نامے بھیج دیئے گئے ہیں ۔ ہر اس کا موسم عارضی ہے۔ میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کو ہمارے سوا کوئی زیر نہیں کرسکتا ۔ میں نے ہمیشہ کہا اور آج پھر کہتا ہوں کہ تذبذ ب کا راستہ چھوڑ دو شک سے ہاتھ اٹھا لو، اور بد عملی کو ترک کردو۔ یہ تین دھارا کاانوکھا خنجر لوہے کی اس دو دھاری تلوار سے زیادہ کاری ہے، جس کے گھاؤ کی کہانیاں میں نے تمہارے نواجوانوں کی زبانی سنی ہے۔

یہ فرار کی زندگی جو تم نے ہجرت کے مقدس نام پر اختیار کی ہے، اس پر غور کرو، اپنے دلوں کو مضبوط بناؤ اور اپنے دماغوں کو سوچنے کی عادت ڈالو ، اور پھر دیکھو کہ تمہارے یہ فیصلے کتنے عاجلانہ ہیں ۔ آخر کہاں جارہے ہو او رکیوں جارہے ہو؟

یہ دیکھو مسجد کے بلند مینار تم سے اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہا ں گم کردیا ہے؟ ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔

عزیز و ! اپنے اندر ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرو۔ جس طرح آج سے کچھ عرصے پہلے تمہارا جوش و خرو ش بے جا تھا ۔ اسی طرح آج یہ تمہارا خوف و ہراس بھی بے جا ہے۔ مسلمان اور بزدلی یا مسلمان اور اشتعا ل ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔ سچےمسلمانوں کونہ تو کوئی طمع ہلا سکتی ہے او رنہ کوئی خوف ڈرا سکتا ہے ۔ چند انسانی چہروں کے غائب از نظر ہوجانے سے ڈرو نہیں انہو ں نے تمہیں جانے کےلئے اکٹھا کیا تھا ۔ آج انہوں نے تمہارے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے، تو یہ عیب کی بات نہیں ۔ یہ دیکھو تمہارے دل تو ان کے ساتھ ہی رخصت نہیں ہوگئے ۔ اگر دل ابھی تک تمہارے پاس ہیں، تو اسے خدا کی جلوہ گاہ بناؤ جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے عرب کے ایک امی کی معرفت فرمایا تھا۔ ‘‘ جو خدا پر ایمان لائے اور اس پر جم گئے تو پھر ان کےلئے نہ تو کسی طرح کا ڈر ہے او رنہ کوئی غم ’’۔ ہوائیں آتی ہیں اور گذر جاتی ہیں ۔ یہ صر صر سہی ، لیکن اس کی عمر کچھ زیادہ نہیں ۔ ابھی دیکھتی آنکھوں ابتلا کاموسم گزرنے والا ہے۔ یوں بدل جاؤ جیسے تم پہلے کبھی اس حالت ہی میں نہ تھے ۔

میں کلام میں تکرار کا عادی نہیں ہوں ۔ لیکن مجھے تمہاری تغافل کیشی کےپیش نظر بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ تیسری طاقت اپنی گھمنڈ کا پشتارہ اٹھاکر رخصت ہو چکی ہے جو ہوناتھا، وہ ہوکر رہا۔ سیاسی ذہنیت اپنا پچھلا سانچہ توڑ چکی ہے اور اب نیا سانچہ ڈھل رہا ہے ۔ اگر اب بھی تمہارے دلوں کا معاملہ بدلا نہیں اور دماغوں کی چبھن ختم نہیں ہوئی ، تو پھر حالت دوسری ہے لیکن اگر واقعی تمہارے اندر سچی تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگئی ہے تو پھر اس طرح بدلو جس طرح تاریخ نےاپنے تئیں بدل لیا ہے۔ آج بھی کہ ہم ایک دور انقلاب کو پوراکرچکے ہیں، ہمارےملک کی تاریخ میں کچھ صفحے خالی ہیں اور ان صفحوں میں زیب عنوان بن سکتے ہیں ۔ مگر شرط یہ ہے کہ ہم اس کے لئے تیار بھی ہوں ۔

