certifired_img

Books and Documents

Books and Documents (31 Dec 2015 NewAgeIslam.Com)


Ulema during the Safavid and Ottoman Rule علماء صفوی اور عثمانی دور حکومت میں

 

 

 

ڈ اکٹر مبارک علی

عثمانی سلطنت جسے عثمان نے 1281 سے 1324) قائم کیا اور جس کی شان و شوکت سلیمان قانونی ( 1520 سے 1556)تک مستحکم ہوگئی ۔ اس سلطنت کے ڈھانچہ میں علماء کا ایک متعین کردار مقرر کیا گیا۔ اسی طرح سے جب ایران میں شاہ اسماعیل 1501 سے 1524) نے صفوی سلطنت کی بنیاد ڈالی تو اس کے تبدیل ہوتے ہوئے ڈھانچہ میں علماء ریاست سے علیحدہ ہوکر ایک خود مختار جماعت کی حیثیت سے ابھرے ۔ ان دونوں سلطنتوں میں علماء نے جو کردار ادا کیا اس میں سنی اور شیعی عقائد کابھی بڑا دخل تھا ۔

مثلاً جب شاہ اسماعیل نے ایران میں اپنی سلطنت کے قیام کے بعد شیعہ مذہب کو سرکاری مذہب قرار دیا تواس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ایران کی اکثریتی سنی آبادی کو کس طرح شیعہ بنایا جائے ۔ اس مقصد کےلئے اس نے اسلامی دنیا سےشیعہ علماء کو بلایا تاکہ وہ شیعہ مذہب کو فروغ دے کر اس کی سلطنت کو مضبوط کریں ۔ ان کے اس مشن میں ریاست کی پوری پوری حمایت اور تعاون ان کےساتھ تھا ۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے شیعہ مذہب کی تعلیمات کےلئے 1034ء میں علی الکرکی نےپہلا شیعہ مدرسہ قائم کیا۔ تاکہ شیعہ مذہب اور قصہ کےتحت علماء کو تیار کیا جائے۔

صفویوں نے علماء کی مدد سے نہ صرف یہ کہ ایران کو شیعہ بنایا بلکہ انہوں نے انہیں سلطنت میں شامل کر کے کوشش کی کہ مذہب کو سیاست کےلئے استعمال کیا جائے ۔ صفوی سلطنت کے اعلیٰ عہدے داروں میں صدر کا عہدہ تھا کہ جس پر کسی عالم کا تقرر کیا جاتا تھا اور یہ مذہبی امور کی دیکھ بھال کرتا تھا اور یہ اس کی ذمہ داری تھی وقف کی آمدنی کو مذہبی کاموں پر خرچ کرے اور علماء کو ان کی مال ضروریات کےلئے زمین الاٹ کرے۔ اس قسم کی زمین کے لئے سیور غال کی اصطلاح استعمال ہوتی تھی ۔ یہ زمین الاٹ کرے۔ یہ زمین علماء کی موروثی طور پر ملتی تھی اور اس پر ان سے کسی قسم کا ٹیکس بھی نہیں لیا جاتا تھا ۔ اس طرح علماء خاندانوں کا ایک مراعات یافتہ طبقہ وجود میں آگیا کہ جنہوں نے مذہبی علم کو نہ صرف یہ کہ اپنے طبقہ میں محدود کر لیا’ بلکہ اپنی مراعات کے تحفظ کےلئے انہوں نے ریاست سے زیادہ سے زیادہ تعاون کیا اور اپنی سماجی حیثیت کو اور مضبوط بنانے کےلئے ان کے سماجی روابط امراء اور جاگیرداروں سے ہوگئے۔

اس کے علاوہ عدالتی عہدوں پر بھی علماء کا تقرر ہوتا تھا اس طرح سے ریاست کی انتظامیہ میں شمولیت سے یہ سلطنت کے اہم رکن بن گئے تھے ۔

