certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (09 Feb 2014 NewAgeIslam.Com)


Islamic Economy During Khilafat-e-Rasheda (Part 3) خلافت راشدہ کا اقتصادی جائزہ حصہ 3

 

خورشید احمد فارق

عراق او رشام پر فوج کشی

عرب ۔ عراق  سرحد پر متعدد عرب قبیلے عراق میں فارسی حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اور ابوبکر صدیق کے اوائل خلافت میں شاہی گھرانے کی ایک عورت بُوران کی تاج پوشی سے مزید حوصلہ پاکر جنوبی اور جنوب مغربی عراق پر ترکتاز کررہے تھے ، ابوبکر صدیق  نے ان کی ہمیت افزائی کی اور ان کی ترکتاز کو سرکار مدینہ کا تابع بنا کر فوج اور ہتھیاروں سے ان کی مدد کی ۔ صدیقی  فوج کی قیادت مشہور قریشی  جنرل خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ  میں تھی۔ خالد رضی اللہ عنہ نے شطّ العرب یعنی دِجلہ اور فرات کے ڈیلٹا ، حیرہ اور عراق کی شمال مغربی سرحد کے فارسی شہر وں پر کئی کامیاب حملے کر کے خوب مال غنیمت حاصل کیا ، مدائن کسری کے بعد عراق میں دوسرا سب سے اہم اور بڑا شہر حیرہ تھا جہاں صدیوں تک سرحد عراق کے لَخی عرب بادشاہ فارسی سلطنت کے زیر سایہ حکمران رہے تھے ۔ حیرہ  کے عرب رئیسوں  نے پینتالیس یا پچاس ہزار روپے سالانہ پر خالد بن ولید سے معاہدہ  کر کے اپنی جان بخشوالی ، اور یہ رقم مرکزی خزانے کے حساب میں جمع ہونے لگی۔

12؁ ھ کے اواخر تک عرب بغاوتیں ملک کے طول و عرض میں ختم ہوچکی تھیں اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کےنمائندے اور محصلین زکاۃ چھوٹے چھوٹے حفاظتی دستے کے ساتھ  لے کر عرب بستیوں  او ر شہروں کو جا چکےتھے اوراپنے نارمل فرائض انجام دینے لگے تھے ۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کےہزاروں سپائی محاذ جنگ سےواپس آگئے تھے اور تعطل کی خطرناک زندگی  گذار رہے تھے، پچھلی لڑائیوں میں بہت سے عرب خاندان اپنے کمانے  والوں کی موت یا قتل سے بےسہارا ہوگئے تھے ، فوجی ترکتاز یا لڑائی میں بہت سے نخلستان اور کھیت برباد ہوگئے تھے، عربوں  کی اقتصادی شہ رگ یعنی اونٹ بری تعداد میں ہلاک ہوگئے تھے یا فاتحین مدینہ کے قبضے میں آگئے تھے ، ردّہ لڑائیوں  کے دوران بہت سے عرب اپنے پیشے اور بستیاں چھوڑ کر جنگلوں اور محفوظ ٹھکانوں کو بھاگ گئے تھے ۔ یوں بھی عربوں کے ساتھ قدرت نا مہربان تھی، ملک میں پانی  کی سخت قلت تھی، بے آپ و گیاہ ریگستان اور ننگے پہاڑ ملک میں ہر طرف پھیلے ہوئے تھے ۔ ردّہ لڑائیوں سے کاروبار، تجارت، زراعت اور باغبانی سب متاثر ہوئے تھے اور ایک عام تعطل ، بے روزگاری اور ناداری کی فضا پھیل گئی تھی ۔ عرب اکابر کے وفد ابوبکر صدیق  کے پاس توثیق و فاداری کے لئے آتے تو اپنے علاقوں  کی اقتصادی زبوں حالی سے مطلع کر کے مدد کے طالب ہوتے ۔

