certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (03 Mar 2017 NewAgeIslam.Com)


Deepening Signs of a Civil War in Islam اسلام میں خانہ جنگی کی گہری علامتیں: خالص اسلام کے نام پر پاکستان میں صوفی مسلمانوں کا قتل عام عالمی بحران کا پیش خیمہ





سلطان شاہین، فاؤنڈنگ ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

28 فروری 2017

کیا یہ اسلام ہے؟ پشاور میں ایک خاتون نے دسمبر 2014 کو یہ سوال اس وقت کیا جب وہ اپنے اسکول جانے والے بچوں کی خون میں لت پت لاشوں پر ماتم کر رہی تھی۔ 132 معصوم بچوں اور بے شمار خواتین اساتذہ کے قاتل پاکستانی طالبان تھے۔ طالبان اسلامی مدارس کے طالب علم ہیں جنہیں اسلامی تعلیمات میں کا ماہر مانا جاتا ہے۔ وہ اسلام کے نام پر قتل کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔ وہ ناموسِ اسلام کا پرچم بلند کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ دنیا پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہذا، یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیاواقعی یہ اسلام ہے؟

اب پاکستان ایک بار پھر سے صدمے میں ہے۔ آج سوال یہ ہے کہ کیا یہی خالص یا حقیقی اسلام ہے، جیسا کہ اس کا دعویٰ سلفی کر رہے ہیں؟ جسے سلفی وہابی سچا یا خالص اسلام کہتے ہیں اسی کے نام پر سندھ میں صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر سیکڑوں عقیدت مندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا جو کہ یقینی طور پر اپنی نوعیت کا نہ تو کوئی پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی یہ کوئی آخری واقعہ ہے۔ وہ تصوف سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے کہ ان کا ماننا ہے کہ معمولاتِ تصوف قبل از اسلام کے مشرکانہ ہندو رسوم و روایات سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اور ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ جو کوئی مسلمان اُس راستے سے الگ ہو گیا ہوجسے سلفی حقیقی اسلام تصور کرتے ہیں وہ مرتد اور مستحق قتل ہے۔ انسانیت کے ان قاتلوں کی منفی ذہن سازی اُس فرقہ کے علماء کرتے ہیں اور ذہنی طور پر انہیں یہ تربیت دیتے ہیں کہ اگر وہ مرتد اور کافروں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں تو جنت میں ان کے لیے ایک اعلیٰ مقام کا حصول یقینی ہے۔

اکثر پاکستانی یہ دعوی کرتے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ ایک سیکولر جمہوریت پر مبنی ہے۔ اس کے بانی محمد علی جناح نے پاکستان کا جو نظریہ پیش کیا تھا اس میں نقص شروع سے ہی موجود تھا۔ دستور ساز اسمبلی سے ایک خطاب میں 11 اگست 1947ء کو انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کے درمیان گزشتہ تمام تنازعات کا تصفیہ کر دیا جائے گا تاکہ "......پاکستان کے پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں...."۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ گزشتہ صدیوں میں انگلینڈ نے اپنے شہریوں کے درمیان شدید فرقہ وارانہ جارحیت کا تصفیہ کر دیا تھا، انہوں نے ایک ایسے پاکستان کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ جس میں وقت کے ساتھ ساتھ ہندوؤں کو ہندو اور مسلمانوں کو مسلمان ہی رہنے دیا جائے گا، مذہب کے معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی مذہب ہے، بلکہ اس ملک کے ایک شہری طور پر سیاسی معنوں میں۔"

