certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (13 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Ulema after the Establishment of Pakistan علماء پاکستان کے بعد

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

علماء او راسلام کی ترقی کاعمل

پاکستان کی تحریک میں ممتاز اور بڑی جماعتیں جن میں جمعیت علما ء ہند ، جماعت اسلامی، اور مجلس احرار شامل ہیں، پاکستان کے نظریہ کی مخالف تھیں ، لیکن مسلم لیگ نے ان مذہبی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود ان مذہبی جذبات کو اپنے مقاصد کےلئے پوری طرح استعمال کیاکہ جو خلافت کی تحریک کے زمانہ میں مسلمانوں میں پیدا کردیئے گئے تھے لیکن مسلم لیگ کو بہر حال اس بات کا احساس تھاکہ اس کے رہنما روایتی مذہبی رہنما نہیں ہیں، اس لئے انہیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے علماء کی حمایت انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کے سیاسی فیصلوں کی مذہبی توثیق ہو سکے۔

جب مولانا شبیر احمد عثمانی نے مسلم لیگ کی حمایت کی تو 1945ءمیں علماء کی ایک علیحدہ جماعت جمعیت علماء اسلام کے نام سے تشکیل دی گئی ۔ اگرچہ اس میں مشہور علماء شامل نہیں تھے مگر اس کمی کے باوجود اس نے مسلم لیگ کےسیاسی مقصد کو پورا کیا۔

1946ء میں مسلم لیگ نے مشائخ کی ایک کمیٹی کو قائم کیا اس کےبارےمیں سلیم ۔ ایم ۔ قریشی نے اپنے مقالہ ‘‘پاکستان میں مذہب و سیاست’’ میں لکھا ہے کہ ‘‘نواب ممدوث’’ سر فیروز خاں نون ’ اور سردار شوکت حیات جیسے لوگ بھی کہ جو کسی طور سے مذہبی نہیں تھے۔ انہیں مذہبی خطابات دیئے گئے جیسے ممدوٹ شریف، دربار سرگودھا شریف وغیرہ تاکہ عام مسلمانوں کو یہ تاثر دیا جائے کہ ان کے حامیوں میں بڑے بڑے مشائخ بھی ہیں۔

اس طرح مسلم لیگ نے پاکستان بننے کے دوران علماء مشائخ اور مذہبی جذبات کو کامیابی سے استعمال کیا ، لیکن جب ملک تقسیم ہوگیا اور پاکستان بن گیا تو اس کے بعد اب علماء کی باری تھی کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ ملک میں شریعت کا نفاذ کیا جائے تاکہ وہ ایک اسلامی مملکت بن سکے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پاکستان کے قیام کے فوراً بعد یہ مطالبہ کیا کہ حکومت کےکلیدی اور اعلیٰ عہدے صرف مسلمانوں کو دیئے جائیں اور وہ لوگ بھی کہ جو محض برائے نام مسلمان ہیں انہیں یہ ذمہ داری نہیں سونپی جائے لہٰذا غیر مسلموں کو تو حکومتی عہدوں پر تقرر کرنے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے مسلم لیگ پر سخت تنقید کی اور اس پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان بننے کے بعد علماء کو ایک طرف کردیا اور اس کے بعد سے ان کی ہدایات و مشوروں پر عمل نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ علماء کی ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ یہ کمیٹی دستور بنانے کے عمل میں شریک ہو۔ چنانچہ علماء کی اس کمیٹی نے 1949 ء میں قرار داد مقاصد کے نام سے ایک دستاویز تشکیل دی جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ ‘‘پوری کائنات پر خدا کی حکمرانی ہے اور ریاست اپنی حاکمیت اور ہدایات کے لئے عوام کےمنتخب نمائندوں کی محتاج ہوگی ۔ اس طرح عوام کے نمائندوں سےاقتداراعلیٰ کاحق چھین لیا گیا’’۔

