New Age Islam
Tue Jun 09 2026, 08:21 AM

Urdu Section ( 1 May 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Destruction of Islamic Cultural Heritage مسلمان اسلام کی روحانی اقدار کی بازیافت کریں، جینیوا میں اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کونسل کے 22 ویں اجلاس کے دوران عوامی مکالمے سے سلطان شاہین کا خطاب

سلطان شاہین، نیو ایج اسلام

15 مارچ، 2013  جینیوا

جدید دور میں ثقافتی ورثے کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کا حق آفاقی اور ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے  کچھ تیرہ دست قوتیں جو میرے مذہب اسلام میں یقین رکھنے کا دعوٰ ی کرتی ہیں در اصل ثقا فتی ورثے کی دشمن ہیں۔سعودی، وہابی سلفی مکتب اسلام میں تربیت یافتہ افغا نستان کے طالبان اور افریقہ کے بوکو حرام نے افریقہ کے کچھ حصوں میں بیش قیمت اسلامی ورثے اور افغا نستان میں بودھ وراثت کو تباہ کردیا ہے۔  مغربی افریقہ کے موجودہ  جمہوریہ مالی کا داستانوی شہر ٹمبکٹو جوصحرا کا زیور کہلا تا ہے، 333 صوفیوں  کئ وجہ سے مشہور تھا۔  میں یہاں موجود باخبر سامعین کے سامنے اس شہر کی تباہی کی داستان دہرانے کی ضرورت نہیں سمجھتا جو انہی تیرہ دست طاقتوں کے ہاتھوں ہوئی ہے جنہوں نے بامیان بدھا کو منہدم کیا، اگرچہ یہ لوگ دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف نا موں سے جا نے جاتے ہیں۔

ان قوتوں کو حوصلہ افزائی سعودی عرب سے ملتی ہے جو فی الحال مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی توسیع کے نام پر عالی شان سات ستارہ ہوٹلوں کی تعمیر کے لئے قدیم مسلم ورثے کو تباہ کرنے میں مصروف ہے۔ پیغمبر اسلام کا روضہ مبارک جوجاہل نجدی بدوؤں کے صدیوں میں ترقی یافتہ حجاز کے آفاقی سماج پرقبضے کے وقت سے ہی نشانے پر تھا ایک بار پھرسعودی حکومت کے نشانے پر ہے۔ نجدیوں نے 1806 ہی سے قدیم عمارتوں کو ڈھانا شروع کردیا جب مدینہ پر سب سے پہلی سعودی حکومت کی وہابی فوج نے قبضہ کیا۔ ان کا پہلا نشانہ جنت البقیع قبرستان تھا۔ یہ پیغمبر اسلام کے مسجد سے ملحق وسیع قبرستان تھا۔ یہاں اہل بیت اور صحابہ کرام کی باقیا ت محفوظ ہیں جنہوں نے  ابتدائی سخت ترین دور میں اسلام کی بقا کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کیاتھا۔ ترکی کی خلافت عثمانیہ نے ان روضوں پرخوبصورت  مزارات  تعمیر کئے تھے۔ موجودہ دور کی طرح اس زمانے میں بھی ترکوں کا میلان تصوف کی طرف تھا۔ یہ انکے نزیک کفر تھا کیونکہ یہ لوگ ابن تیمیہ اور محمد ابن عبدالوہاب کے  انتہائی تنگ نظر خیالات سے متا ثر تھے۔ نہ صرف یہ کہ جنت البقیع کی قبروں کو برابر کردیا گیا بلکہ تمام شہر میں موجود  وراثتی مساجد کو بھی نشانہ بنایاگیا۔ جب ان وہابی  گرگوں نے پیغمبر اسلام کے روضہ مبارک کو ڈھا دینے کی کوشش کی تو  عالمی مسلم برادری کی طرف سے زبردست احتجاج کی وجہ سے ان کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

ترکوں نے 1811 اور 1818 کے درمیان لڑی گئی جنگوں میں ان سعودی وہابیوں کو شکست دی اور اس کے بعد 1848 اور 1860 کے درمیان بہترین کاریگروں  کی مدد سے ان  مقدس مقامت کی دوبارہ تعمیر کروائی۔ مگر تقریباً نصف صدی کے بعد ہی  ایک بار پھر ان نجدی وہابیوں نے اس خطے میں اپنی اجارہ داری قائم کرلی او ر اسلام سے وابستہ تمام ثقافتی ورثے کو منہدم کرنا شروع کردیا۔ 21 اپریل 1925 کو  مدینہ  میں جنت البقیع کی قبروں  اور گنبدوں کو دوبارہ منہدم کردیاگیا۔ تب سے اب تک 300 سے زیادہ اسلامی عمارتوٓں کو تباہ کردیاگیا ہے اور انکی جگہ بیت الخلاء، سڑکیں اور عالیشان ہوٹل تعمیرکر دئیے گئے ہیں۔

