certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (22 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)



Ulema and Bureaucrats (علما ء اور دفتری (بیورو کریٹس

 

 

 

 

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

علما ء اور دفتری (بیورو کریٹس)

اسلامی تاریخ کے اولین دور میں’ مذہبی لوگوں کا ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جوکہ خانہ جنگیوں او رمسلمانوں کےقتل عام سےانتہائی بد دل تھا۔ او راس لئے یہ سمجھتا تھا کہ ان حالات میں سیاست میں حصہ لینا اور کسی ایک جماعت کاساتھ دینا اس کے مترادف ہے کہ مسلمانوں کو تباہ و برباد کیا جائے’ان کے اتحاد کو توڑا جائے اور ان کی طاقت کو کمزور کیا جائے مگر اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے ذہن میں یہ بھی تھا کہ وہ حالات کے سامنے کمزور ہیں اور ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ ان کا رخ موڑ سکیں یا تبدیلی لا سکیں۔ اس لئے اس گروہ میں سیاست کےخلاف نفرت کے جذبات پیدا ہوئے اور انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ دنیاوی معاملات کو ترک کر کے مذہب میں سہارا لیا جائے اور مذہبی تعلیمات کو حاصل کرکے اس بات کی کوشش کی جائے کہ لوگوں کی اخلاقی اور روحانی زندگی سدھر سکے۔

اس صورت حال میں مذہبی لوگوں یا علماء کا یہ گروہ سیاست سے بالکل کنارہ کش ہوگیا اور پورے امیہ دور حکومت میں اس بات کی کوشش کی کہ حکومت سے دور رہ کر مذہبی تعلیمات کے حصول میں خود کو وقف کردیا جائے۔ ان میں اور امیہ خاندان میں اس وجہ سے بھی تصادم نہیں ہوا کہ انہوں نے اپنی حکومت میں عربی روایات و اقدار کو باقی رکھا اور ان کا تحفظ کیا اور ایک طرح انہوں نے مطلق العنانیت کو اختیار نہیں کیا بلکہ عربی قبائلی روح کو برقرار رکھا۔ اس وجہ سے ان کے دور حکومت میں عربوں کا غیر عربوں پر تسلط قائم رہا اور انہیں جو مراعات ملیں ان کی وجہ سے وہ حکومت کے خلاف نہیں ہوئے۔

لیکن یہ صورت حال اس وقت تبدیل ہوئی جب کہ امیہ خاندان کے خلاف عباسیوں نے تحریک چلائی اور جو بالاخر 749ء میں کامیاب ہوئی۔ جس کے نتیجہ میں امیہ خاندان کا تختہ الٹ دیا گیا اور ان کی جگہ عباسی خاندان نے اپنی حکومت قائم کرلی۔ چونکہ عباسی انقلاب ایرانیوں کی وجہ سے کامیاب ہوا تھا اس لئے نئی حکومت میں ایرانیوں کا تسلط بڑھ گیا اور خلیفہ کے دربار میں تمام اعلیٰ عہدے ایرانیوں کو مل گئے۔

یہ اسلامی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا کیونکہ اس میں ایرانیوں اور عربوں کا باہمی ملاپ ہوا۔ مگر چونکہ عربوں کو اپنے سیاسی اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے اور ساتھ ہی میں ان کا سماجی اور ثقافتی تسلط بھی ٹوٹا اس سے ان میں ایرانی اثرات کے خلاف زبردست جذبات پیدا ہوئے۔

اس لئے اس مرحلہ پر عربوں نے علماء کے ذریعہ اس بات کی کوشش کی کہ ایرانی دفتری اور نوکر شاہی سے نجات حاصل کی جائے جو کہ خلیفہ کے دربار میں مکمل طور پر تسلط حاصل کر چکے تھے ۔ اس تصادم نے علماء کے اس طبقہ کو جواب تک سیاست سے دور مذہبی تعلیمات کے حصول میں مصروف تھا۔ اسے دوبارہ سے سیاسی طور پر باعمل کر دیا۔ علماء نےاپنے اثر و رسوخ اور طاقت کو قائم کرنے کےلئے اس بات کی کوشش کی کہ خلیفہ کو شریعت کے ماتحت کردیا جائے کیونکہ ایک مرتبہ جب شریعت کی بالادستی قائم ہوجائے گی ۔ تو اس صورت میں اس کی تشریح اور تاویل کرنے کےلئے ان ہی کی ضرورت ہوگی، اور اس طرح خلیفہ اس بات پر مجبور ہوگا کہ تمام معاملات میں ان سے مشورہ کرے۔

دوسری طرف ایران کے دفتری یا نوکر شاہی سے تعلق رکھنے والا گروہ تھا کہ جنہیں عباسی انقلاب کے نتیجہ میں انتظامیہ اور سیاست میں بالادستی حاصل ہوگئی تھی، اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اسے برقرار رکھنے کے لئے قدیم ایرانی سلطنت کے ڈھانچہ کو دوبارہ سے قائم کیا جائے اور ساتھ ہی میں ساسانی دور کی درباری رسومات اور روایات کو واپس لایا جائے کہ جس میں ایک مطلق العنان بادشاہ ایک طاقتور انتظامیہ کی مدد سے حکومت کرتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کےلئے لازم و ملزوم ہوتے ہیں۔ ان کے اس ڈھانچہ میں علماء اور شریعت کی بالادستی شامل نہیں تھی بلکہ علماء بھی ایران کے زد تشتی مذہب کے موبدوں کی طرح ریاست کے ماتحت تھے اور بادشاہ کا کہا ہوا ہر لفظ قانون کی حیثیت رکھتا تھا۔

بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال نے ایران کے دفتری یا نوکر شاہی کے ہاتھوں کو مضبوط کیاکیونکہ جب فتوحات کے ذریعہ عباسی سلطنت میں توسیع ہوئی اور اس میں نئے علاقے اور مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہوئے تو اس کے نتیجہ میں بہت سے انتظامی مسائل کے ساتھ نئے سماجی اور ثقافتی مسئلے بھی پیدا ہوئے جن کی وجہ سے اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ خلیفہ اپنے لامحدود اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے انہیں حل کرے’ ان کے حل میں خلیفہ نے سب سے پہلے اپنے ذاتی اور خاندان کے لوگوں کی حمایت کی اس میں دفتری لوگ تھے علماء نہیں ۔

اسی وجہ سے اس تصادم میں علماء کی یہ کوشش کہ وہ خلیفہ کی سیاسی طاقت کو محدود کرکے اسے شریعت کے ماتحت کردیں’ ناکام ہوگئی اور اس کے برعکس ایران کے دفتری لوگوں نے خلیفہ کو ایران بادشاہت کےڈھانچہ میں ڈھال دیااور جن علماء نے ان کے راستہ میں حائل ہونے کی کوشش کی’ انہیں سخت سزا دی گئیں ۔جن میں سے ایک مثال حنبل (وفات 855) کی ہے کہ جنہوں نے خلق قرآن کے نظریہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا’ اور خلیفہ کی جانب سے دی جانے والی ہر سزا کو برداشت کیا لیکن یہ انفرادی مثالیں ہیں۔ علماء کی اکثریت نے حالات کے تحت خلیفہ کی مطلق العنانیت کو تسلیم کرلیا، اور خود کو اس کی ماتحتی میں دے کر اس کے ہر عمل کو جائز قرار دینے کےلئے فتویٰ دینا شروع کردیا۔

یہاں پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر علماء کو کیوں اس تصادم میں شکست ہوئی او رکیوں ایرانی نوکر شاہی ان کے مقابلہ میں کامیاب ہوئی اور کیوں شریعت پر سیاسی تقاضے غالب آئے ؟اس کا جواب یہ ہے کہ علماء کے پاس کسی قسم کی سیاسی طاقت نہیں تھی ۔ان کے پاس صرف مذہبی علم تھاکہ جس کی بنیاد پر وہ اپنے مخالفین سے متصادم تھے ’ جب کہ اس کے مقابلہ میں ایرانی نوکر شاہی کے پاس سیاسی طاقت تھی او ربدلتے ہوئے حالات میں اس بات کی ضرورت تھی کہ خلیفہ زیادہ سے زیادہ طاقتور ہو۔ اس کے علاوہ جہاں تک عوام کا تعلق ہے اس کا اس تصادم سےکوئی واسطہ نہیں تھا اور علماء ان کی حمایت حاصل کرنے میں اس لئے ناکام ہوگئے کہ اس وقت سیاسی استحکام کی وجہ سے انہیں امن و امان اور خوش حالی میسر تھی اور اس میں انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی کہ کون سی جماعت کیا حاصل کرناچاہتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بدلتے ہوئے حالات میں علماء کے پاس اتنا علم نہیں تھا کہ وہ سماجی ، معاشی مسائل کا حل پیش کرسکیں ، اور ایسا حل جو معاشرے کے مختلف طبقات کےلئے قابل قبول بھی ہو۔

اس طرح سے علماء کی شکست کے بعد سیاست اورمذہب علیحدہ علیحدہ ہوگئے اور علماء اپنی ناکامی کے بعد دوبارہ سے مذہبی تعلیم کے حصول میں مصروف ہوگئے اور انہوں نے اپنی توجہ اس بات پر مبذول کردی کہ لوگوں کی روحانی زندگی کو کیسے بہتر بنایا جائے ؟

اس کے نتیجہ میں اسلامی معاشرے میں دو قسم کے رجحانات پیدا ہوئے۔ اول ریاست کی سرپرستی میں ایسے سیاسی ادارے اور ہمہ گیر ثقافتی روایات پیدا ہوئیں کہ جنہوں نے معاشرہ میں رواداری کو پیدا کیا اور غیر مسلموں کومعاشرہ کا ایک حصہ بناکر انہیں اس بات کا موقع دیا کہ وہ اس کی تعمیر اور ترقی میں بھر پور حصہ لیں، اس کی ایک مثال عباسیوں کے قائم کردہ دارالحکومت میں ہے کہ جس میں عیسائی اور یہودی علماء شامل تھے جنہوں نے یونانی علوم کے عربی میں ترجمے کئے۔

دوسرا مثبت فائدہ یہ ہوا کہ عربوں نے غیر عرب ثقافت کو اختیار کر کے ذہن کو کشادہ کیا جس کی وجہ سے یہ عباسی دور میں علم و ادب میں زبردست ترقی ہوئی۔

اس کے مقابلہ میں علماء نے معاشرہ میں تنگ نظری کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ہر نئی چیز کی مخالفت کی اور اسلام کی پاکیزگی کو اس میں سمجھا کر اس میں صرف عربی ثقافت باقی رہے اور دوسرے عناصر سے اسے پاک کردیا جائے۔

اگرچہ علماء کو اس مرحلہ پرشکست ہوگئی مگر دیکھا جائے تو یہ ترقی پسند اور رجعت ۔۔۔۔۔۔

 

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content