certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (20 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Ulema and Modernity علما ء اور جدیدیت

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

مسلمان معاشرہ میں اگرچہ علماء کا طبقہ اپنی خصوصیات اور کردار کی وجہ سے وجود میں آچکا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے لئے ایک ایسا ادارہ پیدا نہیں کرسکے جیسا کہ عیسائیت میں چرچ کا ہے۔

اس لئے وہ اس بات پر مجبور ہوئے کہ اپنے نظریات کے نفاذ کےلئے ریاست کی حمایت حاصل کریں، اس طرح سے وہ ریاستی ڈھانچہ کا ایک حصہ بن گئے اور حکمراں طبقوں کے مفادات کا تحفظ ان کےلئے ضروری ہوگیا۔ لہٰذا وہ ریاستی اقتدار کے قائم رکھنے کےلئے قائم شدہ روایات و اداروں کے حامی ہوگئے اور معاشرہ میں ہونے والی تبدیلیوں کی شدت سے مخالفت کی ۔ لہٰذا عربی لفظ بدعت جس کے معنی تبدیلی ک ہیں وہ منفی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔

اسلام کے ابتدائی دور میں جب کہ شام و عراق اور ایران فتح ہوئے تو نئے ہونے والے مسلمان اپنے ساتھ اپنی آبائی اور قدیم روایات کو ساتھ لے کر آئے، اس موقع پر بھی علماء نے اس بات کی شدت سے مخالفت کی کہ نئے ثقافتی اور سماجی قدروں کو اسلامی معاشرے میں ضم کیا جائے اور اس بات کی حمایت کی کہ عرب ثقافت کو جس کو وہ اسلامی کہتے تھے اس کی خالصیت کو برقرار رکھا جائے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تمام دانشور کہ جو روشن خیال اور لبرل نظریات رکھتے تھے انہیں زندیق یا مانی اور مزوک کے پیروکار کہہ کر یا تو قتل کردیا گیا یا ان کی زبان بندی کردی گئی انہیں میں سے ابن مقفع تھا جو کہ مجوسی سےمسلمان ہوا تھا اور جس کی عربی زبان پر اس قدر مہارت تھی کہ وہ اہل زبان کی غلطیاں نکالا کرتا تھا  علماء کے اس رویہ کی وجہ سے اسلام کےابتدائی دور ہی میں ذہنی طور پر مسلمان معاشرہ کو پھیلنے نہیں دیا گیا او راسے ایک دائرے میں محدود کردیا ۔

تبدیلی او رجدیدیت کی اس مخالفت کی وجہ سے علماء اور دانشوروں میں ایک ایسا تصادم شروع ہوا کہ جو پوری اسلامی تاریخ میں جاری رہا اور آج بھی جاری ہے۔چونکہ وہ حکومت کے انتظامیہ کا ایک حصہ تھے اس لئے انہوں نے افرادی شخصیات اور تحریکوں کو جو تبدیلی لانا چاہتی تھیں ہمیشہ کچل کر رکھ دیا ۔ مثلاً معتزلہ کی تحریک اس وقت محفوظ رہی جب تک کہ خلیفہ مامون نےاس کی حمایت کی مگر جیسے ہی یہ ریاست کی حمایت سےمحروم ہوئی علماء نے اس تحریک کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔

اسلامی معاشرہ میں چند روشن خیال اور روایات کے باغی مثلاً ابن سینا ابن رشد، اور رازی اس لئے بچ گئے کہ انہیں حکمرانوں کی یابا اثر افراد کی حمایت حاصل تھی ورنہ علماء تو ان کے خلاف فتویٰ دے چکے تھے ۔ ہندوستان میں وہی کچھ ابوالفضل او راس کے خاندان کے ساتھ ہوا کہ جن کی جانوں کے درپے علماء تھے اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ ان کے مذہبی نظریات ان سے مختلف تھے ۔ ان کی جان اس وجہ پالیسی کو ایران میں رضا شاہ اور افغانستان میں امیر حبیب اللہ نے شروع کرنے کی کوشش کی مگر ایک تو ان دونوں شخصیات میں مفاد پرستی تھی او رپھرعلماء کی مخالفت کےآگے یہ نہیں ٹھہر سکے او ران کی اصلاحات بہت جلد ختم ہوگئیں ۔

