certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (24 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)



Rise of Ulema علما ء کا عروج

 

 

 

 

 

 

علما ء کا عروج

ڈ اکٹر مبارک علی

اگر چہ تاریخ کے اس پہلے تصادم میں علماء کو ناکامی ہوئی اور سیاسی طور پر اقتدار حاصل کرنے میں ناکام رہے ’ مگر اس شکست اور ناکامی کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری یہ تو ضرور ہوا کہ انہوں نے سیاست سے کنارہ کش کر کےدربار کی ملازمت کرلی اکثر نے اپنی توجہ مذہبی تعلیمات کے حصول اور فروغ میں لگادی اوراس کوشش میں مصروف رہے کہ ان بنیادوں پر وہ معاشرہ میں اعلیٰ اور باعزت مقام حاصل کریں۔

بدلتے ہوئے حالات نے انہیں پھر اس بات کا موقع دیاکہ وہ ایک موثر جماعت کی حیثیت سے ابھریں’ انہیں اس بات کا موقع عباسیوں کی نئی فتوحات کی وجہ سے ملا کہ جس کے نتیجہ میں نہ صرف نئے علاقوں پر قبضہ ہوا بلکہ نئے لوگ بھی ان کے ساتھ آئے۔ ان نئے لوگوں میں تبلیغ کا کام مشنری علماء نے کرنا شروع کردیا اور جو لوگ مسلمان ہوئے ان میں ان علماء کے لئے احترام کے جذبات پیدا ہوئے کہ جنہوں نے انہیں گمراہی سے نکال کر نئ روشنی دی اور اس طرح علماء کو باعزت مقام مل گیا اور ان میں سے اکثر کو تو اولیاء کا درجہ دے دیا گیا۔

ان نئے معاشروں کے نو مسلموں میں علماء کا اثر و رسوخ اس وجہ سے بھی بڑھا کہ ان کی مادری زبان عربی نہیں تھی۔ اس لئے قرآن ’ تفسیر’ حدیث اور مذہبی تعلیمات کو ان کےلئے سمجھنا مشکل تھا ۔ اس لئے انہیں ایسے لوگوں کی ضرورت تھی کہ جو عربی زبان جانتے ہوں اور ان میں یہ اہلیت ہو کہ انہیں مذہبی تعلیمات ان کی زبانوں میں سمجھا سکیں۔ اس کی وجہ سے علماء کی اہمیت بڑھ گئی اور بہت جلد مذہبی تعلیمات او رمعلومات پر ان کا قبضہ ہوگیا اور اس نے ایک ایسی جماعت کو پیدا کرنے میں مدد دی جو مذہب اور لوگوں کے درمیان میں ایک واسطہ کاکام دے۔

اس کےساتھ ہی تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی’ معاشی اور سماجی حالات کی وجہ سے اسلام میں چار فقہی مذاہب نے مقبولیت حاصل کرلی۔ جن میں حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی ہیں، ان کے اثرات اسلامی دنیا کے مختلف ملکوں میں آہستہ آہستہ پھیلے ۔ یہاں تک کہ ہر مسلمان پیدائشی طور پر ان چار میں سے کسی ایک کا ماننے والا ہوگیا ۔ چونکہ یہ فقہی مذاہب انتہائی پیچیدہ تھے ۔اس لئے ان پر عبور حاصل کرنا اور پھر ان کی روشنی میں مختلف مسائل پر فتوے دینا ہر آدمی کے بس میں نہیں تھا۔ اس لئے علماء نے ان میں دستری حاصل کرکے معاشرے کی مذہبی راہنمائی حاصل کرلی۔ اس کی وجہ سے ہر مسلمان اس امر پر مجبور ہوا کہ وہ اپنے مسائل کےلئے علماء سےرائے طلب کرے۔ علماء نے اس مقصد کےلئے دارالافتاء قائم کئے کہ جہاں مشکل او رپیچیدہ مسائل پر فتوے دیئے جاتے تھے۔

اس عمل نے مسلمان معاشرہ میں ریاست اور مذہب کو علیحدہ کردیا کیونکہ اب ریاست کا کام یہ تھا کہ وہ ٹیکس وصول کرے۔ لوگوں کو انصاف دے اور ملک میں قانون کی بالادستی قائم کر کے لوگوں کو تحفظ دے۔ جب کہ دوسری جانب علماء کا کام یہ تھا کہ مذہبی تعلیمات کو پھیلائیں اور فقہی مذاہب کی روشنی میں فتوے دےکر لوگوں کی سماجی و ثقافتی اور معاشی الجھنوں کو دور کریں۔