عزیز و! تبدیلیوں کےساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کےلئے تیار نہ تھے بلکہ اب تیار ہوجاؤ۔ ستارے ٹوٹ گئے لیکن سورج تو چمک رہا ہے اس سےکرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔

میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کےمدرسے سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرو او رکاسہ لیسی کی وہی زندگی اختیار کروجو غیر ملکی حاکموں کے عہد میں اشعار رہا ہے۔ میں کہتاہوں کہ جو اجلے نقش و نگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ تھا، انہیں بھلاؤ نہیں ، انہیں چھوڑو نہیں، ان کے وارث بن کر رہو، اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کےلئے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی ۔ آؤ عہد کرو کہ یہ ملک ہمار ا ہے، ہم اس کےلئے ہیں اور اس کی تقدیر کےبنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے ہی رہیں گے۔

آج زلزلوں سے ڈرتے ہو، کبھی تم خود اک زلزلہ تھے ۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو کیا یاد نہیں کہ تمہارا وجود ایک اجالا تھا! یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے تم نے بھیگ جانے کے خدشے سےاپنے پائینچے چڑھا لئے ہیں ۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے ، جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں، تو ان پر مسکرادیئے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صر صر اٹھی تواس کا رخ پھیر دیا ۔ آندھیاں آئیں تو ان سے کہاکہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جان کنی ہے کہ شہنشاہوں کےگریبانوں سےکھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سےکھیلنے لگے اور حد سے اس درجہ غافل ہوگئے کہ جسے اس پر کبھی گمان ہی نہیں تھا۔

عزیزو! میرے پاس تمہارے لئے کوئی نیا نسخہ نہیں ہے۔ وہی پرانا نسخہ ہے جوبرسوں پہلے کا ہے۔ وہ نسخہ جس کو کائنات انسانی کا سب سے بڑا محسن لایا تھا ۔ وہ نسخہ ہے قرآن کا ، یہ اعلان کہ لا تھنوم ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مومنین۔

آج کی محبت ختم ہوگئی مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ اختصار کے ساتھ کہہ چکا ہوں پھر کہتا ہوں او ربار بار کہتا ہوں اپنے ہواس پر قابو رکھو اپنے گرد و پیش اپنی زندگی خود فراہم کرو۔ یہ منڈی کی چیز نہیں کہ تمہیں خرید کر لادوں۔ یہ تو دل کی دکان ہی میں سے اعمال صالحہ کی نقدی سے دستیاب ہو سکتی ہے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

آزادی کے اس تقریر کو جو انہوں نے 1947ء میں کی او ران کے 1920ء کے فتویٰ کامقابلہ کیجئے ۔ 1920ء میں ہر مسلمان کےلئے ہجرت کو لازمی قرار دے رہے ہیں اور اس وقت انہیں نہ تو ان کی تاریخی عمارتوں کی فکر ہے نہ آباو اجداد کے مقبروں کی نہ ان کے گھروں کے اور نہ ثقافتی ورثہ کی۔ لیکن 1947ء میں اچانک یہ تمام باتیں یاد آجاتی ہیں اور وہ مسلمانوں کو یاد دلاتےہیں کہ ان کی حفاظت کےوہ ذمہ دار ہیں، اس لئے ہجرت کےبجائے وہیں مقیم رہیں اور ان کی حفاظت کریں۔

یہ سب کنفیوژن اس لئے ہواکہ مذہب اور سیاست کو ایک کردیا گیا اور فیصلہ سیاسی وجوہات کے بجائے مذہبی جذبات پر ہونے لگے۔ نتیجہ یہ ہواکہ دونوں موقعوں پر جن لوگوں نے ہجرت کی انہیں اس کی سزا ملی۔

مولانا آزاد اور امامت کا دعویٰ

علماء کی اکثریت اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ اگر خلافت ختم ہوگئی تو مسلمان بے سہارا رہ جائیں گے اور ان کامذہب کمزور ہوجائے گا۔ ان کے برعکس مولانا ابوالکلام آزاد کانقطہ نظر مختلف تھا ان کاکہنا تھا خلیفہ یا خلافت دونوں مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ سے اہم نہیں ہیں اس لئے اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایمان کو کیسے محفوظ رکھاجائے اور مسلمان جماعت کو کیسے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا جائے۔

