certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (21 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)


Ulema aur Siyasat: Preface and Foreword علما ء اور سیاست

 






مصنف: ڈ اکٹر مبارک علی

فہرست

پیش لفظ                                                                                                    5

تعارف                                                                                                     7

علما ء اور دفتری                                                                                            13

علماء کا عروج                                                                                                19

علماء اور مدرسہ                                                                                            23

شریعت اور ایرانی نظریہ بادشاہت                                                              27

بنیاد پرستی اور اصلاحی تحریکیں                                                                     33

علماء صفوی اور عثمانی دور حکومت                                                                    39

علماء عہد سلطنت                                                                                         47

ابو الفضل کا خاندان اور علماء                                                                          53

اکبر اور علماء                                                                                                59

اورنگ زیب اور علماء                                                                                   71

مدرسہ اور نصاب تعلیم                                                                                 75

نو آبادیاتی دور اور علماء                                                                                   79

علماء پاکستان کے بعد                                                                                      113

علماء اور معاشرہ                                                                                           123

علما ء اورحدیث                                                                                            143

علماء اور سماجی بہبود                                                                                       151

مسلم امہ                                                                                                   155

انتحاب                                                                                                      161

کتابیات                                                                                                     168

پیش لفط

آج کے سیاسی حالات میں اس کتاب کی اہمیت اس لئے ہے کہ یہ علماء کےسیاسی کردار کا تاریخی جائزہ ان کی موجودہ سیاسی سرگرمیوں اور ان کے مقاصد کو سمجھنے میں مدد دے گی کیونکہ اس وقت علماء جس طرح سیاست میں داخل ہوئے ہیں، ان کا یہ رول پاکستان کے ابتدائی دنوں میں نہیں تھا۔

1970ء کی دھائی میں جب سے انہیں عرب ملکوں سے امداد ملنی شروع ہوئی ہے ان کا سیاسی کردار ان کے مذہبی کردار سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ بلکہ ان میں سے کچھ تو ایسی جماعتیں ہیں جو محض سیاسی بن کر رہ گئی ہیں ،جس کی وجہ سے علماء کا کردار جو اب تک تھا بہت حد تک بد ل چکا ہے، دین کی تبلیغ یا مذہب کے دفاع کے بجائے اب ان کامقصد اقتدار پر قبضہ کرنا، اقتدار میں شرکت کرنا ہے، اس طرح سے دین کی اہمیت گھٹ کر ثانوی رہ گئی ہے۔

لہٰذا سیاسی اقتدار کی جنگ میں تشدد کا جو عنصر دوسری سیاسی جماعتوں میں ہے وہ علماء کی جماعتوں میں بھی داخل ہوگیا ہے، ان کے ارد گرد کلا شنکوف حفاظتی دستوں کے نظرآنے، اور شان و شوکت والے طرز رہائش کو اختیار کرنے سے ان کی تشخص عالموں والی نہیں رہی ہیں، بلکہ یہ بھی جاگیرداروں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔

لیکن پاکستان اور دوسرے مسلم ملکوں میں جو فرق ہے وہ یہ کہ اس شان و شوکت کی علامتوں کو اختیار کرنے کے باوجود ، یہ انتخابات میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں، کیونکہ لو گ اب بھی سیاست اور مذہب کو علیحدہ سمجھتے ہیں ، اور علماء کے کردار کو صرف مسئلہ مسائل سمجھنے کی حد تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں علماء کی جماعتیں اس لئے مقبولیت حاصل نہیں کرسکیں کیونکہ ایوب خان کے بعد سے ان کا تعلق کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کے ساتھ رہا ہے اور جہاں آمریت ناکام ہوئی، وہاں علماء بھی آمروں کے ساتھ تعاون کرنے پر غیر مقبول ہوئے۔

ہمارے سیاستدانوں کی بدعنوانیوں اور نا اہلی کے باوجود علماء کی جماعتیں نعم البدل کے طور پر اس لئے ابھر کر نہیں آسکیں کہ ان کے تاریخی کردار کی جو یادیں لوگوں کے ذہن میں ہیں، وہ انہیں اس بات سے روکتی ہیں کہ اقتدار ان کے حوالے کیا جائے۔ اس لئے علماء پس منظر میں رہتے ہوئے تو اپنے اثر کو استعمال کررہے ہیں، اور سیاسی جماعتیں ان کے اثر سے ڈر کر ان کے منشور کو اختیار کررہی ہیں، مگر جہاں تک عوام کا تعلق ہے ان کا ذہن ابھی بھی سیکولر ہے، اس سیکولر ذہن کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے ذہنوں میں جو شک و شبہات ہیں انہیں دورکیا جائے ۔ یہ کتاب اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔

ڈاکٹر مبارک علی

ستمبر 1993ء لاہور

تعارف

                دنیا کے بڑے مذاہب جن میں آج پیشہ ور مذہبی گروہ موجود ہیں ان کے ابتدائی دور میں کسی خاص ایسے طبقے یا جماعت کا وجود نہیں تھا کہ جسے مذہبی امور اور معاملات میں مہارت حاصل ہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابتدا میں ہر مذہب کی تعلیمات اس کےاصول اور قوانین انتہائی سادہ تھے جو کہ آسانی سے ہر فرد کی سمجھ میں آجاتے تھے اور جن پر آسانی سے عمل بھی کیا جاتا تھا۔ مگر جیسے جیسے یہ مذاہب پھیلے ، اس کے ساتھ ہی ان میں مختلف سماجی و ثقافتی گروہ شامل ہوتے گئے اور جب یہ مذاہب ایک سیاسی طاقت بن گئے تو ان کے ڈھانچہ میں زبردست تبدیلی آئی کیونکہ اب مذہب کو ایک سادہ معاشرہ کے بجائے ایک وسیع پیچیدہ معاشرے کے سیاسی، سماجی اور معاشی حل کرنا تھے اور ان مسائل کے حل کے لئے قوانین وضع کرنا تھے ، لہٰذا اس صورت حال میں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک ایسا طبقہ وجود میں آئے کہ جو مذہبی تعلیمات اور مذہبی امور میں ماہر ہو اور جو مذہبی معاملات میں معاشرہ کی راہنمائی کر سکے۔

ایک مرتبہ ایسا طبقہ وجود میں آگیا، تو اس نے اپنے اقتدار او رطاقت کو محدود کرنے کے بجائے اور پھیلانا شروع کردیا۔ خاص طور پر روز مرہ کی زندگی میں جو رسومات تھیں ان کی ادائیگی کا ذمہ اس نے اٹھا لیا، اور پھر ان رسومات کی ادائیگی کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا گیا کہ صرف وہی ان کو پوراکرنے کےاہل ہوگئے یہ صورت حال ہندو مذہب میں ہے کہ جہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی صرف برہمن طبقہ ہی کرسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ذات پات کی تقسیم کے ابتدائی دور میں اگر چہ اولیت کشتری طبقہ کو تھی مگر بعد میں اس کا درجہ دوسرا ہوگیا او ربرہمن کو اولیت مل گئی۔ پھر برہمن نے اپنی مالی حیثیت کو مضبوط کرنے کے لئے رسومات کی ادائیگی اس قدر مہنگی کردی کہ ایک عام آدمی کے لئے وہ ایک بوجھ بن گئی۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان میں بدھ مذہب نے اس کے خلاف بغاوت کی۔ مگر بعد میں خود اس کے ہاں بھی بھکشوؤں کا ادارہ وجود میں آگیا اور ایک عام آدمی ان کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوگیا۔

یہی کچھ عیسائیت میں ہوا، کہ جہاں ابتداء میں کوئی مذہبی جماعت نہیں تھی۔ مگر بعد میں نہ صرف ایک طاقتور مذہبی جماعت وجود میں آئی بلکہ چرچ اور پوپ کے قائم ہونے کے بعد ایک موثر جماعت بن گئی۔

اسلامی معاشرہ میں بھی اسی عمل کو دہرایا گیا۔ اس کے ابتدائی دور میں جب کہ مسائل اس قدر پیچیدہ نہیں تھے ۔ مذہب کی تعلیم کو ہر فرد آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا لیکن جب فتوحات او رمذہب کی تبدیلی کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہونا شروع ہوئے تو اسلامی معاشرہ قبائلی دور سے نکل کر جاگیردارانہ اورملوکیت کے دور میں داخل ہوگیا۔ اس کےساتھ ہی معاشرہ میں لا تعداد ایسے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے کہ جن کے بارے میں کوئی واضح احکامات نہیں تھے ۔ لہٰذا ان کے حل کے لئے ایک پیشہ ور طبقہ وجود میں آیا۔ تاکہ مسلمان معاشرہ کی ہدایت کا کام سنبھال سکے۔

علماء کے اس طبقہ نے اپنی پوری زندگی مذہبی تعلیم کے حصول کے لئے وقف کردی اور قرآن حدیث قصہ اور تفسیر کے مطالعہ کے بعد وہ خود کو اس قابل پاتے تھے کہ وہ معاشرے کے سیاسی، معاشی، اور سماجی مسائل کا حل مذہب کی روشنی میں دے سکیں۔ لہٰذا شادی طلاق اور وراثت سے لے کر روز مرہ کی زندگی کے معاملات کہ غسل کیسے کیا جائے؟ لباس کس قسم کا ہو؟ او رکھانا کیسے کھایا جائے؟ وغیرہ تک کے مسائل میں لوگ ان سے پوچھنے لگے۔

