certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (28 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Ulema and Social Welfare علماء اور سماجی بہبود

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

ایسٹ انڈیا کمپنی کےدور اقتدار میں ہندوستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے ہندوؤں او رمسلمانوں میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ اپنے اپنے مذہب کا دفاع کریں ۔ اس مقصد کےلئے دونوں مذاہب کےعالموں نےایک طرف تو مذہبی تنظیمیں بنائیں اور دوسری طرف مناظروں کےذریعے اپنے مذہب کی سچائی کو ثابت کرنے کا سلسلہ شرو ع کیا ۔ اگرچہ انہوں نے عیسائی مشنریوں سے یہ تو ضرور سیکھا کہ مذہب کی تبلیغ او راس کے دفاع کےلئے باقاعدہ منظّم ہوکر کام کیا جائے مگر مشنریوں کے جس پہلو کو انہوں نے نظر انداز کردیا وہ سماجی بہبود کےکام تھے ۔

مثلاً مشنریوں نے سماجی بہبود کے کام ایک تو اس لئےکئے کہ اس طرح سے وہ لوگوں سے رابطہ قائم کرکے ان کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سماجی بہبود کےکاموں میں تبلیغ کےساتھ ساتھ انسانی ہمدردیوں کابھی جذبہ شامل ہوا کرتاتھا ۔ انہوں نے خصوصیت سے تعلیم اور صحت کے سلسلہ میں جو کام کئے اس کا فائدہ غریبوں کو ہوا کیونکہ اب تک ان دونوں نعمتوں سے صرف امراء ہی فائدہ اٹھاتے تھے ۔

مشنریوں کے سماجی بہبود کے کاموں کی وجہ سے ہندوستان میں روایتی عوامی بہبود کا تصور بری طرح متاثر ہوا کیونکہ اب تک لوگوں کی مدد ان پر ترس کھاکر کی جاتی تھی اور انہیں جو کچھ بھی دیا جاتا تھا وہ خیرات و صدقے کی شکل میں ہوتا تھا اس لئے غریب لوگوں کو اپنی غربت اورمحتاجی کااحساس ہوتا تھا۔ معاشرہ میں ایسے اداروں کا وجود نہیں تھاکہ جو لوگوں کی خدمت کریں، اور جہاں فرد کی اہمیت نہ ہو بلکہ ادارے کی اہمیت ہو۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عیسائی مذہب کے مذہبی سربراہوں اور مبلغوں کی طرح ہمارے علماء نے سماجی بہبود کے کاموں کو کیوں اہمیت دی اور اپنی تمام توانائی کو مذہب کےدفاع اور تبلیغ میں صرف کیا؟ اس کی وجہ تو عیسائیت اور اسلام کی بنیاد میں ہے۔ عیسائیت رومی امپائر کے زیر سایہ پیدا ہوئی اور اس کو ماننے والے بھی اس دور میں غریب اورمظلوم لوگ تھے ۔ اس لئے ان کی بنیاد ہی میں مظلومیت کے احساسات ہیں ۔ اس کے برعکس اسلام فتوحات اور طاقت کےسایہ میں پروان چڑھا اور فاتحین نے لوگوں کو بزور تلوار مسلمان نہیں کیا بلکہ لوگ خود اس لئے مسلمان ہوئے کہ اس میں ان کا فائدہ تھا ۔ اس لئے تبلیغ کے سلسلہ میں دونوں کے رویہ میں فرق تھا : عیسائی غریبوں کی خدمت کرکے ان کو دل جیتنا چاہتے تھے اور مسلمان مبلغین اپنے مذہب کی سچائی ثابت کرکے لوگوں کو اپنی طرف راغب کرناچاہتے تھے ۔

اس لئے مسلمان علماء میں صرف دین کاعلم تھا اور اسی کو وہ بطور پیشہ اختیار کرنا چاہتے تھے جب کہ اس کےبرعکس مشنریوں میں ڈاکٹر ، انجینئر، سائنسداں اور مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے تھے جو اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں اور مذہب کویکجا کرکے لوگوں سےرابطہ کرتے تھے ۔ اگر چہ اس کی تقلید کرتے ہوئے اس بات کی کوشش ضرور کی گئی کہ علماء کو کوئی پیشہ سکھایا جائے مگر اس میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی مثلاً دیوبند کے ابتدائی دنوں میں وہاں طالب علموں کو مختلف پیشوں میں تربیت دینے کاسلسلہ شروع ہوا مگر طلبا نے اسے اپنی شان کے خلاف جانا اور اس میں دلچسپی نہیں لی جس کی وجہ سے یہ سلسلہ ترک کرنا پڑا۔

ہمارے علماء میں دین کے علم کے بعد ایک قسم کی رعونت آجاتی ہے او روہ لوگوں کو جاہل او رمذہب سے بیگانہ سمجھتے ہوئے ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں اس لئے ان کے او رلوگوں کے درمیان خلیج بڑھتی رہتی ہے اور ان کی ساری توجہ اس پرہوتی ہے کہ لوگوں کو دین کے راستہ پرکیسےلایا جائے اس مقصد کےلئے وہ قطعی اس راستہ کو اختیار نہیں کرتے کہ جو عیسائپی مشنریوں نے اختیار کیا ہے یعنی سماجی بہبود کے کاموں میں دلچسپی ۔

نو آبادیاتی دور سے علماء نے مذہب کے بعد سیاست میں دلچسپی لینا شروع کردی ، کیونکہ ان کا یہ خیال تھا کہ وہ شریعت کانفاذ اس وقت کرسکتے ہیں کہ جب ان کے پاس طاقت ہوگی ۔ اس لئے ابتداء میں تو انہوں نے سیاسی پارٹیوں میں شرکت کی مگر بعد میں اپنی سیاسی جماعتیں بھی بنائیں ۔ مذہب اور سیاست کے اس اتحاد میں انہوں نے سماجی بہبود کوبالکل نظر انداز کردیا۔

پاکستان بننے کے بعد بھی ان دینی اور سیاسی جماعتوں کی یہی پالیسی ہے کہ کس طرح سے اقتدار پرقبضہ کیا جائے ۔ اس مقصد کےحصول کےلئے وہ اسلام خطرے میں ہے نعرہ لگاکر لوگوں کے جذبات کو ابھارتے ہیں ۔ مگر انہوں نے سماجی بہبود کے ذریعہ او رلوگوں کی خدمت کر کے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اس کے پس منظر جو ذہنیت کام کررہی ہے وہ کہ علماء خود کو لیڈر او ررہنما سمجھتے ہیں، اس لئے وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی خدمت کرنی چاہئے ان کےلئے قربانی دینی چاہئے اور ان کی سرپرستی کرنی چاہئے کیونکہ رہنما خود کبھی لوگوں کی خدمت نہیں کرتے ۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL for Chapter Seven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

URL for Chapter Eight: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/akbar-and-ulema--اکبر-اور-علماء/d/105882

URL for Chapter Nine: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/auranzeb-and-ulema--اورنگ-زیب-اور-علماء/d/105909

URL for Chapter Ten: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/madrasa-and-curriculum--مدرسہ-اور-نصاب-تعلیم/d/105929

URL for Eleven: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/colonial-era-and-ulema--نو-آبادیاتی-دور-اور-علماء/d/105952

URL for Twelve: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-after-the-establishment-of-pakistan--علماء-پاکستان-کے-بعد/d/105965

URL for Thirteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-the-society--علما-ء-اور-معاشرہ/d/106013

URL for Forteen: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-modernity--علما-ء-اور-جدیدیت/d/106049

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-social-welfare--علماء-اور-سماجی-بہبود/d/106134

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content