certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (02 Jul 2015 NewAgeIslam.Com)



Sir Syed and Reconciliation Policy: The Irony of History سرسید اور مفاہمت کی پالیسی :المیہ تاریخ

 

 

  

ڈاکٹر مبارک علی

سرسید اور مفاہمت کی پالیسی

ابتدائیہ

تاریخ میں یہ ہوتا رہا ہے کہ جب کوئی فاتح قوم کسی ملک کو فتح کر کے اس پر حکومت کرتی ہے تو اسے شکست خوردہ قوم کی جانب سے دو رجحانات سےسابقہ پڑتا ہے اول قوم کا ایک طبقہ جو شکست کے باوجود فاتح قوم کے اقتدار کو تسلیم نہیں کرتا اور اس کےساتھ مزاحمت کی پالیسی اختیار کرتا دوم اس کے مقابلے میں ایک ایسا طبقہ بھی ہوتا ہے جو اپنی جائیدا د ، دولت اور جان و مال کی حفاظت کےلئے فاتح قوم سے مفاہمت اور تعاون کی پالیسی اختیارکرتاہےاور یہ طبقہ فاتح کی حکومت، ان کی روایات ان کی تہذیب و ثقافت اور ان کے قوانین کوقبول کرلیتا ہے اس کے نتیجے میں انہیں حکومت کے انتظام میں شریک کیاجاتاہے اور نہ صرف ان کی جائیداد یں محفوظ رہتی ہیں بلکہ ان میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔

تاریخ میں یہ سوال ہمیشہ سےاہمیت کاحامل رہاہے کہ فاتح قوم کے ساتھ مفاہمت کرنےوالےایک ملک و قوم کے غدار ہوتےہیں یا نجات دہندہ؟ بعض اوقات شکست مفتوح قوم کو اس قدر کچل دیتی ہے کہ اس میں مزاحمت کےتمام جذبات ختم ہوجاتےہیں اور اس میں اس قدر حوصلہ ، ہمت اور جرات نہیں رہتی کہ وہ دوبارہ فاتح قوم سے مزاحمت کرسکے ایسے موقعوں پروقتی مصالحت او رمفاہمت قوم کوسہارا دینے کےلئے ضروری ہوتی ہے ۔ تاکہ شکست کے آثار آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں لیکن اگر مفاہمت کی پالیسی کی جڑیں گہری ہوجائیں تو قوم اس کے اثر سے غلام بن کررہ جاتی ہے اس لئے اگر مفاہمت کی پالیسی کی حد بندی کا تعین نہ کیا جائے تواس کے اثرات قوم کے لئے بڑے مضر ہوتے ہیں۔

ہندوستان اور انگریز

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا عروج ہندوستان کی سیاست میں انتشار اور ناانصافی کی وجہ سے تھا کمپنی نے اس سیاسی صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور آہستہ آہستہ اپنے اقتدار کو یہاں تک بڑھایا کہ مغل بادشاہ بھی اس وظیفہ خوار ہوگیا ۔ اس پورے عرصے میں ہندوستان کےحکمراں طبقے نے خود کو انتہائی نا اہل اور نالائق ثابت کیا ان میں نہ تو اتنی فراست تھی کہ وہ کمپنی کی بڑھتی ہوئی طاقت دیکھ کر سیاسی نشیب و فراز کا اندازہ لگا لیتے اورنہ ہی ان میں اتنی دانش مندی تھی کہ وہ آپس کے جھگڑوں کو ختم کرکےاپنی سیاسی حیثیت کو مضبوط کرلیتے ۔

اس سلسلے میں ہندوستان کے عوام کی حیثیت محض شطرنج کےمہروں کی طرح تھی وہ اپنی معاشی تک و دو میں اس قدر مصروف تھے کہ انہیں حکمرانوں کے جھگڑے اور کمپنی کی سیاست سے زیادہ دلچسپی نہ تھی اس کا مقصد حصول معاش اور پرسکون زندگی تھا ۔ 1857ء کا ہنگامہ جسےاب جنگ آزادی کےنام سے کے موسوم کیا جاتاہے اس کی ابتداء جاگیردار طبقے کی جانب سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے شروع کرنے والے فوجی اور سپاہی تھے اور جاگیردار طبقہ ان کے دباؤ سےاس میں شریک ہو اور نہ وہ اپنی پنشنوں اور وظیفوں سےخوش حال زندگی گزار رہے تھے ۔ ان کی اکثریت اس ہنگامے سے دور رہی اور اپنی جائیداد وں اور ریاستوں خاطر انہوں نے انگریزوں سے تعاون کیا ۔1857ء کی ناکامی میں بھی جاگیر دار طبقہ کاہاتھ تھا جس نے مزاحمت کی بجائے مفاہمت پر عمل کیا۔

1857ء کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ مستحکم ہوگیا انہوں نے اپنی مخالف قوتوں کو اس قدر سختی سے کچلا کہ ان کے خلاف مخالفت کے تمام امکانات ختم ہوگئے ۔

سرسید : امراء کے نمائندے

ان سیاسی حالات میں سرسید نےاپنی مفاہمت کی پالیسی کو عملی تشکیل دینے کاارادہ کیا وہ ہندوستان کےجاگیر دار طبقہ کو اس کا اہل سمجھتے تھے ۔ کہ وہ حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکے اس بات کا اندازہ تھا کہ اس طبقے نے آخری عہد مغلیہ میں جو کردار ادا کیا ہے وہ اس طبقے کی ذہنی پس ماندگی کی دلیل ہے کیونکہ نہ تو ان میں تعلیم تھی، نہ فن و ہنر اور نہ انتظامی صلاحیتیں او رنہ ہی ان میں اتنی قوت و طاقت تھی کہ وہ انگریزوں سے مزاحمت کرسکیں۔ سرسید اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ انگریزوں میں یہ لیاقت موجود ہے کہ وہ ہندوستان پر حکومت کریں اس سےبہتر ہندوستانیوں کو اور کوئی دوسرا حاکم نہیں مل سکتا ۔