اس مقصد کےلئے مولانا آزاد نے ایک منصوبہ پیش کیا وہ یہ تھا کہ مسلمانوں کاایک امام ہوناچاہئے جو ہندوستان کےمسلمانوں کا سربراہ ہو اور دینی معاملات میں ان کی رہنمائی کرے۔ انہوں نے اپنے ایک پیروکار مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی کےذمہ یہ کام لگایا کہ وہ دوسرے علماء سےاس منصوبہ کےبارے میں بات کریں ۔ آزاد نے اس کی اہمیت بتاتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کےمسلمان چونکہ بغیر کسی دینی سربراہ کے ہیں اس لئے امام ہی انہیں اول تو متحد کرے گا، اور پھر ان کے مذہبی شعور کو بیدار رکھے گا، کیونکہ بغیر امام کےان کا مذہب ادھورا رہے گا۔

عبدالرزاق ملیح آبادی نے امامت کےمسئلہ کو اور زیادہ وسیع کردیا اور اس کےہونے کی یہ دلیل دی کہ مسلمانوں کا امام نہ صرف دینی معاملات میں مددگار ہوگا بلکہ سیاسی امور میں بھی مسلمانوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ وہ انگریزوں سے جہاد کی خاطر ہندوؤں سےمعاہدہ کرے گا اور اس طرح ہندوستان کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کرسکے گا۔

اس کے بعد سب سے اہم سوال یہ تھا کہ امام کی حیثیت اقتدار اورطاقت تو تسلیم مگر یہ امام کون ہوگا؟ اس لئے ملیح آبادی نے اس کی قابلیت و صلاحیت کے بارےمیں یہ شرائط رکھیں : اسے مذہبی عالم ہوناچاہئے کردار میں پختگی ہونی چاہئے اور منجھا ہوا سیاستدان ہونا چاہئے ۔

یہ صلاحیتیں ملیح آبادی کےخیال میں اور خود مولانا آزاد کےخیال میں صرف ان میں تھیں اس لئے اس عہدے کےلئے سب سے زیادہ موزوں شخص وہی تھے۔ لہٰذا انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ وہ خود امام ہونے کا اعلان کردیں اور لوگوں سے اپنے لئے بیعت لینا شروع کردیں ۔ ان کا خیال تھا کہ جب ایک مرتبہ لوگوں کی اکثریت ان کے ہاتھ پر بیعت کرے گی تو ان کے خلاف علماء میں جو مخالفت ہے وہ ختم ہوجائے گا، اوراس طرح سے وہ متحد طور پر امام تسلیم کرلئے جائیں گے۔

اس مقصد کے لئے مولاناآزاد نے اپنے خلفاء کو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں متعین کرنا شروع کردیا اور انہیں ہدایات دیں کہ وہ شہر کےلوگوں کو دعوت پر بلائیں اور پھر ان کے سامنے پورا منصوبہ رکھیں او رامامت کےمسئلہ پر انہیں ہموار کریں۔ مولاناملیح آبادی نے یوپی میں بطور خلیفہ کام کرنا شروع کیا او رمسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو مولانا آزاد کی امامت پر تیار کرلیا۔

لیکن مسئلہ اس وقت بگڑنا شروع ہوا کہ جب مولانا محمود الحسن ، جو دیوبند کے سربراہ تھے، مالٹا کی اسیری سے رہا ہو کر لکھنؤ آئے اور مولانا عبدالباری فرنگی محل کے ہاں قیام کیا ۔ جب مولاناملیح آبادی نے ان دونوں علماء سے آزادی کی امامت پر گفتگو کی اور انہیں اس پر آمادہ کرنا چاہا ، تو انہوں نے اس پر خاموشی اختیار کرلی ۔ جب اس کی اطلاع آزاد کو دی گئی تو انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور مولانا ملیح آبادی کو لکھا کہ وہ اپنے مشن کو جاری رکھیں، کیونکہ انہیں سندھ اور بنگال میں کامیابی ہو رہی ہے۔

