certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (02 Feb 2016 NewAgeIslam.Com)



Muslim Ummah مسلم امہ

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

کسی بھی مسلمان ملک میں معاشرہ جب کبھی کسی بحران سے دو چار ہوتاہے یا اندرونی و بیرونی خطرات میں گھر جاتا ہے تو اس وقت اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ تمام مسلمان ممالک متحدہ ہوجائیں ،اور مسلمان اقوام تمام اختلافات کو مٹا کر ایک امہ بن جائیں، اس سلسلہ میں ہمیشہ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ماضی میں مسلمان ایک قوم تھی اور جب تک وہ متحد رہے دنیا پر حکومت کی مگر جیسے ہی ان میں اختلافات ابھرے امہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اسی کے ساتھ اس کازوال بھی ہوگیا اس لئے اگر ماضی کی طرح آج بھی یہ سب مل جائیں اور نیل کےساحل سےلے کر تابہ خاک کا شغر ایک ہوجائیں تو دنیا میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔

مسلم امہ اور اس کے اتحاد کے بارےمیں ہماری تاریخی غلط فہمیاں ہیں کیونکہ جہاں تک ابتدائی دور میں مسلم امہ کا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے اندرونی طور پر اختلافات کاشکار رہی ۔ سیاسی گروہ بندیاں ، فرقے عقائد کا اختلاف اور سماجی و سیاسی اختلافات نے اسے کئی ٹکڑوں او رجماعتوں میں تقسیم رکھا اور ہوا کہ بیرونی طور پر ان جماعتوں اور گروپوں کو معاشی و سیاسی مفادات نے جکڑے رکھا، مگر جیسے ہی یہ مفادات کمزور ہوئے مسلم امہ کا اتحاد اس کےساتھ بکھر گیا۔

مسلم امہ کا پہلا دور وہ تھا کہ جس میں عربوں کا اتحاد قائم ہوااور اس طرح قبائلی شناخت کو کمزور کرکے ان میں عرب شناخت کو اسلام کے ذریعہ قائم کیا گیا لیکن جب شام ، عراق اور ایران فتح ہوئے تو یہاں کےمقامی باشندوں نے مسلمان ہونے کے بعد مسلم امہ میں شمولیت کرنی چاہی مگر اس کی زبردست مخالفت عربوں کی جانب سےہوئی جو ان لوگوں کو اپنے میں شامل کرکے انہیں برابر کا سماجی مقام دینے پر تیار نہیں تھے اس وجہ سے عربوں اور غیر عربوں کے درمیان ایک فرق قائم ہوگیا اور ان غیر عربوں نے جن میں ایرانیوں کی اکثریت تھی عربوں کے خلاف شعوبیہ یا قومیت کی تحریک چلائی۔ جس میں انہوں نے عرب برتری کو رد کرتے ہوئے اپنی ثقافتی شناخت پر زور دیا ۔ ایرانیوں میں قومیت کےیہ جذبات اس وقت بھی قائم رہے جب کہ عرب دور حکومت کا عباسی زوال کےساتھ خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ ایرانی و ترکی کی خاندانوں کی حکومتیں قائم ہوگئیں ایک لحاظ سے ان حکومتوں کے قائم ہونے کےبعد ایرانی قومی تحریک اور زیادہ شدت سےابھری اور روس نےعربوں کی سیاسی و نسلی برتری کو ختم کردیا۔

ان جذبات کی عکاسی فردوسی نے شاہنامہ میں کی ہے، جس نے ایران کے قدیم بادشاہوں کی تاریخ کو منظور کر کے ایرانیوں میں تاریخی شعور کوگہرا کیا اس نے عربوں کی فتح ایران کا ذکر بڑے افسوس اور صدمہ کے ساتھ کیا ہے اسی لئے فردوسی کا شاہنامہ ایران کے طبقہ اعلیٰ کے لئے ایک شاہکار بن گیا جو ان میں قومی و فخر و مباہات سے بچی رہی کہ اکبر نے انہیں تحفظ فراہم کیا اور اس کے دربار میں انہیں یہ مواقع ملے کہ وہ اپنے نظریات کاپوری طرح اظہار کرسکیں ۔ مگر جیسے ہی اکبر کی آنکھیں بندہوئی ۔لبرل ازم اور ترقی پسندی کے نظریات بھی اس کے ساتھ ختم ہوگئے ۔

علماء نے صرف لبرل اور ترقی پسند خیالات ہی کی مخالفت نہیں کی بلکہ انہوں نے مختلف مذہبی فرقوں کےمذہبی عقائد میں تبدیلی کی بھی مخالفت کی۔ مثلاً ہندوستان میں مہدی جونپوری کہ جنہوں نے اصلاحی اور احیاء کی تحریک شروع کی تھی اس پر علماءنےشدت سے تنقید کی اور ان کے پیروکاروں پر سخت ظلم و ستم ڈھائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی تحریکیں خفیہ طور پر اپنے نظریات کا پرچار کرنے لگیں او راپنی تحریروں کو بھی خفیہ طور پر پھیلانے لگیں ۔ مثلاً اخوان الصفا کے مصنفین کہ جنہوں نے عقلیت کا پرچار کیا اور مختلف موضوعات پرلکھا انہوں نے اپنے نام خفیہ رکھے تاکہ وہ علماء کی مخالفت سےمحفوظ رہیں ۔