سرسید نے مفاہمت ، تعاون اور وفاداری کی جو تعلیم دی اس کےذریعے وہ مسلمانوں کے ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانا چاہتے تھے اور یہ طبقہ مسلمان امراء اور جاگیر داروں کاتھا جب وہ لفظ مسلمان قوم استعمال کرتے تو ان کے سامنے اسی محدود طبقے کے مفادات ہوتے تھے ، مسلمان عوام کے نہیں۔ کیونکہ انگریزی حکومت کے قیام و استحکام اور 1857ء کے واقعات نےمسلمان جاگیرداروں اور زمینداروں کےطبقے کو بری طرح متاثر کیا تھا ان کی جائیداد جاتا رہا تھا ان کی قوت و طاقت ٹوٹی تھی جس کی وجہ سے یہ طبقہ بے حس اور بے جان تھا اس طبقے نے نہ تو کبھی زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کیا تھا اور نہ ہی ان میں مقابلہ کرنے کی جرات و ہمت تھی ۔ اس لئے اس طبقے کو مزاحمت کی پالیسی اختیار کرنے پر زور دینا ایک ناممکن بات تھی اس کےبرعکس اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھنے کی ایک ہی صورت تھی کہ انگریزی حکومت سےمفاہمت کی جائے جو سرسید نےان کے نمائندے کی حیثیت سے اس کی تبلیغ کی تو یہ جوق در جوق اس میں شامل ہوتے چلے گئے ۔ جہاں تک ہندوستانی عوام کا تعلق تھا وہ استحصال طبقوں کا شکار تھے اس لئے ملک کی حکمرانی کا تبدیل ہونا ان کےلئے زیادہ اہم واقعہ نہیں تھا سرسید کاتعلق مغل امراء کےخاندان سے تھا انہوں نے جس گھرانے میں پرورش پائی تھی اور جس ماحول میں تعلیم و تربیت حاصل کی تھی وہ امراء کے طبقے سے مخصوص تھا اس لئے ان کی سوچ غور و فکر اور رجحانات میں اس طبقے کی ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے وہ ایک مخصوص جاگیردار انہ ذہن رکھتےتھے اور اس سے ہٹ کر نہ سوچ سکتے تھے اورنہ دیکھ سکتے تھے ۔1857ء میں جو کچھ اس طبقے پر بیتی وہ اس سے بڑے متاثر تھے ۔ اس طبقے کے بچاؤ اور تحفظ کاجو راستہ انہیں نظر آیا اس کااظہار وہ اس طرح سے کرتے ہیں :

‘‘ مگر آج جب کہ ہماری شان و شوکت ختم ہوچکی ہے ہمارے اشراف ذلیل ہوگئےہیں ہمارے معزز خاندان تباہ ہوگئے ہیں اور برابر ہوتے چلے جارہے ہیں اس وقت ہماری خواہش یہی ہے کہ انگریز قوم کو ہندوستان میں امن و سکون کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملے۔’’(1)

ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان میں مسلمان امراء اور جاگیرداروں کاطبقہ باقی رہے اور وہ تدابیر اختیار کی جائیں کہ ا ن کی جائیداد اور مراعات کاتحفظ ہوسکے ۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان قوم کی عظمت کا دارو مدار امراء اور روساء پر ہے ۔ جس قدر یہ طبقہ مالدار ہوگا اور جس قدر شان و شوکت والا ہوگا اسی قدر مسلمانوں کی عزت ہوگی ۔

‘‘ چونکہ مسلمان خاندانوں کی حالت روز بروز خراب ہوتی جاتی ہے اور جو امیر اور ذی مقدرور خاندان تھےان کی اولاد غریب اور مفلس ہوگئی ہے اس لئے مجھ کو اس بات کا خیال پیدا ہوا کہ کوئی ایسی تدبیرکی جائے کہ جس سے مسلمانوں کی ریاستیں قائم رہی اور مسلمانوں میں رئیس و ذی مقدور لوگ دکھائی دیں ’’(2)

مذہب اور مفاہمت

سرسید نے مذہبی نقطہ نظر سےمفاہمت کی پالیسی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی اور مذہبی دلائل کےذریعے مسلمانوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ انگریزی حکومت کو تسلیم کرلینا عین اسلام ہے چونکہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں مذہبی لحاظ سے کوئی زیادہ فرق نہیں دونوں ایک جیسے عقائد رکھتے ہیں اس لئے ان سے تعاون کرنا مذہبی فرائض میں سے ہے۔

وہ مسلمانوں کےطبقہ امراء کو اس بات کا احساس دلانا چاہتے تھے کہ ان کا دور حکومت ختم ہوگیا لہٰذا وہ خود کو ذہنی طور پر محکموم بننے پر تیار کریں ‘‘ ہم کو اب محکوم بن کر رہنا ہے اس لئے وہ لیاقتیں جو سلطنت اور کشور کشائی کے لئے درکار ہیں ہمارے لئے بے سود ہیں’’ (3)

اس لئے بہتر یہ ہوگا کہ ‘‘ جب تم میں حاکم بننے کی لیاقت باقی نہ رہے تو عمدہ رعیت بننے کی کوشش کرو’’ (4) سر سید نے مذہب کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا کہ چونکہ انگریزی حکومت میں مسلمانوں کو پوری مذہبی آزادی ہے اس لئے ان کی حکومت کے خلاف آواز اٹھانا، بغاوت کرنااور جہاد کانعرہ بلند کرنا مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے۔

‘‘اگر مسلمان انگریزی گورنمنٹ میں پر امن زندگی بسر کرتے ہیں تو وہ شریعت اسلام کی رو سے انگریزوں سےجہاد نہیں کرسکتے ان کو ہندوستان میں انگریزی حکومت کے زیر حکومت اسی اطاعت و فرماں برداری سےرہنا واجب ہے جیسا کہ ہجرت اول میں مسلمان حبش میں عیسائی بادشاہ کے زیر حکومت رہے’’(5)

ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :

آپ نے سنا ہوگا کہ ہمارے پیشوا نے کیا کہا تھااس نے ہم کو ہدایت کی ہے کہ حاکم وقت اور بادشاہ وقت کی اطاعت کرو، ولوکان عبداحبشا پس آپ خیال کیجئے کہ جب ہم کو ایک کالے منہ کےغلام بادشاہ کی اطاعت کی ہدایت کی گئی ہے تو ہم گورے منہ والے حاکموں کی اطاعت سےمنہ کیوں پھیر دیں’’(6)

انہوں نے بار بار اس بات کا اعلادہ کیاکہ اگر ہم پرکوئی ایسی قوم حکومت قائم کرے جو ہمیں مذہبی آزادی دے انصاف سےحکومت کرے ملک میں امن و امان قائم رکھے جیسا کہ ہندوستان میں انگریزی حکومت کی ہے تو اس صورت میں مسلمانوں پر یہ مذہبی فرض عائد ہوگا کہ وہ تابع اور خیر خواہ رعایا بن کر رہیں (7) وہ مسلمانوں کو اس بات سے متاثر ہونے کی تلقین کرتے ہیں کہ خدا نے ان پر انگریز وں کو حاکم بنا دیا ہے (8) مزید وہ مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ :

‘‘ تمام ہندوستان کے باشندوں کی اور بالتخصیص مسلمانوں کی خیر و عافیت اسی میں ہے کہ سیدھی طرح انگلش گورنمنٹ کےسایہ عاطفت میں اپنی زندگی بسر کریں اور خوب سمجھ لیں کہ مذہب اسلام کی یہی ہدایت ہے ۔ کہ جن کی ہم رعیت ہوکر اور مائن ہوکر رہتے ہیں ان کے ساتھ وفادار رہیں ’’(9)

یہاں سر سید ان حقائق سےچشم پوشی  کرتےہیں جو ایک سامراجی طاقت مفتوح ملک کی معیشت کےساتھ کرتی ہے اگر وہ معاشرے میں مذہبی آزادی برقرار رکھے تو اس کا اس کے سامراجی عزائم پرکوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کا اصل مقصد معاشی لوٹ کھسوٹ ہوتاہے۔

مفاہمت کے سلسلے میں انہوں نے عیسائیوں اور مسلمانوں میں مذہبی بنیاد پر ہم آہنگی پیداکرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کےلئے انہوں نے بائبل کی تفسیر لکھی تاکہ دونوں مذاہب کے عقائد میں مفاہمت پیدا کی جائے ۔(10) مسلمان امراء جو تعصب اور تنگ نظری کی دنیا میں رہتے تھے اس سےانہیں نکالنے کے لے انہوں نے مذہب کا سہارا لیا مثلاً مسلمان انگریزوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتے تھے اس پر انہوں نے ‘‘ رسالہ احکام طعام اہل کتاب ’’ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ انگریزں کے ساتھ کھانا از روئے اسلام جائز ہے۔(11)

سر سید نے مسلمانوں اور عیسائیوں میں باہمی تعاون پر زور دیا :

‘‘البتہ میری خواہش رہی کہ مسلمانوں اور عیسائیوں میں محبت پیدا ہو کیونکہ قرآن مجید کے مطابق کوئی فرقہ اگر ہمارا  دوست ہوسکتا ہے تو وہ عیسائی ہیں’’(12)

انگریزی طرز معاشرت اور مفاہمت

مفاہمت کی پالیسی کو انگریزی طرز معاشرت اختیار کرنے سے مزید تقویت ملتی اس لئے سرسید نے کہا کہ : فتح مند قوموں کے لئے ضروری ہے کہ فاتح قوم کےاخلاق وعادات اختیار کریں ان کے طور طریق کو دیکھیں (13) سرسید نے خود بھی اس کاعملی مظاہرہ کیا اور اپنی زور مرہ زندگی میں انگریزی طرز معاشرت کو اختیار کیا سرسید کےاس عمل سے یہ ضرور ہوا کہ مسلمان جاگیرداروں کا طبقہ جواپنی چھوٹی سی دنیا میں محدود    تھا اس سے اس کی روایات اور قدروں کی دنیا ٹوٹی اس میں دوسروں کے طور طریق اختیار کرنے کا حوصلہ پیدا ہوا۔

بد قسمتی سے اس کے کوئی مثبت نتائج بر آمد نہیں ہوئے اس طبقے نےانگریز ی معاشرت کو محض حکمرانوں کو خوش کرنے کےلئے اختیار کیا جس کی وجہ سے ہمارے ہاں ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جس نے اپنی تہذیب وثقافت کا مذاق اڑایا اور اپنے ملک و عوام سے کٹ کر یہ حکمران اور عوام کے درمیان استحصال طبقہ بن گئے ۔ یہی وہ طبقہ تھا جس نے آزادی کے بعد انگریزوں کی جگہ لی۔

تعلیم اور مفاہمت:

سرسید کی مفاہمت کی پالیسی کو آگے بڑھانے میں تعلیم سب سے زیادہ ممد و معاون ثابت ہوئی ۔ سرسید مغربی تعلیم کے ذریعے قدیم روایات اور قدروں کا خاتمہ چاہتے تھے انہیں اس بات کا احساس تھاکہ جب تک امراء کے طبقے کا قدیم روایات سے تعلق رہے گا اس وقت تک وہ مفاہمت کے میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے اس کا اظہار وہ اس طرح سے کرتےہیں ۔

‘‘ جب تک مسلمانوں میں مغربی تعلیم نہیں پھیلے گی اور جب تک انگریزوں اور مسلمانوں میں موانست اور میل جول پیدا نہیں ہوگا اس وقت تک مسلمانوں کاپنپنا اور ہندوستان میں عزت سے رہنا دشوار ہے’’(14)

حالی نےبھی سرسید کی ان خدمات کو سراہا ہے جو انہوں نے تعلیم کےمیدان میں کیں جس کی وجہ سے مسلمانوں اور انگریزوں میں اتحاد پیداہوا (15) سرآکلینڈ نے سرسید کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ کا طالب علم ہندوستانیوں کے اس فرقے کا ایک نمونہ ہے۔ جو انگریزوں کی خواہش کی بخوبی داد دینے کے واسطے کوشش کرتا ہے ’’ (16) سرسید کو امید تھی کہ وہ انگریزی تعلیم کے ذریعے ایک ایسی نسل تیار کرسکیں گے جو انگریزی گورنمنٹ کی بہتر رعایا بن سکے گی ۔(17)

