certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (04 Jan 2016 NewAgeIslam.Com)



Ulema during the Reign of the Kingdoms علماء عہد سلطنت میں

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

ہندوستان میں جب ترکوں نے سلطنت قائم کی تو یہاں بھی انہوں نے علماء کو ریاست میں اعلیٰ عہدے دے کر انہیں اس کا ایک حصہ بنا دیا’ ان عہدوں میں صدر الصدور ’ قاضی القضاۃ اور شیخ الاسلام کے عہدے قابل ذکر تھے ۔ 1248ء میں صدر جہاں کا عہدہ قائم ہوا کہ جس کا کام یہ تھا کہ وہ ملک میں مذہبی سرگرمیوں کی دیکھ بھال کرے’ انصاف قائم کرے ’ مسلمانوں سےنماز پڑھوائے ، مارکیٹ میں اشیاء کی قیمتوں اور وزن کو دیکھے اور وقف کی جائدادوں کی نگرانی کرے۔

میں نے مسجدوں میں اور مدرسوں میں اساتذہ کے تقرر کو بھی ریاست کے ماتحت رکھا کیونکہ انہیں باقاعدہ  سے تنخواہیں دی جاتیں تھیں’ مشہور علماء کےلئے انہوں نے خصوصیت سے مدرسے قائم کئے تاکہ وہ مذہبی تعلیم میں مشغول رہیں ۔ ریاست اور علماء کے اشتراک کا نتیجہ یہ ہوا کہ علماء نے ریاست کے ساتھ تعاون کیا’ اور جب بھی حکمرانوں کو ان کی ضرورت پڑی تو ان کی خدمات سے پورا پورا فائدہ اٹھایا گیا۔ مثلاً حکومت کے خلاف بغاوتوں میں ان کا استعمال کیا گیا کہ یہ باغیانہ خیالات کے خلاف کام کریں اور لوگوں کو بادشاہ کی وفاداری پر آمادہ کریں’ اگر کبھی محصولوں کی وصولیابی میں دقت ہوتی تو ایسے مواقع پر بھی ان کی خدمات سے فائدہ اٹھایا گیا ۔

سلاطین نے اس بات کی بھی کوشش کی کہ علماء سےاچھے تعلقات رکھے جائیں’ ان کا احترام کیا جائے’ ان کی محفلوں میں جایا جائے’ انہیں دربار میں دعوتوں پر بلایا جائے  ’ ان کے ساتھ مذہبی بحث و مباحثے کئے جائیں ۔ انہیں وقتاً فوقتاً تحفے تحائف دیئے جائیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انہیں حکومت کی پالیسیوں سے دور رکھا جائے اور انہیں حکومت کے معاملات میں شریک نہیں کیا جائے بلکہ عمدگی سےانہیں ان سے دور رکھا جائے ، مثلاً الشمش (وفات۔1236) کے زمانہ میں علماء نے اس سےکہا کہ ہندوؤں کے ساتھ اہل کتاب جیسا سلوک نہیں ہوناچاہئے  ’ انہیں ذمی قرار دیناچاہئے اور اگر وہ انکار کریں تو کافر قرار دے کر ان کا قتل عام کرنا چاہئے تو الشمش نے ان کی بات سن کر اپنے وزیر کے یہ کہلوادیا کہ ‘‘حکومت کے پاس فی الحال اتنی تلواریں نہیں کہ تمام ہندوؤں کو قتل کریں’ اس لئے مناسب یہ ہے کہ انہیں ذلیل و خوار رکھا جائے۔

اس لئے سلطان بلبن (وفات ۔1287) اگر چہ ظاہری طور پر علماء کی بڑی قدر کرتا تھا اور ان کے ساتھ بڑے احترام کے ساتھ پیش آتا تھا مگر اس کی  حکومت  کے طریقے ایرانی تھے ’ خود کو وہ اافراسیاب کی اولاد بتاتا تھا او راپنے دربار میں جن رسومات کو رواج دیا تھا وہ تمام کی تمام قدیم ایران کے بادشاہ کی تقلید تھی ۔

