certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (20 Jul 2015 NewAgeIslam.Com)



Islamic History or Muslim's History: The Irony of History اسلامی تاریخ یا مسلمانوں کی تاریخ :المیہ تاریخ

 

 

 

 

 

ڈاکٹر مبارک علی

اسلامی تاریخ یا مسلمانوں کی تاریخ

عام طور سے دنیا کی تاریخ کوجغرافیائی لحاظ سے تقسیم کرکے اسی مناسبت سے اسے موسوم کیا جاتاہے مثلاً تاریخ انگلستان، تاریخ فرانس یا یورپی تاریخ اور افریقی تاریخ ۔ اگر کسی ملک میں مختلف اقوام نے حکومت کی تو ان کی تاریخ اس ملک کی تاریخ کا ایک حصہ ہوگی اسی طرح اگرو ہاں مختلف مذاہب نے کوئی کردار ادا کیا تو وہ بھی اسی طرح تاریخ کا ایک حصہ ہوں گے۔ کسی ملک کی تاریخ ایک جامع مجموعہ ہوتی ہے جس میں اس ملک میں رہنے والی اقوام ،مذاہب اور علیحدہ علیحدہ ثقافتیں و تہذیبیں آجاتی ہیں ۔

دنیا کے دوسرے حصوں او رملکوں میں تاریخ کو مذہب سے منسلک نہیں کیا گیا مثلاً عیسائی تاریخ نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یورپ میں عیسائیوں کی اکثریت ہے مگر یورپ کےہر ملک کی تاریخ اس ملک کے نام سے موسوم ہے یا پھر پورے یورپ کی ایک تاریخ ہے ۔

ہمارے ہاں تاریخ کو مذہب سے منسلک کرکے اسے اسلامی تاریخ یا مسلمانوں کی تاریخ سے موسوم کرنا شروع کردیا۔ اسلامی تاریخ کی اصطلاح نے ہمارے مورخین کو خاصی الجھن میں مبتلا کردیا کیونکہ جب اسلامی تاریخ میں غیر اسلامی فعال نظر آئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا سب اسلامی تاریخ ہے۔؟ اسلامی تاریخ کو اس الجھن سے نکالنے کےلئے ہمارے مورخین نے یہ فرق پیدا کرنے کی کوشش کی کہ اسلامی تاریّخ میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے عہد تک محدود ہے اور جب امیہ اور عباسی خاندانوں نے شخصی حکومتیں قائم کرلیں اور اسلامی اصولوں اور اقدار کو مجروح کردیا تو ان کی حکومتیں اسلامی نہیں رہیں اس لئے یہ تاریخ اسلامی نہیں بلکہ  مسلمانوں کی تاریخ ہے۔ اسلامی تاریخ کی اس تفسیر سے ایک الجھن کو تو دور کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی تاریخ میں ایک بہت ہی مختصر دور اور عہد میں محدود ہوکر رہ گئی ۔ اور طویل تاریخ کو اس سے نکال دیا گیا او ریہی وہ تاریخ ہے جس میں اگر ایک طرف خونریز جنگیں ، فتوحات اور سازشیں ہیں تو دوسری طرف علم و ادب ، مصوری، موسیقی ، تعمیرات اور علم سائنس کی بھی ترقیا ں ہیں ۔

تاریخ کی یہ تفسیر اس لحاظ سے غلط ہے کہ اسلام اور مسلمان دو علیحدہ چیزیں نہیں ہیں ۔ اس لئے اسے چاہئے کہ اسلامی تاریخ کہا جائے یا مسلمانوں کی تاریخ یہ صرف الفاظ کا الٹ پھیر ہے ورنہ اس کا مفہوم ایک ہے۔

یہی الجھن اس وقت بھی پیدا ہوتی ہے جب ہم اسلامی نظریات و افکار میں ان مسلمان فلسفیوں کے افکار لے آتے ہیں جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسے ابن رشد، الفارابی، الرازی، بوعلی سینا ، اور ابن خلدون ۔ یہی حال ان سیاسی اداروں کا ہے جن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہم انہیں اسلامی یا مسلمانوں کے ادارے سے موسوم کرتے ہیں ۔

اس لئے اس ا لجھن کاعلاج یہ ہے کہ ہم تاریخ کو جغرافیائی ناموں سے تقسیم کریں ۔ مثلاً ہندوستان کی تاریخ کو مذہبی یا نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بجائے اسے مجموعی تسلسل کے ساتھ لکھا جائے کہ جس میں ہندو، بدھ ، جین، عیسائی، اور مسلمانوں کے کارنامے بحیثیت  مجموعی آئیں ۔کیونکہ تاریخ کو مذہب کی بنیاد پر موسوم کرنے سے یہ ہوا کہ تاریخ میں فرقہ واریت کی بنیاد پڑی اور یہ تاثر ابھرا کہ مسلمانوں کی جڑیں کسی ملک میں نہیں ۔ جن ملکوں میں یہ آباد ہوئے اور جہاں صدیوں کی رہائش کے بعد  انہوں نے وہاں کی تہذیب و ثقافتی زندگی میں حصہ لیا لیکن اس کےباوجود انہوں نے اس سے علیحدہ رہنے پر اصرار کیا اور اپنی تاریخ کو اس ملک کی تاریخ میں ضم کرنے سے انکار کیا ۔

جدید تاریخ میں بہر حال یہ تبدیلی آگئی ہے اور مسلمان ملک اپنی علیحدہ علیحدہ تاریخیں لکھ رہے ہیں ، ان کی یہ تاریخیں ان کے قومی تشخص کی علامتیں ہیں کیونکہ ان کی پہچان ان کے ملک کی مرہون منت ہے ۔

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/islamic-history-or-muslim-s-history--the-irony-of-history--اسلامی-تاریخ-یا-مسلمانوں-کی-تاریخ--المیہ-تاریخ/d/103948

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content