کمیٹی نے صدارتی نظام حکومت کی سفارش کی اور صدر کےعہدےکے لئے ، یہ لازمی قرار دیا کہ وہ مرد ہو اور مسلمان ہو، عورتوں کو صدر بننے کے حق سے محروم کر دیا گیا بلکہ ان پر یہ بھی پابندی لگادی کہ وہ مجلس قانون ساز کےلئے انتخاب میں بھی حصہ نہیں لے سکتی ہیں اور اگر کوئی حصہ لے تو اس کےلئے ضروری ہے کہ اس کی عمر 50 سال کی ہو اور با پردہ خاتون ہو۔

اس طرح علماء نے دستور بنانے میں جو حصہ لیا، اس کانتیجہ یہ نکلا کہ 1957ء ، 1962ء اور 1973ء کےدستوروں میں جو دفعات رکھی گئیں ان میں خصوصیت سے تین دفعات قابل ذکر ہیں کہ پاکستان کا نام اسلام ریپبلک آف پاکستان ہو گا۔ ( جب ایوب خان نے اس کو اپنے بنائے ہوئے دستور سے حذف کردیا تو اس پر سخت احتجاج ہوا او راسے یہ دفعہ دستور میں رکھنا پڑی) ۔ ملک کاسربراہ مسلمان ہوگا اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔

ایوب خان نے اس بات کی ضرور کوشش کی کہ معاشرہ میں سیکولر قوانین کو نافذ کیا جائے جن میں عائلی قوانین بھی شامل تھے، جو 1961ء میں پاس ہوئے او رعلماء کی مخالفت کے باوجود انہیں برقرار رکھا گیا مگر علماء نے اور دوسری چیزوں میں اپنی اتھارٹی کو قائم کیا۔ جس میں خاص طور سے رویت ہلال کمیٹی تھی کہ جو عید کے چاند کے بارے میں فیصلہ کرتی تھی، اس کےعلاوہ انہوں نے ایوب کے زمانہ میں پروفیسر فضل الرحمان کے خلاف مہم چلا کر انہیں سرکاری عہدے سے بر طرف کرایا اور اس طرح آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے اثر و طاقت کو معاشرہ میں محسوس کرایا۔

بھٹو نے اپنے دور حکومت میں ان علماء کےساتھ سمجھوتہ کیا اور ان کی خوشنودوں کےلئے اس نے وزارت مذہبی بہبود قائم کی اور ان کے دباؤ کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ، لیکن علماء کا عروج ضیاء الحق کے زمانہ میں ہوا۔

پاکستان کی مختصر تاریخ میں ہم علماء کا آہستہ آہستہ طاقتور ہونادیکھتےہیں، اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ سیکولرلیڈر شپ نے انہیں خوش کرنے کےلئے ان کے تھوڑے بہت مطالبے مان لئے تاکہ ان کی حمایت کو حاصل کیا جائے، لیکن ان کی یہی کمزوری علماء کے آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوئی اور اس کے نتیجہ میں جمہوری اور سیکولر ادارے برابر کمزور ہوتے چلے گئے اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ تمام سیاسی پارٹیاں خود کو مذہبی ثابت کرنے کےلئے علماء کے ہاتھوں کھلونا بن گئیں اور اب تمام سیاسی، و معاشی اور سماجی معاملات کو مذہب کے ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے، اور ہر ایک جماعت خود کو زیادہ مذہبی بنانے کےلئے علماء کےمشوروں پر عمل کررہی ہے۔

اس صورت حال کاعلماء نے خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی طاقت کو محسوس کرتے ہوئے اب انہوں نے خود اپنی سیاسی جماعتیں بنا لہیں ہیں تاکہ سیاسی لیڈروں کے محتاج نہیں رہیں اور خود اپنی جماعتوں کے ذریعہ حکومت میں شامل ہوں ۔

اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست کےبارےمیں علماء کے نظریات و افکار کا مطالعہ کیا جائے اور دیکھا جائے کہ وہ کس قسم کی ریاست کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں اور مختلف سیاسی امور پر ان کی کیا رائے ہے؟

