certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (16 Jun 2015 NewAgeIslam.Com)



Sufis Role in Indian History: The Irony of History ہندوستان کی تاریخ میں صوفیوں کا کردار: المیہ تاریخ

 

 

 

ڈاکٹر مبارک علی

ہندوستان کی تاریخ میں صوفیوں کا کردار

رومیلاتھا پر نے اپنے ایک مقالہ میں جس کا عنوان ہے ‘‘ ترک دنیا : ایک متبادل کلچر کی بنیاد’’ قدیم ہندوستان کے سنیاسیوں اور سادھوؤں کے بارے میں کہ جنہوں نے دنیا کو ترک کردیا تھا لکھا ہے کہ ‘‘دراصل یہ لوگ نہ تو اس دنیا کی نفی کررہے تھے کہ جس سے ان کاتعلق تھا اورنہ ہی وہ اسے انقلابی طور پر تبدیلی کرنے کا ارادہ رکھتے، بلکہ اس کے مقابلہ میں وہ ایک متبادل معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے ۔’’ یہ بات مسلمان صوفیوں پر بھی پوری طرح سے صادق آتی ہے کہ جو دنیا کوبدلنے ، اس کی نئے سرے سے تعمیر و تشکیل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہے تھے، بلکہ ایک طرف تو وہ قائم شدہ نظام سے سمجھوتہ کررہے تھے، اور دوسری طرف اس کے مقابلہ میں ایک ایسا نظام بنانا چاہتے تھے کہ جس میں ان کی اہمیت ہو۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف تو صوفیا دنیا ترک  کررہے تھے ، دوسری طرف اس ترک دنیا کی وجہ سے لوگوں میں یہ عقیدہ قائم ہوگیا تھا کہ اس کی وجہ سے ان میں ایسی مافوق الفطرت قوت آجاتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے دنیاوی معاملات و مسائل کو حل کرسکتے ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ ان کے پاس اپنے دنیاوی معاملات کی وجہ سے جاتے تھے اور خانقاہ و درگاہ اس طرح سے لوگوں کی زیارت کی جگہیں بن گئیں تھیں کہ جہاں جاکر وہ اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ تے تھے اور سکون حاصل کرتے تھے ۔ مثلاً ہندوستان میں جب کوک سالار سعود غازی کی درگاہ بطور زیارت جاتے ہیں تو یہ اشعار گاتے ہیں :

چلے غازی کی نگریا

اپنے زندگی بنانے، سوئی قسمت جگانے

سارے گناہ بخشوانے، جی کی بپتا سنانے

چلے غازی کی نگریا

صوفیوں نے اگر چہ ترک دنیا تو کی ، مگر انہوں نے جنگلوں او رپہاڑوں میں رہنے کے بجائے شہروں میں رہنا پسند کیا کہ جہاں ان کی خانقاہوں کی تعمیر میں حکمراں اور امراء نے حصہ لیا تاکہ اس خدمت کے بعد وہ بھی ثواب میں حصہ بٹاسکیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خانقاہ کے اخراجات کی بڑی رقم حکمرانوں اور امراء کی جانب سےآتی تھی ۔ اس طرح سے ایک طرف تو امداد لی جاتی تھی اور دوسری طرف اسے دنیاوی طاقت واقتدار سے علیحدہ کر کے ایک متبادل قوت بنا دیا تھا کہ جہاں صوفی کو تمام روحانی اور دنیاوی اختیارات پر کنٹرول تھا اور وہ لوگوں کی ضروریات پوری کرتا تھا ۔

بر صغیر ہندوستان میں سیاسی و سماجی اور معاشی حالات کے تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ صوفیاء کا کردار او رعمل بھی تبدیل ہوتا رہا ۔ مثلاً عہد سلاطین میں جب کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا اقتدار پوری طرح سے مستحکم نہ ہوا تھا اور ان کی جنگیں ہندو حکمرانوں سے جاری تھیں، تو اس عہد میں حکمرانوں اور اہل اقتدار کو صوفیوں کی دعاؤں اور سرپرستی کی ضرورت تھی تاکہ ان کی روحانی مددسے وہ دشمنوں کےساتھ جنگوں میں فتح یاب ہوسکیں اور ان کا قلمع قمع کرسکیں ۔ اگر چہ صوفیا ء سلاطین کے دربار میں تو نہیں جاتے تھے مگر ان میں اور حکمرانوں میں ایک طرح سے سمجھوتہ تھا ۔ کیونکہ سلاطین بحرانوں پر قابو پانے کے لیے ان سے رجوع کرتے تھے ۔ مثلاً قحط ، خشک سالی ،غیر ملکی حملہ ، اور بغاوتوں کی صورت میں ان کی دعاؤں کی ضرورت ہوتی تھی ۔ صوفیا کی روحانی طاقت کو وہ اپنی حفاظت کے لیے ضروری سمجھتے تھے ۔

عہد سلاطین کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ ان میں سے کسی شاہی خاندان نے ایک طویل عرصہ حکومت نہیں کی، او رنہ ہی انہوں نے کسی بڑی سلطنت یا امپائر کی بنیاد ڈالی ۔ اس لیے مسلسل شاہی خاندانوں کی تبدیلی ، خانہ جنگی ، سازش اور عدم سیاسی استحکام اس عہد کی خصوصیات تھیں ۔ لہٰذا  ان حالات میں صوفیاء کی خانقاہ کی اہمیت مسلمان معاشرہ میں بہت زیادہ بڑھ گئی کیونکہ یہ ایک مستقل ادارہ تھی ۔ مثلاً نظام الدین اولیاء اور ان کی خانقاہ کئی بادشاہوں کے آنےجانے اور خاندانوں کی تبدیلی کےباوجود اسی طرح قائم رہی ۔