اس طرح باغیوں کو سزائیں دینے میں مذہب کو کوئی دخل نہیں تھا، او ریہ سزائیں اپنے مفاد او رملک کی ضروریات کے تحت دی جاتیں تھیں اور سلاطین نے تو اس کا    برملا اظہار نہیں کیا’ مگر علاء الدین خلجی (وفات ۔1316) نے علماء کو ریاست کے معاملات سے بالکل دور رکھا ۔ اس نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ وہ صرف وہ کام کرتا کہ جس سے رعایا کی فلاح ہو’ اسے اس سےکوئی مطلب نہیں کہ اس کے اقدامات شریعت کے خلاف ہیں یا اس کے مطابق۔

سلطان محمد تغلق (وفات 1351) خود ایک عالم تھا لہٰذا اس نے اس بات کی کوشش کی کہ علماء کو اپنے مقاصد کےلئے استعمال کرے’ ان میں سے جن علماء نے اس کا ساتھ دیا انہیں  اس نے انعام و اکرام سے نوازا’ مگر جن چند علماء نے مخالفت کی تو انہیں اس سے قتل کرا دیا اور بعد میں ان  علماء کا زور توڑنے کےلئے اس نے انہیں تبلیغ اسلام کےلئے دور دراز کےعلاقوں میں زبردستی بھجوایا۔ خصوصیت سے جب اس نے دیوگیر کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہا تو وہاں علماء کی ایک بڑی تعداد کو روانہ کیا۔ اس وجہ سے علماء کے طبقہ میں اس کے خلاف زبردست جذبات پیدا ہوئے اور جب ملک میں اس کے خلاف بغاوتوں کی ابتداء ہوئی تو انہوں نے ان میں کسی نہ کسی طرح سے حصہ لیا۔

لیکن مجموعی طور پر علماء نے سلطان وقت کا ساتھ دیا’ اور اس کے عوض انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ ایسی تمام تحریکوں کو ریاست کے ذریعہ ختم کروا دیا جائے کہ جو ان کے نزدیک مذہب کے خلا ف تھیں ۔

سلطنت کے دور میں علماء نے صوفیوں کو اپنا مخالف جانا کیونکہ یہ صوفیا اگر چہ دربار سے تو واسطہ نہیں رکھتے تھے ۔ مگر ان کا اثر و رسوخ عوام میں اور امراء میں بہت تھا اس لئے علماء ان کی سرگرمیوں کو خلاف شریعت کہہ کر ریاست کو ان کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے ۔ انہیں میں نے وہ مشہور تنازعہ ہے کہ جب انہوں نےصوفیاء کے سماع کو خلاف شریعت کہا اور نظام الدین اولیاء کو خاص طور سے مناظر ے کےلئے دربار میں بلوایا اس کے علاوہ ایسی تمام تحریکوں اور فرقوں کے خلاف تھے کہ جو سنی عقیدے سے رو گردانی کرتی تھیں ۔ اس کی ایک مثال سوری سلطاطین کے زمانہ میں مہدویہ تحریک ہے کہ جس کے بانی سید محمد مہدی جونپوری (وفات ۔1504) تھے ۔ اس تحریک کو اسلام شاہ (وفات 1554) کے زمانہ میں شیخ علائی کی وجہ سے بڑا فروغ ہوگیا تھا ، لہٰذا ان کے خلاف مخدوم الملک ملا عبداللہ سلطانپوری نے بادشاہ سے شکایات کیں اور 1548ء میں انہیں کوڑے مار مار کر قتل کرا دیا’ اس سے پہلے یہی سلوک وہ عبداللہ نیازی کےساتھ کرچکے تھی۔

مخدوم الملک اس ضمن میں ان تمام علماء کے خلاف تھے کہ جن کے عقائد پر انہیں شبہ تھا ان میں ابو الفضل و فیضی کے والد شیخ مبارک بھی شامل تھے ۔لہٰذا ان کی اس پر تشدد پالیسی کے خلاف علماء کئی گروہوں میں تقسیم ہوگئے’ ان میں سے کچھ نے خود کو سیاست سے بالکل علیحدہ کرلیا او رکچھ اپنے مفادات  کےلئے ریاستی علماء سے مل گئے۔