اسلامی ریاست کا تصور

مثلاً پاکستان کے قیام کے فوراً بعد سیکولر لیڈر شپ او رعلماء کے درمیان اس بات پر کش مکش ہوئی کہ پاکستان کو کس قسم کی ریاست بنایا جائے کیا یہ ملک ایک سیکولر جمہوری ہوکہ جس میں ہر عقیدے و مذہب کے لوگوں کو برابر کےحقوق ملیں اور ان کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک نہ ہو اور یا اسے ایک اسلامی ریاست بنایا جائے کہ جس میں صرف مسلمانوں کو تمام حقوق ہوں، اور غیر مسلموں کو ثانوی شہری کا درجہ دیا جائے اگر چہ قائد اعظم نے بار بار مختلف اعلانات ،بیانات اور انٹرویوز میں اس بات کو صاف طور سے کہا تھا کہ پاکستان ایک سیکولر ملک ہوگا کہ جس میں ہر شہری کے برابر کے حقوق ہوں گے اور اس بات کو انہوں نے 11 اگست 1947ء میں قانون ساز اسمبلی میں کہا تھا ۔

مگرعلماء نے اس قسم کی ریاست کی ابتداء ہی سے سخت مخالفت کی اور اس بات کی جد و جہد کی کہ نئی ریاست کو اسلامی اورمذہبی بنایا جائے، کیونکہ پاکستان بنانے کے عمل میں مسلمانوں سےیہی وعدہ کیا تھا ، اور مسلمانوں نےاس ریاست کی تکمیل کے لئے قربانیاں دی تھیں، جسٹس منیر نے جو کمیشن قادیانی فسادات کےبعد بنایا تھا اور اس کے بعد اپنی جو رپورٹ تیا رکی تھی اس میں انہوں نے ان مسائل کو علماء سے انٹر ویو کے بعد دیا ہے، مثلاً مولانا امین احسن اصلاحی نےکہاکہ قائد اعظم کا ماڈرن ریاست کا تصور اس وقت متروک ہوگیا کہ جب علماء کی کمیٹی نے قرار داد مقاصد کامسودہ تیار کرلیا، لہٰذا اب اس کے بعد ریاست کو اسلامی نظریات پر تشکیل ہوناچاہئے ۔

لیکن پھر جب یہ سوال آیا کہ ایک اسلامی ریاست کو کن اصولوں پر بنانا چاہئے اور اس کی کون سی شکل ہونی چاہئے؟تو اس کے نتیجہ میں مختلف علماء کی رائے میں اختلاف ہی نہیں بلکہ بعض اوقات بالکل متضاد رویہ اختیار کیا گیا، مثلاً جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ مسلم دور حکومت میں وہ کون سا زمانہ تھا کہ جسے اسلامی کہاجائے؟ اور اسلامی معیار کےمطابق اسےآئیڈل قرار دیا جائے تو اس میں علماء نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا ۔ ان میں کچھ نے رسول اللہ کےعہد کو مثالی قرار دیا۔ کچھ نے اس میں وسعت دےکر خلفاء راشدین کےعہد کو بھی شامل کر لیا ،کچھ نے اس میں عمر بن العزیز کے دور حکومت کو بھی مثالی قرار دیا کچھ نے صلاح الدین ایوبی، محمود عزنوی ،محمد تغلق اور اورنگ زیب کو مثالی حکمراں کے طور پر پیش کیا۔

ان تمام علماء کے بیانات کے بعد جسٹس منیر نے جو خلاصہ تیار کیا اس کےمطابق ایک اسلامی ریاست میں جو خصوصیت ہونی چاہئیں ان کی تفصیل یہ ہے۔

 1۔ وہ تمام قوانین جو قرآن اور حدیث میں موجود ہیں انہیں دستور کا ایک حصہ بنا لینا چاہئے ۔

2۔ ہر وہ دفعہ کو جو قرآن و حدیث کے خلاف ہے اسے دستور سے ختم کردیا جائے ۔

3۔ بین الاقوامی قانون یا معاہدوں کی کوئی بھی دفع کہ جو قرآن و حدیث کےخلاف ہوگی، اس کی پابندی کرناپاکستان کےلئے ضروری نہیں ہوگا۔