لیکن جب سترہویں صدی میں ایرانی ریاست کمزور ہوئی’ تو اس کے ساتھ ہی اس کی گرفت علماء پر بھی کمزور پڑ گئی اور علماء نے اس مرحلہ پر خود کو ریاست سے علیحدہ کرکے سیاست او رمذہب کو جدا کردیا۔ اس کی ابتداء اس طرح سے ہوئی کہ سب سے پہلے شیعہ علماء نے صفوی حکمران کو امام ماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ اتنا عشری عقیدے تحت بارہویں امام روپوش ہوگئے ہیں’ اور وہ ایک خاص وقت پر ظاہر ہوں گے۔ لہٰذا ان کےعقیدہ کے مطابق امام کی غیر موجودگی میں ان کی نمائندگی علماء کریں گے’ اس لئے ایران میں مجتہدین کی اہمیت بڑھ گئی اور وہ مذہبی معاملات میں آخری لفط بن گئے۔

تاریخ کے اس عمل میں ایران میں علماء کے دو گروہ پیدا ہوئے ایک اصولی اور دوسرا اخباری۔ اصولی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں حالات کو دیکھتے ہوئے اجتہاد کیا جاسکتا ہے جب کہ اخباری علماء کے نزدیک فقہ کو صرف احادیث پر رہنا چاہئے او راسے اصول رائے یا دلیل کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہئے لیکن بعد میں اخباری علماء کمزور ہوگئے کیونکہ بدلتے ہوئے حالات میں ضروری تھاکہ اجتہاد کیا جائے۔

انیسویں صدی کے آتے آتے علماء ریاست و حکمراں کے مخالف ہوگئے اور انہوں نے آزادانہ اور خود مختار حیثیت اختیار کرتےہوئے اپنا سلسلہ علیحدہ سے قائم کیا ۔ انہوں نے جو مذہبی مدرسے قائم کئے اس کےاخراجات انہیں بازاری لوگوں امراء اور دولت مندوں سے ملنے لگے جو مذہب کی خدمت کو ثواب اور بخشش کا باعث سمجھتے تھے’’ اس وجہ سے ایرانی معاشرہ میں مجتہد کی حیثیت انتہائی با اثر شخصیت کی ہوگئی کہ جس سے حکمراں بھی خوف زدہ رہتا تھا ’ اور اس کے خلاف کسی قسم کا اقدام نہیں اٹھاتا تھا۔

برطانوی ہند کی جانب سے سفیر کی حیثیت سےسرجان مالکم نے ایران میں قیام کیا ۔ ( 1799۔1801اور 1808) اپنے مشاہدات پر اس نے بعد میں ایک کتاب تاریخ ایران لکھی ۔ اس میں وہ ایران کے مجتہدوں کے بارے میں لکھتا ہے کہ ایران میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ 3 یا 4 سے زیادہ مجتہد ہوں’ ان کے کردار کے بارےمیں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ وہ بے داغ او رپاک ہوتا ہے اور وہ دنیاوی معاملات میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں ۔ نہ ہی یہ حکمراں سے کوئی تعلق رکھتے ہیں اور نہ حکومت کے عہدے داروں سے۔اپنے اس رویہ کو وہ کبھی بھی تبدیل نہیں کرتے ہیں کیونکہ اس کےنتیجہ میں وہ فوراً اپنی حیثیت اور اثر و روسوخ کو کھو بیٹھتے ہیں’ کیونکہ اس کے بعد نہ تو کوئی ان کی بات سنتا ہے او رنہ ہی ان سےمشورہ طلب کرتا ہے اور اس کے بعد ان کی عزت بادشاہ کی نظروں میں بھی گر جاتی ہے او روہ بھی ان کی رہائش پر نہیں آتا ہے۔ جب ایک مجتہد کی وفات ہوتی ہے تو اس کا جانشین اسی کو بنایا جاتا ہے کہ جس کا مذہبی مقام بلند ہو اور جو علوم مذہبی میں مہارت رکھتا ہو....