جیسا کہ 6 اگست 2005 کو دی انڈپنڈنٹ میں صحافی ڈینئیل ہاؤڈن نے لکھا تھا ‘‘ اسلام کا گہوارہ، تاریخی شہر مکہ مذہبی جنونیوں کے غیر متوقع حملوں کے نیچے دفن ہورہاہے۔ اس مقدس شہرکی کثیر سطحی تاریخ   تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ واشنگٹن میں واقع گلف انسٹی ٹیوٹ  کا قیاس ہے کہ ہزار برس قدیم عمارتیں گذشتہ دو دہائیوں میں تباہ کی جا چکی ہیں۔ اب پیغمبر اسلام کی حقیقی جائے پیدائش سعودی حکام کی ملی بھگت سے  بلڈوزروں کے نشانے پر ہے کیونکہ ان کی اسلام کی کٹر تعبیر انہیں اپنی ہی وراثت کو تباہ کرنے پر مجبور کررہی ہے۔’’

وہ مزید لکھتے ہیں۔‘‘ اسی تیل کی دولت سے مالا مال سخت گیر طبقے نے طالبان کو دولت مہیا کرکے قوت دی جنہوں نے 2000 میں بامیان بدھا کو دھماکوں سے اڑادیا۔ اور اسی نظرئیے  نےجو ہر قسم کی بت پرستی کی مخالف ہے اسی ہفتے یہ فیصلہ صادر کیا کہ سعودیوں کے بادشاہ کو بھی ریگستان کے گمنام  قبر میں دفنایا جائے۔

ایک سعودی ماہر تعمیرات  سمیع انگاوی نے  جو اس خطے کی اسلامی تعمیرات کے ماہر ہیں انڈپنڈنٹ کو بتایا کہ مکہ کا حتمی وداع قریب تر ہے۔ ہم مکہ اور مدینہ کے آخری ایام گن رہے ہیں۔’’

‘‘ڈاکٹر انگاوی کے مطابق  جنہوں نے اسلام کے دو مقدس شہروں  کے تحفظ کے لئے اپنی زندگی وقف کردی ہے، زیادہ سے زیادہ ایسے 20 مقامات   بچ گئے ہیں جو  1400 سال پہلے پیغمبر اسلام کی زندگی سے  تعلق رکھتے ہیں اور اب وہ بھی کسی بھی وقت ڈھادیے جاسکتے ہیں۔ یہ مکہ اور مدینہ کی تاریخ   اور انکے مستقبل کا  اختتام  ہے۔’’ ڈاکٹر انگاوی نے کہا۔’’ان سب کی تہ میں وہابیت ہے۔ بت پرستی کے متعلق  اور پیغمبر اسلام سے وابستہ ہر چیز سے متعلق

ان میں ایک کمپلکس ہے۔’’

پہلے کی طرح اس بار بھی ، پیغمبر اسلام کے روضے کو درپیش خطرے نے امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔حال ہی میں ہندوستان کے صوفی علماء اور مشائخ نے سعودی عربیہ میں اسلام کے مقامات مقدسہ کے انہدام کے خلاف احتجاج کیا ہے۔انہوں نے ہزاروں  ہندوستانی مسلمانون کے اضطراب کی ترجمانی کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں سعودی سفارت کار اور  آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن  کو خط لکھا ہے۔

افریقہ کے کچھ حصوں میں اسی قسم کی بیداری  دیکھی جا سکتی ہے۔ ساحل علما کی لیگ جو الجزائر اور دیگر افریقی ممالک کے شیوخ، موریتانیہ کی وزارت برائے مذہبی امور کے  کے علما  اور مالی کی صوفی تحریک کے نمائندوں  پر مشتمل ہے نے نام نہاد جہاد  کا دعوی کرنے والی جماعتوں کے ذریعہ فروغ  دی گئی انتہا پسندی اور مبالغہ سے مقابلے کے لئے  اقدامات کرنے  کا اعلان کیا ہے۔

تیونس کی حکومت نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ ‘‘ہمارے علم میں جب یہ بات آئی کہ چند مذہبی نتظیموں کے ذریعہ ان تاریخی علامتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا منصوبہ ہے تو ان مقامات مقدسہ  کی حفاظت  ایک ہنگامی مسئلہ بن گیا۔’’

