certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (25 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)



Ulema and Madrasa علماء اور مدرسہ

 

 

 

 

 

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

مدرسہ کے قیام سےپہلے، مذہبی تعلیم یا تو استاد کے گھر پردی جاتی تھی اور یا پھر مسجد میں ’کہ جہاں بیک وقت کئی استاد اپنے حلقے بناکر طالب علموں کو پڑھایا کرتے تھے۔ یہ تعلیم عام طور پر نجی ہوتی تھی اور ریاست بہت کم ان کی مالی امداد کیاکرتی تھی ۔ اگر کوئی علماء ’ استادوں’ او رمذہبی تعلیم کےلئے چندہ دے اور ان کی مالی اعانت کرے تو اسے نیک کام سمجھا جاتا تھا ۔ اس وجہ سے اکثر جلد ہی تعلیم کا خرچہ گاہے بگاہے مخیر حضرات کی مدد سے چلا کرتا تھا۔ جن میں تاجر امراء ’ حکومت کے اعلیٰ عہدے دار شامل ہواکرتے تھے۔

جب عباسی خلافت کی کمزوری کی وجہ سے ’ خلافت کے صوبوں میں آزاد حکومتیں قائم ہونا شروع ہوئیں تو ان کو ایسے تربیت یافتہ علماء کی ضرورت تھی کہ جو قاضی ’ مفتی’ اور صدر کے عہدوں کےئے مناسب ہوں ۔ چنانچہ اس ضرورت کو پورا کرنے کی غرض سے مدرسہ کی ضرورت پڑی تاکہ ایک ایسا ادارہ ہوکہ جہاں باقاعدہ تعلیم و تربیت کے بعد علماء کو تیار کیا جاسکے۔ کہاں جاتاہے کہ پہلا مدرسہ خزاساں میں قائم ہوا’ اور اس کے بعد اس کی تقلید کرتے ہوئے اسلامی دنیا کے مختلف حصوں میں مدرسے قائم ہونا شروع ہوگئے۔

چونکہ ایک مدرسہ کےلئے ضروری تھاکہ اس کی ایک عمارت ہونی چاہئے کہ جس میں استادوں و طالب علموں کےلئے کتب خانہ ہو اس میں باقاعدہ تنخواہ دار استاتذہ ملازم ہوں اور طالب علموں کی رہائش کےلئے ہاسٹل ہو، اس لئے ایک ایسا ادارہ چند وں کےسہارے نہیں چل سکتا تھا ۔ اس کے لئے باقاعدہ آمدنی کی ضرورت تھی ۔ اس لئے ان مدرسوں کو ریاست نے مالی امداد فراہم کی اور اس طرح ریاست نے نہ صرف مدرسوں پر اپنا تسلط قائم کرلیا بلکہ مذہبی تعلیم کوبھی اپنے مفادات کےلئے استعمال کیا۔

ان مدرسوں کا پہلا مقصد تو یہ تھا کہ ایسے لوگوں کی تربیت کی جائے جو شریعت و فقہی امور میں مہارت رکھتے ہوں تاکہ یہ لوگ عدالتی عہدوں پر مقرر کئے جائیں۔ اس لئے بہت جلد ایسے مدرسے قائم ہونا شروع ہوگئے کہ جو چار سنی فقہی مذاہب میں طالب علموں کو تعلیم دیتے تھے اس کی وجہ سے مدرسہ ایک ایسا مرکز ہوگیا کہ جو معاشرے کی مذہبی ضروریات کو پورا کرتا تھا ’ اورمذہبی اقدار کا تحفظ کرتا تھا۔

سنی عالم اسلام کے مقابلہ میں مصر میں فاطمی خلافت ( 909 سے1171) نےمشہورالازھر کی بنیاد ڈالی جو کہ اگرچہ مسجد کا نام تھا مگر یہ ایک مدرسہ تھا کہ جس کا مقصد یہ تھا کہ یہاں ایسے مشنری علماء کی تربیت کی جائے کہ جو سنی عقائد کےخلاف تبلیغ کر کے لوگوں کو شیعی عقائد کی طرف مائل کرسکیں۔ فاطمی ریاست نےالازھر کی مکمل طور پر سرپرستی کی اور اس میں مشہور علماء کو بحیثیت استاد کےمقرر کیا اور ان کی اچھی تنخواہیں مقرر کیں تاکہ وہ اطمینان کےساتھ درس و تدریس میں مشغول رہ سکیں۔تقریباؑ دو سو سال تک الازھر شیعی عقائد کی تعلیم کے لئے مشہور رہاکہ جس کے تربیت یافتہ مبلغ علماء پوری اسلامی دنیا میں پھیل گئے او ربڑے موثر انداز میں انہوں نے اپنے عقائد کی تبلیغ کی ۔ ان مشنری علماء کی سرگرمیاں اس قدر خفیہ اور اس قدر اثر کرنے والی تھیں کہ اس سے سنی معاشرے پریشان ہوگئے، او رانہیں ان سے زبردست خطرے کا احساس ہوا۔