اس لئے جب مغل اقتدار میں آئے ہیں تو ہندوستان میں کئی رجحانات سرگرم تھے ۔اول ’ ریاستی علماء جو تشدد کے ذریعہ اپنے مخالفین کو ختم کرانے میں مصروف تھے’ دوئم ’ اصلاحی اور احیاء کی تحریکیں جو اسلام کو بدعتوں سے پاک کرکے اس کا احیاء کرنا چاہتی تھیں ’ جیسے مہددی ’ جو اپنی جگہ پر تشدد تھے اور سختی سے اپنے عقائد کا نفاذ چاہتے تھے ، سوئم صوفی’ جو علماء کے تشدد کو توڑنا چاہتے تھے اور چہارم بھگتی تحریک جو ہر مذہب و عقیدے میں ہم آہنگی  پیدا کرکے رواداری کی فضا پیدا کرنا چاہتے تھے ۔

ان میں سے صرف علماء کا گروہ ایسا تھا جو ریاست کاایک حصہ ہوتے ہوئے تشدد کے ذریعہ اپنے عقائد کو نافذ کرناچاہتے تھے ، اس لئے مغلوں کے اقتدار میں آنے سے بعد انہوں نے کوشش کی کہ مغل حکمران کواپنے زیر تسلط کریں اور اسے اپنے مقاصد کےلئے استعمال کریں ۔

یہ انہیں دنوں کا واقعہ ہے کہ جب ان عالموں کا اکبر کے دربار میں عروج تھا اور وہ ریاست کے طاقت کو اپنے مذہبی مقاصد کےلئے استعمال کررہےتھے، اور جن علماء پر انہیں شبہ ہوتا تھا کہ وہ سنی عقائد سے علیحدہ ہیں انہیں  قید و بند کی سزاؤں سے لے کر قتل کی سزا دیتے تھے۔ ان کے انہیں حریفوں میں ابوالفضل کا باپ شیخ مبارک تھا جس پر مہدی ہونے کا شبہ تھا’ او راسی بنا پر یہ اس کے خلاف تھے اس دور میں ان کے خاندان پر جو کچھ بیتی اس کا ذکر ابوالفضل نے آئین اکبری کی تیسری جلد میں اپنے خاندانی حالات میں کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب علماء کو ریاستی طاقت مل جائے تو وہ کس طرح تشدد کے ذریعہ خوف و دہشت گردی کی فضا پیدا کرتے ہیں اور مذہب کے نام پر لوگوں کو ختم کراتے ہیں ۔

واقعہ اس طرح پیش آیا کہ مخدوم الملک اور عبدالنبی صدر کےحکم سے شیخ مبارک کی گرفتاری کا حکم ہوا۔ انہیں اس کی اطلاع ایک خیر خواہ نے دی اور یہ خاندان پریشانی کے عالم میں رات کو گھر  چھوڑ کر پناہ کی غرض سے روانہ ہوا۔

