certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (15 Jun 2015 NewAgeIslam.Com)



Perception of Religious Harmony in Indian System of Governance: The Irony of History ہندوستانی نظام سلطنت میں مذہبی ر واداری کی ضرورت کا ادراک : المیہ تاریخ

 

 

ڈاکٹر مبارک علی

ہندوستانی نظام سلطنت میں مذہبی ر واداری کی ضرورت کا ادراک

علاؤ الدین خلجی نے پہلی مرتبہ اس کا برملا اعلان کیاکہ حکومت کے انتظام و انصرام میں وہ صرف ایک چیز کو مد نظر رکھتا ہے کہ رعیت کی فلاح و بہبود کے لیے کیا ضروری ہے۔ اس نے قاضی مغیث کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘‘ میں یہ نہیں جانتا کہ میرے احکامات شرعی ہوتے ہیں یا غیر شرعی ۔ جس چیز میں اصلاح ملک دیکھتا ہوں او رجو کچھ بھی مصلحت وقت کے مطابق نظر آتا ہے اس کا میں حکم دے دیتا ہوں ۔’’( 6)

(2) ان دو رجحانات کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا رجحان بھی ہندوستانی معاشرے میں پیدا ہو رہا تھا کہ ہندو اور مسلمان اشتراک اور میل جول کے ساتھ رہیں ۔ اس کی ابتداء عوامی سطح پر شروع ہوئی کیونکہ عوام کے کوئی سیاسی مفادات نہیں تھے جو اس اشتراک میں آڑے آتے لہٰذا علماء اور حکمران طبقے کےبر عکس عوام کے سوچنے کا انداز بھی مختلف تھا ۔ ان کے مفادات بھی ان کے علیحدہ تھے کیونکہ معاشرے کا ایک عام آدمی اپنی روز مرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کا محتاج ہوتا ہے ۔ اس میں مذہبی مسائل کو سمجھنے کی اہلیت کم ہوتی ہے ۔ اس لیے جب ہندوستان میں ایک عام آدمی کا واسطہ کاروباری اور دوسرے سلسلوں میں ہندوؤں سے پڑا تو اس نے مذہب اور سیاست کے مفادات سے بلند ہوکر ان سے اشتراک کیا ۔ یہ اشتراک اس وقت اور بھی بڑھا جب ملک میں سیاسی انقلابات آئے، حکمران خاندان بدلے، صوبائی گورنر وں نے بغاوتیں کیں، خانہ جنگیوں نے سیاسی انتشار پیدا کیا ۔قحط پڑے، حکومت نے ٹیکس کی وصولیابی کےلیے سختیاں کیں تو ان ہی اثرات سے ہندو اور مسلمان عوام یکساں طور پر متاثر ہوئے، اس سیاسی انتشار اور معاشی نا آسودگی نے عوام کی توہمات میں برابر کا شریک کیا ۔ پیر پرستی ، نذر و نیاز، قبروں اور مزاروں پر جانا اور چڑھاوے چڑھانا ان باتو ں نے ہندو او رمسلمان دونوں قوموں میں رواج پایا ۔ یہ بات ایک طرف تو معاشرے کی معاشی نا آسودگی کوظاہر کرتی ہے کہ جس کے نتیجے میں عوام کے سادہ ذہن اپنی مشکلات کا حل ان ذرائع سے ڈھونڈھتے ہیں تو دوسری طرف اس سے دونوں قوموں کی ذہنی سطح پر ہم آہنگی ظاہر ہوتی ہے ۔

اشتراک کی اس تحریک کو بڑھانے میں صوفیاء نے بڑا حصہ لیا انہوں نے خود کو حکومت سے وابستہ نہیں کیا اپنی روحانی سلطنت قائم کر کے اپنا رابطہ رشتہ عوام سے قائم کیا ، صوفیاء او رعلماء کے طریقہ کار میں بڑا فرق تھا، علماء حکومت کی مدد سے شریعت کا نفاذ چاہتے تھے تو صوفیاء حکومت سے علیحدہ رہ کر لوگوں میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتے تھے ۔

لہٰذا خلجی دور میں یہ تینوں رجحانات ہندوستان میں ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں ۔ حکومت اگر چہ علماء کے اثر واقتدار کواچھی نظر سے نہیں دیکھتی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کے اثر و اقتدار کوجو انہیں مسلمان معاشرے میں حاصل تھا ، وہ اسے مکمل طو رپر ختم نہیں کرسکی ۔ محمد تغلق نے اگرچہ کوشش کی کہ علماء و صوفیاء کے اثر کو ختم کر کے بادشاہ کی سیاسی برتری کو قائم کرے لیکن اس کا نتیجہ سیاسی انتشار اور بغاوتوں کی شکل میں نکلا۔ جس میں علماء کاہاتھ تھا ۔ اسی وجہ سے انہیں وقتی طو ر پر سیاسی اقتدار بھی مل گیا ۔ جس کانتیجہ یہ ہوا کہ عام ہندوؤں کے ساتھ ساتھ ، برہمنوں پر بھی جزیہ لگا دیا گیا ۔ او رمعاشرے میں ایسی تمام تحریکوں کو تشدد کے ساتھ ختم کردیا گیا جو شریعت کے خلاف تھیں اسی وجہ سے اس دور میں مذہبی تعصب کے ایسے واقعات پیش آئے جنہیں کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا ۔

مخدوم جہانیاں جہاں گشت اور ان کے بھائی راجو قتال اسلام کی تبلیغ میں تشدد کے قائل تھے ۔ مخدوم صاحب کے مرض الموت میں ایک ہندو تحصیل دار نواہون ان کی عیادت کو آیا اور کہنے لگا کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الا نبیاء بنایا تھا مخدوم صاحب کو خاتم الاولیاء بنایا ہے ۔ اس پرمخدوم صاحب نے اپنے بھائی کو مخاطب ہوکر کہا کہ یہ نبی کو آخر ی رسول ماننے سے مسلمان ہوگیا ہے ۔ اب اگر اسلام سے انکار کیا تو مرتد ہوجائے گا اور مرتد کی سزا قتل ہے ۔تحصیل دار نے وہاں سے بھاگ کر دہلی میں فیروز تغلق کے پاس پناہ لی، مخدوم کے بھائی راجو قتال اپنے بھائی کی وفات کے بعد فیروز تغلق کے پاس دہلی آئے اور نواہوان سے مطالبہ کیا کہ یا تو مسلمان ہونے کا اقرار کرے ورنہ قتل کردیا جائے گا۔ اس کے انکار پر انہوں نے فیروز شاہ کو مجبور کیا کہ اسے قتل کردیا جائے۔ چنانچہ نواہو ن اس مذہبی تعصب کے نتیجے میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ (7)

