certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (21 Jul 2015 NewAgeIslam.Com)


Muslim Ruling Families and their Decline: The Irony of History مسلمان حکمران خاندان اور ان کا زوال :المیہ تاریخ

 

 

 

 

 

ڈاکٹر مبارک علی

مسلمان حکمران خاندان اور ان کا زوال

دنیا کی تاریخ قوموں کے عروج و زوال کےعمل سے بھری پڑی ہے۔ وقت کےگزرنے کے بعد جب انسان زوال شدہ قوموں کے آثار دیکھتا ہے تو اس پر مایوسی طاری ہو تی ہے جب وہ قدیم قوموں کے پراسرار عظیم آثار جو خاموشی سےتنہا فضاؤں میں فطرت کی آفات کا مقابلہ کرتے اور خاموشی سے سربستہ کہانیاں سناتے دیکھتا ہے تواس کے ذہن میں اس تباہی و بربادی اور اس زوال کے بارے میں لا تعداد سوال ابھر تے ہیں ۔

زوال ہمیشہ ایک المیہ رہاہے ۔ قوموں کے لئے بھی اور تاریخ کےلئے بھی ۔ یہ زوال کیوں ہوتاہے ؟ کیا یہ قوموں کے اجتماعی گناہوں کی سزا کے طور پر ہوتا ہے یا اس کے کچھ قوانین ہیں ؟ جنہیں مورخ اب تک دریافت نہیں کرسکا ۔ ہر زوال شدہ قوم اپنے پیچھے یادوں کا ایک ذخیرہ چھوڑ جاتی ہے اور یہی یادیں تاریخ میں اسے زندہ رکھتی ہیں ۔

جب زوال شدہ قومیں بالکل معدوم ہوجاتی ہیں تو ان پرکوئی ماتم کناں نہیں رہتا ہے۔ لیکن اگر زوال شدہ قوم حالت زوال میں رہے تو اسے بار بار اپنے شاندار ماضی کی یاد ستاتی ہے اور وہ اپنے زوال کی وجوہات اور اسباب ڈھونڈتی نظر آتی ہے مسلمان قوم بھی ان ہی میں سے ایک قوم ہے مسلمانوں کا زوال کیوں ہوا؟ اس کاذمہ دار کون تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو بار بار ذہن میں پیدا ہوتے ہیں اور بار بار ان کامختلف نقطہ نگاہ سے جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اس سوال کا جواب دینے میں بنیادی غلطی یہ ہوتی ہے کہ مسلمان قوم کی پوری تاریخ کو ایک سمجھ کر اس کا تجزیہ کیا جاتا ہے کہ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ مختلف حکمرانوں میں بٹی ہوئی ہے اور اسی لئے اس کا عروج و زوال بھی ایک وقت میں نہیں ہوا بلکہ مختلف عہدوں اور مدارج میں یہ عمل پورا ہوا۔ مسلمانوں کے عروج کا ابتدائی زمانہ خلافت راشدہ ، بنو امیہ اور بنو عباس کا تھا ۔ یہ دور عرب قوم کےعروج کا بھی دور تھا ۔ جس میں انہوں نے فتوحات کیں، نئے نئے  علاقے اور ممالک فتح کئے اور فتوحات کے نتیجے میں مال غنیمت حاصل کیا، جس سے ان کے معاشرے میں خوشحالی آئی اور انہوں نے تہذیبی اور ثقافتی میدانوں میں ترقی کی ۔ لیکن عباسی خاندان کے زوال کے ساتھ ہی تاریخ میں عربوں کے عروج کا دور ختم ہوگیا اور وہ دوبارہ گمنامی میں روپو ش ہوگئے اس حالت میں وہ بحیثیت قوم کے تو زندہ رہے مگر ان کی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہوچکی ہیں ۔

تاریخ سےعربوں کی روپوشی کے بعد مسلمانوں کی تاریخ میں وسط ایشیا اور ایران میں ایرانی و ترک نژاد حکمران آئے جنہوں نے اپنا تعلق ایران کے قدیم حکمران خاندانوں سے جوڑا اور قدیم ایرانی روایات و اقدار کے احیاء کی کوشش کی ۔ یہ حکمران خاندان اگر چہ چھوٹے چھوٹے تھے مگر انہوں نے اپنے درباروں میں علم و ادب کی سرپرستی کی اور اس دور میں فلسفہ ، طب، موسیقی ، مصوری، شاعری اور دوسرے علوم میں بیش بہا اضافہ ہوا۔ ابوعلی سینا، البیرونی ، رود کی ، عمر خیام ، نظام الملک، حافظ اور سعدی انہیں دربار وں کی پیداوار تھے ۔ اگر چہ وسط ایشیا اور ایران سیاسی لحاظ سے مختلف حکمرانوں میں تقسیم تھا مگر یہ ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے ایک دوسرے سے بندھے ہوئے تھے ۔