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ 12؁ ھ کے حج سے فارغ ہوکر لوٹے تو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جہاد کا ارادہ مصمّم کر چکے تھے ۔ مدنی قرآن  میں لفظ جہاد اسلام کی مذہبی اشاعت، مسلمانوں کی اقتصادی خوش حالی اور سیاسی استعلاء کے لئے غیر مسلموں سے جنگ وقتال کے معنی میں استعمال  ہوا ہے ۔ جزیرے  نما کے ایک پڑوسی ملک میں جہاد کی مہم پہلے ہی شروع ہوچکی تھی اور فارسی حکومت کی کمزوری کے باعث برابر کامیاب ہوتی  جارہی تھی ابوبکر صدیق نے دوسرے ملک شام کی طرف مبذول کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح  کی بشارت دے چکے تھے عمدہ آب و ہوا اور وسائل حیات  کی فراوانی کے ساتھ شام حسن و جمال کی نعمت سے بھی  مالا مال تھا ۔ ابوبکر صدیق کو شام سے جذباتی  لگاؤ تھا، وہ خود کئی بار بسلسلۂ تجارت شام کا دورہ کر کے وہاں  کی صحت بخش آب و ہوا ، قدرتی  برکتوں  او راعلیٰ تمدن سے متاثر ہوچکے تھے ، اس کے علاوہ شام عرصے سے ان کے اسلاف کی ایک منفعت تجارتی منڈی بھی رہا تھا جہاں آکر وہ حجاز اور یمن کاکپڑا، عطر تیز چمڑے کا سامان فروخت کرتے تھے اور عرب  ضرورت کا سامان خرید کر حجاز  تہامہ، یمن او رملک کے دوسرے  بازاروں  میں بیچتے تھے ۔

مدینے کے باہر ایک کیمپ کھول دیا گیا اور بھرتی شروع ہوگئی ۔ محرم  13 ؁ ھ کے دوسرے تیسرے ہفتے میں ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چار فوجیں سرحد شام کے چار اہم نقطوں پر حملے کے لئے روانہ کردیں۔ انہو ں نے یمن  کے قبائلی  زعماء  کو لکھا کہ وہ اپنے قبیلوں  کو لے کر مدینے آجائیں  اور شام جاکر جہاد کریں اور خدا کے دو موعودہ انعاموں ۔ شہادت اور غنیمت 1؎    سے بہرہ یاب ہوں ۔ بہت سے یمنی جو ناداری یا بے روزگاری کاشکار تھے یا جن کے دل میں تلوار کے جو ہر دکھا کر دنیوی اعزاز حاصل کرنے کے آرزو تھی، مدینے آگئے اور حکومت  کی طرف سے گھوڑے ، ہتھیار اور زادِ راہ لے کر ان فوجوں میں ضم ہوگئے جو پہلے بھیجی جا چکی تھی ۔ مکے کے بہت سے خاندانی  قریشی  جورِدّہ بغاوتوں  کے زمانے  میں محض تماشائی بنے رہے تھے اب یہ دیکھ کر کہ اسلام کی فاتح فوجیں  شام جیسی  خوش آئند ، نعمتوں  سے بھر پور اور حسن و جمال  سے معمور سر زمین مسخر کرنے نکلی ہیں مدینے  کی طرف دوڑ پڑے اور وہاں  مسلح ہو کر قسمت  آزمائی  کے لئے شامی مورچوں  کو چلے گئے ۔