انگریزی تعلیم کے بارےمیں انہوں نے جو دلائل دیئے اس سے ان کی مفاہمت کی پالیسی کی مزید وضاحت ہوتی ہے وہ مفتوح قوم کے لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اسے حکمران قوم کی زبان اختیار کرنا چاہئے جیسے امیہ اور عباسی دور میں عربی فاتح قوم کی زبان رہی اور اسے مفتوح قوموں نے سیکھا ۔ہندوستان میں مسلمان حکمرانوں کے زمانے میں فارسی حکومت کی زبان رہی، اس طرح اب انگریزی عملداری میں انگریزی زبان کی ہی حیثیت ہے جو عربی و فارسی کی تھی ۔ (18)

سرسید اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی ملک نے اس وقت تک علم و فنون میں ترقی نہیں کی جب تک اس نے حکمران قوم کے علوم کو حاصل نہیں کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کسی ایسی زبان کےذریعے جو حکمران قوم کی زبان نہ ہو، کسی قوم نے ترقی کی ہو۔ (19) اس کی مثال وہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت سےدیتے ہیں اس عہد میں انہی لوگوں کو سرکاری ملازمتیں ملیں جنہوں نے مسلمان قوم کے علوم ان کی زبان ان خیالات ان کا تمدن ان کالب لہجہ اور ان کی روش اختیار کی ۔ لہٰذا اس وقت یہ سوچنا کہ و ہ دیشی و مشرقی علوم و زبان کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں ایسا ہی ہے جیسے امریکہ کےریڈ انڈین یہ خیال کریں کہ وہ اپنے علوم کے ذریعے اپنے حکمرانوں پر فوقیت پالیں گے ۔(20) قومی قرقی اسی میں ممکن ہے کہ فتح مند قوم کے علوم سیکھے جائیں ۔ اگر ان کے اور ہمارے علوم جدا رہے تو دوستی کیسے ہوگی ؟ (21) وہ حکومت کی اس پالیسی کو سراہتے ہیں کہ : ‘‘ تمام اعلیٰ عہدے بجز جیسا کہ لائق انگریزی دانوں کے کسی کونہ دیئے جائیں ’’ (22) انہوں نے لارڈ میکالے کی اس اسکیم کو پسند کیا کہ اس نےہندوستانیوں کے لئے انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم کوملازمت کے لئے لازمی قرار دیا ۔

‘‘ ہم صاف صاف کہنا چاہتے ہیں کہ مشرقی علوم کی ترقی کےپھندے میں پھنسانا ہندوستانیوں کے ساتھ نیکی کرنانہیں بلکہ دھوکے میں ڈالنا ہے ہم لارڈ میکالے کو دعا دیتے ہیں کہ خدا اس کو بہشت نصیب کرے اس نے اس دھوکے کی ٹٹی کو ڈھا دیا تھا ’’ ۔

وہ بڑی سچائی کے ساتھ اس کے قائل تھے کہ ‘‘ ہمارے ملک کو اگر درحقیقت ترقی کرنی ہے اور فی الواقع ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کا سچا خیر خواہ اور وفادار رعیت بنناہے تو اس کےلئے بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں کہ وہ مغربی علوم اور مغربی زبان میں اعلیٰ درجے کی ترقی حاصل کرے’’ (24)

تعلیمی میدان میں بھی سرسید کا دائرہ صرف امراء اور روساء اور شرفاء ،زمیندار وں اور جاگیرداروں کےطبقے تک محدود تھا اس لئے وہ چاہتے تھے کہ حسب سابق یہ طبقہ حکمران جماعت میں شامل ہوجائے او رانہی مراعات کو پھر سے حاصل کرلے ۔ انگریزی زبان اور مغربی علوم کی تعلیم کامقصد یہی تھا کہ اس کے ذریعے وہ اعلیٰ عہدے حاصل کرسکیں اور حکمران طبقے سےاپنے روابط بڑھا سکیں سرسید اور ان کےلڑکے سید محمود نے جو تعلیمی اسکیم تیار کی اسے چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

(1) امراء کےلڑکوں کےلئے کالج کی تجویز جس کےذریعے وہ مغربی علوم حاصل کرکے حکومت کےاعلیٰ عہدے حاصل کرسکیں یہ کالج آکسفورڈ اور کیمرج کی طرز بنایا جائے ۔

(2) ہر شہر اور قصبے میں مدار س کھولے جائیں جو کالج کےلئے طالب علموں کو تیار کریں ۔

(3) ہر گاؤں میں مکاتب کھولے جائیں جن میں مذہبی تعلیم کا بندوبست ہو اور کسی قدر فارسی وانگریزی پڑھائی جائے ۔

(4) حفظ قرآن کے مکاتب ۔ (25)

اس اسکیم سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آگئی کہ سرسید تعلیم کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کرناچاہتے تھے ۔ اعلیٰ مغربی تعلیم صرف امرا ء کے لڑکوں کےلئے ضروری سمجھتے تھے جب کہ عوام کو وہ صرف مذہبی تعلیم میں الجھا ئےرکھناچاہتے تھے ۔ 1887ء میں انہوں نے ایک اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کی حمایت کرتےہوئے کہا :

‘‘تعلیم دو قسم کی ہے ۔ ایک اعلیٰ درجے کی جو ایک محدود گروہ کونصیب ہوگی دوسری عام تعلیم جس سے عوام اورغربا ء بھی فائدہ اٹھا سکیں گے بالعموم مسلمان پچھلی قسم کی تعلیم کےخواہش مندہیں مگر اس سے قوم آسمان کے تاروں کی طرح بلند نہیں ہوگی ۔’’(26)