مجبوراً اس آدھی رات کو ہم تین آدمی پیادہ گھر سے باہر نکلے او رنہ کوئی راہبر موجود تھا اور نہ رفتار کے لئے پاؤں میں قوت استقلال تھی .... صبح صادق کے وقت ہم اس شخص کےدروازے پر پہنچے ۔ یہ شخص اپنی واقفیت کے اعتبار سے گرم خوئی اور کشادہ پیشانی کےساتھ ملا اور ایک بہتر خلوت کدہ خالی  کرکے ہمارے لئے معین کردیا۔ اسی آرام کمرے میں دو روز بعد یہ خبر معلوم ہوئی کہ دل سوختگان حد نے شرم کا پردہ اٹھا کر اپنی خبث آگئیں طبائع کے مافی الضمیر کو ظاہر کردیا اور پختہ کا ر ان مکاری کے قاعدے کے مطابق اس رات کی صبح کو  بارگاہ سلطانی  میں معروضہ پیش کرکے خاطر اقدس (یعنی اکبر بادشاہ) کو مشوش کردیا۔ بارگاہ خلافت سے فرمان جاری ہوا کہ ..... چونکہ یہ بذات خود مذہب و ملت کا کام ہے لہٰذا اس کا انجام خاص طور سے تمہاری ضرورت ( یعنی مخدوم الملک اورعبدالنبی) پر منحصر کیا جاتا ہے  ان کو محکمہ عدالت میں طلب کریں اور جو امر کہ حکم شریعت کے مطابق طے پائے اور اکابر زمانہ اس سے متفق ہوجائیں عمل میں لائیں ۔ مخالفین نے چاؤ شان (شاہی دستہ) شا ہنشاہی کو برانگیختہ کرکے ہمارے بلانے کے لئے بھیجا .... جب مخالفین نے ہم کو مکان میں نہ پایا .... تو مکان کو گھیر لیا اور شیخ ابوالخیر میرے بھائی کو اس مکان میں پاکر اس کو اپنے ہمراہ آستانہ اقبال پر لےگئے اور بے حد وضاحت کے ساتھ ہمارے مخفی ہونے کے حالات کو بیان کیا..... شہر یار حق بیں (اکبر) نے بخوبی تمام واقعات کو شناخت کرلیا اور مخالفوں کو یہ جواب دیا کہ تم لوگ اس قدر سخت گیر ی کیوں ایک درویش گو شہ نشیں ’ دانش منش’ ریاضت کیش کےحق میں کرتے ہو اور کیوں اس قدر جنگجوئی سےکام لیتے ہو .... مخالفین اب اس خیال میں مبتلا ہوئے کہ اس وقت جب کہ یہ بے خانماں ہوچکے ہیں تو اس مسئلے کا علاج بخوبی کرلینا چاہئے اور چند اشخاص میں تیرہ دروں سیہ رائے کو اس پر مقر کیا کہ جس مقام پر  ہمارے نشان پائیں  ہمارا کام تمام کر ڈالیں :۔ ایک ہفتہ جس وقت گزر گیا ۔ صاحب خانہ بھی ہمارے اختیار سے جاتا رہا او ربے شرمی سے کا م لینے لگااور اس کے ملازمین بھی شناسی برتنے لگے۔ ان وجوہ سے عقل پر واہمہ غالب ہوگیا اور پریشان طبیعت کو اس امر کا یقین ہوگیا کہ ... بادشاہ جستجو میں اور تمام عالم دوڑ دھوپ او رکوشش میں مصروف ہے۔ اب گمان غالب یہ ہے کہ صاحب خانہ ہم کو پکڑ کر مخالفین کےحوالے کردے....