مغربیت

مسلمان ملکو ں میں جدیدیت کو مغرب سےمنسوب کردیا جاتا ہے او راس طرح اس کی مخالفت کی کئی وجوہات پیدا ہوجاتی ہیں کیونکہ اکثر مسلمان ممالک مغربی ملکوں کی نو آبادی رہے او راس دوران میں ان کامقامی کلچر اور روایات نو آبادیاتی عمل میں بری طرح متاثر ہوئیں، اس لئے مغرب کی جانب نو آبادیاتی عوام کا رویہ انتہائی مخالفانہ ہوگیا اور وہ اسے ہر لحاظ سے اپنا دشمن سمجھنے لگے ۔ لہٰذا آزادی کے بعد بھی ان ملکوں میں مغرب دشمنی کے جذبات عام رہے ان جذبات کو بھڑکانے او رہوا دینے میں حکمراں طبقوں کا بھی ہاتھ رہا کیونکہ اس طرح سے وہ جمہوریت ، لبرل ازم، اور ترقی پسند خیالات و نظریات کو روک کر آمرانہ طرز حکومت کو جائز قرار دیتے رہے۔

علماء نے بھی مغرب کی مخالفت میں اس لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کیونکہ اس عمل کے دوران ان کی سماجی او رمعاشی حیثیت متاثر ہوئی تھی اس لئے انہوں نے مغرب کی مخالفت میں ایک خاص نقطہ نظر کو اختیار کیا اور مغربی تہذیب و ثقافت او رمغربی نظریات کو بحیثیت اجنبی کے پیش کیا کہ جو مسلمان معاشرہ کی روایات کے خلاف ہے اس طرح انہوں نے جمہوریت ، لبرل ازم ، اور سیکولرازم کو اسلام کا دشمن بنا کر اس کے خلاف پروپیگنڈہ کیا اور اس کے رشتے الحاد سےملا دیئے ۔ اس کامقصد یہ تھا کہ لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھار کر مغرب کے ترقی پسندنظریات کوروک دیا جائے ۔ اس طرح سے مخالفت میں ان کے او رحکمراں طبقوں کے خیالات ایک جیسے ہوگئے اور اس سے آمرانہ حکومتوں کو مستحکم ہونے میں مدد مل گئی۔

اس کے علاو ہ علماء نے مغربی تہذیب کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان کے معاشرہ میں عورتوں او رمردوں کے درمیان کوئی تمیز باقی نہیں رہی اور جنسی میل ملاپ نےان میں فحاشی و عریانی کو فروغ دیا ایک مغربی عالم عبداسلام نے مغربی تہذیب پر تنقید کرتے ہوئے لکھاکہ ‘‘انہوں نے زناکاری ، الحاد ، فحاشی و عریانی ، عمل گرانا اور سود کا لینا، جائز وقانونی قرار دے دیا ہے ۔ ان کے ہاں ملحد اور ایمان والے میں کوئی تمیز باقی نہیں رہی ہے او رنہ ہی چرچ کے بنانے والے اور چکلہ بنانے والوں میں کوئی فرق ہے’’۔

یہ نقطہ نظر تمام علماء نے اختیار کر رکھا ہے اور مغربی تہذیب کے خلاف ان کا پروپیگنڈہ یہی ہے کہ وہ اخلاقی طور پر گمراہ ہیں ۔ اس سلسلہ میں وہ آزادانہ جنسی اختلاط کو سب سے زیادہ مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہی لوگ مغرب جاتے ہیں اور وہاں صفائی لوگوں کی ایمانداری اور ان کانظم و ضبط دیکھتے ہیں تو وہ اس کا کریڈٹ مغرب کو دینے کے بجائے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اہل مغرب ان اسلامی تعلیمات پر عمل کررہے ہیں جو کہ مسلمانوں نے چھوڑ دی ہیں۔

اس پروپیگنڈہ کا نتیجہ یہ ہے کہ مغرب زدہ ہونا یا آزاد خیال ہونا، ہمارے معاشرے میں منفی طور پر استعمال ہوتا ہے او راس کو حقارت سے استعمال اور جو لوگ مغرب زدہ ہوتےہیں انہیں معاشرہ سےعلیحدہ سمجھا جاتاہے اور ایک طرح سے وہ معاشرہ کے غدار ہوتے ہیں کہ جنہوں نے اپنی ثقافت و روایات کو چھوڑ کر اجنبی دشمن تہذیب کو اختیار کیا ۔ لہٰذا وہ عورتیں جو کہ اپنے حقوق کےلئے جنگ کررہی ہیں ان کی جنگ اپنی روایات و اقدار کےخلاف ہے کہ جنہوں نے انہیں غلام بنارکھا ہے لہٰذا یہ عورتیں ‘‘مغرب زدہ خواتین’’ کہلاتی ہیں اور اس طرح انہیں معاشرہ کا غدار سمجھ کر ان کے حقوق کی جد وجہد کو روکا جاتاہے کیونکہ وہ ان حقوق کا مطالبہ کررہی ہیں کہ جو ہماری ثقافت و روایات میں نہیں ہیں۔

یہی صورت حال جمہوری نظام حکومت اور روشن خیال نظریات کی ہے کہ جنہیں علماء مغربی کہہ کر رد کردیتے ہیں اور ان میں اور اسلام میں تضادات ڈھونڈتے ہیں علماء کانقطہ نظر یہ ہے کہ اگر ان نظریات کو اختیار کرلیا گیا تو اس کی وجہ سے ہماری شناخت ختم ہوجائے گی او رہم ایک ایسی ثقافت میں ضم ہوجائیں گے کہ جو ہمارے لئے اجنبی ہے۔