ایران میں مجتہد کااثر او راس کی رائے عدالتی کارروائی قانون کے استعمال اور قاضیوں کےفیصلے پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ عام طور سے مقدمہ کے سلسلے میں مسلسل اس کی رائے طلب کی جاتی ہے اور وہ جو فیصلہ کردیتا ہے اس کی پابندی لازمی ہوتی ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ دوسرا مجتہد جس کا علم اس سے زیادہ ہو’ اس کی مخالفت کرے اور اپنی رائے دے۔ ایران کے لوگوں کو مجتہدوں کی وجہ سے بہت سہولتیں ہیں ..... بادشاہ جو اکثر کسی کی بات نہیں سنتا ہے۔ مجتہد کی رائے اور مشورہ کو تسلیم کرتا ہے’ اور جب وہ کسی مجرم کے سلسلہ میں سفارش کرتا ہے تو اس کی بات مانتا ہے۔ مجتہدوں کی رہائش گاہیں مظلوم لوگوں کے لئے پناہ گاہ سمجھی جاتی ہیں اور وہاں ظالم کے ہاتھ نہیں پہنچ سکتے ہیں ....’’

عثمانی سلطنت میں بھی علماء کو انتظامیہ کا ایک حصہ بنا کر ان کی علیحدہ حیثیت کو ختم کردیا۔ان کی سلطنت میں جو سب سے بڑا مذہبی عہدہ ہوتا تھا وہ شیخ الاسلام کہلاتا تھا’ اپنے عہدے اور مرتبہ کے لحاظ سے یہ سلطان سے براہ راست مل سکتا تھا اور اسے مشورہ دے سکتا تھا ۔ اس کے بعد عدالتی ملازمتوں میں انہوں نے قاضیوں کا تقرر کیا ۔ ان کے ہاں دو قاضی عسکر ہوتے تھے ، جن میں سے ایک بلقان کےلئے تھا اور دوسرا نا طولیہ کےلئے ۔

اس کےعلاوہ تمام بڑے شہروں میں قاضیوں کا تقرر ہوتا تھا اور پھر یہ قاضی اپنی انتظامی ذمہ داریوں کے تحت مختلف درجوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ جائداد کی لین دین یتیموں کے اداروں کی دیکھ بھال اور دوسری عدالتی کارروائیوں میں مصروف ہوتے تھے ۔

قاضی سلطنت میں قائم شدہ مدرسوں کے انتظامات کے بھی ذمہ دار تھے ’ یہ ریاست کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس کی مذہبی لحاظ سے تصدیق بھی کرتے تھے اس کے علاوہ دست کاروں اور ہنر مندوں نے جو پیشہ ورانہ انجمنیں بنا رکھی تھیں ’ ان پر بھی یہ نظر رکھتے تھے ۔ قاضی کے ساتھ ساتھ مفتیوں کے عہدے ہوتے تھے ’ جو مختلف مسائل پر فتوے دیا کرتے تھے ۔

اس طرح سے عثمانی سلطنت نے تعلیم او رعدالتی انتظام کے ذریعہ علماء کو ملازمت میں لے لیا، جنہوں نے مذہبی اداروں پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔

لیکن ان علماء کاذہن ان تمام باتوں کے باوجود تنگ ہی رہا’ اور انہوں نے زندگی کے معاملات کو ہمیشہ محدود نقطہ نظر سے ہی دیکھا اور بدلتے ہوئے حالات میں جو آزاد خیالی اورہمہ گیریت عثمانی معاشرہ میں آرہی تھی اس کی بھرپور مخالفت کی’ مثلاً 1080ء میں انہوں نے مدرسہ سلیمانیہ کی رصد گاہ پر حملہ کر کے اسے تباہ و برباد کردیا۔ سولہویں صدی سترہویں صدیوں میں انہوں نے اصلاح مذہب کی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا’ اور ان تہواروں اور رسومات کی مخالفت کی کہ جو ان کے نزدیک غیر اسلامی تھیں ۔