مسلمانوں کی تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جب تین ترک خاندانوں نے اپنی عظیم الشان سلطنتوں کی بنیادیں رکھیں یعنی : عثمانی ترک، صفوی اور مغل یہ تینوں سلطنتیں ایک دوسرے کی ہم عصر رہیں ۔ مگر ان کا زوال علیحدہ علیحدہ ہوا ان تینوں سلطنتوں نے تہذیب و تمدن کی عظیم یادگاریں چھوڑیں اور دنیا  کی تاریخ میں اپنے اثرات چھوڑے ۔

ان سلطنتوں کے زوال کے بعد مسلمانوں کا زوال مکمل ہوگیا ۔ اس کے بعد کا دور مسلمانوں کی تاریخ میں پستی و ذلت کا دور ہے ۔ جس میں بیشتر مسلمان ملک یورپی اقوام کی کالونی رہے اور دور غلامی نے ان کی رہی سہی تخلیقی صلاحیتوں کوبھی ختم کردیا نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی مسلمان اقوام نے کسی بیداری کا ثبوت نہیں دیا اور آج عالم اسلام انتہائی کسمپرسی کے عالم میں ماضی کے احیاء کی کوششوں میں مصروف ہے۔

تاریخ کے اس پس منظر سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مسلمانوں کی تاریخ میں عروج و زوال اجتماعی طور پر نہیں آئے بلکہ عروج و زوال کے اس ڈرامے میں ایشیا و افریقہ کی مسلمان اقوام نے حصہ لیا اور یہ مختلف اوقات اور عہد وں میں کھیلا گیا ۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں وہ کون سی بنیادی خرابی تھی جس نے ان کی طاقت و قوت کو گھن کی طرح کھاکر انہیں آہستہ آہستہ ختم کردیا؟

مذہب اسلام نے مسلمان معاشرے کو جو مساوات کا انقلابی تصور دیاتھا ا س کی مدد سے وہ معاشرے کو مضبوط اور مستحکم بناسکتے تھے لیکن ہوا یہ کہ جب انہوں نے شام، عراق اور ایران کو فتح کیا اور اس کے نتیجے میں مفتوحہ قومیں مسلمان ہوگئیں تو انہیں یہ معاشرے میں برابر کا سماجی درجہ نہیں دیا گیا یہ نئے مسلمان کے لئے ایک زبردست دھچکا تھا کیونکہ معاشرے میں عربوں کو سیاسی و معاشی اور سماجی لحاظ سے فوقیت تھی ۔ اس سلوک نے نو مسلموں کو احساس محرومی میں مبتلا کردیا ۔ بنوامیہ کے خلاف بغاوتیں ہوئیں ان میں انہوں نے بھرپور حصہ لیا۔ یہاں تک کہ ‘‘عباس انقلاب ’’ ان کی وجہ سے کامیاب ہوا اور معاشرے سے عرب و غیر عرب کی تفریق ختم ہوئی ۔

جب عباسی حکومت میں ضعف کے آثار پیدا ہوئے تو وسط ایشیا اور ایران میں قومیت کی بنیادوں پر مقامی حکمران خاندانوں نے اپنی خود مختاری حکومتیں قائم کرلیں اور عباس حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہوکر ختم ہوگئی ۔

مسلمانوں میں شخصی حکومت کے قیام کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ اقتدار عملاً ایک طبقے کے پاس رہا جب کہ عوام کی اکثریت اپنے حقوق سے محروم ان کی رعیت رہی۔