جنوبی شام میں  صدیقی فوج  کے کمانڈر عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ  کا غَزّہ کے بزنطی گورنر کےساتھ ایک معنی خیز او ردلچسپ مکالمہ  یہاں پیش  کیا جاتا ہے ۔ گورنر نے عربوں  کی شام پر چڑھائی  کے اسباب معلوم کرنے کےلئے جنگ  سے پہلے  ان کا ایک نمائندہ بات چیت کے لئے طلب کیا ۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ  خود گورنر سے ملنے گئے ، اس نے انکی آؤ بھگت کی اور بتایا کہ عیص بن اسحاق بن ابراہیم 1؎  کے واسطہ سے ہم عربوں  کے رشتہ دار ہوتے ہیں ۔  پھر اس نے پوچھا : تم نےکیوں ہمارے ملک پر حملہ کیا ہے؟ ہمارے تمہارے  آباؤ اجداد نے جب زمین تقسیم کی تھی تو تمہارے حصے میں وہ علاقہ آیا جس  پر تم قابض ہو او رہ ہمارے حصے میں وہ علاقہ آیا جس میں ہم آباد ہیں، ہمارا خیال  ہے کہ قحط  اور افلاس  سے مجبور ہوکر تم نے ہمارے ملک  پر یورش کی ہے، ہم تمہاری مدد کرنے کو تیار  ہیں اور تمہیں  مشورہ  دیتے ہیں کہ اپنے ملک  کو واپس  چلے جاؤ۔عمر و بن عاص نے کہا، ہمارے تمہارے رشتے کی بات تو صحیح  ہے لیکن آباؤ اجداد کی تقسیم منصفانہ نہیں تھی، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ از سر نو تقسیم کی جائے یعنی تمہارے آدھے کھیت ہمارے حصے میں آجائیں او رہمارے ملک کے آدھے کانٹے اور پتھر تمہارے حصے میں ۔ قحط اور افلاس کا جو تم نے ذکر کیا  ہے تو سمجھ لو کہ شام آکر ہم نے ایک پودا دیکھا ہے جسے گیہوں  کہتے ہیں، اسے کھاکر ہمیں  اتنا لطف آیا ہے کہ ہم اس وقت تک یہ ملک  نہیں چھوڑیں گے جب تک تمہیں  غلام نہ بنالیں گے یا تم اس پودے کے کھیتوں  میں ہمیں قتل نہ کردوگے ۔ 2؎ 

چونکہ شامی حکومت اپنی سرحدی بستی  اُنبیٰ پر اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ  کے اچانک حملہ کے بعد چوکنا ہوگئی تھی اوراُس سے  سرحدی شہروں  میں دفاع کا انتظار کر لیا تھا اس لئے اول اول صدیقی  فوجوں  کو کوئی شاندار فتح یا بڑی غنیمت  حاصل نہیں  ہوئی ۔ اگلے چار پانچ ماہ میں یعنی  صفر 13؁ ھ سے جمادی الآخرۃ 13؁ ھ تک جب ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کا انتقال ہوا اور مورچے پر جھڑپیں  ہوتی رہیں  جن میں کہیں  صدیقی مجاہد  پسپا  ہوئے اور کہیں  دشمن  کو دبا کر آگے بڑھ گئے ، ان کے اواخر حیات میں بمقام  اَجنادَین 3؎     ایک بڑی لڑائی بھی ہوئی جس میں مسلمان فتحیاب ہوئے، ان کو کیا اور کتنا مال غنیمت ہاتھ لگا یہ ہم نہیں بتا سکتے کیونکہ ہمارے مراجع اس باب میں  کوئی رہنمائی نہیں کرتے لیکن مال غنیمت  کے اعداد و شمار سے زیادہ دو اہم بات جس سے حکومت مدینہ کی اقتصادی توانائی کا  علم ہوتا ہے یہ ہے کہ انتقال  کے وقت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی چھیالیس ہزار 1؎  فوج جس میں رسالوں  کی اکثریت تھی شام کے مورچوں  پر لگی ہوئی تھی اور اس کی تقویت کے لئے پیہم رسالے  اور رسد بھیجنے کا عمل جاری تھا۔

سطور بالا سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ کے قائم کردہ اقتصادی نظام کی مدد سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ملک میں ہر طرف پھیلی ہوئی بغاوتیں فرد کرنے اور کئی طاقتور  حریفوں  کو نیست و نابود کرنے ہی میں کامیاب نہیں  ہوئے بلکہ  اس کی بدولت جزیرہ نمائے عرب  سے باہر شمال میں عراق اور مغرب میں شام جیسے مضبوط اور خوش حال ملکوں پر فوج کشی کرنے پر بھی قادر ہوگئے ۔

URL for Part 2:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-part-2-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-2/d/35590

URL for this article:

http://www.newageislam.com/books-and-documents/khurshid-ahmad-fariq/islamic-economy-during-khilafat-e-rasheda-(part-3)-خلافت-راشدہ-کا-اقتصادی-جائزہ-حصہ-3/d/35654

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content