دوسری طرف حکومت نے عدالتی امور اور انتظامیہ میں ان کا تقرر کرنا شروع کر دیا۔ جن میں قاضی، مفتی اور صدر کے عہدے قابل ذکر ہیں۔ ان حیثیتوں میں علماء مذہبی تعلیمات او راپنے علم کی روشنی میں فتوے دیاکرتے تھے کہ جس پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری تھا۔

اس طرح آگے چل کر علماء کی دو قسمیں وجود میں آئیں ۔ ایک وہ جو کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور حکومت کے اونچے عہدوں پر فائز تھے ۔ جب کہ کم تعلیم یافتہ مولوی مسجدوں کے امام اور خطیب بن گئے اور اس طرح ان دونوں اقسام کے علماء نے معاشرہ میں علیحدہ علیحدہ کردار ادا کئے ۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ علماء حکومت کے عہدے داروں کی حیثیت سےپیچدہ قسم کے سیاسی سماجی اور معاشی مسائل کا حل پیش کرتے تھے۔جب کہ دوسرے قسم کے مولوی پیدائش ، شادی اور موت کی رسومات کی ادائیگی کرتے تھے۔

شیعوں میں علماء کی درجہ بندی ان کے علم اورتجربہ کی بنیاد پر کی گئی ہے اور اس میں ہر عالم کو موقع ملتا ہے کہ وہ ایک درجہ سے دوسرے درجہ میں جاسکے۔ ان میں مجتہد ، آیت اللہ، امام، اور فقیہہ کے درجات ہیں ۔ اس طرح درجہ کے لحاظ سے ہر ایک کے علیحدہ فرائض ہیں۔

علماء نے معاشرے کے دوسرے طبقوں سےخود کو علیحدہ سے شناخت کرنے کی غرض سے اپنا علیحدہ لباس مخصوص کرلیا ہے اور اب صورت حال یہ ہے کہ ہر مسلک کے علماء کا علیحدہ لباس ’ داڑھی کی مخصوص تراش اور پگڑی یا ٹوپی ہوتی ہے’ جو اس کے فرقہ یا جماعت کی پہچان ہوجاتی ہے۔ جب بھی لوگ ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو ان کے نام کےساتھ مولوی صاحب یا مولانا اضافہ کرتےہیں اور اونچے درجہ کے عالم خود کو علامہ کہلانا پسند کرتےہیں۔

اس لئے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ اسلام میں کسی مذہبی گروہ کا وجود نہیں، علماء کی شکل میں یہ مذہبی طبقہ موجود ہے اور ہر وہ شخص جو مسلمان گھرانہ میں پیدا ہوا ہے اس کی زندگی میں پیدائش سے لے کر موت تک مولوی کاوجود ہوتاہے اور سیکولر ہونے کے باوجود ایک مسلمان اس پر مجبور ہے کہ روز مرہ کےمسائل میں ان کے مشورہ کو تسلیم کرے۔

یہی وجہ ہے کہ اردو کےبہت سےاخباروں میں ہر ہفتہ مسئلہ مسائل کا ایک کالم آتا ہے کہ جس میں مولوی فتوے دے کر ان کا حل پیش کرتا ہے اور اس طرح علماء عام آدمی کی زندگی سےلے کر اس کے روزمرہ کے معاملات اور پبلک لائف میں عمل دخل کرتے ہیں۔ مسلمان معاشرہ میں چونکہ مذہب زندگی کے ہر شعبہ میں پیوست ہے اس لئے ہر نیا کام شروع کرنے سے پہلے یا ہر نئی چیز اختیار کرتے وقت اس بات کی ضرورت سمجھی جاتی ہے کہ اس کے بارے میں علماء سےرائے لے لی جائے کہ یہ مذہب کےمطابق ہے یا نہیں ۔ اس رجحان کی وجہ سے مسلمان معاشرہ میں علماء کی اہمیت بڑھ گئی ہے اور وہ ان معاملات پر بھی مشورے دیتے ہیں کہ جن کے بارے میں ان کا علم محدود ہوتا ہے۔ اس لئے اکثر متضاد فتوے دے دیئے جاتے ہیں جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں اور الجھا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبادی کے کنٹرول ’ انشورنش’ بینکنگ اور انٹریسٹ کےمسائل اب تک مذہبی طور سےحل نہیں ہوئے اوریہ اس بات کا ثبوت ہے کہ علماء بدلتے ماحول اور اس کے تقاضوں سے ناواقف ہیں۔

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content