اس ماڈل کو ذہن میں رکھتے ہوئے جسٹس منیر نے جو ریمارکس دیئے ہیں وہ یہ کہ اگر دستور سے عوام کی حاکمیت کو خارج کردیا جائے تو پھر اس صورت میں اس ملک کوجمہوری کہنا سراسر مذاق ہوگا۔ کیونکہ اگر قانون بنانے کےعمل سےعوام اور ان کے نمائندوں کو نکال دیا جائے اور یہ حق صرف علماء اور فقہا ء کو دے دیا جائے تو یہ جمہوری عمل کےخلاف قدم ہوگا اور یہ عمل معاشرہ کوجمہوری نہیں بنائے گا بلکہ علماء کی حاکمیت کو قائم کردے گا۔

علماء نے اسلامی ریاست کو جمہوری شکل دینے کےلئے اس بات کی کوشش کی کہ جدید اصطلاحات کا استعمال کیا جائے، مثلاً پارلیمنٹ یا اسمبلی کو شوریٰ کہا گیا امیر آج کل کا صدر بن گیا ارباب حل و عقد مشیر ہوگئے اور اجماع کو عوامی رائے کا نام دے دیا گیا یہ سب اس لئے کیا گیا تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ ان کی نظروں میں جو اسلامی ریاست کاخاکہ ہے اس کا جدید سیاسی روایات سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔

مذہبی اقلتیں

آج کل کے جدید قومی ریاست میں ایک قوم کی تشکیل زبان، تاریخ، اور جغرافیائی حدود میں رہنے پرہوتی ہے اوراس میں ہر شہری کو برابر کے حقوق ملتےہیں اور یہ اس کاحق ہوتا ہے کہ وہ ریاست او رمعاشرے کےامور میں مکمل طور پر حصہ لے ۔ اس کےساتھ مذہب کی بنیاد پرکوئی تعصب نہیں برتا جاتا ۔ اس چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے جسٹس منیر نے علماء سےاس سوال کو پوچھا کہ و ہ اسلامی ریاست میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے؟ اور ان کا سیاسی و سماجی طور پر معاشرہ میں کیا مقام ہوگا؟

علماء کی اکثریت اس پر متفق تھی کہ غیر مسلموں کےساتھ بطور ذمی سلوک کیا جائے گا، انہیں پاکستان کےشہری کی حیثیت سے مکمل اختیارات نہیں ہوں گے، اور نہ ہی انہیں اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔

ایک عالم مولانا ابوالحسنات نے اس سوال کےجواب میں کہا کہ :

‘‘ ان کی پوزیشن ذمیوں کی ہوگی ملک کے قانون بنانے میں ان کی رائے کو قطعی دخل نہیں ہوگا، نہ انہیں قانون کے نفاذ کا حق ہوگا او رنہ ہی اہم عہدوں پر ان کا تقرر ہو گا۔’’ جب مولانا حامد بدایونی سے قائد اعظم کی اس تقریر کےبارے میں سوال کیا گیا کہ جس میں انہوں نے ہندوؤں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کو پاکستان کا شہری قرار دیا تھا تو انہوں نے کہاکہ : ‘‘ وہ اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ تمام مذہبی جماعتیں چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، انہیں ان کی آبادی کےتناسب سے انتظامیہ اور ریاست کےامور میں حصہ دیا جائے لیکن غیر مسلموں کو فوج اور عدلیہ میں نہ لیا جائے ، نہ ان کا تقرر بطور وزیر کے کے ہو او رنہ ہی ایسے عہدوں پر کہ جن میں ریاست کی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں ’’۔

مولانا بدایونی کی دلیل کےمطابق پاکستان میں غیر مسلم رہنے والے اس لئے ذمی نہیں ہیں کہ یہ ملک فتح کے بعد حاصل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ معاہدے والے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کسی قسم کامعاہدہ بھی نہیں کیاگیا ہے لہٰذا یہ اسلامی ریاست کے شہری نہیں ہوسکتے ۔