جب مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنی حکومت کی بنیاد رکھی تو مساوات کو یہاں بھی عملی جامعہ نہیں پہنا یا گیا ۔ یہاں صورت حال یہ تھی کہ محکوم رعایا غیر مسلم تھی اور اکثریت بھی تھی جب مسلمان اقلیت میں ۔ اس کا حل مسلمان حکمران طبقے نے یہی نکالا کہ اکثریت پر قوت و طاقت کے ذریعے حکومت کی جائے اس بات کی کوئی کوشش نہیں ہوئی کہ ہندوستانی معاشرے میں جہاں ذات پات کی تقسیم تھی وہاں نچلی ذات کےلوگوں  کا سماجی مرتبہ بڑھا کر ان کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں جو لوگ مسلمان بھی ہوئے تو ان کو معاشرے میں برابر کا درجہ نہیں دیا گیا۔ عہد سلطنت کے ناموں مورخ ضیاءالدین برنی نے اس بات کا اظہار کیا کہ جب تک کسی کی رگوں میں کئی نسلوں تک اسلامی خون گردش نہ کرے، اسے سچا اور پکا مسلمان تسلیم نہ کیا جائے ۔ اکبر نے اس بات کی ضرور کوشش کی کہ ہندوؤں کو حکومت میں شریک کرکے ان کی مدد حاصل کرے مگر اس نے بھی ہندوؤں کے اعلیٰ طبقے سے روابط بڑھانے اور نچلی ذات کےلوگوں کو اسی طرح چھوڑ دیا۔

اس کے برعکس یہ ہواکہ مسلمان معاشرے نےہندو معاشرے سے ذات پات کی تقسیم او رسماجی طور پر اونچ نیچ کا تصور قبول کرلیا اور وسط ایشیا ایران اور افغانستان سے آنے والے اعلیٰ ذات کے قرار پائے جب کہ مقامی باشندے جو مسلمان ہوگئے تھے انہیں ثانوی درجے کا مسلمان قرار دیا گیا۔ اس طبقاتی تقسیم نے ابتداء ہی سے مسلمان معاشرے کی بنیادیں  کمزور کردیں اور جب حکومت فوجی لحاظ سے کمزور پڑی تو ان کی مدد کرنے والا اور انہیں سہارا دینے والاکوئی نہ تھا، مرہٹوں جاٹوں اور سکھوں کی بغاوتیں احساس محرومی کے نتیجے میں تھیں جو قومیت کی بنیادوں پر ابھریں اور جنہوں نے مغل اقتدار کو ختم کر کےرکھ دیا ۔

مسلمانوں کی تاریخ میں اسی پالیسی کو ہسپانیہ میں اور عثمانیہ ترکوں نے بلقان کی ریاستوں میں اختیار کیا۔ مقامی آبادی کی اکثریت کو سماج میں برابر ی کا درجہ دینے کی بجائے ان کو لوٹا کھسوٹا گیا اور اس لوٹ گھسوٹ کے پیسے سے ‘‘قصرۃ الزھرہ ’’ اور الحرا تعمیر کرتے رہے جو آج ان کی عظمت کی نہیں بربادی کی گواہی دے رہےہیں ۔ عثمانی ترکوں نے مقامی آبادی کے ساتھ جو نارواسلوک کیا اس نے ان کےلئے سوائے نفرت کے اور کچھ نہ چھوڑا۔

اسی ضمن میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مسلمان حکمرانوں نے حکومت میں تمام طبقوں کو شریک نہیں کیا اور حکومت کی مراعات صرف ایک طبقے میں محدود رکھیں اس کی وجہ سے اکثریت محض رعیت رہی جس کا کام حکومت سے محض وفاداری اور اطاعت تھا ۔ اس لئے جب بھی عوام کو کچلا گیا اور ان میں احساس محرومی بڑھا تو انہوں نے بغاوتیں کرکے حکومت کی بنیادوں کو کمزور کیا۔

مسلمانوں کی تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے کہ جب تک معاشرے میں مساوات کو عملی شکل میں نافذ نہیں کیا جائے گا اور جب تک مراعات نہیں کیا جائے گا اس وقت تک حکمران طبقہ قوت و طاقت کے ذریعے کچھ عرصہ تک تو حکومت کرسکتاہے ۔ مگر اس طرح حکومت کی بنیادیں مستحکم نہیں ہوں گی اور جب ایسی حکومت کا خاتمہ ہوگا تو عوام میں اس کےلئے سوائے نفرت کے اورکچھ نہ ہوگا۔

اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ مسلمان حکومتوں کے زوال میں جو عناصر کام کررہے تھے وہ داخلی تھے۔ مساوات کے تصور کی خلاف ورزی اقتدار کی ہوس اور مال غنیمت کے لالچ اور سلطنت کی توسیع او ربلا مقصد خونریز جنگیں ، ایک طبقے کی بالا دستی ، شخصی حکومت اور معاشرے کی اکثریت کا احساس محرومی، یہ وہ وجوہات تھیں جنہوں نے مسلمان حکمران خاندانوں کے زوال میں حصہ لیا ۔

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/muslim-ruling-families-and-their-decline--the-irony-of-history--مسلمان-حکمران-خاندان-اور-ان-کا-زوال--المیہ-تاریخ/d/103961

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content