اسی قسم کا ایک واقعہ سکندر لودھی کے زمانے میں پیش آیا جب کہ برہمن نے جس کا نام لودھن تھا یہ اعلان کیا کہ ہندو مت اور اسلام دونوں سچے مذہب ہیں ۔ اس پر علماء نے فتویٰ دیا کہ چونکہ لودھن نے اسلام کی سچائی قبول کرلی ہے لہٰذا مسلمان ہوگیا ہے اب اگر اس نے دوسرے مذاہب کی سچائی مانی تو وہ مرتد ہوجائے گا او رشریعت میں اس کی سزا موت ہے لہٰذا اسی جرم اسےپھانسی دے دی گئی ۔ (8)

ان واقعات سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ اشتراک کے جذبات بہت آگے بڑھ چکے تھے ۔ او رمعاشرے میں ایک طبقہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ دونوں مذاہب میں برابر کی سچائی موجود ہے یہ لوگ اس بنیاد پر دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے ۔ لیکن اس کا رد عمل بھی اسی قدر شدید تھا ۔ علماء ایک طرف تو دونوں مذاہب اور قوموں کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے تو دوسری جانب تشدد کے ذریعے تبدیلی مذہب کی پالیسی پر عمل پیرا تھے ان کی کوششوں میں حکومت بھی اکثر ان کے اثر ورسوخ سے مجبور ہوکر ان کا ساتھ دیتی تھی ۔

ان پابندیوں کےباوجود اشتراک کا رجحان بڑھتا ہی گیا ۔ اسلام اور ہندو مت کے مشترک پہلوؤں کو سامنے لایا گیا ۔ دونوں مذاہب کی سچائی اور حقانیت کو تسلیم کیا گیا ۔ اس رجحان کو آگے بڑھانے میں وحدت الوجود کے ماننے والے صوفیاء کا بڑا ہاتھ تھا ۔ صوفیاء کی خانقاہیں اکثر شہر کے باہر ہوا کرتی تھیں۔ جہاں ان کے معتقدین جن میں ہندو اور مسلمان دونوں ہوا کرتے تھے قیام کرتے، محفلوں میں شریک ہوتے اور مذہبی مسائل پر بحث کرتے اس نتیجے پر پہنچتے کہ :

ہر قوم راست را    ہے دینے و قبلہ گا ہے

چشتیہ سلسلے کے ایک بزرگ شیخ عبدالقدوس گنگوہی کہا کرتے تھے کہ یہ کیسا شور و غوغا پھیلا ہوا ہے ۔ کوئی مومن ہے کوئی کافر ، کوئی مطیع ہے کوئی گنہگار ..... کوئی مسلمان اور کوئی پارسا ، کوئی محمد او رکوئی ترسا، یہ سب ایک ہی لڑی کے پروئے ہوئے ہیں ۔ (9)

اس اشتراک کا نتیجہ پندرھویں صدی میں پیدا ہونے والی بھگتی تحریک تھی ۔ جس میں راما نند بیراگی ، کبیر داس ، گورونانک ، سوامی اور چتینا تھے ۔ جنہوں نے ہندو او رمسلم اشتراک کی کوشش کی اس تحریک کا تعلق عوام سے تھا ۔ حکومت و سیاست علیحدہ ، عوامی سطح پر یہ ذہنی اور ثقافتی طور پر دونوں قوموں کو ایک جگہ جمع کررہےتھے ملک کی سیاسی صورت حال میں اس اشتراک کی تحریکوں کو کام کرنے کا زیادہ موقع ملا ۔ تیمور کی آمد نےتغلق خاندان کی حکومت کا خاتمہ کردیا اس کے بعد ملک خانہ جنگیوں میں ایسا مبتلا ہوا کہ کوئی مضبوط اور طاقتور خاندان اس سیاسی انتشار میں نہیں ابھر سکا اس وجہ سے حکومت کمزور ہوئی حکومت کے ادارے کمزور ہوئے اور اس کے ساتھ ہی علماء کا اقتدار بھی کم ہوا لہٰذا سیاسی کمزور اور ابتری  کے دور میں اشتراک کی تحریکوں کو روکنے والا کوئی نہ رہا اور یہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں ۔

(3) جب بابر نے ہندوستان فتح کیا تو اس نے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اگر ہندوستان میں حکومت کرنی ہے تو مذہبی رواداری کی پالیسی پر عمل کرناہوگا لہٰذا اس نے ہمایوں کو جو وصیت کی اس سے اس کی دور رسی کا اندازہ ہوتاہے :

فرزند من ! ہندوستان میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عنایت ہے کہ اس نے تمہیں اس ملک کا بادشاہ بنایا ہے اپنی بادشاہی میں تمہیں ذیل کی باتوں پر خیال رکھنا چاہئے ۔

(1) تم مذہبی تعصب کو اپنے دل میں ہر گز جگہ نہ دو اور لوگوں کے مذہبی جذبات اور مذہبی رسوم کا خیال رکھتے ہوئے رو رعایت کے بغیر سب لوگوں کے ساتھ پورا انصاف کرو۔

(2) گاؤ کشی سےبالخصوص پرہیز کرناتاکہ اس سے تمہیں لوگوں کے دل میں جگہ مل جائے اور اس طرح وہ احسان اور شکر کی زنجیر سے تمہارے مطیع ہوجائیں ۔

(3)تمہیں کسی قوم کی عبادت گاہ مسمار نہیں کرنی چاہئے ۔ تاکہ بادشاہ اور رعیت کے تعلقات دوستانہ ہوں او رملک میں امن و امان رہے۔