سر سید نے عوامی اور سستے اسکولوں کی مخالفت کی اور ان کےنزدیک اعلیٰ تعلیم کا معیار یہ تھاکہ وہاں استاد اور پرنسپل یورپین ہو اگر کوئی اسکول مقامی استادوں کے ذریعے تعلیم دلانا چاہتا ہے تو اسے درخور اعتنا نہیں سمجھتے تھے اس سلسلے میں ایک جگہ افسوس کےساتھ کہتے ہیں ۔:

‘‘ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے دوستوں کے اب تک وہی پرانے خیالات ہیں وہ بورڈنگ ہاؤس کو ایسے لوگوں سےبھرنا چاہتے ہیں جو مسجدوں میں مردوں کی فاتحہ کی روٹیاں کھانے پر بسر اوقات کرتے ہیں افسوس کہ ان کو تعلیم کی ابھی قدر نہیں ’’ (27)

اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں کہتے ہیں :

‘‘ تھوڑی تھوڑی تنخواہ کے ٹیچر اور پروفیسر کیا تعلیم دے سکتےہیں انہوں نے کبھی چار روپیہ سے زیادہ تنخواہ کا میانجی دیکھا ہی نہیں بلا شبہ ایک میانجی کو پانچ سو اور سات سو روپیہ ملنا ان کو متعجب کرتا ہوگا ۔ اگر ہمارے بعد مدرسۃ العلوم کایہ حال ہوتاہے کہ جس کی دور اندیشی ہمارے دوست کرتےہیں تو ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ قبل اس کے کہ مدرستہ العلوم کا یہ حال ہو ایک شدید بھونچال آوے اور ہمارا پیارا مدرستہ العلوم زمین میں دھنس جاوے آمین ’’ (28)

سر سید کی تعلیم پالیسی کی مخالفت خود ان کے زمانے میں ہوئی کیونکہ ایک طبقہ چاہتا تھا کہ صرف امراء اور جاگیرداروں کےبچے ہی نہیں بلکہ عام مسلمان بھی تعلیم حاصل کریں اگر امراء کوان دولت کی وجہ سے قیمتی اور بہترین تعلیم مل سکتی ہے تو کم از کم غریب عوام کو ان کی استطاعت کے مطابق ہی کچھ تعلیم مل جائے ۔ اس لئے سرسید پر تنقید کرتے ہوئے ان کے ایک دوست نثار حسین نےکہا کہ ایک طرف تو سرسید چھوٹے اسکول قائم کرنے کی مخالفت کررہے ہیں تو دوسری طرف غریب مسلمانوں کےلئے محمڈن کالج کی بیش بہا تعلیم کے لئے جیب میں پیسہ نہیں ۔

سرسید اس خیال کے حامی تھے کہ پہلے ملک میں اعلیٰ تعلیم پھیلے اس کے بعد ادنیٰ تعلیم خود بخود پھیل جائے گی ۔ کیونکہ قدرت کا یہ قاعدہ ہے کہ ادنیٰ اعلیٰ کی پیروی کرتاہے کبھی اعلیٰ ادنیٰ کی پیروی نہیں کرتا اس لئےقوم میں اعلیٰ درجے کی تعلیم پیداکرنے کی کوشش کی جائے اور ادنیٰ درجے کی تعلیم غریبوں میں خود بخود پھیل جائے گی ۔(29) 1894ء میں تھیوروڈ ماریسن پرنسپل علی گڑھ کالج محسن الملک اور سرسید کی کوششوں سےمسلم ایجوکیشن کانفرنس میں یہ ریزولوشن پاس ہواکہ ادنیٰ اسکول نہ کھولے جائیں ۔ بقول مولوی طفیل منم وری کےاس سےمسلمانوں میں جو جگہ جگہ اسکول کھولنے کا شوق پیدا ہوا تھا وہ ختم ہوگیا (30)

سر سید کےاس ریزولوشن کے دو مقاصد تھے :اول یہ کہ اگر جگہ جگہ چھوٹے اسکول کھل گئے تو اس کی وجہ سے مدرستہ العلوم کو چندہ نہیں ملے گا کیونکہ مسلمان اپنے علاقے کےاسکول کو چندہ دیں گے دوسرے اس سے تعلیم عام ہوگی سرسید صرف علی گڑھ کو اعلیٰ تعلیم کا مرکز بنانا چاہتے تھے اور اسے آکسفورڈ کیمرج کی طرز پرڈھال کر وہاں مفاہمت کی فضا میں تعلیم دینا چاہتے تھے اس مقصد کےلئے سرسید نے مدرستہ العلوم کےلئے جو قوانین بنائے وہ یہ تھے:

طالب علم ہاسٹلوں میں رہیں گے ان کےکام کےلئے ملازم ہوں گے انہیں گھڑسواری اور کرکٹ سکھائی جائے گی اور ان کی تعلیم کےلئے یورپی اساتذہ کی تقرری پر انہوں نے اس لئے زور دیاکہ ایک ایسے ادارے میں جہاں مسلمانوں کی کثیر تعداد تعلیم پائے ان کی نگرانی کےلئے یورپی اساتذہ کاہونا ضروری تھا تاکہ حکومت کو اس ادارے کی جانب سے اطمینان رہے ۔(31) ان کی وجہ سے حکام اس کالج کےبارےمیں اچھے خیالات رکھتے تھے اور اس وجہ سےنواب ، زمینداروں اور جاگیردار اپنے لڑکوں کواس کالج میں تعلیم کےلئے بھیج دیتے تھے کہ یہ کالج حکومت کی نگاہوں میں مشتبہ نہیں تھا یہاں کے طالب علموں کو آسانی سےحکومت کی ملازمتیں بھی مل جاتی تھیں ۔(32) اس کے علاوہ کالج میں انگریز افسروں اور عہدے داروں کو وقتاًٰ فوقتاًٰ بلایا جاتا تھا ، اس سے جلسوں کی صدارت کرائی جاتی تھی اور ان کے ذریعے طلبا ء میں انعامات تقسیم کرائے جاتے تھے ۔ تاکہ اس کے ذریعے سےطلباء کے دلوں میں ان کا احترام پیدا ہو۔ ضلع کےانگریز حکام اوران کی بیگمات کالج کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی تھیں اس کے علاوہ یہ کھیلوں میں شریک ہوتےاور ڈنر میں شرکت کرتے ، اسی طرح سے دونوں طبقوں میں میل جول بڑھا ۔(33)