لیکن یہ صورت حال ایک بار پھر تبدیل ہوئی ۔ جب عباسی خلافت میں زوال کے آثار شروع ہوئے تو اس کے نتیجہ میں جگہ جگہ خود مختار صوبائی حکومتیں وجود میں آنے لگیں اور نئے حکمران خاندانوں نے سیاسی اقتدار قائم کرنا شروع کردیا۔ ان نئے حکمران خاندانوں کو نہ صرف سیاسی طاقت کی ضرورت تھی کہ جو ان کے پاس فوج کی شکل میں موجود تھی اور اس کےذریعہ وہ اپنی خود مختاری کو قائم رکھنے میں مصروف تھے، مگر اس کےساتھ ساتھ انہیں مذہبی سہارے کی بھی ضرورت تھی کہ جو انہیں خلافت سے علیحدگی کا جواز دے اور لوگوں کو مطمئن کرے کہ ان کی آزادی اور خود مختاری کی اصل وجہ مذہب کا تحفظ ہے۔

اس لئے ان نئی صوبائی حکومتوں نے علماء کو ریاست کےڈھانچہ میں ضم کرلیا اور ان کےلئے خاص مذہبی و عدالتی عہدے مقرر کئے گئے ’ جن میں قاضی’ مفتی اور صدر شامل تھے ۔ اس کےعلاوہ انہیں ٹیکس جمع کرنے ، سزائیں دینے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کے فرائض بھی سونپے گئے ۔ انتظامیہ میں شمولیت کے بعد علما ء کا طبقہ مذہبی جماعت سے نکل کر سیاسی اور سماجی طبقہ اعلیٰ میں شامل ہوگیا۔ جس کی وجہ سے ان کی حیثیت تبدیل ہوگئی اورانہوں نے دولت مند تاجروں، امراء’ اور دربار کے اعلیٰ عہدے داروں کے خاندانوں میں شادی بیاہ کرکے خود کو اس میں شامل کرلیا۔ چنانچہ اس عہد میں ’ یعنی گیارہویں و بارہویں صدیوں میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ جن میں علماء شہروں اور صوبوں کے گورنر او راعلیٰ عہدے دار نظر آتے ہیں ۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ مذہبی امور کے ساتھ ساتھ انہوں نے سیاسی اقتدار بھی حاصل کرلیا تھا اور حکومت کا ایک حصہ بن گئے تھے۔

اگر چہ یہ ضرور ہوا کہ ریاست میں شمولیت کی وجہ سے علماء کےکردار پر زبردست اثر پڑا کیونکہ اب انہوں نے حکومت و حکمران کے مفادات کا تحفظ شروع کر دیا اور خود کو لوگوں سے علیحدہ کرکے ان کےساتھ رعیت والا سلوک شروع کردیا۔

ان کا یہ کردار اس دور کی تاریخ میں واضح طور پر موجود ہے کیونکہ انہوں نے اپنی مذہبی حیثیت کو حکمران کےمفاد کے لئے استعمال کیا اور دربار میں جو سیاسی عمل جاری تھا اس کی مخالفت کرنے کے بجائے اس کی حمایت کی مثلا ً ان میں سے اکثر شاہی خاندانوں نے لوگوں میں اپنی حیثیت کو تسلیم کرانے کےلئے اس بات کے دعوے کئے کہ ان کا تعلق قدیم ایرانی شاہی خاندانوں سے ہے اور اس مقصد کےلئے انہوں نے دربار میں قدیم ایرانی رسومات کو رواج دیا اور قدیم ایرانی تہوار جن میں نو روز کا تہوار قابل ذکر ہے اسے بڑی شان و شوکت سے مناناشروع کردیا۔ ان کے درباروں میں شراب اور عیش و عشرت کی محفلیں ، ناچ و گانا و رقص عام تھے، مگر علماء نے اس پورے عمل کو خاموشی سےدیکھا اور ضرورت پڑی تو اس کے حق میں ہی فیصلہ دیا او ر اپنے سماجی و سیاسی مرتبہ کو برقرار رکھنے کےلئے اس نظام کی حمایت کی۔

اس کانتیجہ یہ ہوا کہ اگر چہ ان کا سماجی مرتبہ تو بڑھ گیا ۔ مگر دولت و سیاسی اقتدار نے لوگوں میں ان کی عزت کو کم کردیا اور اس کے بعد سےادب، شاعری اور لطیفوں و قصوں و کہانیوں میں ان کا ذکر استہزا مذاق کے طور پر آنے لگا۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content