certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (04 Feb 2016 NewAgeIslam.Com)



Ulema and Politics by Dr Mubarak Ali: Selection انتخاب

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

اسلامی معاشرے کی تاریخ میں ہمیں تین رجحانات ملتے ہیں : شریعت، طریقت، اور روشن خیالی ۔ علماء نے ابتداء ہی سے حکومت میں شمولیت کے ذریعہ یا حکومت سےباہر رہتے ہوئے اس بات کی کوشش کی کہ اسلامی معاشرے میں شریعت کا نفاذ ہونا چاہئے

۔ اس سلسلہ میں ان کا رویہ ہمیشہ سےمتشدد رہا اور انہو ں نے طاقت و جبر کے ذریعہ شریعی قوانین کا نفاذ چاہا ۔ چونکہ علماء کا ذہن ایک خاص فریم ورک میں تھا اس لئے وہ اس سے باہر نکلنے پر تیار نہیں تھے اور وقت کی تبدیلیوں ، نئے تقاضوں اور چیلنجوں سے واقف نہیں تھے اس وجہ سے حکمرانوں اور ان کے درمیان عملی طور پر اختلاف رہا ۔اس کی وجہ یہ تھی کہ حکمرا نوں کی ذمہ داریاں با لکل مختلف تھیں حکومت کو قائم رکھنے اور رعیت کی خوش حالی او رملک میں امن و امان قائم رکھنے کےلئے انہیں ایسے اقدامات لینے پڑتے تھے کہ جو شریعت کےخلاف ہوتے تھے ۔ اس لئے انہوں نے علماء کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرلیا تھا اور وہ یہ تھاکہ مذہبی معاملات میں انہیں اختیارات دے دئے تھے مگر سیاسی امور میں انہوں نے اپنی حاکمیت کوبرقرار رکھا، مثلاً علاء الدین نے باغیوں کو سخت سزائیں دیں اور جب اس کے دربار کے عالم قاضی معیث نے ان سزاؤں کو شریعت کے خلاف کہا تو اس نے اس سے اختلاف کیا، کیونکہ اس کےنقطہ نظر سے بغاوتوں کے خاتمہ کےلئے ان سزاؤں پرعمل ہونا ضروری تھا ۔

اس لئے بادشاہوں نے اپنی شان و شوکت اور دبدبہ کےلئے ایرانی نظریہ بادشاہت کو اختیار کرلیا، اور اس معاملہ میں شریعت کی کوئی پرواہ نہیں کیا، یہی صورت حال غیر حاکموں کےساتھ ان کے رویہ میں تھی حکومت کو چلانے کےلئے اگر انہیں اپنی غیر مسلم رعایا کی ضرورت ہوتی تو اسے انہوں نے اختیار کیا او رانہیں حکومت اور اقتدار میں شریک بھی کیا ۔ ہندوستان میں مسلمان حکمران اس لئے کامیابی سےحکومت کرسکے کہ انہوں نے علماء کی رہنمائی کے بجائے کلی طور پر حکمرانی کے طریقوں کو استعمال کیا اور اس لحاظ سےاپنی حکومت کو سیکولر بنیادوں پر استوار کیا اس لئے جن حکمرانوں نے اس سے انحراف کیا ان کے زمانہ میں ملک سیاسی بحرانوں کاشکار ہوا ۔ مثلاً فیروز شاہ تغلق اور اورنگ زیب نے جب جزیہ کو نافذ کیا تو اس نےمعاشرہ میں ہیجان اور انتشار پیداکیا اور اس کا نتیجہ سیاسی تباہی کی صورت میں ہوا۔

ہندوستان کے دو بڑے حکمرانوں میں جن میں علاء الدین اور اکبر کے نام قابل ذکر ہیں انہوں نے واضح طور پر شریعت کو مسترد کرکے اپنی پالیسی عملی تقاضوں کے تحت تشکیل دی اور یہی وجہ تھی کہ ان کے دور حکومت میں جو استحکام اور خوش حالی و امن و امان تھا وہ کسی اور زمانہ میں نہیں تھا انہوں نے خصوصیت سے علماء کے اثر و رسوخ کو بالکل ختم کردیا اور سلطنت کو خالص سیاسی بنیادوں پر چلایا۔ دوسرے حکمرانوں نے اس کے بجائے یہ راستہ اختیار کیا کہ ان سے مفاہمت رکھی مگر انہیں سیاسی معاملات میں دخل نہیں دینے دیا۔

