certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (17 Jul 2015 NewAgeIslam.Com)



How to Teach History: The Irony of History تاریخ کیسے پڑھانا چاہئے؟:المیہ تاریخ

 

 

 

 

 

ڈاکٹر مبارک علی

تاریخ کیسے پڑھانا چاہئے؟

تاریخ کو کیسے پڑھانا چاہئے کہ یہ ہماری نسل سے نفرت اور تنگ نظری کو ختم کرکے ان میں سیع النظری اور قوت برداشت پیدا کرے؟ کیونکہ اس وقت تاریخ کو جس انداز سے پڑھایا جاتاہے وہ انتہائی فرسودہ ہے جس نے ہماری نسل کو جاہل اور تنگ نظر بنا کر رکھ دیا ہے۔

ہمارے ہاں تاریخ کا نصاب انتہائی محدود ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں کی تاریخیں اور وہاں کی حالات اور عالمی تاریخ کا وسیع تصور ہمارے ہاں مفقود ہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کو قومی و نسل زنجیروں سے آزاد کردیا جائے اور اس کا عالمی تصور دیا جائے ۔ کیونکہ صرف عالمی تصور کے ذریعے ہم اپنے معاشرے کو تعصب فرقہ واریت اور قومیت سے نکال سکیں گے۔

اس لئے ضروری ہے کہ ابتداء میں ہمارے تعلیمی اداروں میں عالمی تہذیبوں کی تاریخ پڑھائی جائے ۔ ان کا مطالعہ ہمارے ذہن سے بہت سے مفروضات اور غلط فہمیوں کا ازالہ کرے گا۔ کیونکہ عالمی تہذیب کے مطالعے کے بعد ہی ہم اس حقیقت تک پہنچیں گے کہ ہر معاشرے کا انسان تخلیقی صلاحیتوں کا مالک رہا ہے اور اس نے ہر دور و عہد میں تہدیبی روایات اور اقدار کی ترقی برابر کا حصہ لیا ہے۔ انسان اور فطرت کی جنگ جو ہماری ابتدائی تاریخ کا موضوع رہاہے ۔ وہ ہمیں حوصلہ دے گا کہ جدو جہد اور انسانی قوت کے آگے ہر چیز ہیچ ہے۔ انسان نے کبھی شکست تسلیم نہیں کی اور ہر جبر و تشدد کا مقابلہ  کرکے اسے ختم کیا ۔ جس طرح انسان فطرت کی سختیوں سے مقابلہ کرکے کامیاب ہوسکتا ہے اسی طرح ہم اپنے معاشرے میں پیدا ہونے والے جبر و تشدد کا مقابلہ کرکے اسے ختم کرسکتے ہیں ۔

عالمی تہذیبوں کے مطالعے کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ تہذیب و تمدن کی تخلیق کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں رہی ہماری تمام روایات اور اقدار کی جڑیں انہی عالمی تہذیبوں میں ملیں گی۔ ہمارے عقائد نظریات اور توہمات انہی تہذبیوں میں پائیں جائیں گے ۔ ہمارے معاشرہ کوئی تنہا اور مجروشئے نہیں بلکہ عالم برادری کا ایک حصہ ہیں اور ہماری تہذیب کی جڑیں عالمی تہذیبوں میں ہیں ۔

اس مطالعے سے ہمیں یہ بھی اندازہ ہوگاکہ کسی قوم کے عقائد ،مذاہب اور مخصوص حالات کے تحت پیدا ہوتے ہیں اور حالات کے ساتھ ساتھ ان میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔ معاشرے بدلتےرہے ہیں اور انہیں کے ساتھ ساتھ معاشرے کا پورا ڈھانچہ بھی بدلتا رہا ہے ۔ عالمی تہذیبوں کے مطالعے کے بعد ہی ہم پر یہ حقیقت بھی واضح ہوگی کہ رنگ نسل کی وجہ سے دنیا میں کسی قوم کو برتری نہیں ۔ ہر قوم کا عالمی تہذیب میں اپناحصہ ہے کوئی کسی سےکمتر یا بالا تر نہیں ۔

عالمی تہذیبی کے مطالعے ہی سے ہمارا ذہن کشادہ ہوگا اور اسی ذریعے سے ہم دنیا کی تہذیبوں کا تقابلی جائزہ لے سکیں گے۔ اور مختلف معاشروں میں پیدا ہونے والی تہذیبوں سے آگاہ ہوسکیں گے اور اسی مطالعے کے ذریعے ہم بےجا فخر و غرور سے چھٹکارا پاسکیں گے اور تعصب و تنگ نظری کی جگہ ہم میں وسیع انسانیت کا تصور پیدا ہوگا۔