اس انہدامی سلسلے کی فلسفیانہ   بنیادوں کی وضاحت کر تے ہوئے  جدید مفکر ضیاءالدین سردار لکھتے ہیں،‘‘۔۔ جدید وہابیت میں صرف جا مد  حال ہے۔نہ حقیقی ماضی ہے اور نہ کسی متبادل کا اور نہ مختلف مستقبل کا حقیقی تصور ہے۔ان کا ابدی حال  ان کے ماضی کے  علم الوجود ی عکس بلکہ اسلامی تاریخ کے  ایک مخصوص ساختہ دور یعنی ، پیغمبر اسلام کے دور  میں موجود رہتاہے۔ مسلم تہذیب  کی ثقافت یا  تاریخ اپنی تمام تر عظمت، پیچیدگیوں اور تکثیریت کے ساتھ ان کے لئے غیر اہم اور غیر معنوٰ ی ہے۔ بلکہ بدعت اور گمراہی  قرار دیکر رد کر دی جاتی ہے۔ اسلئے یہ بات باعث حیرت نہیں ہے کہ  سعودی اس ثقافتی سرمائے اور مکہ کے مقدس محل وقوع کے لئے کوئی  جذبہ یا احساس نہیں رکھتے۔’’

وہ مزید لکھتے ہیں:‘‘وہابیت نے عا لمی  سطح           پر اور لمبے عرصے  پر محیط اسلامی تاریخ کے تنوع اور پیچیدگی کا شدت سے  انکار  کرکے اور اسلام کی  متنوع اور تکثیری تعبیر کو رد کرکے  اس مذہبب کو تمام اخلاقی اور تہذیبی  سرمائے سے محروم اور اسے محض   اوامر اور نواہی کی ایک خشک فہرست  میں محدود کر دیا ہے۔  اس بات پر اصرار کرنا کہ مآخذ کے لفظی قرات  میں جس بات کا ذکرنہ ہو  یا ابتدائی مسلمانوں کی روایات میں جو بات موجود نہ ہووہ کفر ہے  اور خارج  از اسلام ہے اور  اس  جامع نظریہ کو بزور بازو یا سماجی دباؤ کی مدد سے نافذ کرنا اور عوام کو اس کی پیروی کے لئے مجبور کرنا مطلق العنانیت کو راہ دیتا ہے۔’’

اب یہ ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے  اٹھ کھڑے ہونے اور اسلامی فاشسٹوں کے چنگل سے اسلام کی روحانی اقدار کی بازیافت  کی ضرورت کو محسوس کیا ہے۔ لیکن  پٹروڈالر کی بہتات سے تقویت یافتہ اس  فاشسٹ نظریئے نے پوری دنیا میں اتنے حامی پیدا کرلئے ہیں کہ عام مسلمان ان کا مقابلہ کرنا دشوار  محسوس کررہے ہیں۔ چند  آوازوں کو چھوڑ کردہشت گردی اور بیش قیمت اسلامی وراثت کی تباہی پر مسلمانوں کی خاموشی  معنی خیز ہے۔

یوروپ یا شمالی امریکہ میں کسی مسجد  کے انہدام کا تصور کیجئے۔ ہم مسلمان پوری دنیا میں اپنی  چیخ و پکار سے آسمان سر پر اٹھا لینگے۔ یہی فاشسٹ قوتیں جو اسلام کی تاریخی حیثیت کو مٹانے پر تلی ہیں شور مچانے لگیں گی اور بلا شبہ دنیا کے کچھ حصوں میں  تشدد بھی پھوٹ پڑے گا۔ مسلمان مذہب کے معاملے میں بہت حساس سمجھے جاتے ہیں۔مگر حیرت کی بات ہے کہ جب  مسلم وراثتی مقامات، درگاہ اور خوبصورت   مقبرے اور مساجد  انتہا پسند مسلمانوں کے ذریعے تباہ کر دئیے جاتے ہیں تو ان کی یہ حساسیت کہاں چلی جا تی ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ  مسلمان اپنے ضمیر کو ٹٹولیں اور جس چیز میں ایمان رکھتے ہیں اس کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ ان تیرہ دست قوتو ں کے چنگل سے اسلام کو آزاد کرانا ہوگا جو  اسلام کے حسن کے لئے خطرہ بنےہوئے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھی ثقافتی ورثے کی حفاظت کے لئے مؤثر اقدامات کرے۔ کیا  آرگنا زیشن آف اسلامک کوآپریشن اپنے ضمیر کو ٹٹولے گا اور  صوفی علما اور مشائخ بورڈ کے مطالبے  پر عملدرآمد کو ممکن خیال کرے گا؟

URL for English article

https://newageislam.com/the-war-within-islam/destruction-of-islamic-cultural-heritage--muslims-must-reclaim-the-spiritual-values-of-islam,-sultan-shahin-tells-a-public-dialogue-during-un-human-rights-council’s-22nd-session-at-geneva/d/11347

URL for this article

https://newageislam.com/urdu-section/destruction-islamic-cultural-heritage-/d/11365

 

Loading..

Loading..