مگر علماء ہندوستان کی تاریخ میں ہمیشہ انتشار کا باعث رہے ان کی یہ کوشش رہی کہ وہ مذہب کو سیاست پر غالب کردیں، اس لئے انہیں جب بھی موقع ملا انہوں نے حکومت کی تشکیل میں حصہ لیا ۔ چونکہ قرون وسطیٰ میں بادشاہ کی ذات ہی سب کچھ ہوتی تھی اس لئے یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر مذہبی خیالات کے حامل کو بادشاہ بنا دیا جائے تو وہ پورے معاشرے کو اسی طرح سے ڈھال لے گا۔اس لئے یہ علماء جب محمد تغلق اس کی اصلاحات اور اس کے مذہبی خیالات سے تنگ ہوئے تو انہوں نے اس کے خلاف بغاوتوں میں بھر پور حصہ لیا اور اس کی وفات کے بعد فیروز تغلق کو اس لئے بادشاہ بنانے میں مدد دی کہ وہ ان کی پالیسیوں کو نافذ کرے گا۔ لیکن چند بادشاہوں کے علماء کو حکومت و ریاست میں کبھی بھی غلبہ نہیں ہوسکا ، کیونکہ حکمرانوں کو حکومت چلانے کےلئے جس رواداری کی ضرورت تھی وہ علماء میں مفقود تھی ۔

یہ ضرور ہوا کہ علماء کی وجہ سے حکمرانوں کو اکثر پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، ایک اہم وجہ جس کی وجہ سے مذہبی فسادات اور فرقہ وارانہ فضا پیدا ہوتی تھی وہ علماء کا جذبہ تبلیغ تھا اور جب وہ اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کسی کو جبراً مسلمان بنا لیتے تو اس صورت میں ہندوؤں میں تناؤ بڑھ جاتا تھا ۔ مثلاً 1669ء میں سورت شہر میں قاضی نے اس بات کی کوشش کی کہ وہاں کے تاجروں کو مسلمان کرے۔ ان کے مندروں کو ڈھائے اس نے ایک ہندو منشی کی زبردستی ختنہ بھی کروا ڈالی ۔ اس کی وجہ سے سورت کے ہندو تاجروں او رعام ہندو آبادی میں زبردست ہراس پھیل گیا احتجاج کے طور پر تاجروں نے دکانیں بند کردیں اور سورت شہر چھوڑ کر دوسرے شہر چلے گئے اور ساتھ ہی میں اورنگ زیب کو خط کے ذریعہ تمام تفصیل لکھی ، اس پر بادشاہ نے قاضی کی سرزنش کی اور تاجروں کو یقین دلایا کہ ان پر زبردستی نہیں کی جائے گی۔

لوگوں کو جبراً مسلمان بنایا ، ہندو عورت کو بھگا کر اس سے شادی کرنا اور پھر اسے مسلمان بنانا ان کے نئے مندروں کو ڈھانا یہ وہ وجوہات تھیں جو مذہبی نفرت فرقہ واریت کو پیدا کرتی تھیں اور اس صورت حال میں سیاسی طور پر انتظامیہ کے لئے مشکلیں پیدا ہو جاتی تھیں کہ وہ کس طرح سے امن و امان کو بحال کریں اگرچہ اکثر معاملات میں انتظامیہ مذہبی جذبات سے دور رہ کر خالص سیاسی نقطہ نظر سے فیصلے کرتی تھی ۔ مگر کبھی کبھی مذہبی تعصّبات آجاتے تھے جو معاشرے میں مذہبی نفرتوں کو پیدا کرتے تھے ۔

اسی چیز کو ذہن میں رکھتے ہوئے مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان میں کبھی بھی تبلیغ کی سرکاری طور پر سرپرستی نہیں کی اور اس بات کی کوشش کی کہ ہندوؤں کے مذہبی معاملات میں بھی کوئی دخل نہیں دیا جائے ۔

اسلامی معاشرے میں علماء کے اس تشدد تنگ نظری اور جبر کےخلاف صوفیاء نے بغاوت کی جنہوں نے شریعت کے مقابلہ میں طریقت کو اختیار کیا کہ جس میں سختی و جبر کے بجائے رواداری اور قوت برداشت تھی ۔ مگر ایک لحاظ سے صوفیاء نے شریعت اور اس کے نظام سے بغاوت نہیں کی بلکہ اس نظام سےہٹ کر اور اسے تبدیل کئے بغیر ایک متبادل نظام قائم کیا کہ جو لوگوں کو اس تناؤ او رکھنچاؤ سےنجات دے کر انہیں پناہ گاہ فراہم کرتا تھا أ انہوں نے نہ تو سیاسی نظام سے ٹکر لی اور نہ شریعت کی سختی پر تنقید کی بلکہ ان سے علیحدہ ہوکر اپنی پناہ گاہیں تعمیر کرلیں کہ جو لوگوں کو وقتی طور پر سکون تو دے دیتی تھیں مگر یہ معاشرہ کی زندگی میں کوئی تبدیلی لانے میں ناکام رہیں ۔