(4) اسلام کی اشاعت ظلم و ستم کی تلوار کے مقابلے میں لطف و احسان کی تلوار سے بہتر ہوسکے گی۔

(5) شیعہ سنی اختلافات کو ہمیشہ نظر انداز کرتے رہو کیونکہ ان سے اسلام کمزور ہوجائے گا۔

(6) اپنی رعیت کے مختلف خصوصیات کو سال کے مختلف موسم سمجھو تاکہ حکومت بیماری اور ضعف سے محفوظ رہ سکے ۔ (10)

ہمایوں کی جلاوطنی او رسوری خاندان کے قیام نے علماء کو سیاسی اقتدار میں شریک کرلیا تھا ان میں مخدوم الملک عبداللہ سلطان پوری اور شیخ عبدالبنی شریعت کے علمبردار وں میں سے تھے یہ ہر نئے خیال اور جدید تحریک کے مخالف تھے ہندوستان میں مہدوی تحریک کو ختم کرانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ شیخ علائی خضر خاں شروانی اور مبرجبش کو مذہبی اختلافات کی بناء پر یہ قتل کراچکے تھے ۔ ابوالفضل اور فیضی کے باپ شیخ مبارک کے قتل کے یہ درپے تھے ۔ یہ ان تمام صوفی سلسلوں کے خلاف تھے جو آزادانہ خیالات کا پرچار کرتے تھے ۔ خصوصیت سے شطاریہ سلسلہ کے جس کے پیروکار ہندوؤں سے میل جول رکھتے تھے اور ان کے افکار کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اس لیے اکبر جب تخت نشین ہوا تو یہ دو رجحانات آپس میں متصادم تھے ۔

اکبر اگر چہ ابتدائی دور میں سخت مذہبی تھا لیکن اس وقت بھی وہ صلح کل اور رواداری کا حامی تھا اور اس کی مذہبیت اس کی وسیع القلبی میں رکاوٹ نہیں تھی اس کی راجپوت شہزادی سے شادی 1562ء کی بات ہے جب وہ خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر زیارت کی غرض سے جارہا تھا یہ مذہبی رواداری اس میں ابتداء ہی سے تھی او ریہ آخر وقت تک قائم رہی ۔ تخت نشینی کے کچھ عرصہ بعد ہی اسے عطا ء کی تشدد پسندی دنیا داری اور ظاہر داری سے نفرت ہوگئی اور ا س نے یہ کوشش کی کہ علماء کے اقتدار اور اثر کو ختم کرکے اپنی طاقت کو مستحکم کرے ۔ اکبر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اشتراک کی تحریک اور رجحان کو سیاسی تحفظ دیا اور سیاسی اقدار کے ذریعہ انہیں مضبوط کیا ۔

اکبر نے ہندوؤں میں اعتماد پیدا کرنے کی غرض سے اور مذہبی رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے جزیے کو ختم کیا ہندوؤں سے یاترا ٹیکس اٹھایا اور حکومت کے اقتدار میں غیر مسلموں کو برابر کی شرکت دے کر مغلیہ سلطنت کے ڈھانچے کو بدل دیا اقتدار اب صرف ایک ہی طبقے میں محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اہل ہندوستان مذہبی بنیادوں سے بالا تر شریک تھے ۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کے عوام میں یہ احساس ہوا کہ مغلیہ سلطنت ہندوؤں او ر مسلمانوں کی مشترکہ سلطنت ہے۔ اس ہم آہنگی کے نیتجے میں دربار میں جو فضا پیدا ہوئی اس میں ہندو او رمسلم ثقافت اور رسم و رواج میں یکجہتی پیدا ہوئی دیوالی ہولی اور بسنت کے تہوار مسلم تہواروں کے ساتھ ساتھ اہتمام اور شان و شوکت کے ساتھ منائے جانے لگے لباس، رہن سہن، غذا اور آداب میں ملاپ کی فضا پیدا ہوئی علمی و ادبی میدان میں فارسی و سنسکرت کی کتابوں کے ترجمے ہوئے جنہوں نے ایک دوسرے کے خیالات و افکار کو سمجھنے میں مدد دی۔ عوامی سطح پر حکومت کے دفتروں میں اور کاروبار میں اشتراک کا یہ عمل جاری رہا ۔ جس نے معاشرے میں رواداری کی فضا قائم کی ۔

اکبر کی اس پالیسی کی مخالفت دو طبقوں کی جانب سے کی گئی ایک علماء اور دوسرے مسلمان امراء ۔ مرزا عزیز جو کہ اکبر کا رضاعی بھائی تھا اور اکبر سےناراض ہوکر حج کے لیے چلا گیا تھا ۔ اس نے وہاں سے اکبر کو خط لکھا کہ چونکہ اس نے ہندوؤں کو اعلیٰ منصب دے رکھے ہیں اس لیے تاریخ میں یہ بات اس کے لیے بدنامی کا باعث ہوگی ۔ (11) مسلمان مغل امراء کا یہ طبقہ ہندوؤں کا دربار میں موجود ہونا ان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونا اور ان کے ساتھ مساوی برتاؤ برداشت نہیں کرسکتا تھا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس طبقے کی مخالفت مذہبی سے زیادہ سیاسی و اقتصادی تھی کیونکہ یہی لوگ دربار اور حکومت میں شیعہ امراء کے اقتدار کے بھی مخالف تھے اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ ہمایوں کی ایران جلا وطنی اور ہندوستان واپسی پر ایرانی امراء کااثر و رسوخ دربار میں بڑھ گیا اور بہت جلد حکومت کے کلیدی عہدوں پر یہ ایرانی نظر آنے لگے چنانچہ دربار میں مسلمان امراء ایرانی اور تورانی پارٹیوں میں تقسیم ہوگئے جن کی بنیاد مذہبی عقیدے پر تھی مگر دراصل یہ ایک دوسرے کے سیاسی حریف تھے چنانچہ مغل دربار میں سنی، شیعہ اور ہندو امراء کے تین گروہ تشکیل پا چکے تھے اکبر جب تک زندہ رہا اس نے ان تینوں جماعتوں کو قابو میں رکھا لیکن اس کے بعد ان تینوں طبقوں کی ایک دوسرے سے مخالف زور و شور سے ابھری ۔