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر پاکستان کی نظریاتی بنیاد یہ تھی تو ہندوستان سے الگ ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت ہی کیا تھی؟ اس نظریہ پاکستان میں دو قومی نظریہ کہاں نصب ہوتا ہے؟ لہٰذا، ظاہر ہے کہ یہ ایک منافقانہ بیان تھا۔ کوئی تعجب نہیں کہ علیحدگی پسندی اور عدم رواداری کو فوری طور پر فتح حاصل ہوئی کہ جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جماعت اسلامی کے بانی نظریہ ساز مولانا مودودی کے اصرار پر 12 مارچ 1949کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ایک معروضی قرارداد منظور کیا تھا۔ اس قرارداد میں اس بات کو منظور کیا گیا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کے آئینی نظریہ کی ساخت اسلام کی جمہوری فطرت پر رکھی جائے گی۔ اس قرارداد کی سب سے پہلی شق میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ: "ساری کائنات کے اوپر خودمختاری صرف اللہ اور ان حکام کو حاصل ہے جنہیں اللہ نے ریاست پاکستان کے اوپر مقرر کیا ہے، اور ریاست پاکستان کے باشندوں کا اس کے ذریعہ مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر اس پر عمل کرنا ایک مقدس امانت ہے۔"

مولانا مودودی کا تعلق سلفی مکتبہ فکر سے تھا۔ ان کی خواہشات کے مطابق اس معروضی قرارداد کو منظور کر کے ریاست پاکستان عملی طور پر ایک سلفی ریاست بن چکی ہے۔ لیکن پاکستان میں لوگوں کی بھاری اکثریت اب بھی صوفی اقدار کے حامل بریلویوں کی ہے۔ اس وقت پاکستان میں دیوبند کا اثر و رسوخ بہت کم تھا۔

اسی سے ایک پاکستان میں ایک ایسی تقسیم پیدا کر ہو چکی ہے جس نے اب اس ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا کر دیا ہے۔ وہابی سلفی نظریہ کو ریاست پاکستان نے اپنانے میں اس قدر سرعت کا مظاہر کیاکہ اس میں رواداری اور ہمہ گیر نظریۂ تصوف کی کوئی گنجائش نہیں بچی کہ جس کی بنیاد پر تمام مذاہب کو احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتااور صلح کل کی پالیسی اختیار کی جاتی۔ سلفی نظریہ کے حاملین صوفی بزرگوں کے پیروکاروں کو بت پرست یا کافروں جیسا ہی مشرک تصور کرتے ہیں۔ خالص اسلام کی ان کی تفہیم کے مطابق ایسے لوگ قتل کے مستحق ہیں۔ ابتداء سے ہی پاکستان کے ریاستی نظریے کے طور پر سلفی نظریہ کو قبول کرنا ہی ایک واحد وجہ ہے جس کی بنیاد پر ایک ایسا ماحول پیدا ہواکہ جس میں پاکستان بھر میں ایک بڑی تعداد میں صوفیاء کے مزارات پر اس طرح کا باقاعدہ قتل عام انجام دینا ممکن ہو سکا ہے۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے اور پاکستان کوئی پہلا ایسا ملک نہیں ہے جہاں وہابیت اس انداز میں پھیل رہی ہے۔ بلکہ ایک متحرک قوت کے طور پر پوری وہابیت کا قیام اور اس کی توسیع 19ویں صدی کے اوائل سے ہی مزارات کی بڑے پیمانے پر تباہی اور قتل و غارت گری پر مبنی ہے۔

وہابی بربریت کی ابتداء 1802 میں اس وقت ہوئی جب اخوان نامی 12،000 نجدی سلفی جنگجوؤں پر مشتمل ایک ایک فوج نے کربلا میں شیعوں کے مقدس مقامات پر حملہ کیااور اس شہر کے 4،000باشندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 1803 میں انہوں نےمکہ پر بھی حملہ کر دیا لیکن کربلا کے انجام سے واقف مکہ کے شہریوں نے سعودی وہابی حکومت کے سامنے اپنے گھٹنے ٹیک دیے۔اس کے بعد وہابی اخوان نے اولیاء، صوفیاء اور یہاں تک کہ نبیﷺ کے قریبی صحابہ کرام کی قبروں کو بھی منہدم کر دیا۔ مدینہ منورہ میں انہوں نہ صرف یہ کہ عام قبرستانوں کو تباہ کیا بلکہ خود حضرت محمدﷺ کی قبر مبارک پر بھی حملہ کیا۔اور اس کے بعد سے اسلام کی پر امن تاریخ غیر وہابی مسلمانوں کے قتل عام اور مقامات ِمقدسہ کی تباہی و بربادی کی ایک تاریخ بن کر رہ گئی ہے۔ اس وقت بہ جبر و اکراہ وہابیت کی ترویج واشاعت کا علم القائدہ، داعش، طالبان، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، الشباب اور بوکو حرام وغیرہ کے ہاتھوں میں ہے۔

