certifired_img

Books and Documents

Urdu Section (04 Jan 2019 NewAgeIslam.Com)


Early History of Islam Needs Fresh Appraisal — VIII قرآنی تعلیمات کا نچوڑٖ ترجموں میں کھوگیا


ایم عامر سرفراز

4 دسمبر، 2018

قرآن اکثر اپنی آیتوں میں (صلوٰۃ، زکوٰۃ، ملائکہ، جنۃ اور دین ) جیسے کلیدی الفاظ کا استعمال ایک اہم پیغام دینے کے لئے کرتا ہے۔ اگر ان الفاظ کے مستند معانی آزادانہ طور پر تلاش کر لئے جائیں تو ہمیں قرآن مجید کی آیتوں کے اصل معانی کو سمجھنے کے لئے احادیث یا شان نزول پر منحصر ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ لیکن اگر یہ الفاظ عربی میں ہوں (جو کہ ہیں) تو کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر کوئی عربی زبان سمجھتا ہے اور /یا اسے سمجھنے کے لئے کسی مستند عربی لغت کا استعمال کرتا ہے تو اس میں خرابی ہی کیا ہے۔ علامہ اقبال یہ اجاگر کر چکے ہیں کہ یہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے!

شاید قرآن عربی نثر کی پہلی کتاب تھی، اگر چہ اس کا انداز شاعرانہ ہے۔ یہ کتاب پندرہ صدی قبل پیدائشی عربیوں کی زبان میں خالص عربی میں نازل ہوئی ہے۔ عربی دنیا کی سب سے وسیع زبان مانی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اس زبان میں تلوار کے لئے 1000 الفاظ ہیں، 500 الفاظ شیر کیلئے ہیں اور 5744 اونٹ کے لئے۔ لہذا، اس بات کا پتہ لگانا اتنا آسان نہیں ہے کہ قرآن نے کس طرح اپنے عالمی پیغام اور فلسفہ کے مطابق کسی مخصوص کلیدی لفظ کا استعمال کیا ہے۔ ہمارے روایتی نقطہ نظر کسی کام کے نہیں۔ مثال کے طور پر تین معروف ترجمہ نگار (شاہ عبدالقادر ، مولانا          محمود الحسن اور شبیر احمد عثمانی) نے آیت 2:102 کا ترجمہ اس طرح کیا ہے گویا یہ آیت دو فرشتوں پر نازل ہوئی ہولیکن ابو الکلام آزاد نے اپنے ترجمہ میں اس بات کا رد کیا ہے کہ یہ آیت دو فرشتوں کی طرف نازل ہوئی ہے۔

میں ایسی کئی مثالیں پیش کر سکتا ہوں جن میں الفاظ کی کمی یا نظریاتی فقدان کی وجہ سے قرآنی پیغامات کے معانی 'ترجموں میں گم ہو گئے ' ہیں۔ مثال کے طور پر، قرآن کائنات کی تخلیقی مراحل کے بارے میں تین الفاظ (خلق، فطر، بدع) کا استعمال کرتا ہے ، جبکہ انگریزی زبان میں اس کے لئے صرف ایک ہی لفظ (creation) ہے۔ آیت نمبر 2:153 کا عام طور پر ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ 'بے شک، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔' تاہم، لفظ صبر کا جو مادہ ہے اس کا معنی ثابت قدم اور مستقیم ہے۔ جو بادل اپنی جگہ جما ہوا ہو عرب اسے الصبر کہتے ہیں، اور جانوروں کا جو ریوڑ صبح چراہ گاہ چرنے کے لئے جاتا ہے اور پھر شام کو صحیح سلامت اپنی جگہ واپس آ جاتا ہے اسے الصابرین کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب قدیم عرب لفظ صبر بولتے تھے تو اس سے 'ثابت قدم'، 'پرعزم'، 'پختہ' اور 'غیر متزلزل' مراد لیتے تھے؛ اور یہ اس سے یکسر مختلف ہے جو ہم اور ہمارے مترجمین اردو میں یا جدید عرب سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد صبر کرنا ہے۔ کافی دکھ کی بات ہے کہ اس ترجمہ اور تفہیم نے کس طرح قرآن میں پیش کردہ ایک عظیم اصول کو مسخ کر دیا۔