علماء کا طبقہ بڑے دکھ کے ساتھ اشتراک کی اس تحریک کو دیکھ رہا تھا جو اس مرحلے پر حکومت کی پناہ میں پروان چڑھ رہی تھی انہیں اس پر قلق تھاکہ ہندو اور مسلمان ایک قوم ہوتے جارہے ہیں اور مسلمان اپنی انفرادیت کھو رہے ہیں اگر ان مشترکہ ثقافتی اقدار اور روایات کو ختم نہ کیا گیا اور ان میں مذہبی جذبہ و جوش پیدا نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ اسلام اور مسلمان ہندوستان سے مٹ جائیں گے علماء کو یہ حالات فتنہ قیامت سے کم نظر نہیں آتے تھے اسی ماحول میں احمد سرہندی کی تحریک شروع ہوئی انہوں نے حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ :

‘‘قیامت قریب ہے اور ظلمتوں میں گھٹائیں چھا رہی ہیں کہاں خیریت اور کہاں نورانیت ۔ شائد حضرت مہدی علیہ الرضوان خلافت ظاہری پاکر اس کو رواج دے سکیں ۔ (12)

احمد سرہندی نے جو تحریک شروع کی اس میں انہیں مغل دربار کے سنی امراء کی حمایت حاصل ہوئی جو ہندوؤں او ر شیعوں دونوں کے خلاف تھے احمد سرہندی کی کوشش تھی کہ ان امراء کی مدد سے جہانگیر پر اثر ڈالا جائے اور حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد معاشرے کا ڈھانچہ بدلا جائے ۔ عوامی سطح پر اس تحریک کا زیادہ اثر ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے پس منظر میں سیاسی عوامل کام کررہے تھے۔

احمد سرہندی نے جو خطوط جہانگیر کے دربار کے اہم امیر شیخ فرید کو لکھے ہیں ، ان سے اس رجحان کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ :

‘‘ لیکن اس دور میں اسلام کسمپرسی کا شکار ہے اور آپ ایسے جوان مرد اور بلند ہمت سے ایسا فعل ( یعنی دین کی حمایت) اور بھی احسن و زیبا ہے۔’’(13)

سکھ گروار جن دیو کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسی خط میں آگے لکھتے ہیں :

‘‘کافر لعین رائے گوبند وال کو اس موقع پر ہلاک کردینا بہت ہی مناسب ٹھہرا او ریہ بات مردو و ہندوؤں کے لیے شکست عظمیٰ کا سبب بنی ہے۔ جس نیت سے بھی اور جس بھی مقصد کے تحت اسے مارا گیا ہے بہر صورت احسن ہے اس لیے کہ کفار کی رسوائی اہل اسلام کے لیے گویا سکہ جاری ہے .... جو مر اسلام اور اہل اسلام کے لیے باعث عزت ہوگا ۔ یہ جو کفار پر جزیہ وغیرہ لگا یا جاتا ہے تو اس سے ان کی محض رسوائی و تذلیل مقصود ہوتی ہے ۔ جس قدر کفار صاحب عزت ہوتے جائیں گے اسی قدر اسلام کی ذلت ہوگی ..... لہٰذا مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس دور میں جب کہ بادشاہ اسلام کو ( جہاں گیر) اہل کفر سے پہلی سی رغبت نہیں رہی ہے اسے ( بادشاہ) ان بدکیش کافروں کی بقیہ رسوم جو گذشتہ صدیوں میں وجود میں آئیں او رجو مسلمانوں کے دلوں پر گراں گزرتی ہیں برائیوں سے آگاہ او رانہیں دور کرنے کی کوشش کرے ..... شرعی مسائل کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ازبس لازمی ہے۔ اگر اس آگاہی کا بیڑا نہ اٹھایا گیا تو اس کی ذمہ داری بادشاہ کےمقربین اور علماء پر عائد ہوگی ۔’’( 14)

مرزا عزیز کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ :

‘‘ اس دور میں آپ کا مبارک وجود غنیمت ہے اور اس وقت میں اس معرکہ کفر و اسلام میں جس میں اسلام کا پلہ ہلکا ہے ۔ ہمیں آپ کے سوا کوئی دلیر سپاہی نظر نہیں آرہا ....... آپ اس امر کی کوشش فرمائیں کہ کم از کم کافروں کی وہ بڑی بڑی بدعتیں اور رسوم کبیرہ جو مسلمانوں میں رواج پکڑتی جارہی ہیں پوری طرح مٹا ڈالی اور ختم کردی جائیں ۔’’(15)

لالہ بیگ کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ :

‘‘ ہندوستان میں گائے کی قربانی ایک اسلامی فریضہ ہے ۔ لیکن ہندو لوگ جزیہ دینا قبول کرلیں گے مگر گائے کی قربانی پر کسی طرح راضی نہ ہوں گے۔’’(16)

ایک ہندو ہروے رام نے انہیں لکھا کہ رام اور رحمان ایک ہی ہیں تو اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ :

‘‘ رام او رکرشن اور اسی قسم کی دوسری شخصیتیں جن کی ہندو پرستش کرتے ہیں اس ہست کی ادنیٰ مخلوقات ہیں ..... کس قدر بری بات ہے کہ کوئی شخص تمام جہانوں کی مخلوقات کے پروردگار کو رام اور کرشن کے نام سے یاد کرے یہ تو ایسے ہی ہے جیسے ایک عظیم الشان بادشاہ کو رذیل خاکروب کے نام سے یاد کیا جائے، رام اور رحمان کو ایک سمجھنا بہت بڑی جہالت ہے۔’’ (17)