سعودی عرب میں وہابی سلفی مسلک کے بانی محمد بن عبد الوہاب (1792-1703)، نے تمام عقلیت پسندوں اور صوفی مسلمانوں کو مشرک ٹھہراتے ہوئے "واجب القتل" قرار دیا۔کشف الشبہات کے اندر ایک طویل گفتگو میں انہوں نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کیسے تمام مسلمان ایک خدا پرایمان رکھنے کے اپنے دعویٰ کے باوجود مشرک ہیں جن کا خون اور جائداد وہابی مسلمانوں کے لیے حلال (مباح) ہے۔وہ اپنی گفتگو کے اختتام پرلکھتے ہیں: "۔۔۔ آپ اب اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان لوگوں (غیر وہابی مسلمانوں) کا توحید (خدا کی وحدانیت) کا اقرار کرنا انہیں مسلمان نہیں بنا تا؛ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے علاوہ کسی اور (صوفی بزرگوں) سے ان کا شفاعت کی امیدرکھنا انہیں اس بات کا مستحق بنا دیتا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے اور ان کی املاک لوٹ لی جائے۔ "----- کشف الشبہات،صفحہ 9، مکتبہ السلفیہ بالمدینہ منورہ ، 1969 عیسوی )

مذہب و مسلک کے اس موجودہ خونی تصادم کو سمجھنے کے لیے عبد الوہاب کی ایک اور مندرجہ ذیل عبارت کو سمجھنا از حد ضروری ہے :

 "مسلمان اگر چہ شرک سے گریز کریں اور توحید کا اقرار کریں لیکن ان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ قولاً اور فعلاً غیر مسلموں (جس میں ان کے مطابق تمام غیر وہابی مسلمان شامل ہیں) سے دشمنی اور نفرت کا اظہار نہ کریں۔ (مجموعۃ الرسائل و المسائل النجدیہ4/291)۔

اگر چہ عام طور پر جب اس طرح کے مظالم کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو ہندوستانی علماء خاموش ہی رہتے ہیں، لیکن اس مرتبہ چند لوگوں نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ مثال کے طور پر، اہل حدیث کے جنرل سکریٹری مولانا اصغر علی امام مہدی نے اس واقعہ کی پرزور مذمت کی ہے۔مولانا امام مہدی سلفی اور ان جیسے دیگر ہندوستانی علماء کی خامی یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے مخصوص واقعات کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن وہ ان وہابی سلفی نظریات کی مذمت نہیں کرتےجن کی در اصل وہ پیروی کرتے ہیں۔یہ خود ایک متضاد موقف ہے کہ آپ دہشت گردی کی تو مذمت کریں لیکن ان نظریات کی اتباع کریں جو دہشت گردی کا مصدر و منبع ہیں۔ محمد بن عبد الوہاب کے دورمیں - 1744 میں محمد بن سعود معاہدے سے لیکر سلفی وہابی اس مہلک نظریہ پر کاربند ہیں جس میں تمام غیر وہابی مسلمانوں کو مشرک اور واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔

 اگر اہل حدیث اور دوسرے سلفی مسلمان فرقہ وارانہ دہشت گردی کی مذمت میں مخلص ہیں توانہیں اس وہابی سلفی نظریہ کی بھی مذمت کرنے اور اسے ترک کرنے کی ضرورت ہے جو قتل، تباہی اور املاک کی لوٹ مار کی دعوت دیتا ہے۔انہیں صرف وہی کرنے کی ضرورت ہے جو عبد الوہاب کے والد اور بھائی نے کیا تھا۔در اصل عبد الوہاب کے بھائی شیخ سلیمان بن عبد الوہاب نے ان کے دلائل کی تردید میں ایک کتاب لکھی تھی۔ عبد الوہاب کو آزادانہ طور پر اپنے خیالات و نظریات کی ترویج و اشاعت کرنے کا موقع تب ہاتھ آیا جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا جو کہ اس علاقے کے قاضی تھے۔

اگرچہ صوفی مسلمان، عقلیت پسند مسلمان اور شیعہ وغیرہ سلفی وہابی دہشت گردی کا شکار ہو چکے ہیں لیکن یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط ہوگاکہ انتہا پسندی صرف وہابیوں تک ہی محدود ہے ۔ اسلام کی ایک انتہا پسند تفہیم پر تمام مکاتب فکر کے علماء کی اتفاق رائے قائم ہے۔ آپ ابن کثیر سے لیکر تفسیر جلالین تک اور اس کے بعد کے دور میں لکھی گئی مولانا مودودی کی تفسیر قرآن سمیت تفسیر کی کوئی بھی مشہور کتاب اٹھا کر دیکھ لیں، ان تمام میں یہی موجود ہے کہ امن اور تکثیریت پسندی، صبر اور استقامت کی اصل قرآنی تعلیمات پر مبنی ابتدائی مکی آیتیں بعد میں جنگی حالات میں نازل ہونے والی آیتوں کی وجہ سے منسوخ ہو چکی ہیں۔ جو کہ مکہ میں اس وقت نازل کی گئی تھیں جب اسلام کا وجود درحقیقت خطرے میں تھا اور دفاعی جنگ ناگزیر ہو چکی تھی۔ اور جمعہ کے خطبات کا بھی یہی حال ہے جو دنیا کے ہر خطے کے مساجد میں پڑھا جاتا ہے۔ مسلمان ہمیشہ کفار، مشرکین،غیر مومن، گمراہ اور بت پرستوں پر اپنی فتح و نصرت کے لئے دعا کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، آپ مسلمانوں کو غیر مسلم وں پر لعنت کرتے ہوئے اور ان کی شکست کے لئے خدا سے دعائیں کرتے ہوئے بھی پائیں گے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہابی سلفی اپنی لعنت اور بد دعاء میں صوفی نظریات کے حامل دیگر مسلمانوں کو بھی شامل کر لیتے ہیں اس لیے کہ ان کے لئے تمام غیر وہابی مسلمان کافر اور گمراہ ہیں، جن کی سزا صرف اور صرف فوری طور پر سر قلم کرنا ہے۔

کیا کوئی مسلم اکثریتی ملک کسی غیر مسلم اقلیت کو اس بات کی اجازت دے سکتا ہے کہ وہ ہر وقت ان پر لعنت کریں اور امن کے دور میں بھی جبکہ کوئی جنگ نہ لڑی جا رہی ہو، غیر مسلموں کے ہاتھ مسلمانوں کی شکست کے لیے دعا کرتے رہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم اکثریتی ممالک دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی عبادت گاہ بھی بنانے کی اجازت نہیں دیتے، اور جہاں اس کی اجازت دیتے ہیں وہاں ان پر طرح طرح کی پابندیاں بھی عائد کرتے ہیں۔ اور اس کی سب سے عجیب و غریب مثال ٹیکنالوجی کی دنیاں میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ملیشیاء میں عیسائیوں پر لفظ ‘‘اللہ’’ کے استعمال پر پابندی ہے۔