لہٰذا اس صورت حال سے نمٹنے کےلئے سلجوق خاندان کےمشہور وزیر نظام الملک (وفات ۔ 1092) نے مدرسوں کا ایک سلسلہ شروع کیا جو اس کے نام سے مدرسہ نظامیہ مشہور ہوا۔ یہ مدرسے بغداد’ نیشاپور’ ہرات ’ اصفہان ’ اورموصل میں قائم ہوئے ۔ بغداد کے مدرسہ کے پرنسپل مشہور مذہبی عالم عزالی (وفات۔1111) تھے ان مدرسوں کی مذہبی تعلیم میں حنفی و شافعی ، فقہی مسالک پر زور دیا جاتا تھا’ اور ساتھ میں انہیں اس مقصد کےلئے تربیت دی جاتی تھی کہ وہ شیعہ ’اسماعیلی ’ اور قرامطی تحریکوں کامقابلہ کرتے ہوئے ان کے عقائد کو رد کریں۔

اس مذہبی تصادم کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جانب سے علماء کو انتہائی اہمیت مل گئی اور انہیں سنی و شیعہ حکومتوں کی جانب سے نہ صرف مالی امداد ملنے لگی بلکہ ان کی سرپرستی حاصل ہوگئی ۔ اس کی وجہ سے معاشرے میں ان کا سماجی رتبہ بڑھ گیا اور ان کو بھی یہ احساس ہوگیا کہ ان کا تعلق اس گروہ سے ہے کہ جو صراط مستقیم پر ہیں۔ اس لئے یہ ان کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کریں اور حکمرانوں کے اعمال کی بھی جانچ پڑتال کریں تاکہ وہ مذہب سے رو گردانی نہیں کرسکیں ۔

لیکن مدرسہ کے دو نتائج نکلے ایک طرف تو اس نے علماء کو منظّم کیا ۔ انہیں تربیت دی تو دوسری طرف انہیں اس سےمنسلک کر کے اس کی ماتحت کردیا اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہوا کہ ان مدرسوں نے ایک بڑی تعداد میں فارغ التحصیل طالب علموں کو پیدا کرنا شروع کردیا’ جس کی وجہ سے ریاست میں جتنی مانگ تھی ۔یہ اس سے زیادہ بڑھ گئے اورجب انہیں کوئی کام کرنے کو نہیں رہا، تو غربت و بے روزگاری کےہاتھوں مجبور ہوکر انہوں نے مذہبی مسائل اور تنازعے پیداکرنا شروع کر دیئے اور فرقہ واریت کو خوب ہوا دی۔ چونکہ انہیں ریاست میں عہد ے نہیں ملے۔ اس لئے انہوں نے حکومت کی بھی مخالفت شروع کردی اور ساتھ ہی میں ان علماء کو بھی اپنی تنقید کانشانہ بنایا کہ جو ریاستی عہدے دار تھے۔ ان کی نظر میں یہ علماء مذہب کا کاروبار کررہے تھے، اور دینی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان سے روگردانی میں مصروف تھے ۔

اس لئے انہوں نے ان علماء کو علماء سو کہا اور خود کے لئے علماء حق کا لقب اختیار کیا ۔ مگر اس سارے مسئلہ نے ایک نئی صورت حال اختیار کرلی کیونکہ علما سو اور علماء حق کبھی بھی متفقہ فیصلہ نہیں ہوسکا اور ہر گروہ ایک دوسرے کو اس سے مخاطب کرتے رہے۔

اپنے مقدمہ کو مضبوط کرنے کی غرض سے علماء نے لوگوں کی طرف توجہ دی اور مذہبی معاملات پر ان کے جذبات کو ابھارنا شروع کردیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں فرقہ واریت کی بنیادیں پڑ گئیں اور مذہبی بنیادوں پر ایک دوسرے سے نفرت کی ابتداء ہوگئی ۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content