یہاں تک کہ انہوں نے کافی کے پینے اور تمباکو کے استعمال کو بھی غیر اسلامی قرار دے دیا اور حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ تمام غیر اسلامی اداروں اور روایات کو ختم کر کے شریعت کا نفاذ کرے۔

جب ترکی میں چھاپہ خانہ کے قیام کامسئلہ پیش آیا تو اس پر شیخ الاسلام نے یہ فتویٰ دیا کہ پریس کو اس صورت میں لگانے دیا جائے کہ اس میں قرآن شریف نہیں چھپے باقی دوسرا ادب چھاپنے کی اجازت ہوگی۔

چنانچہ احیاء کی تحریکوں میں انہوں نے صوفیاء کے خلاف بھی پروپیگنڈہ کیا اور خاص طور سے ترکی میں مولانا رومی کے پیروکار درویشوں میں جو رقص ہوتا تھا اس کی بھر پور مخالفت کی۔ ترکی میں چونکہ غیر مسلم اقلتیں کافی تھیں جن میں خصوصیت سے عیسائی اور یہودی قابل ذکر تھے اس لئے انہوں نے یہ مطالبہ کیاکہ مسلمانوں کو دوسرے مذاہب کے لوگوں میں گھل مل کر نہیں رہنا چاہیے کیونکہ اس ملاپ کے نتیجہ میں مذہب خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسی طرح انہوں نے تمام دانشورانہ ’ فلسفیانہ اور آزاد خیال بحث و مباحثوں کو بند کرانے کی کوششیں کیں ۔ اس پورے عہد میں یہ علماء اگر چہ ظاہری طور پر تو بڑے پارسا او ردیندار بنتے تھے ، مگر ان کے عمل میں بڑا تضاد تھا او ریہ ریاست و سلطنت کے عہدوں کو استعمال کرکے دولت و طاقت کے حصول کےلئے سازشوں میں مصروف نظر آتے ہیں ۔

اس لئے اگرچہ یہ علماء عثمانی سلطنت کا ایک حصہ تو بن گئے او رانہوں نے سلطنت کے خلاف کوئی تنقید نہیں کی مگر اپنے تحفظ کے لئے انہوں نے اس بات کی کوشش کی کہ معاشرہ کو قدامت پرست او رمذہبی رہنے دیا جائے تاکہ اس میں ان کی اہمیت برقرار رہے۔ کیونکہ ان کا خوف حق بجانب تھا کہ آزادانہ خیالات کی وجہ سے ان کی عزت و احترام ختم ہوجائے گا۔

آگے چل کر حکومت او رعلماء دونوں کے مفادات مل گئے او رانہوں نے متحدہ طور پر نئے خیالات کی روک تھام کی ۔ سیاسی و معاشی اور سماجی تبدیلیوں کو روکا۔ اسی رجحان کی وجہ سے عثمانی سلطنت میں زوال کے اسباب پیدا ہوئے۔

URL of Chapter One: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-aur-siyasat--preface-and-foreword---علما-ء-اور-سیاست/d/105674

URL of Chapter Two: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-bureaucrats--(علما-ء-اور-دفتری-(بیورو-کریٹس/d/105686

URL for Chapter Three: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/rise-of-ulema--علما-ء-کا-عروج/d/105710

URL for Chapter Four: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-and-madrasa--علماء-اور-مدرسہ/d/105725

URL for Chapter Five: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/sharia-and-iranian-theory-of-kingdom--شریعت-اور-ایرانی-نظریہ-بادشاہت/d/105772

URL for Chapter Six: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/fundamentalism-and-reformist-movements--بنیاد-پرستی-اور-اصلاحی-تحریکیں/d/105784

URL: http://www.newageislam.com/books-and-documents/dr-mubarak-ali/ulema-during-the-safavid-and-ottoman-rule--علماء-صفوی-اور-عثمانی-دور-حکومت-میں/d/105808

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 




TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content