تعلیم کےسلسلے میں سرسید صرف اس تعلیم کےحامی تھے جو طالب علموں کو اعلیٰ انتظامی عہدوں کے لئے تیار کرے ۔ ان کے ذہن میں اس سے زیادہ تعلیم کا اورکوئی مقصد نہیں تھا اس لئے انہوں نے سائنس کی مخالفت کی کیونکہ اس سے اعلیٰ تربیت اور شائستگی پیدا نہیں ہوتی ہے۔ اس طرح صنعتی و فنی تعلیم کے بارے میں بھی ان کی جاگیردارانہ ذہنیت آڑے آئی جس کو وہ امرا ء کے لڑکوں کےلئے ضروری نہیں سمجھتے تھے ۔(34)

انہوں نے تعلیم نسواں کی بھی مخالفت کی ، ان کی دلیل یہ تھی کہ امراء اور رؤساء کے لڑکے نالائق ہوتے ہیں اس لئے پہلے انہیں مہذب بنایا جائے ۔کیونکہ جاہل عورت اپنے حقوق سے ناواقف ہوتی ہے اس لئے وہ مطمئن رہتی ہے اگر وہ تعلیم یافتہ ہوکر اپنے حقوق سے واقف ہوگئی تو اس کی زندگی عذاب ہوجائے گی ۔(35)

‘‘ میری خواہش نہیں کہ تم مقدس کتابوں کےبدلے جو تمہاری دادیاں اور نانیاں پڑھتی آئی ہیں ، اس زمانے کی نامروجہ اور نا مبارک کتابوں کو پڑھنا اختیار کرو ۔’’ (36) انہوں نے حکومت کی اس تجویز کی بھی مخالفت کی جو لڑکیوں کے اسکول کھولنے کےسلسلے میں تھی یہاں تک کہ جب مولوی ممتاز علی نے خواتین کا اخبار نکالنا چاہا تو سرسید نے انہیں اس ارادے سےباز رکھنے کی کوشش کی ۔(37)

سرسید نے جس مقصد کے لئے علی گڑھ کھولا تھا اس کے وہی نتائج نکلے : جن مسلمانوں نےاعلیٰ مغربی تعلیم حاصل کی انہیں حکومت کے اعلیٰ عہدے ملے اور انہوں نے مغربی طرز معاشرت کو اختیار کیا اور اپنا رشتہ عوام سے کاٹ کر اپنے مفادات کو حکومت سےوابستہ کیا ۔ اس کے نیتجے میں نوکر شاہی کا طبقہ وجود میں آیا جس کاکام حکومت کی خوشامد اور چاپلوسی کےسوا کچھ نہ تھا ۔ مسلمانوں کا یہ تعلیم یافتہ طبقہ جب عوام سےعلیحدہ ہوکر حکومت کے ہاتھوں میں چلا گیا تو اس نے ترقی اور انقلاب کی راہوں کومسدور کردیا۔

ایک طرف تو مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کے نتائج پیدا ہورہے تھے تو دوسری جانب بنگال بمبئی اور پونا کے ہندو ،پارسی مرہٹے اور برہمن اعلیٰ تعلیم اور مغربی خیالات سےواقف ہونے کے بعد اپنے اپنے علاقوں میں زبردست تبدیلیاں لارہےتھے مغربی علوم نےان میں قومیت کا شدید احساس پیدا کردیا تھا اور وہ انگریزی سامراجیت اور اس کے استحصال نظام سےبخوبی واقف ہورہے تھے ۔ جمہوری اقدار اور آزادی رائے کے تصور نےان میں سیاسی شعور پیدا کردیا تھا اور وہ اس بات کی کوشش کررہےتھے کہ تمام ہندوستان کو متحد کرکے غیر ملکی سامراج سےاپنے حقوق کی جنگ کریں ۔

سرسید نےتعلیم کے ان نتائج پر پریشانی کا اظہار کیا، انہیں ڈر تھا کہ اگر یہ خیالات مسلمان تعلیم یافتہ طبقے   میں سرایت کر جائیں گے تو ان کی مفاہمت کی پالیسی کمزور ہوکر دم توڑ دے گی ۔ اس لئے انہوں نے اس کی بڑی سختی سے مخالفت کی ۔(38) اور حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ اعلیٰ تعلیم کے مضراثرات نکل رہے ہیں اور تعلیم یافتہ طبقہ حکومت پر بے جا تنقید کررہا ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ اعلیٰ تعلیم کو اور محدود کردے تاکہ یہ جو مضر اثرات پیدا ہورہےہیں ختم ہوجائیں ۔(39)

سرسید تعلیم کو سیاست سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے اوراس بات پریقین رکھتے تھے کہ تعلیم یافتہ طبقے کو نہ تو سیاست میں حصہ لینا چاہئے اور نہ ہی حکومت کے خلاف کسی تحریک کا ساتھ دینا چاہئے ہندوؤں میں جو سیاسی بیداری ہوئی وہ اسے غلط تربیت کا نتیجہ قرار دیتے اور اس بات پرفخر کرتے تھے کہ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ طلبہ مضر اثرات سے دور رہے اورہر حالت میں انہوں نے حکومت سے اپنی وفاداری کو قائم و باقی رکھا ۔(40)

سیاست اور مفاہمت:

سیاست میں بھی سرسید مفاہمت کے حامی تھے اور ہر وہ تحریک جس سےحکومت کو بد گمانی ہو یا جو حکومت کےخلاف ہو وہ اس سے بیزار تھے وہ مسلمان جاگیردار طبقے کوحکومت کی ہر مخالفت اور ایجی ٹیشن سےدور رکھنا چاہتے تھے ان کے ذہن میں 1857ء کی یادیں پوری طرح سے موجود تھیں اور وہ زمانے کی تبدیلیوں کے باوجود ان تباہ کاریوں کو نہیں بھولے تھے ان کے نزدیک غدر نے مسلمانوں کی ترقی کو روک دیا تھا اور اسی کے بعد سے حکومت ان سے بدگمانی ہوئی اگریہ واقعہ پیش نہ آتا تو سینکڑوں مسلمان جو ان فوج میں کپتان ، کرنل اور جرنیل ہوتے اور اسلحہ ایکٹ کبھی وجود میں نہ آتا ۔(41)