احمد سرہندی کی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ اشتراک کی تمام علامتوں کو ایک ایک کر کے ختم کردیا جائے اس لیے مذہب یا اختلافات کو شدت کے ساتھ ابھارا گیا تاکہ ہندو اور مسلمان کا فرق واضح ہوسکے اور ہندوستان کی وہ تمام ثقافتی رسوم ورواج جو مسلمان معاشرے میں رواج پا چکی تھیں ، ان کی بیخ کنی کی جائے وہ مسلمانوں کے لیے عربی ثقافت کو ضروری سمجھتے تھے، گائے کی قربانی ، جزیہ کا برقرار رکھنا اعلیٰ عہدوں سے ہندوؤں کا اخراج او رمیل ملاپ سے اجتناب ان کے خاص مقاصد تھے ۔ان کی پوری کوشش تھی کہ اشتراک کے دھانے کو روک دیا جائے اور دونوں قوموں میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کردی جائے ۔ جہاں گیر کی تخت نشینی کے بعد اس تحریک کے پیروکاروں کو بڑی امیدیں تھیں کہ وہ دربار سے ہندو اور شیعہ امراء کا اخراج کرکے بلا شرکت غیرے اقتدار پر قابض ہوجائیں گے اور بادشاہ کواپنے خیالات میں تبدیل کر کے حکومت کو احیائے دین کی تحریک کےلیے استعمال کریں گے۔ لیکن جہانگیر نے سیاسی و مذہبی معاملات میں بڑی عقل مندی کا ثبوت دیا ۔ وہ اپنے آپ کے مذہبی خیالات کو شاید پسند نہیں کرتا تھا مگر وہ اس کی صلح کل اور رواداری کا قائل تھا اور اپنے باپ کے مداحین میں سے تھا ۔ اس نے توزک میں جہاں بھی اکبر کاذکر کیا ہے وہاں اس سے محبت و عقیدت جھلکتی ہے اس نے اعلانیہ کبھی بھی اپنے باپ کے مذہبی خیالات پر تنقید نہیں کی اس لئے اکبر کے زمانے کی پالیسیوں میں اس نے کوئی خاص تبدیلی نہیں کی۔ ہندو اور شیعہ امراء جو مغلیہ سلطنت کےاہم ستون تھے او رجنہوں نے حکومت سے وفاداری کی مثالیں قائم کی تھیں انہیں اقتدار سے محروم کرنا سلطنت کی جڑ اور بنیاد کو ختم کرنا تھا ۔ اسی لیے جہانگیر نے ان امراء کا اقتدار آہستہ آہستہ گھٹا دیا جو اس تحریک سے ہمدردی رکھتے تھے ۔ جیسے شیخ فرید اور مرزا عزیز ۔ لیکن اکبر کے مذہبی خیالات سے مسلمان عوام میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں ۔انہیں زائل کرنے کے لیے اس نے ظاہری طور پر علماء کو خوش فہمیاں کرنے کی کوشش کی ۔ چنانچہ جب اس نے کانگڑہ فتح کیا ، تو مندر میں گائے کی قربانی کی، شہر میں اذان دلوائی اور خطبہ پڑھوایا ، ہوسکتا ہے کہ اس کے اس عمل سے علماء اور سادہ ذہن مسلمان عوام خوش ہوئے ہوں لیکن اس کے علاوہ اس نے اکبر کی پالیسی کو جاری رکھا، احمد سرہندی اور ان کے پیروکار امراء جہانگیر کواپنے خیالات میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ۔ جہانگیر کے بعد شاہجہاں نے علماء کو خوش کرنے کے لیے دربار ی رسومات میں تبدیلیاں ضرور کیں لیکن اس نےبھی رواداری کی پالیسی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی لیکن اس کے دور میں ان دو متصادم رجحانات کو دربار کے دو شہزادوں کی حمایت حاصل ہوئی۔ داراشکوہ جس نے اشتراک کی تحریک کو مزید آگے بڑھا یا اور اورنگ زیب جس نے اس کے خلاف محاذ آرائی کی۔

(4) دارالشکوہ صوفی منش اور آزاد خیال انسان تھا ۔ وہ شہزادے سے زیادہ عالم تھا ۔ صوفی خیالات اور مسلک کے لحاظ سے وہ قادری سلسلے سے بیعت تھا۔ قادری سلسلے نے ہندوستان میں ہندو مسلم اشتراک پر زور دیا تھا ۔ ملا شاہ قادر جس نے دارالشکوہ بیعت تھا کہ آزادانہ خیالات کی بناء پر علماء نے ان کے قتل کا فتویٰ دے دیا تھا ۔ لیکن دارالشکوہ کی وجہ سے وہ بچ گئے دارالشکوہ کو سر مد سے بھی بڑا لگاؤ تھا وہ بھی مذہبی تفرقات سے بلند ہوکر سوچتے تھے ۔

درکعبہ و بت خانہ سنگ اوشد د چوب اوشد

یکجا حجر الاسود ، یکجا بت ہندو شد

دارا نے ایک مرتبہ شیخ محب اللہ ( متوفی 1648) سے پوچھا کہ کیا ہندوستان میں حکومت کافر و مومن کی تمیز کرے؟ یا ان کے ساتھ برابر کا سلوک کرے انہوں نے اس کے جواب میں لکھا کہ حکام کا کام رعایا کی فلاح و بہبود ہے کافر و مومن کی تفریق بے کار ہے کہ دونوں کو خدا نے پیدا کیا ہے۔

اس دور میں وحدت الوجود اور وحدت ادیان کے خیالات تقویت پا چکے تھے دونوں طرف سے لوگ مشترکہ مذہبی بنیادوں کی تلاش میں تھے ۔ مسلمان صوفیا کا طبقہ ہندو فلسفہ او رمذہب سے واقف ہورہا تھا اور تعصب کی دیواریں آہستہ آہستہ گررہی تھیں ۔ ہندو یوگیوں کی ایک جماعت بھی تصوف اور ویدانت میں دونوں قوموں کی روحانی بنیادیں رکھ رہی تھیں ۔ دارالشکوہ ، ملا شاہ سرمد اور محسن فانی ( دبستان مذاہب کا مصنف) وہ آزاد خیال علماء تھے جنہوں نے بر صغیر میں مذہبی آزاد خیالی اور رواداری کی تحریک کو بلندی تک پہنچایا ۔ یہ مذہب کی اختلافی فروعات کو چھوڑ کر اس کے اعلیٰ مقصد میں ہم آہنگی تلاش کررہے تھے ۔ اشتراک کی یہ تحریک مذہب میں نہیں بلکہ ادب میں بھی زور شور سے جاری تھی ۔ ہندو فارسی زبان میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے تو دوسری طرف سنسکرت زبان میں فارسی ادب منتقل ہورہا تھا ۔