ہمارے لئے یورپی تاریخ کامطالعہ بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یورپی معاشرے کی سیاسی و معاشی و معاشرتی تبدیلیاں ہمارے لئے ایک پیغام ہیں۔ بحری راستوں کی دریافت ، نشاۃ ثانیہ میں ان کا تہذیبی و ثقافتی انقلاب، اصلاح تحریک مذہب  میں پوپ سے بغاوت ، صنعتی انقلاب  کے ذریعے ان کی فنی و معاشی زندگی میں ترقی اور اس کے نتیجے میں نو آباد یاتی نظام سرمایہ داری ، جمہوریت ، سوشلزم اورلبرل ازم کے تجربات یہ وہ موضوعات ہیں جو تاریخ کا انقلابی تصور دیتے ہیں۔

ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں عام طور پر صرف عروج کی تاریخ پڑھاتے ہیں مثلاً عہدعباسیہ میں المتوکل تک پڑھا کر آخر عہد عباسیہ کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ ہسپانیہ کی تاریخ صرف بنوامیہ تک پڑھاتے ہیں اور اس کے بعد زوال کے عہد کونظرانداز کردیتے ہیں عہد مغلیہ کی تاریخ اورنگ زیب کے عہد سے آگےنہیں پڑھائی جاتی ۔ عہد عثمانیہ میں سلیمان قانونی سے آگےنہیں بڑھتے۔ اس طرح ہم اپنی تاریخ کے انہیں ادوار کو پڑھاتے ہیں، جس میں فتوحات ہوئی ہوں ، دولت کی فراوانی و اعلیٰ طبقے کی ثقافتی زندگی کی رنگینیاں ہوں اور جس معاشرے کی عظمت و بڑائی کا اظہار ہو ۔اس لئے تاریخ کا طالب علم صرف ہمارے عروج کی تاریخ سے واقف ہوتاہے اور اس سے بے بہرہ کہ ان حکمران خاندانوں کا زوال کیوں ہوا؟ اور زوال کے دوران معاشرہ کن کن نشیب و فراز سے گزرا؟ ان سوالات کا جواب ہمارا نصاب نہیں دیتا ہے اور اسی لئے جب ہم اپنی ماضی کی عظمت کا مطالعہ کرتےہیں اور پھر اپنی پسماندگی کو دیکھتےہیں تو ہم اس کا صحیح تجزیہ نہیں کر پاتے۔

اس زوال کی تاریخ کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ اسی کے ذریعے ہمیں اپنی تاریخ کا صحیح شعور ہوگا۔

ہمارے تاریخ کے نصاب کا ایک نقص یہ بھی ہے کہ ہم صرف سیاسی تاریخ پڑھاتےہیں ۔ ثقافتی و تہذیبی تاریخ عام طور سے ہمارے نصاب میں نہیں ۔ سیاسی  تاریخ چونکہ جنگوں ، سازشوں اور قتل و غارت گری سے بھری ہوئی ہے اس لئے ہمارے ذہن میں تاریخ کاایک خاص مفہوم پیدا ہوتا ہے اور ہم تاریخ کو صرف خون ریزی اور لوٹ مار کےواقعات کا مجموعہ سمجھتےہیں اس کے برعکس ہم مصلحین ، فلسفیوں ادیبوں اور شاعروں کی تاریخ سےناواقف ہوتے ہیں جب کہ ہماری علمی و ثقافتی تاریخ ہے جس میں انسان بحیثیت انسان کےنظر آتا ہے اور تاریخ کے روشن پہلو کو ہمارے سامنے لاتا ہے ۔

چونکہ تاریخ انسانی فکر و عمل کے ایک تسلسل کا نام ہے اس لئے اسے علیحدہ علیحدہ عہدوں اور اداروں میں تقسیم کرنے کی بجائے اسے تسلسل کے ساتھ ہی پڑھا جائے ۔

ہمارے برصغیر ہندوستان کی تاریخ کومسلمانوں کی آمد کے بعد سے پڑھا جاتاہے اور قدیم ہندوستان کی تاریخ کو قابل اعتنا نہیں سمجھا جاتا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم ہندوستان کی تاریخ کو مکمل نہیں پڑھیں گے اس وقت تک ہم اس خطے کی صحیح تاریخ اس کے مزاج و ذہن سے واقف نہیں ہوں گے۔

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/how-to-teach-history--the-irony-of-history--تاریخ-کیسے-پڑھانا-چاہئے؟-المیہ-تاریخ/d/103926

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content