ہندوستان میں جب آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں تو سرسید نے ان تمام تحریکوں کی پر زور مخالفت کی ‘‘بنگال نیشنل لیگ’’ نے جب ‘ستارہ مشرق’’ نامی رسالہ چھپوایا اور اس میں انگریزی حکومت کی نا انصافیوں کی طرف توجہ دلائی تو اس پر سرسید نے سخت اعتراض کیا کہ گورنمنٹ کے نظام کی اس طرح برائی کرنے سے جاہل اور نا عاقبت اندیش لوگوں پر اس کا برا اثر پڑے گا۔(42)

انہی وجوہات کی بنا پر انہوں نے کانگریس میں مخالفت کی اور مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس تحریک سے علیحدہ رہیں کیونکہ اس تحریک میں شامل ہونےسے ان سے حکومت بدگمان ہوجائے گی۔ کانگریس کی مخالفت میں انہوں نے 1888ء ‘’پیٹریاٹک ایسوسی ایشن ’’قائم کی جس کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی پارلیمنٹ اور انگلستان کے لوگوں کو اس بات سے مطلع کیا جاتا رہے کہ تمام ہندوستان کی قومیں خصوصیت سے جاگیردار اور والیان جاگیر ا ن کے ساتھ ہیں بنگال ، بہار، مدراس ، بمبئی ممالک متوسط اور اضلاح شمال مغرب اودھ ،پنجاب میں اسلامی انجمنوں نے کانگریس کے خلاف جلسے کئے اور ان کا ساتھ تعلق داراں اودھ مہاراجہ بنارس نظام حیدر آباد اور دیگر ریاستوں کے سربراہوں نے دیا ۔(43) حالی نے سرسید کی کانگریس مخالفت پر تبصرہ کرتےہوئے لکھا کہ : تقریباً کل تعلق داروں، جاگیراروں اور رئیسوں نے عام طور سے کہ ہندوؤں یا مسلمان ان کی رائے سےاتفاق ظاہر کیا۔(44)

سر سید نے کانگریس کے ان مطالبات کی بھی مخالفت کی جس سے ہندوستان کے نچلے طبقے کو فائدہ پہنچتا مثلاً کانگریس نے ایک مطالبہ یہ کیا کہ سول سروس کے امتحان انگلستان اور ہندوستان دونوں جگہوں میں ہوا کریں کیونکہ اگر امتحان صرف انگلستان میں ہونگے تو ہندوستانی ان میں شرکت نہیں کرسکیں گے اور اگر کسی نے کی بھی تو چند دولت مند اور امراء کےلڑکے جو سفر کے اخراجات برادشت کرسکیں گے سرسید نے اس مطالبے کے صرف اس لئے مخالفت کی کہ وہ اس کےحق میں تھے کہ صرف اعلیٰ ذات کےلڑکوں کو یہ مراعات ملنی چاہئیں کہ وہ اعلیٰ عہدو ں پر فائز ہوں اگر ادنیٰ درجہ کے لوگ ان عہدوں پر فائز ہوگئے تو ہندوستان کا نظام اس سے متاثر ہوگا اس لئے یہ امتحان صرف انگلستان میں ہوں تاکہ ہندوستان کا حکمران طبقہ یا تو انگریزوں پر مشتمل ہو یا دولت مند ہندوستانیوں پر ۔ انہیں ڈر تھا کہ بنگالی جو تعلیم میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں وہ تمام انتظامی عہدے لےجائیں گے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ :

‘‘ یہ امرآپ پر ظاہر ہے کہ ولایت میں ہر شخص اعلیٰ و ادنیٰ ڈیوک اور ارل یا کسی جنٹل مین و شریف کا بیٹا برابر ہے امتحان دےسکتا ہے اور جو یورپین ولایت سےکمپٹیشن کا امتحان دے کر آتے ہیں ادنیٰ خاندان کے بھی ہوتے ہیں اور اعلیٰ خاندان کے بھی ہوتےہیں آپ سے صاحبان یقین کرتے ہوں گے اور میں کہتا ہوں کہ یقین کرتے ہوں گے کہ جو ادنیٰ خاندان کے لوگ ہیں وہ ملک یا گورنمنٹ کےلئے مفید نہیں اعلیٰ خاندان والے رئیسوں کی عزت کرتےہیں اور انگلش قوم کی عزت اور برٹش گورنمنٹ کے انصاف کا نقش لوگوں کے دلوں پر بٹھا تے ہیں اور ملک و گورنمنٹ کےلئے مفید ہیں لیکن انگلستان سےجوآتے ہیں وہ ہمار ی آنکھوں سےاتنی دور ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ لارڈکے بیٹے ہیں یا ڈیوک یا ایک درزی کے ...... اور اس سبب سےیہ امر کہ ہم پر ایک ادنیٰ آدمی حکومت کرتا ہے ہماری آنکھوں سےچھپا رہتا ہے لیکن ہندوستان میں یہ نہیں ہے ہندوستان کی شریف قومیں ہندوستان کےادنیٰ درجے کے شخص کو جس کی جڑ بنیاد سے وہ واقف ہیں اپنی جان و مال پر وہ حاکم ہونا پسند نہیں کریں گے ۔(45)

اس موضوع پر مزید وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ ہندوستان میں کوئی ایک قوم نہیں رہتی بلکہ مختلف اقوام ہیں اس لئے ان میں تعصّبات اور اختلافات بھی ہیں او ریہ قومیں اعتبار لیاقت اور تعلیم ایک نہیں اس لئے :