لیکن معاشرے کا ایک طبقہ اشتراک کے اس عمل کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ دیکھ رہا تھا ۔ مغل دربار میں امراء کا ایک طبقہ اور علماء کی جماعت اشتراک کو روکنے کے خواہش مند تھے اور ان کی حمایت میں شہزادہ اورنگ زیب تھا ۔اس طرح یہ دو رجحانا ت سیاسی تصادم کا شکار ہوئے، دارا اورنگ زنب کی جنگ صرف تخت و تاج ہی کی جنگ نہ تھی بلکہ خیالات اور افکار کی بھی جنگ تھی ۔ دار آزاد خیال اور صوفیاء کا پیرو تھا اورنگ زیب متشرح اور متشدد علماء کا دارا ہندو اور مسلمان موحدین کی مجلسوں میں جاتا اورنگ زیب ان سے دور رہتا دارا شیعہ سنی اختلافات سے بالا تر ہوکر سوچتا تھا ۔ اورنگ زیب شیعوں کو کافر اور زندیق مانتا تھا اس لیے اورنگ زیب کی فتح مذہبی تعصب اور تنگ نظری کی فتح تھی جس نے ایک بار پھر اشتراک کی تحریک کو آگے بڑھنےسے روک دیا اور معاشرے میں ہندو اور مسلمان کی تفریق کو شدت کے ساتھ ابھارا۔

اورنگ زیب نے اپنے دور حکومت میں شرعی نظام کو قائم کیا اور وہ تمام احکامات قوانین و رسومات جو شرع کے خلاف تھیں انہیں منسوخ کردیا دربار سے ہندو تہواروں کو ختم کیا دوبار جزیہ لگایا ، موسیقی ، ادب ، شاعری اور مصوری کی قطعی ہمت افزائی نہیں کی ۔ اس طرح اشتراک کی تمام علامتوں کو خلاف شرع قرار دے کر ختم کردیا ۔ لیکن شریعت کے اس نظام اور علماء کے اقتدار کے باوجود سلطنت میں جو زوال کی علامتیں شروع ہوچکی تھیں وہ نہیں رکیں ، دربار کے علماء نے مذہبی تعصب لالچ اور ریاکاری کی بد ترین مثالیں پیش کیں ۔ یہ علماء نہ تو مذہب کے ذریعے مسلمانوں میں زندگی کی نئی روح پھونک سکے اور نہ ہی مغل سلطنت کو کوئی استحکام بخش سکے ۔ اورنگ زیب اور علماء شریعت کے نفاذ کے بعد یہ سمجھتے تھے کہ ہندو ستان میں صحیح اسلامی حکومت قائم کررہے ہیں اور اس کے نفاذ کے بعد معاشرے کی تمام خرابیاں ختم ہوجائیں گی۔ لیکن شرعی قوانین کے باوجود معاشرے کی اخلاقی حالت بہتر نہ ہوئی اور ہندوستانی معاشرے میں ٹوٹ پھوٹ اور تفریق بڑھتی گئی اور ان کو مشترک کرنے والی کوئی چیز باقی نہ رہی ۔ اورنگ زیب کے نظریہ نے سیاسی فتح تو حاصل کرلی لیکن عملی میدان میں اسے شکست فاش ہوئی اور اس کے ساتھ ہی ہندوستانی معاشرہ ان گنت تعصّبات میں مبتلا ہوکر افراتفری کا شکا ر ہوگیا ۔

اورنگ زیب اپنے بعد لا تعداد مسائل چھوڑ کر گیا ۔ اس کے بعد دور آیا وہ نہ صرف سیاسی بے چینی کا دور تھا بلکہ اس زمانے میں دور رس سماجی و اقتصادی تبدیلیاں بھی آئیں ۔ ایک مضبوط اور مستحکم حکومت کے کمزور ہوتے ہی جگہ جگہ بغاوتیں اور سیاسی بے چینی پیدا ہوئی ۔ جاٹ ، مرہٹہ اور سکھ مغلیہ حکومت سے برسرپیکار ہوئے ، غیر یقینی سیاسی صورت حال نے دونوں کو متاثر کیا ۔ خانہ جنگیوں نے ان کی اقتصادی حالت کو خراب کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ ملازمتوں کی تلاش میں ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے جانے لگے اور ہندومسلمان حکمرانوں اور امراء کی ملازمتیں اختیار کرنے لگے ، فوج میں ہندو اور مسلمان ، مذہبی بنیادوں سے بالاتر ہوکر سیاسی اغراض کی بنیاد پر شامل ہوئے اس لیے جاٹوں، سکھوں اور مرہٹوں کی فوج میں مسلمان موجود تھے ۔ ان کی موجودگی سیاسی و اقتصادی بحران کی نشان دہی کرتی ہے ۔

مغلیہ حکومت کی کمزوری ’ نالائق و عیاش حکمرانوں کی ملکی امور سے بے پرواہی ، امراء کی سازشیں ، خانہ جنگیاں ، بغاوتیں ،صوبائی گورنروں کی خود مختاری ’ مالیہ کی آمدنی میں کمی، فوج کی نظم ونسق میں بے تربیتی ، امراء کے طبقہ کی عیاشی اور اخلاقی انحطاط نے بر صغیر کو ایک انتشار میں مبتلا کردیا تھا ۔ ان حالات میں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سامنے آئے اور انہوں نے حکومت کے انحطاط اور مسلمان معاشرے کے زوال کو روکنے کی تجاویز پیش کیں۔ لیکن ایک ایسے وقت میں جب کہ پورا ہندوستانی معاشرہ مسائل کا شکار تھا اس وقت صرف ایک طبقہ یا قوم کی بات کرنا اور صرف ان کی فلاح و بہبود کے لیے سوچنا تنگ نظری کی بات تھی اور پھر ایک ایسی حکومت کے احیا ء کی بات کرنا جس کی بنیادیں خستہ و فرسودہ ہوچکی تھیں اور جس میں زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے تھے کوئی سیاسی دور رسی نہیں تھی لیکن شاہ ولی اللہ یہ سمجھتے تھے کہ خدا نے ان کی ذات کو مسلمان معاشرے کی اصلاح کے لیے بھیجا ہے، اس کا اظہار انہوں نے اس طرح کیا ہے:

‘‘ میں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ میں قائم الزماں ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب بھلائی اور خیر کے نظام کو قائم فرمانا چاہتا ہے تو مجھے اس مقصد کی تکمیل کے لیے گویا ایک آلہ یا واسطہ بنا لیتا ہے ’’۔ (18)

خیر کے اس نظام کے احیاء کے لیے انہوں نے مغل سلطنت کے احیاء کو ضروری سمجھا ، مغل سلطنت کے استحکام کے لیے ضروری تھا کہ ہندوستان میں مسلمان اقلیت کو مذہب کے ذریعے اکثریت کے خلاف متحد کیا جائے اس لیے انہوں نے مغل امراء کی حمایت حاصل کرنا ضروری سمجھا تاکہ ان کے ذریعے وہ ان مقاصد کو حاصل کرسکیں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اس بات کے شدت سے قائل تھے کہ ہندوستان میں صرف مسلمان ہی حکومت کرسکتے ہیں اور اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اگر ہندو ہندوستان کے حکمران ہوبھی گئے تو انہیں دین اسلام قبول کرنا پڑے گا ایسے ہی ترکوں نے فتح یاب ہونے کے بعد کیا تھا وہ یہ سمجھتے کہ اسلام ایک بین الاقوامی حکومت کے لیے آیا ہے اور اس کااظہار اس وقت ہوگا جب اس کے علاوہ تمام ادیان کو بیک وقت مٹا دیا جائے گا اور ان کی ظاہری شان و شوکت پر کاری ضرب لگائی جائے گی اگر کوئی یہودی یا عیسائی اپنے مذہب کا پیرو ہے تو اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دین محمدی اختیار کرے کیونکہ جب اللہ نے دین محمدی کو آفاقی بنایا تو اس سے روگردانی سراسر معصیت ہے۔

مغلیہ سلطنت کے استحکام کے لیے ایک طاقتور فوج کا ہوناضروری تھا جو سکھوں جاٹوں اور مرہٹوں کے خلاف بر سر پیکار ہوسکتی اور ان کی بغاوتوں کو کچل پر مضبوط مرکز کی بنیاد ڈالتی لیکن کیا یہ ممکن تھا ۔ ان حالات میں صرف مسلمانوں پر مشتمل فوج کی بنیاد ڈالی جاتی ؟ اور فوج سے تمام ہندو افسر وں او ر سپاہیوں کو نکال دیا جاتا آخری عہد مغلیہ میں فوج کا ڈھانچہ اس قدر بدل چکا تھا اور اس میں اس قدر غیر مسلم شریک ہوچکے تھے کہ نہ تو انہیں نکالا جاسکتا تھا اور نہ ہی انہیں اسلام کے نام پر لڑایا جاسکتا تھا اور یہ حالت مغل فوج ہی کی نہیں سکھوں جاٹوں اور مرہٹہ فوج کی بھی تھی ۔ فتح کے بعد جب لوٹ مار کا بازار گرم ہوتا تو اس میں فوج ہندو اور مسلمان کی تخصیص نہیں کرتی تھی ۔ اس کا اندازہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے خطوط سے بھی ہوتا ہے جو انہوں نے مغل امراء     کو لکھے تھے مثلاً ایک خط میں نجیب الدولہ کو لکھتے ہیں :

‘‘رحم کامقام ہے خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی مسلمان کے مال کے درپے نہ ہوں اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو امید یہ ہے کہ فتوحات کے دروازے پے در پے کھلتے چلے جائیں گے اگراس امر سے تغافل برتا گیا تو میں ڈرتا ہوں کہ آہ مظلوماں سدراہ مقصود بن جائے ۔’’ (19)

ایک دوسرے خط میں لکھتے ہیں :

‘‘ بعض مردم ہندو جو بظاہر تمہارے اور تمہاری حکومت کے ملازم ہیں اور باطن میں ان کا میلان مخالفین کی جانب ہے اور نہیں چاہتے کہ مخالفین کی جڑ کٹ جائے ’’۔

ایک اور خط میں ان مسلمانوں کے بارے میں لکھتے ہیں جو جاٹوں کی فوج میں شامل تھے :

‘‘ اگر مسلمانوں کی ایک جماعت جاٹوں کے ساتھ ہے تو اس کا خیال نہ کریں ..... اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ہاتھوں کو ( جو غیر وں کے ساتھ ہیں ) روک دے گا وہ جنگ نہ کرسکیں گے دشمنوں کی کثرت اور دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کی رفاقت سے ڈرنا نہیں چاہئے ۔’’ (20)

تاج محمد خان بلوچ کو ایک خط میں لکھتے ہیں :

‘‘ اس زمانے میں دشمنان دین کے غالب ہونے اور مسلمانوں کے مغلوب ہونے کا سبب سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ مسلمان اپنے اغراض نفسانی کو درمیان میں لاتے ہیں اور ہندوؤں کو اپنے کاروبار میں دخیل بناتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ہندو غیر مسلموں کا استیصال گوارہ نہ کریں گے۔ ’’ (21)

ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام اور اس کی وسعت نے مسلمانوں کو اس بات پر مجبور کردیا تھا کہ وہ اقتدار میں اپنے علاوہ ہندوؤں کو بھی شریک کریں ۔ اس لیے فوج ہو یا انتظام سلطنت اس میں ہندو ملازمین تھے اور حکومت کے نظم و نسق چلانے میں ان کا بڑا حصہ رہا ہے ۔ یہ اشتراک اس قدر مستحکم ہوچکا تھا کہ ہندو فوجیوں کی فوج سے یا ہندو کلرکوں کو دفتر سے نکال کر صرف مسلمانوں کو رکھنا نا ممکن تھا اور ان کی موجودگی میں صرف مسلمانوں کے بہبود کی بات کرنا اور صرف انہیں مظلوم گرداننا ، دوسرے طبقہ و قوم میں نفرت کے جذبات پیدا کرناتھا ۔ اسی لیے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے چند مسلمان امراء کے ذریعے جو انقلاب لانا چاہا وہ ناکام ہوگیا ’ اندرونی انقلاب سے مایوس ہو کر انہوں نے غیر ملکی امداد کا سہارا لیا اور احمد شاہ ابدالی کو مسلمان معاشرے کی مدد کے لیے بلایا :

‘‘ یقینی طور پر جناب عالی پر فرض عین ہے، ہندوستان کا تصور کرنا اور مرہٹوں کاتسلط توڑنا اور ضعفائے مسلمین کو غیر مسلموں کے پنجے سے آزاد کرانا اگر غلبہ کفر معاذ اللہ اسی انداز پر رہا تو مسلمان اسلام کو فراموش کردیں گے اور تھوڑا زمانہ گزرے گا کہ یہ مسلم قوم ایسی قوم بن جائے گی کہ اسلام اور غیر اسلام میں تمیز نہ کرسکے گی ۔’’ ( 23)

احمد شاہ ابدالی کی مرہٹوں سے پانی پت میں جو جنگ ہوئی ۔ اس کا فائدہ نہ تو مغلیہ سلطنت کو ہوا او رنہ مسلمان معاشرے کو بلکہ انگریزوں نے اس کے نتائج سے فائدہ اٹھایا۔

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان میں رہنےوالے مسلمانوں میں اس احساس کوباقی رکھنے کی کوشش کی کہ وہ اس ملک میں غیر و اجنبی ہیں یہ ان کا وطن نہیں بلکہ قسمت نے انہیں یہاں لا ڈالا ہے۔ ایک خط میں لکھتے ہیں کہ :

‘‘ اللہ سے دعا ہے کہ اس حادثہ میں مخالفین اسلام پر ہی مصیبت ٹھہرے، اور مٹھی بھر مسلمان جو اس بلاد میں غرباء کی حیثیت سے پڑے ہیں محفوظ و مامون رہیں ۔’’ ( 24)

اپنے وصیت نامہ میں وہ اس رجحان کی مزید وضاحت کرتے ہیں :

‘‘ ہم لوگ اجنبی ہیں کیونکہ ہمارے آباؤ اجداد سرزمین ہند میں بطور اجنبی آئے تھے ۔ او رہمارے لیے عربی نسب اور عرب زبان دونوں باعث فخر ہیں ۔ ہم تابہ مقدور عرب کے ’ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم   کامولد ہے، عادات و رسوم کو ہاتھ سے جانے نہ دیں عجم کی رسموں اور ہندوؤں کی عادات کے نزدیک نہ پھٹکیں ۔’’ ( 25)

یہ وصیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اس ثقافتی اشتراک کے مخالف تھے جو ہندوستان میں ہندو مسلم اشتراک سے ابھر رہا تھا وہ ہندی ثقافت کی بجائے عربی ثقافت کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ہندوؤں او رمسلمانوں میں کسی سطح پرکوئی ملاپ اور ہم آہنگی نہ ہوسکے ۔

احمد سر ہندی اور شاہ والی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریکوں کا خاص زور اس بات پر تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب میں سب سے بڑا سبب ہندوؤں کی رسومات کو اختیار کرنا ہے حالانکہ یہ ایک فطری امر تھا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے یہاں کے مخصوص حالات میں اس ثقافت کو اپنایا جائے ۔ یہ ثقافتی اقدار، اشتراک، اتحاد، محبت و الفت ، یکجہتی و یگانگت کا باعث ضروری ہیں، تفریق، نفاق اور نفرت و عداوت کانہیں، لیکن اشتراک کی بنیادوں کو ڈھانے کا کام ابتداء میں ہمارے علماء نے کیا اور ان کا ساتھ حکمران طبقے نے دیا ۔

حوالہ جات :

(1) دربار ملی، مرتبہ ، ایس ۔ ایم اکرام ۔ وحید قریشی، اردو ترجمہ لاہور ۔1966ء ۔ ص ۔ 10۔3

(2) ایضاً : ص ۔115۔117

(3)ضیاء الدین برنی : فتاوائے جہانداری ۔ بحوالہ ، سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات از خلیق احمد نظامی ۔ دہلی ۔ 1958ء ۔ ص ۔75۔76

(4) ضیاء الدین برنی : تاریخ فروز شاہی ( اردو ترجمہ ) لاہور ۔1969ء ۔ ص۔ 96۔98

(5) ایضاً : ص ۔98

(6) ایضاً : ص ۔434

(7) مولانا جمالی : سیر العافین ، دہلی ۔1311ء ۔ ص 159۔160

(8) شیخ اکرام : رود کوثر، لاہور ۔1968ء ۔ ص ۔456

(9) خلیق احمد نظامی : سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات ۔ ص ۔ 449

(10) شیخ اکرام : رود کوثر ۔ ص ۔23

(11)ایضاً : ص ۔ 152

(12) ایضاً : 288 ( نوٹ میں )

(13) دربار ملی ۔ ص ۔296

(14) ایضاً : ص ۔296۔298

(15) ایضاً : ص ۔305۔307

(16) ایضاً : ص ۔ 308

(17) ایضاً : ص ۔ 308۔310

(18) مناظر احسن گیلانی : تذکرہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کراچی ، 1959۔ ص 65۔66

(19) خلیق احمد نظامی : شاہ ولی اللہ کے سیاسی مکتوبات ۔ لاہور ۔1978ء۔ ص ۔ 105

(20) ایضاً : ص ۔107

(21) ایضاً :ص ۔108۔109

(22) ایضاً : ص ۔150۔151

(23) ایضاً : ص ۔ 90

(24) ایضاً : ص 118

(25) دربار ملی ۔506

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/the-irony-of-history--part-2--(المیہ-تاریخ--(-قسط-۔-2/d/103498

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content