certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (30 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)


Fundamentalism and Reformist Movements بنیاد پرستی اور اصلاحی تحریکیں

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

فتوحات کی وجہ سے جب اسلامی دنیا پھیلی او راس میں نئی نئی قومیں شامل ہوئیں تو وہ اپنے ساتھ اپنی سماجی اور ثقافتی روایات، رسومات اور تہواروں کو بھی ساتھ میں لائیں۔ اس لئے فتوحات کےساتھ اور تبلیغ کی سرگرمیوں کے نتیجہ میں اسلام جن جن علاقوں او رملکوں میں پہنچا وہاں اس نےعلاقائی ثقافتی ماحول میں خود کو ضم کرلیا۔ اس کی وجہ سے اسلام میں عربی ثقافت کا تسلط ٹوٹ گیا۔

عربی ثقافت کے خلاف سب سے زیادہ عمل ایرانیوں کا تھا کہ جنہوں نے فوجی و سیاسی طور پر مفتوح ہونے کے باوجود اپنی سماجی اور ثقافتی روایات و اقدار کو باقی رکھا تھا بلکہ عباسی دور میں ان کا تسلط اور زیادہ بڑھ گیا تھا ۔ جب ایرانی خاندانوں کو دوبارہ سے حکومت ملی تو انہوں نے ایرانی روایات کو زندہ کرنے اور ان کی سرپرستی میں خوب جوش کامظاہرہ کیا۔

عباس عہد میں ایرانیوں نےجو شعوبیہ یا اقوام پرستی کی تحریک شروع کی، وہ تحریک کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتی رہی اور عربی کے مقابلہ میں ایرانی ثقافت کا غلبہ برابر بڑھتا رہا۔

دوسری طرف جب  حکمراں طبقہ کے پاس مال و دولت آئی تو اس نے عربی قبائلی روایات کو چھوڑ کر شان و شوکت اور عیش و عشرت کو اختیار کرلیا اور معاشرہ میں مذہبی شعار کا رواج کم ہوتا چلا گیا۔

ان حالات میں سب سے پہلے امام حنبل نے کہ جو سینوں کے چار فقہی مذاہب میں سے ایک کے بانی ہیں اور جنہوں نے احادیث کا مجموعہ مسند کے نام سے لکھا ہے اس بات پر زور دیاکہ اسلام کا اس ثقافتی یلغار سے دفاع کیا جائے ’ اور اس میں جو بدعتیں داخل ہوگئی ہیں ’ ان سے اسے پاک کیا جائے اور ان کے نزدیک اس آلودگی کو پاک کرنے کاایک ہی طریقہ تھا کہ اسلام کی بنیادی تعلیم کا احیاء ہو اور اسلام کی تعبیر و تفسیر میں جو فلسفیانہ موشگافیاں کی گئیں ہیں انہیں رد کیا جائے۔

چنانچہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قرآن کو اس کےلفظی معنوں میں سمجھا جائے اور اس کی تشریح میں تاویل یا تمثیل کو استعمال نہیں کیا جائے۔ دوسرا بڑا ذریعہ پیغمبر خدا کی احادیث ہیں، اس لئے وہ تمام احادیث کہ جن پر یقین ہوکہ یہ پیغمبر خدا کی ہیں ۔ ان پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے مسند میں ایسی ہی احادیث کو جمع کردیا ہے۔

اس لئے انہوں نے مفتیوں سے کہ جو لوگوں کے مسائل کےحل کےلئے فتوے دیتے ہیں اس بات پر زور دیا کہ وہ فتوے دیتے ہوئے قرآن و حدیث کے بعد گزرے ہوئے بزرگوں کی پیروی کریں’ ذاتی رائے سے دور رہیں ’ فقہی مسلک کو بغیر کسی ترمیم کے اختیار کریں اور اجتہاد سے پرہیز کریں۔

امام حنبل کا سب سے بڑا مسئلہ بدعت کا تھا۔ کیونکہ بہت سی ایسی رسومات اور روایات اسلامی معاشرے میں آگئیں تھیں کہ جو عرب معاشرہ میں نہیں تھیں’ اس لئے انہوں نے ہر نئی چیز کی مخالفت کی اور یہ استدلال دیا کہ ہر بدعت یا نئی چیز اسلام کو مسخ کرتی اور بگاڑتی ہے۔ اس لئے اسلام میں بدعتوں کو روکا جائے اور اس کی قدیم ساخت کو برقرار رکھا جائے۔

اس طرح سے وہ اسلامی معاشرہ میں عربی ثقافت اور عربوں کی برتری چاہتے تھے کیونکہ عباسی دور میں ’ایرانیوں نے عربوں کی طاقت اور ان کے اقتدار کو ختم کردیا تھا ۔ اس لئے وہ حکومت اور خلافت صرف قریش کا حق سمجھتے تھے ۔ تاکہ کوئی غیر عرب خلافت و حکومت پر قابض نہیں ہوسکے۔ اس لئے وہ امت کو یہ مشورہ دیتے ہیں  کہ عربوں کے حقوق کا پاس کرنا چاہئے ان کےدرجات کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ گذشتہ دور میں انہوں نے جو خدمات کی ہیں ان کا اعتراف کرناچاہیے اور عربوں سے کسی قسم کی نفرت اور کینہ نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اس صورت میں یہ ممکن ہوجائے گا کہ قدیم شہنشاہوں کو دوبارہ سے زندہ کر کے غیر تہذیبوں کو فروغ دیا جانے لگا۔