جب شام ہوگئی تو ہم نے بادل شکستہ میں غم کدہ وحشت سے افزا سے پاؤں باہر نکالا ۔ نہ کوئی مددگار نظر میں ’ نہ پاؤں میں طاقت رفتار ’ نہ جائے پناہ ظاہر’ نہ زمانے کو سکون کہ وفعتاً اس شب تار میں بجلی چمکی اور چہرہ خوشی سے دمک اٹھا کہ ہمارے ایک شاگرد کا مکان نظر آیا اور تھوڑی دیر کےلئے ہم کو آرام کی جگہ مل گئی ُ( ا س کے بعد اس خاندان نے ایک امیر کے ہاں پناہ لی) آدھی رات کے وقت وہ تیز دست و آگاہ دل ہمارے پاس پہنچا .... اسی وقت ہم لباس لپیٹ کر روانہ ہوگئے اور مختلف راہوں سے اس شخص کے مکان پر آئے ( لیکن اس نے بھی بعد میں ان سے بدسلوکی کی اور ان کی مہمان نوازی سے تنگ ہوا) رات کے وقت ہم اس جگہ سے نکل کر اپنے ایک دوست کے مکان میں آئے ( ایک رات گزارنے کے بعد) جب سب سو گئے تو اس وقت ہم مقام نا معتین کی جستجو میں چل نکلے .... آخر کا پھر اسی امیر کے مکان پر آئے ۔( لیکن وہ امیر انہیں چھوڑ کر خود معہ ملازموں کے چلا گیا) صرف ہم تین آدمی نخاس کے قریب بیٹھے رہ گئے اور عجیب حال پیش آئی ۔ نہ جانے کا ارادہ ’ نہ قیام کی طاقت’ اور نہ کوئی پردے کی جگہ کہ جس میں قیام ہوسکے۔ ہر سمت منافق دوست کاور دشمنان صدر رنگ اور نادید گان سخت پیشانی ۔ ہم اس بے پناہ جنگل میں خاک کے اوپر بیٹھے تھے زمانہ کی آشفتہ سری او رمقاصد کی پر اگندگی کے سبب سے ہم بے انتہا غم وا لم میں گرفتار ہوگئے ... بیگانوں کی ملامت اور دوستوں کی یہی خواہی سے محفوظ ایک باغیچے میں پہنچے ... وقعتاً ہم یہ ظاہر ہوا کہ اس باغیچے میں چند ( بد انجام) مخالفین کا بھی گزر ہوتا ہے... پھر ظاہری حالت کی پراگندگی کے ساتھ اس باغیچے سے باہر نکلے ۔ جس مقام پر پہنچتے اس بلائے نا گہانی کا سامنا ہوتا تھا ۔ یہاں تک کہ ... ایک باغبان نے ہم کو پہچان لیا ۔ اس واقعے سے ہمارے حالت متغیر ہوگئی اور قریب تھا کہ روح سے جسم خالی ہوجائے... لیکن وہ سعادت مند گوناگوں مہربانیوں کے ساتھ پیش آیا ۔ ( اس کے بعد روپوشی کےلئے اس نے ایک خفیہ مقام پر پتہ بتایا ) اور ایک پوشیدہ مقام میں ہم نے قیام اختیار کیا .... اس مقام سے خطوط مخلصوں اور بہی خواہوں کے نام روانہ کئے گئے اور ہر شخص ہمارے حال سے واقف ہو کر اس کی چارہ جوئی میں مصروف ہوا... ایک ماہ تک اس آرام کی جگہ میں ہم نے بسر کی ( لیکن یہاں سے بھی اس خوف سے کہ ان کی گرفتاری نہ ہو جائے روانگی اختیار کی) بے انتہا پریشانی اور اضطراب کی حالت میں ہم غیر آباد خرابے میں چلے آئے اور قدرے ہم کو شہر کے فسادات اور دشمن کی آنکھوں سے امن حاصل ہوگیا ۔ ( یہاں بھی انہیں سکون نہ ملا ’ تو یہ مزید امن کی جگہ کی تلاش میں روانہ ہوئے) ایک ناشنا سا رہبر کو اپنے ہمراہ لے کر ایک قریے میں جو دارالخلافے سے متعلق تھا ... روانہ ہوگئے ۔ تین کوس کی بے راہ ساخت طے کر کے ہم لوگ یہاں پہنچے .... ( لیکن یہ بات معلوم ہوئی کہ یہاں بھی مخالف ان کی تلاش میں آنا چاہتا ہے) لہٰذا اس قریے کے قیام سے دستبردار ہوکر آدھی رات کے وقت ہم لوگ بادل خوار ونگوں شہر کی طرف روانہ ہوئے اور صبح کے وقت دارالخلافہ آگرہ پہنچ کر ایک دوست کے مقام پر مقیم ہوئے ( اس کے بعد ان کے دوستوں نے دربار میں بادشاہ سے ان کی سفارش کی اور ان کے بارے میں جو غلط فہمیاں تھیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی۔ اس پر بادشاہ نےانہیں  دربار میں بلایا) بارگاہ سلطان میں حاضر ہوئے اور جہاں پناہ کی گوناگوں نوازشات سے ان کو بلند پائیگی حاصل ہوئی اور ایک بارگی یہ زنبور خانہ نا سپاساں خاموش ہوگیا ۔( آئین اکبری ۔سوم۔ ترجمہ ۔ فدا علی طالب ص ۔339۔414)

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-reign-of-the-kingdoms--علماء-عہد-سلطنت-میں/d/105860

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content