اس کے بعد دوسرا سوال یہ تھاکہ اگر ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلم اس کے شہری نہیں ہوسکتے تو ان مسلمان اقلیتوں کے بارے میں کیا رائے ہے کہ جو غیر مسلمان ملک میں ہیں؟ اس سوال کےجواب میں مولانا عطا ء اللہ بخاری نے کہا کہ یہ نا ممکن ہے کہ ایک مسلمان غیر مسلمان ملک کا وفادار شہری ہوسکے ۔ جب اس پر یہ سوال پوچھا گیاکہ کیا ہندوستان کےمسلمانوں کےلئے یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ریاست کے وفادار رہیں؟ تو مولانا نے کہا ‘‘ہر گز نہیں’’۔

اس سوال پر کہ کیا آپ ہندوؤں کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اپنا دستور اپنے مذہب کےاصولوں پر بنائیں ، تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا کہ ‘‘یقیناً’ او ر مجھے اس بات پر قطعی اعتراض نہیں ہوگا کہ اگر منو کےشاستروں کےمطابق ان کی حکومت میں مسلمانوں کو شودر اور ملیچھ کے طور پر رکھا جائے اور انہیں حکومت کا حصہ دار بننے سے روکا جاے اور بطور شہری انہیں کوئی حقوق نہیں دیئے جائیں ۔’’

منیر کمیشن نے اس کے بعد ایک سوال اور پوچھا کہ ‘‘ہندوستان کے مسلمانوں پر ہندوستان و پاکستان کے درمیان جنگ کی صورت میں کیا فرض عائد ہوتاہے ؟ ’’ اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا عبدالحسنات نے کہا کہ ‘‘ ان کا فرض ہے کہ وہ ہمارا ساتھ دیں اور ہندوستان کےخلاف لڑیں’’۔ مولانا مودودی نے اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ ان کا جو فرض ہے وہ ظاہر ہے کہ وہ نہ تو پاکستان کے خلاف لڑیں نہ کوئی ایسا کام کریں کہ جس سے پاکستان کے تحفظ کو نقصان پہنچتا ہو۔

اگر علماء کی مذہبی اقلیتوں کےبارے میں اس پالیسی پر عمل کیا جائے تو اس صورت میں نہ غیر مسلموں کو پاکستان میں کوئی حقوق ملیں گے او رنہ ہی مسلمانوں کو غیر مسلم ریاستوں میں اور دونوں صورتوں میں اقلیتوں کامذہبی بنیادوں پر استحصال ہو گا، اور انہیں بطور غدار اور غیر وفادار شہری کےسمجھا جائے گا ۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ علماء اور ہندو فرقہ پرست جماعتوں کی رائے اس بارے میں ایک ہی ہے۔ دونوں انسانی مسائل سے علیحدہ ہٹ کر صرف بنیادوں پر اس مسئلہ کو جانچتے اور پرکھتے ہیں۔

پاکستان میں اس پالیسی پر عمل کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی مذہبی اقلیتوں کو قوم کی تشکیل سے علیحدہ کردیا، او ران کی صلاحیتوں سےمعاشرہ نے فائدہ نہیں اٹھایا شہری حقوق سے محروم ہونے کی وجہ سے ان میں جو احساس محرومی پیدا ہوا اس نے انہیں اور زیادہ پس ماندہ بنا دیا ۔ ہمارے علماء موجودہ مذہبی اقلیتوں کی تعداد سے مطمئن نہیں تھے اس لئے انہوں نے اور اقلیتوں کو پیداکرنا شروع کیا اس کی ابتداء جب ہوئی جب احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر انہیں اقلیت بنا دیا اس کے بعد ذکریوں کانمبر ہے جنہیں غیر مسلم قرار دینے پر زور دیا جارہا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارے ہاں خاصی تعداد میں مسلم اقلیتوں کی ہوجائے گی۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content