اس طرح امام حنبل نے بنیاد پرستی کی تحریک شروع کی کہ جس میں وہ دوسری ثقافتوں اور تہذیبی روایتوں کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ اس لئے ان کے ماننے والے اپنے نظریات میں انتہائی تنگ نظر اور متشدد تھے اور قوت و طاقت کے ذریعہ اپنے نظریات کو نافذ کرناچاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ 929ء اور 935 ء میں حنبلیوںنے مذہبی فسادات میں حصہ لیا کہ جس میں ہزاروں آدمی مارے گئے ۔ 935ء میں انہوں نے بغداد میں مسلح بغاوت کردی اور شراب کی دکانوں کو لوٹا اور جلا دیا ان کی اس تحریک کے پس منظر میں عربوں کے سیاسی اور ثقافتی اقتدار کے خلاف نفرت اور غم و غصہ تھا اور یہ اسلام کو صرف عربی ثقافت کے دائرہ میں رکھنا چاہتے تھے ۔ مگر ان کی تحریک ایک گروپ تک محدود رہی اور اسلام کا جو وسیع ثقافتی بنیادوں پر پھیلاؤ ہورہا تھا اسے نہیں روک سکے۔

بنیاد پرستی کایہ بہاؤ اس وقت اور بھی رک گیا جب سیاسی حالات تیزی سے بدلنا شروع ہوئے، منگولوں کے حملوں نے پوری اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا’ عباسی خلافت کا خاتمہ ہوا اور ایک طرح سے اسلامی دنیا کی مرکزیت ختم ہوگئی ۔ اس وقت جو سیاسی بے چینی اور سماجی انتشار تھا ۔ اس میں امام ابن تیمیہ (وفات ۔ 1328) نے امام حنبل کی تقلید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کی طرف واپس جانا چاہیے اور اب تک جو بدعتیں اسلام میں داخل ہوگئی ہیں ۔ انہیں ختم کرناچاہئے ۔

اس لئے انہوں نے بھی قرآن و حدیث کی لفظی تفسیر پر زور دیا اور اسلام میں جو خارجی’ شیعہ ’ معتزلی ’ اشعری اور دوسرے فرقوں کے خیالایت آگئے تھے ان پر سخت اعتراضات کئے ۔ خاص طور سے انہوں نے فلسفہ یونان اور اس کے حامیوں پر تنقید کرتے ہوئے اس بات کو کہا کہ فلسفہ کفر کی جانب لے جاتا ہے اس لئے اس کے مطالعہ سے پرہیز کیا جائے۔

وہ شعر و شاعری کے بھی زبردست مخالف تھے اور اسے گمراہی کا ایک سبب گردانتے تھے وہ ان تمام رسومات کے خلاف تھے  کہ جن سےاسلام کی وحدانیت پر حرف آتا تھا ۔ ان میں اولیاء پرستی اور مزاروں کی زیارت خاص طور سے قابل ذکر ہیں کہ جن کا رواج اس وقت بہت ہوگیا تھا ۔ وہ ان تمام فرقوں اور افراد کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہیں کہ جو ان کے نزدیک دین کے دشمن ہیں’ ان میں خاص طور سے عیسائی او ریہودی شامل ہیں۔

امام تیمیہ کے ہاں بھی خیالات میں شدت ہے اور وہ سختی سےاپنے موقف کو منوانا چاہتے ہیں اور اس سلسلہ میں وہ علماء کو اپنے مقاصد کی تکمیل کےلئے استعمال کرناچاہتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے نزدیک علماء پیغمبر خدا اور خلفاء راشدین کی وراثت کے نگہبان ہیں ۔ اس لئے یہ ان کا فرض ہے کہ وہ امت کی ہدایت کرتے ہوئے اس سےشریعت کے احکامات کی تعمیل کرائیں ۔ اس لئے وہ علماء پر زور دیتے ہیں کہ وہ حکمرانوں کو نصیحت کریں اور حکومت کو یہ بتاتے ہیں کہ صحیح حکومت وہی ہے کہ جو علماء کے مشورے پر چلتی ہے اس لئے ان کے نظریہ کے تحت حکمران سے زیادہ اہم ذمہ داری علماء  کی ہوتی ہے کہ وہ ایسے قوانین بنوانے میں مدد دیں کہ جو شریعت کےمطابق ہوں اور اسلامی معاشرے میں جو اخلاقی برائیاں پھیل گئی ہیں انہیں دور کیا  جا سکے۔

لیکن امام حنبل اور ابن تیمیہ دونوں کی تحریک ایک گروہ تک محدود رہی اور یہ زیادہ مقبولیت اس سے حاصل نہیں کرسکی کہ ان میں قوت برداشت نہیں تھی او رنہ رواداری ’ یہ تشدد اور سختی سےاپنی بات تسلیم کرانا چاہتے تھے اور ان رجحانات کے خلاف تھے کہ جو معاشرہ کو آگے لے جارہے تھے ۔ اس لئے انہیں ناکامی کا سامناہوا مگر انہوں نے ان نظریات کو ضرور باقی رکھا کہ جن پر آگے چل کر بنیاد پرستی کی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ خاص طور سےحجاز میں عبدالوہاب کی تحریک انہیں  کے خیالات سےمتاثر ہوکر ابھری۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content