چونکہ صوفیاء علماء کے نظام سےعلیحدہ ہوگئے تھے اس لئے انہیں اپنا حریف اور رقیب سمجھتے تھے اور ان کی عوامی مقبولیت کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے ۔ اس لئے جب بھی انہیں موقع ملتا تو یہ ان پر تنقید کرنے اور سزا دینے سے نہیں چوکتے تھے یہ ان کےطریقہ زندگی کو شریعت کے خلاف سمجھتے تھے اسی لئے انہوں نے صوفیاء پراعتراض کیا کہ وہ سماع کی محفلیں منعقد کرکے شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔لیکن یہ ان کےخلاف کوئی جارحانہ اقدامات اس لئے نہیں کرسکے کیونکہ ایک تو ان کے ساتھ یہ عقیدہ منسوب تھاکہ ان کے پاس روحانی قوت ہے اور جو ان کو نقصان پہنچائے گا وہ اس کی سزا پائے گا دوسرے ان کی عوام میں مقبولیت تھی اور اس لئے حکمراں و علماء ایسا کوئی قدم اٹھانے پر تیار نہیں تھے کہ جن سے ان کی مقبولیت کو نقصان پہنچے ۔

شریعت و طریقت کےساتھ تیسرا راستہ روشن خیالی رواداری اور عقلیت کا تھا اسلامی معاشرے میں ایسے دانشورو ں کی تعداد ہمیشہ سے کم رہی ہے جو ان نظریات کی تبلیغ کرتے اور ان میں بھی وہی لوگ کچھ کرسکے کہ جن کی سرپرستی کسی حکمراں نے کی اگر ابوالفضل کو اکبر نہیں ملتا تو یہ ناممکن تھاکہ وہ اپنے خیالات کا پرچار کرسکتا اکبر کے دربار میں ایسے دانشور اکٹھے ہوگئے تھے جو پھر کبھی کسی حکمراں کے دربار میں جمع ہوں سکے ۔ اور یہ اکبر کی صلح کل اور رواداری کی پالیسی تھی کہ جس نے مغل حکومت کومستحکم بنیادوں پر استوار کیا۔

موجودہ دور میں اسلامی ممالک اور خاص طور سے پاکستان جس صورت حال سے دو چار ہے اس میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ کے تجربات کے بعد وہ اپنا انتخاب کرے کہ کیا اسے علماء کے بتائے ہوئے راستہ پر چل کر پس ماندگی اور رجعت پرستی کی طرف جانا ہے یا موجودہ حالات کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے جمہوریت سیکولرازم اور صنعتی ترقی و روشن خیالی کو اختیار کرنا؟ پوری اسلامی تاریخ میں جب کبھی بھی حکومت پر علماء کا غلبہ ہوا اس کے نتیجہ میں معاشرہ کو نقصانات اٹھانا پڑےموجودہ دور میں اس کی واضح مثال سعودی عرب کی ہے کہ جہاں حکمراں اور وہابی علماء کا اقتدار ہے۔ شریعت کا نفاذ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی بے انتہا دولت کے باوجود اقوام عالم میں کوئی با عزت مقام پیدا نہیں کرسکے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ علماء کے متشدد رویہ اور تنگ نظری کی وجہ سے سعو دی معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے کہ جس میں کوئی ثقافت نہیں انہوں نے ادب ، شاعری، موسیقی، مصوری، رقص ، ادب و آداب کسی بھی کوئی تخلیقی کام سرانجام نہیں دیا ۔ ذہنی طور پر وہ ایک بنجر اور ویران معاشرہ ہے کہ جہاں نہ تو عورت کی کوئی عزت ہے نہ وقار اور نہ ہی جہاں انسانی حقوق کا کوئی پاس ہے۔ سعودی اور غیر سعودی کی تفریق نے اس معاشرہ کو جنوبی افریقہ سے زیادہ بدتر بنا دیا ہے ۔ تمام قانون ایک سعودی شہری کےساتھ ہیں اور غیر سعودی تمام مجرموں سے زیادہ بد تر ہیں اور جب سعودی امراء اس گھٹن سے فرار ہوکر یورپ اور ایشیا کےملکوں میں عیاشی کےلئے جاتےہیں تو وہ انتہائی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