 بہت سے مسلمانوں کو یہ سب جان کر تعجب ہو گا اس لیے کہ وہ یہ نہیں جانتے کے جمعہ کے خطبات میں وہ عربی زبان میں کیا سن رہے ہیں ۔ اس لیے کہ اکثر مسلمان معنی کے ساتھ قرآن نہیں پڑھتے اور ان میں سے بھی ایسے لوگوں کی تعداد بہت قلیل ہے جو ان تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں جو مدارس میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد حالیہ دہائیوں میں سلفی وہابی علماء کی تفاسیر کے ساتھ ان تفسیروں کے خلط ملط کئےجانے کا بھی معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس کی ایک مثال مذہبی اور خاص طور پر تبلیغی جماعت کی ذہنیت کے حامل مسلمانوں کی جانب سے امام نووی کی ایک مشہور و معروف کتاب ریاض الصالحین کا ترجمہ ہے، جسے دارالسلام پبلشنگ ہاؤس، ریاض نے 1999 میں شائع کیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث سے انتہا پسندی، اجانب بیزاری اور عدم رواداری پر مبنی مواد کو منتخب کرنے کے لیے یہ کتاب ناکافی تھی اسی لیے انہوں نے جہاد پر اپنی کتاب میں مزید بنیاد پرست تشریح پیش کرنے کے لیے مختلف مقامات ہنرمندی کا بھی سہارا لیا ہے۔ مثال کے طور پر، جہاد کے عنوان پر 11075 الفاظ پر مشتمل ایک مکمل باب میں جہاد اکبر (عظیم جہاد)، یعنی خود اپنے نفس کے منفی یا برے دواعی و محرکات کے خلاف جدوجہد پر ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا ہے جس میں حدیث نبوی کا حوالہ پیش کیا گیا ہو۔ اس حدیث کو اکثر محدثین نےضعیف ہونے کی بنیاد پر عدم معتبر اور غیر مستند قرار دیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایسی حدیثیں صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں موجود ہیں جن میں اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ غیر مسلموں کے خلاف جدوجہد ابد الآباد تک جاری رہنی چاہیے اور بے گناہ شہریوں کے قتل کی بھی اجازت خود نبی صلی اللہ علیہ نے دی تھی۔ اور اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک غیر مسلم کے ساتھ ایک مسلمان کا تعلق صرف جنگ و جدال کا ہی مانا جاتا ہے۔

جبکہ وہابی سلفی تعلیمات کی روشنی میں ایک صوفی مسلمان کے ساتھ ایک وہابی کے تعلقات صرف تصادم اور نزاعات و اختلافات کے ہی ہوں گے۔ اسی لیے اس میں کوئی تعجب نہیں کہ ہمارے علماء اس وقت مکمل طور پر خاموش رہتے ہیں جب خلیفہ بغدادی اور ہندوستان میں اس کے پیروکار یوٹیوب پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ‘‘اسلام کبھی ایک دن کے لئے بھی امن کا مذہب نہیں رہا ہے، بلکہ یہ ہمیشہ جنگ و جدال اور ہنگامہ آرائی کا مذہب رہا ہے’’، جیسا کہ انہوں نے گزشتہ سال کیا تھا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آخر کار علماء کہہ ہی کیا سکتے ہیں، اس لیے کہ وہ یہی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہی تعلیم دیتے بھی ہیں۔

صوفی مسلمانوں کے ساتھ بہت سارے مسلمانوں کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کا ایسا کرنا بہتر ہو گا۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں جو کہ پیٹرو ڈالر کی دہائیاں رہی ہیں، خود تصوف پر وہابیت کا رنگ چڑھا دیا گیا ہے۔ وہابی تکفیری نظریہ امت کے تمام طبقوں میں سرایت کر چکا ہے۔ 4 جنوری 2011 کو پاکستانی پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا قتل اور لاکھوں مسلمانوں کا ایک بریلوی صوفی قاتل کو تعظیم و توقیر سے نوازنا اس رجحان کی ایک سب سےمضبوط مثال ہے۔