علماء او رمغربی ٹیکنالوجی

علماء مغربی تہذیب کی مخالفت نظریات و افکار کے تعلق سے تو کرتے ہیں لیکن جب مغربی ٹیکنالوجی اور اس کی ایجادات کا سوال آتا ہے تو وہ بھول جاتےہیں کہ یہ بھی اسی مغربی تہذیب کی پیداوار ہیں کہ جس کو وہ اپنا دشمن گردانتے ہیں چونکہ ان ایجادات کا تعلق انسانی سہولتوں ، آرام ، اور آسائشوں سے ہوتا ہے ا س لئے علماء کو ان کے اختیار کرنے پر اب کوئی اعتراض نہیں رہا ہے۔

اگرچہ ہمارے علماء کو یہ پتہ نہیں ہوتا ہے کہ ان سائنسی ایجادات کے پیچھے کون سے عوامل ہیں یا ان کی بناوٹ اور تکنیک کیا ہے؟ مگر یہ ایجادات ان کے لئے اس لئے سود مند ہوگئی ہیں کہ وہ ان کے ذریعہ اپنے خیالات و نظریات کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں ۔ مثلاً لاؤڈ اسپیکر کہ جسے ابتداء میں حرام قرار دے دیا گیا تھا اب وہی لاؤداسپیکر علماء کےلئے ایک ایسا آلہ ہے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے وعظوں کو پورے محلے میں زبردستی سناتے ہیں اس کے ذریعہ جو شور و غل پھیلتا ہے وہ اس لئے جائز ہے کہ وہ اسے مذہب کےلئے استعمال کرتےہیں اس لئے اس کےخلاف بولنے کی کوئی جرأت بھی نہیں کرسکتا ہے۔

کیسٹس اور ویڈیو دوسری مغربی ایجادات ہیں کہ جن کو مذہبی جماعتیں اور علماء استعمال کرتے ہیں اب ان کے ذریعہ ان کا پیغام ملک کے کونے کونے میں پہنچا یا جاتا ہے ۔ ان دونوں کا استعمال ایران میں شاہ کے خلاف ہوا اور خمینی کے وعظ او ران کے پیغامات کوان کے ذریعہ ایرانی عوام تک پہنچا یا گیا۔

یورپ میں سائنس او رٹیکنالوجی کے درمیان اور سماجی و ثقافتی و معاشی نظریات کے درمیان ایک رشتہ ہے اس لئے وہاں پر نئی ایجادات ان کی بڑھتی ،پھیلتی ضروریات او رتقاضوں کو پورا کرتی ہیں ایک ترقی یافتہ معاشرہ میں یہ ایجادات ترقی کی علامتیں بن جاتی ہیں لیکن ایک پسماندہ معاشرہ میں یہی ایجادات رجعت پرستوں کے ہاتھوں استعمال ہوکر معاشرہ کو اور زیادہ پسماندہ بنادیتی ہیں ۔

اس لئے علماء ایک طرف تو مغربی ایجادات کو اپنی سہولتوں آسائشوں اور پروپیگنڈے کے لئے استعمامل کرتے ہیں مگر دوسری طرف وہ ان نظریات و افکار اور سیاسی نظام کے مخالف ہیں کہ جنہوں نے مغرب کو نہ صرف سماجی و معاشی بلکہ سائنسی طور پر ترقی یافتہ بنایا اور اسی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ یہ ایجادات ہوسکیں ۔ اگر مغرب کامعاشرہ جمہوری سیکولر اور لبرل نہیں ہوتا تو سائنسی طور پر بھی وہ ان ایجادات کو رواج نہیں دے سکتا تھا کیونکہ چاہے وہ سائنسداں ہو یا مفکر تخلیقی کام کرنے کےلئے ضروری ہے کہ اس کو رواداری اور آزادی کا ماحول ملے ۔

ہمارے علماء کا خیال یہ ہے کہ مغربی نظام زندگی اور سائنس و ٹیکنالوجی دو مختلف چیزیں ہیں اس لئے ایک تو رد کردیا جائے اور دوسرے کو اختیار کر لیا جائے لیکن اگر صرف ٹیکنالوجی کو اختیار کیا اور ذہنی ترقی کی طرف توجہ نہیں دی تو یہ ہمارے معاشرہ کو مغرب کاغلام بنادے گی او رہماری اپنی صلاحتیں دب کر ختم ہوجائیں گی۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL for Twelve: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

URL for Thirteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-the-society--علما-ء-اور-معاشرہ/d/106013

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-modernity--علما-ء-اور-جدیدیت/d/106049

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content