اس طرح دوسرے اسلامی ملکوں میں اسلام کا استعمال محض سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کےلئے ہوتے ہیں جب سوڈان میں نمیری نے اپنی آمریت کو برقرار رکھنے کے تمام حیلے ختم کر چکا تھا تو اس نے اسلامی سزاؤں کے ذریعہ اپنی حکومت کی مدت وسیع کرنی چاہی اور اب وہی کچھ معمر قذافی لیبیا میں کررہا ہے اپنے جبر و تشدد کی ناکامی کے بعد وہ بھی اسلامی سزاؤں میں پناہ لے رہاہے تاکہ اس طرح اپنے مظالم کو اسلامی رنگ دیا جاسکے ۔

پاکستان میں بھٹو سےلے کر ضیاء الحق اور موجودہ حکمراں اپنے سیاسی مقاصد کےلئے اسلام کو استعمال کررہے ہیں اور اس طرح ملک کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے میں مصروف ہیں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک معاشی امور میں علماء کی رائے اور سیاسی مسائل میں ان کے مشورے ملک میں بحران پیدا کرچکے ہیں اس کے نتیجہ میں نہ تو پاکستانی قوم کا کوئی وجود عمل میں آسکا او رنہ ہی بحیثیت مسلمان کے مسلم امہ کی کوئی تشکیل ہوسکی ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک قوم کی تشکیل قومی ریاست کی بنیادوں پر ہو کہ جس میں بلا تفریق مذہب سےشریک ہوں، ملک کےسیاسی و معاشی مسائل زمانہ کی ضرورت اور تقاضوں کے مطابق ہوں ۔ ثقافتی سرگرمیوں کا فروغ ہوتا کہ معاشرہ سے تشدد بربریت او رکھنچاؤ ختم ہو جمہوری نظام اس طرح سے نافذ ہو کہ جس میں عوام کی طاقت ابھر کر آئے اور جاگیر داری تسلط و غلبہ کا خاتمہ ہو لوگ اپنے رہنما کا احتساب کرسکیں اور ان کی غلطیوں کی سرزنش کرسکیں ۔ یہ ایک یوٹوپیائی معاشرہ کا خاکہ نہیں بلکہ ایسا معاشرہ ہے کہ حقیقت میں بہت سےملکوں میں قائم ہے اور یہ ملک ہمارے لئے یہ ماڈل فراہم کررہے ہیں ،محض سوال ہمارے انتخاب کا ہے۔ کیا ہمیں اس قسم کامعاشرہ قائم کرنے کی کوئی خواہش ہے؟

کتابیات

عبدالقادر بدایونی : منتخب التواریخ ۔کلکتہ 1868ء

ابوالحسن الماوردی : الاحکام السطانیہ (اردو ترجمہ) نفیس اکیڈمی ، کراچی 1968ء

نظام الملک طوسی : سیاست نامہ ( اردو ترجمہ) نفیس اکیڈمی ،کراچی (؟)

مالک رام : (مرتب) خطبات ابوالکلام آزاد ۔ اردو بازار لاہور (؟)

Ahmad, Aziz (edited): Religion and Society in Pakistan.

Leiden 1971

Bashir, Ahmad: Akbar the Great. Lahore 1967.

Cantwell, c.w.s: The Ulama in the India Polotics. In:

C.H.Philops: Politics and Society in India. London 1963.

Haq, Mushir: Muslim Politics in Modern India. Meerut 1970.

Lapidus, Ira M: A History of Islamic Societies.

Cambridge 1991.

Metcalf, B.D: Islamic Revival in British India: Deoband 1860-1900 Prianceton 1982

Nanda, B.R: Gandhi: Pan-Islamism, Imperialism and Nationalism. Oxfrd 1989.

Report of the Court Inquiry (Muneer Report) Lahore 1954

Rizvi, S.A.A: Shah Abdul Aziz. Canberran 1982

Robinson, Francis: Separatism among Indian Muslims.

Cambridge 1979

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL for Twelve: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

URL for Thirteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-the-society--علما-ء-اور-معاشرہ/d/106013

URL for Fourteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-modernity--علما-ء-اور-جدیدیت/d/106049

URL for Fifteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-social-welfare--علماء-اور-سماجی-بہبود/d/106134

URL for Sixteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/muslim-ummah--مسلم-امہ/d/106194

URL: http://newageislam.com/books-and-documents/ulema-and-politics-by-dr-mubarak-ali--selection--انتخاب/d/106220

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content