لیکن پھر اچانک 1920 ء میں آزاد نےاپنا منصوبہ ترک کر دیا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بعد میں آزاد نے اندازہ لگا لیا کہ ہندوستان کےعلماء او رمسلمان سیاستدان اس بات پر راضی نہیں کہ انہیں امام تسلیم کیا جائے اس لئے انہوں نے یہی بہتر سمجھاکہ پورے منصوبہ کو ختم کرکے اپنی توجہ دوسرے معاملات کی طرف کریں اور وہاں اپنے لئے کوئی اعلیٰ مقام حاصل کریں۔

اگر چہ اس منصوبہ کو تو ختم کردیا مگر اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ علماء کو سیاست میں لانے، او رمذہب کے ذریعہ سیاسی مسائل کو دیکھنے، جانچنے او ران کا حل ڈھونڈنے میں آزاد بھی ذمہ دار ہیں ۔ آزاد ان علماء میں پیش پیش تھے جو مذہب اور سیاست کو یکجا کررہے تھے اور اس کا یہ نتیجہ تھا کہ اس کے بعد سےہندوستان کے مسلمانوں نے ہر سیاسی مسئلہ کےلئے علماء سے رجوع کیا بلکہ یہا ں سے بھی بات آگے بڑھی او راب معاشی و سماجی معاملات بھی مذہب کی روشنی میں دیکھے جانے لگے۔

اس سارے قصہ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کردیا تو اس کے بعد سے سیکولر لیڈر شپ نے بھی اپنے مفادات کےلئے انہیں استعمال کیا اور پاکستان کی تحریک میں علماء سے زیادہ مسلم لیگ کی یورپی تعلیم یافتہ لیڈر شپ نے ان مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھایا۔

سجادہ نشیں اورعلماء

نو آبادیاتی دور میں سجادہ نشیں اور علماء نےاپنے سماجی مرتبہ اور مفادات کے تحت علیحدہ علیحدہ کردار ادا کیا ۔ سجادہ نشیں علماء کےمقابلہ میں سماجی طور پر زیادہ بلند مرتبہ رکھتے تھے او رمالی طور پر بھی ان کی حیثیت مضبوط تھی، کیونکہ ان کے آباؤ اجداد کو حکمرانوں کی جانب سے جاگیریں ملیں تھیں اور اب ان جاگیروں کےوارث یہ تھے، اس طرح ان کی حیثیت جاگیرداروں کی بھی تھی ۔ اس کے علاوہ چونکہ ان کا تعلق صوفیوں کے خاندان سے تھا، اس لئے عوام میں ان کےلئے عقیدت تھی اور ان کی مریدوں کی ایک بڑی تعداد ان پراعتقاد رکھی تھی، او ران کی روحانی طاقت پر یقین رکھتے ہوئے ان سے اپنے مسائل کاحل چاہتی تھی اس طرح سےانہیں مریدوں کی جانب سے بھی نذرو نیاز مل جاتی تھی جو ان کے مالی وسائل میں اضافہ کاباعث ہوتی تھی۔

چنانچہ معاشرے میں ان کی کئی حیثیتیں تھیں یہ مزاروں اور قبروں کےرکھوالے یا متولی تھے اور اس حیثیت میں اپنے بزرگوں کے وارث تھے ان کی خوشنودی کی خاطر حکمراں ، امراء ، اور عوام انہیں عقیدت کے طور پر تحفے تحائف دیا کرتے تھے اس لئے ان کا تعلق معاشرے کےایک ایسے طبقہ سےتھا جو اس میں کسی تبدیلی کے خواہش مند نہیں ۔

کیونکہ اکثر سجادہ نشین گاؤں اور دیہاتوں میں رہتے تھے اس لئے یہ حکومت اور عوام کےدرمیان رابطہ کا کام بھی کرتے تھے اس حیثیت میں ان کی پوزیشن اہم ہو گئی تھی اور ہر حکومت ان کے زیر اثر علاقوں میں اپنے مقاصد کےحصول کےلئے ان سے تعاون کرنے پر مجبور تھی ۔

جاگیردار کی حیثیت سےیہ شاعروں ، ادیبوں، پہلوانوں، موسیقاروں ، مذہبی اسکالرز یا علماء کی سرپرستی بھی کرتے تھے اس لئے ان کاحلقہ اثر بڑا طاقتور اور مضبوط تھا او راسی وجہ سے کوئی حکومت ان کی اہمیت کونظر انداز نہیں کرسکتی تھی ۔