جو ماضی میں ہوا وہی کچھ آج بھی ہورہا ہے ۔ مسلمانوں کی ریاستیں کہ جہاں جمہوریت کا نام و نشان نہیں ہے وہاں یا تو بادشاہتیں ہیں یا آمرانہ اور فوجی حکومتیں لہٰذا یہ ان کے مفاد میں ہے کہ وہ مذہب کے نام پر علماء کی حمایت کریں تاکہ انہیں عوام کی نظروں میں جائز و قانونی حکومت کی سندمل جائے۔ یہاں پر ان حکومتوں اور علماء کے مفادات ایک ہوجاتے ہیں کیونکہ دونوں جدیدیت اور تبدیلی کے رجحانات کو اپنے لئے خطرناک سمجھتے ہیں اور انہیں مذہب کا نام لے کر روکنا چاہتے ہیں ۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ترکی میں ان کے خلاف مصطفیٰ کمال پاشا نےعملی قدم اٹھایا تھا اور خلافت و سلطنت کے تمام نشانات کو مٹا کر علماء کے اقتدار کو ختم کرکے سیکولر ترکی کی بنیاد ڈالی تھی کہ جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں چل رہی ہے ۔

پھر انہوں نے عربی ثقافت کے مقابلہ میں اپنی ثقافتی برتری پر زور دیا اور اسی لئے انہوں نے مولانا رومی کی مثنوی کو ‘‘قرآن در زبان پہلوی’’ کہا ایرانی دانشوروں نے قدیم ایران کی شان و شوکت کا احیاء کرکے اس میں اپنی شناخت تلاش کی ۔ اس طرح مسلمان ہوتے ہوئے بھی عرب اور ایرانی دو علیحدہ قومیں رہیں ۔

یہی عمل دوسری اقوام او رنسلی جماعتوں میں ہوا کہ اسلام لانے کے بعد بھی انہوں نے اپنی ثقافت روایات کو برقرار رکھا اور انہیں اسلام کےساتھ ضم کردیا۔ اس وجہ سے اسلام مختلف ثقافتی حالات میں ارتقا ء پذیر ہوا اور اس کی مناسبت سے اس کی شکل و ساخت بدلتی رہی ۔ چنانچہ آج ہر اسلام ملک میں اسلام مختلف ثقافتی شکل میں ہے اور ہر ملک و قوم مذہب کےایک ہونے کے باوجود علیحدہ سےاپنی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

جب نو آبادیاتی دور میں مسلمان ممالک یورپی مملکوں کی نو آبادیات بنے تو اس کے خلاف جمال الدین افغانی نے پان اسلام ازم کے نام سے ایک تحریک چلائی جس کامقصد یہ تھا کہ تمام مسلمان ممالک متحد ہوکریورپی استعمار کے خلاف جد وجہد کریں ۔ چونکہ اس وقت عثمانی حکومت کے زیر اقتدار مشرق وسطیٰ کےممالک تھے اس لئے اس کےلئے پان اسلام ازم کی تحریک مفید تھی کیونکہ اس طرح سے عرب ممالک مغرب کے خلاف عثمانی حکومت کے حامی بن جاتے لیکن یہ تحریک خود عرب ملکوں کے لئے کہ جو عثمانی حکومت کے ماتحت تھے اور اسے ایک نو آبادیاتی طاقت سمجھتے تھے مفید نہیں تھی اور اس کے ذریعہ وہ عثمانی حکومت کےاقتدار کو تسلیم کرنے پر مجبور تھے اور اس کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ مسلمان تھے اور خلیفہ کے خلاف بغاوت مذہب کے خلاف ہوتی، اس لئے انہوں نے پان اسلام ازم کو رد کرکے اس کی جگہ قوم پرستی کو اختیار کیا تاکہ تمام عربوں کو متحد کرکے عثمانی خلافت سے آزادی کی جنگ لڑ سکیں ۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب مسلمان ممالک آزاد ہوئے تو انہوں نے یورپی طرز پر قومی ریاست کی تشکیل دی اور اس طرح جغرافیائی طور پر مختلف اقوام وجود میں آئیں قومیت کی تشکیل کے اس عمل میں مصری، عراقی، مراکشی، اور ایرانی علیحدہ علیحدہ شناخت رکھتے ہیں او ران کی مذہبی شناخت اس کے بعد آتی ہے۔

چونکہ ہر قوم کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اس لئے وہ ان کا تحفظ چاہتی ہے اور ان مفادات کو قربان کرکے وہ اپنا نقصان کرنا نہیں چاہتی ہے اس لئے جب مصر کے انور سادات نے دیکھا کہ مصر کا مفاد اسرائیل کو تسلیم کر نے میں ہے تو اس نے دوسرے مسلمان ممالک کے جذبات کی پرواہ نہیں کی، اور آج دوسرے عرب ممالک بھی اپنے مفادات کی خاطر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں اور اس سلسلہ میں انہیں فلسطین کے عوام کی کوئی پرواہ نہیں ۔

اس لئے جہاں تک مسلم امہ کا سوال ہے یہ صرف ہمارے ذہنوں اور تصورات میں ہے او راس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ نہ آج ہے اور نہ ہی ماضی میں اس کاکوئی وجود تھا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL for Twelve: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

URL for Thirteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-the-society--علما-ء-اور-معاشرہ/d/106013

URL for Fourteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-modernity--علما-ء-اور-جدیدیت/d/106049

URL for Fifteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-social-welfare--علماء-اور-سماجی-بہبود/d/106134

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/muslim-ummah--مسلم-امہ/d/106194

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content