جب ہندوستان میں 14 ویں اور 15 ویں صدیوں میں صوبائی حکمراں حکومتیں قائم ہوئیں تو اس کے نتیجہ میں صوفیاء ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں کہ جہاں جہاں سیاسی اقتدار قائم ہوا تھا ۔ وہاں پھیل گئے ۔ ا ن میں سے اکثر صوفیوں کو جب بطور مدد معاش جاگیریں ملیں، یا شہروں میں شاہی سر پرستی میسر نہیں آئی تو یہ قصباتی شہروں او رگاؤں میں آباد ہوگئے جہاں انہوں نے کسانوں کو اپنامرید بنا لیا اور ان میں اپنی عقیدت کو بیدار کردیا ۔

لیکن مغل دور حکومت میں صوفیاء کا کردار بدل گیا ۔ کیونکہ مغلوں نے ہندوستان کے بڑے حصوں کو فتح کر کے یہاں پر اپنی امپائر کی بنیاد رکھ ڈالی ، اور سیاسی طور پر وہ انتہائی طاقتور حکمران اور مطلق العنان بن گئے ۔ چونکہ ان کے پاس ذرائع کی کمی نہیں تھی کہ جن کی مدد سے وہ فتوحات بھی حاصل کررہے تھے اور انتظام سلطنت کو بھی سنبھالے ہوئے تھے ۔ اس لیے انہیں صوفیوں کی روحانی قوت کی اس قدر ضرورت نہیں تھی کہ جو سلاطین دہلی کو تھی ۔ اس لیے انہوں نے صوفیوں سے رجوع کیا تو اپنی خاص خاص خواہشات کی تکمیل کے لیے جیسے تخت کے لیے جانشین کی پیدائش ، یا بیماری سے صحت یاب ہونے کے لیے ۔ اس لیے جب انہیں حکمرانوں کی سرپرستی نہیں ملی تو وہ چھوٹے شہروں میں چلے گئے ۔ جہاں ان کی خانقاہیں قصباتی امراء اور عام لوگوں کے لیے زیارت گاہیں بن گئیں ۔

صوفیاء کو ایک بار پھر اس وقت اہمیت ملی کہ جب مغل شاہی خاندان کازوال ہوناشروع ہوا ۔ سیاسی طاقت کے ختم ہونے کی وجہ سے صوفیاء کی روحانی طاقت کی طرف لوگوں کامیلان ہونا شروع ہو گیا تاکہ وہ ان کی حفاظت کرسکیں ۔ جو کام سیاسی طاقت نہیں کرسکتی تھی اس کے لیے روحانی طاقت سے مدد لی گئی ۔

جب ہندوستان میں برطانوی راج قائم ہوگیا تو صوفیوں کی رہی سہی سرپرستی بھی ختم ہوگئی، اس لیے انہوں نے شہروں کی بجائے قصبوں او ر دیہاتوں میں اپنے اثر و رسوخ کو قائم کرنا شروع کردیا یہی وجہ تھی کہ برطانوی حکومت نے ان کے اثر و رسوخ کو اپنی حکومت کےلیے استعمال کیا اور انہیں لوگوں اور حکومت کے درمیان بطور رابطہ رکھ کر ان کی مراعات اور حیثیت کو برقرار رکھا ۔

آزادی کے بعد بھی صوفیاء ، مشائخ اور سجادہ نشینوں نے ربط کے اس سلسلہ کو جاری رکھا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام سیاسی نشیب و فراز کےباوجود چاہے آمرانہ دور حکومت ہو یا فوجی یا جمہوری ان سب میں صوفیاء نے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا ہے ۔ وہ آمرو ں کی بھی اسی طرح سے مدد کرتے رہے ہیں جیسے جمہوری حکومت میں ‘‘عوامی نمائندو ں کی ’’۔

لیکن معاشرے میں جو سیاسی و سماجی اور معاشی تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ ٹیکنالوجیکل اثرات سے جس طرح لوگوں کی زندگی بدل رہی ہے ان تمام وجوہات کی وجہ سے صوفیوں کی روایتی حیثیت کو خطرہ درپیش ہے ۔ مثلاً ان کی ابتداء علماء کے تشدد ، سختی اور تنگ نظری کی وجہ سے ہوئی تھی اور ان کے مقابلہ میں انہوں نے ماحول کو کھلا رکھنے کی کوشش کی تھی ۔ اب جمہوری سیاست میں مزاحمت کایہ کردار سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ کرتے ہیں جو زیادہ موثر ہوتے ہیں ۔

اسی طرح حکمرانوں اور لوگوں میں رابطے کےنئے سلسلے قائم ہوگئے ہیں ذرائع آمد رفت اور ذرائع ابلاغ عامہ کی وجہ سے لوگ اپنی شکایتیں اور مطالبات با آسانی متعلقہ محکموں تک پہنچا دیتے ہیں ۔ تیسری حیثیت صوفیاء کی علاج کرنے والوں کی تھی اس میں بھی اب نئی دواؤں کوایجاد اور علاج معالجہ کی سہولتوں کے بعد کمی آگئی ہے ۔ لوگوں میں اب یہ شعور آگیا ہے کہ بیماریوں کے علاج کے لیے پیروں کی بجائے ڈاکٹروں کے پاس جاناچاہئے ۔

URL: http://newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/the-irony-of-history--part-3--(المیہ-تاریخ-(-قسط-۔-3/d/103513

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content