برطانوی حکومت نے ان کی اہمیت کے پیش نظر اس قسم کی پالیسی بنائی کہ انہیں اس میں بحیثیت تعاون کرنےوالوں کےشامل کیا، انہیں علاقہ کا سربرآوردہ مانتے ہوئے خطابات اور خصوصی مراعات دے کر انہیں حکومت اور عوام کے درمیان بطور رابطہ کےاستعمال کیا ۔

اس حیثیت میں چونکہ سجادہ نشینوں کو حکومت کی نظروں میں عزت ملی اس لئے انہوں نے رعایا کو وفادار رہنے کی تلقین کی اور خود بھی حکومت سے وفادار رہتے ہوئے اس کے احکامات او رہدایات کی پیروی کی، صرف ایک دو معاملوں میں ایسا ہوا کہ کچھ خاندانوں نےحکومت کی مخالفت کرنے کی کوشش کی تو اس صورت میں حکومت نے سختی کےساتھ انہیں کچل کر رکھ دیا اس سے انہیں یہ بھی احساس ہوگیاکہ اگر وہ حکومت کی مخالفت کریں گے تو انہیں اپنی مراعات سے ہاتھ دھونا پڑیں گے او ریہ ایک ایسا انتخاب تھاکہ جس کو قبول کرنے کےلئے وہ تیار نہیں تھے۔

ان کے مقابلہ میں علماء کاکردار بالکل مختلف رہا کیونکہ ان کی حیثیت سجادہ نشینوں سےبالکل علیحدہ تھی ۔ اول تو ان کے پاس کوئی مستقل ذریعہ آمدنی نہیں تھا اور اپنی روزی کےلئے انہیں یا تو ملازمت کرنی پڑتی تھی یا کسی امیر کی سرپرستی کا محتاج ہوناپڑتا تھا ، بحیثیت استاد یا مذہبی رسومات کی ادائیگی کرنے والے کے ان کا معاشرہ میں کوئی اعلیٰ مقام نہیں تھا ۔ اس کےعلاوہ یہ شہروں میں رہتے تھے اور دیہاتوں میں ان کا اثر و رسوخ بہت کم ہوا کرتا تھا ۔ اس لئے غیر مراعات یافتہ طبقہ کی حیثیت سے ان کا رویہ نو آبادیاتی حکومت کی طرف سے مخالفانہ تھا او راس کی مختلف وجوہات تھیں : نئی حکومت میں انہیں وہ عہدے اور سہولتیں نہیں ملیں جو سابقہ حکومتوں میں تھیں ۔ وقف کے ادارے کے خاتمہ کےبعد ان کی آمدنی کاایک بڑا ذریعہ ختم ہوگیا اور جب حکومت نے اپنے اسکول کھولنا شروع کئے تو مدرسوں کی حیثیت کم ہوگئی کیونکہ طلباء کی اکثریت حکومت کے اسکولوں میں پڑھنا پسند کرتی تھی، کیونکہ اس تعلیم کے بعد ان کے ملازمت کےمواقع زیادہ تھے ۔

حکومت نے بھی سجادہ نشینوں کی طرح علماء کی زیادہ سرپرستی نہیں کی، کیونکہ وہ ان کے مفادات میں زیادہ استعمال نہیں ہوسکتے تھے اس لئے علماء حکومت کے ڈھانچہ میں شامل نہیں ہوسکے اور ا س سے محروم رہے ۔ یہ ضرور ہوا کہ جب بھی حکومت کو فتووں کی ضرورت پڑی تو اس نے انفرادی طور پر علماء سے اپنی مرضی کے فتوے حاصل کر لئے ۔

حکومت کی سرپرستی سےمحرومی کےنتیجہ میں علماء نے مذہبی و سیاسی تنظیموں کو بنانے اور چلانے میں بھر پور حصہ لیا اور اس طرح معاشرہ میں ان کے بارے میں جو تاثر ابھرا وہ یہ کہ یہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف تھے او رانہوں نے آزادی کی جنگ میں حصہ لیا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content