‘‘ اگر یہ امتحان کا مقابلہ جاری ہو تو غورکرناچاہئے کہ ملک کا نتیجہ کیا ہوگا تمام قومیں نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اس ملک کے معزز راجہ اور بہادر راجپوت جن کو اپنے باپوں کی تلواریں یاد ہیں ایک بنگالی (کو) جو چھری دیکھ کر کرسی کے نیچے گر پڑے گا (چیرز) اپنےپر حاکم دیکھیں گے ؟...... کیا آپ کے نزدیک راجپوت اور پر جوش پٹھان جو پھانسی یا پولیس کی تلوار یا فوج کی سنگیں سےنہیں ڈرتے وہ ایک بنگالی  کے نیچے امن سے رہ سکے گے (چیرز) پس مقابلے کا امتحان ملک کی کسی خاص قوم کے لئے مضر ہے بلکہ امن کے لئے بھی مضر ہے ...... پس اگر کسی شخص شریف کو ‘رئیس کو’ اوسط درجہ کے آدمی کو ‘اچھے خاندان والوں کو ، جس کو خدانے عزت دی ہے اگر اس کو قبول کرے گا کہ بنگالیوں کی حکومت سہے ، جوتیاں کھائے ، تو بسم اللہ ....(46)

سرسیدنے نمائندہ حکومت کی بھی مخالفت کی ۔ کیونکہ جمہوری طرز حکومت میں ادنیٰ لوگ سیاست میں داخل ہوکر بااقتدار ہوجائیں گے اور امراء و شرفا ذلیل و خوار ہوجائیں گے لیجلسوں کو نسل کی ممبری اس لئے لیاقت پر نہیں بلکہ سماجی مرتبہ کی بناپر روسا ء کو دینی چاہئے ۔ اس موضوع پروہ کہتے ہیں کہ :

‘‘کیا ہمارے ملک کے رئیس اس کو پسند کریں گے کہ ادنیٰ قوم یا ادنیٰ درجہ کا آدمی خواہ سے نے بی ۔اے۔ کی ڈگری لی ہو یا ایم ۔ اے ۔ کی اور گو وہ لائق بھی ہو ان پر بیٹھ کر حکومت کرے ۔ ان کےمال ،جائیداد اور عزت پر حاکم ہو ؟.... گورنمنٹ کی ، کونسل کی کرسی نہایت معزز ہے گورنمنٹ مجبور ہے کے سوائے معزز کے کسی کو نہیں بٹھا سکتی اور وائسر ائے اس کو ‘‘مائی کلیگ ’’ یا ‘‘مائی آنر ایبل کلیگ’’ یعنی برادر یا معزز صاحب کہہ سکتا ہے’’ (47)

سر سید سیاست میں امراء اور روساء کی شرکت صرف اس حد تک ضروری سمجھتےتھے کہ جہاں تک حکومت کی مخالفت نہ ہو، بلکہ اس کے ذریعہ حکومت سےمفاہمت ہوسکے ۔

حوالہ جات:

(1) خطبات سرسید : حصہ اول۔ لاہور 1972ء ص 346

(2) مقالات سرسید : حصہ پنجم ۔ لاہور 1962 ص۔97

(3) الطاف حسین حالی : حیات جاوید ۔ لاہور 1946ء ص ۔62

(4) ایضاً : ص ۔64

(5) ایضاً : ص ۔ 232۔333

(6) خطبات سرسید : حصہ اول ۔ ص ۔ 224۔225

(7) مکتوبات سرسید : لاہور 1959ء۔ ص۔ 51

(8) مقالات سرسید : حصہ دوم ۔ لاہور 1961ء ص ۔51

(9) مقالات سرسید : حصہ نہم ۔ لاہور 1962 ء ۔ ص ۔ 19۔20

(10) حیات جاوید : ص۔166

(11) ایضاً : ص ۔ 199

(12) مکتوبات سرسید : ص 21

(13) حیات جاوید : ص ۔467

(14) ایضاً : ص ۔ 201

(15) ایضاً : ص ۔ 454

(16) ایضاً : ص ۔۔ 456

(17) مقالات سرسید : حصہ دہم ۔ لاہور 1962۔ ص ۔ 230

(18) مقالات سرسید : حصہ نہم ۔ ص ۔5

(19) حیات جاوید : ص۔192

(20) ایضاً : ص ۔ 466

(21) مقالات سرسید : حصہ ششم ۔ لاہور 1962ء ۔ ص ۔35۔37

(22) ایضاً : ص ۔ 44

(23) حیات جاوید : ص۔464

(24) مقالات سرسید : حصہ ششم ۔ ص۔ 48

(25) مولوی طفیل احمد منگلوری : مسلمانوں کا روشن مستقبل ۔ چوتھا ایڈیشن ۔ دہلی 1946 ص۔203

(26) خطبات سرسید : حصہ دوم ۔لاہور 1973ء ص ۔ 496

(27) مسلمانوں کا روشن مستقبل : ص ۔230

(28) ایضاً : ص ۔ 23

(29) خطبات سرسید : حصہ اول ۔ ص۔ 893

(30) مسلمانوں کا روشن مستقبل : ص ۔231۔232

(31)حیات جاوید : ص ۔ 453

(32) ایضاً : ص ۔ 453

(33) خطبات سرسید : حصہ دوم ۔ ص ۔ 138۔139

(34) مقامات سرسید : حصہ دہم ۔ ص ۔6

(35) مکتوبات سرسید : ص ۔381

(36) حیات جاوید : ص ۔696

(37) مکتوبات سرسید : ص 382

(38) مقالات سرسید : حصہ نہم ۔ ص ۔ 15۔18

(39) مقالات سرسید :حصہ پانزدہم ۔ لاہور 1962ء ص۔ 164

(40) مسلمانوں کا روشن مستقبل : ص 282

(41) حیات جاوید : ص ۔314

(42) ایضاً : ص ۔ 312

(43) ایضاً : ص ۔ 318۔319

(44) ایضاً : ص ۔ 318

(45)خطبات سرسید : حصہ دوم ۔ ص۔12۔13

(46) ایضاً : ص ۔ 14۔15

(47) ایضاً : ص ۔ 6

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sir-syed-and-reconciliation-policy--the-irony-of-history--سرسید-اور-مفاہمت-کی-پالیسی--المیہ-تاریخ/d/103727

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content