سلمان تاثیر کے ایک محافظ کو ایک مولوی نے کہا کہ پاکستان کے (سیاہ) توہین رسالت کے قوانین کی مخالفت کرنے اور ایک ایسی عیسائی خاتون کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے پر وہ مرتد ہو چکا ہے، جس پر توہین رسالت کا (جھوٹا) الزام ہے۔ جس سے متاثر ہو کر ممتاز قادری نے خود اپنے خدماتی ہتھیار سے گورنر سلمان تاثیر کا قتل کر دیا۔ وہ قاتل تو ایک ہی لمحے میں ایک ہیرو بن گیا، جبکہ اکثر علماء مقتول گورنر کے جنازے کی نماز پڑھانے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ جب اس قاتل کو عدالت میں لایا گیا تب قانون کی بالادستی کے لئے کام کرنے والے نام نہاد تعلیم یافتہ پاکستانی ہائی کورٹ کے وکلاء نے اس پر گلاب کی پنکھڑیاں نچھاور کیں۔ قاتل کیس کے حقائق کا سامنا نہ کر سکا جس کے بعد عدالت نے اسے مجرم پاکر سزائے موت سنادی۔ جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔ لیکن ساتھ ساتھ حکومت کو اس کے نام پر ایک مزار تعمیر کرنے کی اجازت بھی دینی پڑی۔ اور اسے اب ایک صوفی مان لیا گیا ہے۔ اب لاکھوں لوگ اس کے مزار پر حاضری دیتے ہیں اور اپنی مرادوں کو پوری کرنے کے لیے خدا کی بارگاہ میں اس کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔

اگر یہی جناح کا سیکولر اور جمہوری پاکستان کا نظریہ ہے تو یہ انتہائی مہلک ہے، گو کہ، اس ریاست پاکستان کے ساتھ اس کی کوئی بھی مناسبت نہیں تھی جس نے معروضی قرارداد کو اتنی سرعت کے ساتھ قبول کر لیا تھا۔ قاتل پر گلاب کی پنکھڑیاں نچھاور کرنے والے یہی وکلاء جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف جنگ میں بھی پیش پیش تھے اور آخر کار انہوں نے پرویز مشرف کو اقتدار کی کرسی سے نیچے گرا ہی دیا تھا۔ لیکن پاکستان کے اس اصول کو، یا جو اس میں سے باقی رہ گیا ہے، اسے نظریہ پاکستان نے بار بار ناکام کیا ہے۔

تاہم سلفی بنام صوفی خانہ جنگی صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمان ایک عالمی برادری ہیں۔ اب لوگ ہر جگہ اس کشمکش کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اور اس سے ہندوستان بھی محفوظ نہیں ہے۔ ہمیں پہلے سے ہی انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے اس لیے کہ بنیاد پرستی کی اشاعت کے اثار یہاں بھی نمایاں ہیں۔ یہاں تک کہ چند مسلم نوجوان، جو اچھی طرح تعلیم یافتہ ہیں، متمول ہیں، اچھے روزگار کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور جو اچھی طرح اپنی زندگی آباد کیے ہوئے ہیں وہ بھی نام نہاد اسلامی ریاست کے لئے لڑنے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ رہے ہیں، اور صرف یہی بات ہماری تشویش کے لیے کافی ہونی چاہئے۔ لیکن سب سے بڑی فکر کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر ہندوستانی مسلمان اس تعلق سے فکر مند ہی نہیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں جو کچھ بھی منفی باتیں رونماں ہوتی ہیں ان کا الزام صیہونیت اور اسلام فوبیا پر ڈال کر ان تشویشناک حالات سے غافل ہو کر ہم خوش ہیں۔ اگر ہم اس باہمی مربوط دنیا میں ایک پر امن زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں فوراً اپنا نظریہ تبدیل کرنا ہوگا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-founding-editor,-new-age-islam/deepening-signs-of-a-civil-war-in-islam--massacres-of-sufis-in-pakistan-in-the-name-of-pure-islam-reveals-a-worsening-global-crisis/d/110239

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/deepening-signs-of-a-civil-war-in-islam--اسلام-میں-خانہ-جنگی-کی-گہری-علامتیں--خالص-اسلام-کے-نام-پر-پاکستان-میں-صوفی-مسلمانوں-کا-قتل-عام-عالمی-بحران-کا-پیش-خیمہ/d/110262

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content