خود عربی زبان کا حال یہ ہے کہ یہ صدیوں میں ایک زبان کی حیثیت ارتقاء پذیر تو ہوئی ہی ساتھ ہی ساتھ اس میں عجمی زبان کے اثرات بھی نمایاں طور پر جگہ پا گئے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا اس میں مجوسی تصورات درآئے اور قرآن کے کلیدی الفاظ کی تشریح میں ان کا غلط استعمال بھی کیا گیا جس کی وجہ سے اس کے معنی و مفہوم میں تبدیلی پیدا ہو گئی۔ اس چال کا سہارا اس لئے لیا گیا کیونکہ اللہ نے خود (حفاظ اور قرآن کے محفوظ نسخوں کے ذریعے) قرآنی الفاظ کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے - لہذا الفاظ تو اسی طرح برقرار رہے لیکن ان کے معانی و مفاہیم میں فساد پید ا کر دیا گیا۔

شاید قرآن عربی نثر کی پہلی کتاب تھی، اگر چہ اس کا انداز شاعرانہ ہے۔ یہ کتاب پندرہ صدی قبل پیدائشی عربیوں کی زبان میں خالص عربی میں نازل ہوئی ہے۔ عربی دنیا کی سب سے وسیع زبان مانی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، اس زبان میں تلوار کے لئے 1000 الفاظ ہیں، 500 الفاظ شیر کیلئے ہیں اور 5744 اونٹ کے لئے۔ لہذا، اس بات کا پتہ لگانا اتنا آسان نہیں ہے کہ قرآن نے کس طرح اپنے عالمی پیغام اور فلسفہ کے مطابق کسی مخصوص کلیدی لفظ کا استعمال کیا ہے۔

قبل از اسلام عرب شاعری کے دلدادہ تھے۔ چونکہ ان میں تحریری مہارتیں نادر تھیں اور کتابوں کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا، لہٰذا ان کی شاعری ایک نسل سے دوسری نسل تک غیر معمولی قوت حافظہ کی بنیاد پر منتقل ہوئی۔ مجموعہ احادیث جمع کرنے کے ساتھ ساتھ عباسیوں نے قدیم عربی شاعری کو جمع کرنے کی بھی 'غلطی' کی۔ یہ ان کے لیے ایک نعمت تھی کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے ہی شاعری محفوظ تھی۔ جس کی بنیاد پر یہ جاننا ممکن ہو گیا کہ اس زمانے کے عرب کس طرح مخصوص الفاظ کا استعمال کرتے تھے۔ چونکہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا تھا۔ اسی لئے قرآن میں وہ (کلیدی) الفاظ بھی اسی طرح استعمال کئے گئے تھے جس طرح تھے ان کا استعمال اس دور کی شاعری میں کیا گیا تھا۔ اس وجہ سے مجوسی تصورات کے در آنے یا دیگر سازشیوں کے لئے ان کلید الفاظ کو تبدیل کرنے یا ان کی غلط ترجمانی کرنے کا کوئی موقع نہیں ملا جو قرآن میں بار بار وارد ہوئے ہیں۔ خوش قسمتی سے قرآن کے لئے عربی زبان کا انتخاب اس لئے بھی کیا گیا کیوں کہ اس زبان میں ہر لفظ کا (عام طور پر تین حروف) پر مشتمل ایک مادہ ہوتا ہے اور ایک مرتبہ جب کسی کلیدی لفظ کا تعین ہو جائے تو پھر اس کے معنی سے انحراف کرنا ناممکن ہے۔

خود اقبال کے پاس اتنا وقت یا اتنی توانائی تو نہیں تھی لیکن ان کی ایک دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کے کلیدی الفاظ کی ایک لغت تیار کی جائے ہے جس میں مستند عربی لغات کے حوالے سے نزول قرآن کے زمانے کی عربی شاعری کے الفاظ ، مفردار اور اصطلاحات کی پوری وضاحت پیش کی گئی ہو۔ ایک بار جب یہ کام ہو جائے تو آیات قرآنیہ کے وہ اصل معانی جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں سمجھے گئے تھے ، احادیث یا شان نزول پر انحصار کئے بغیر ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔ اقبال کے نظریہ میں وہ طاقت تھی جو قرآن اور اسلام کے پیغام، روایات اور روح کو تبدیل کر دے اور مسلمانوں کو ان کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہمکنار کر دے جن کا وعدہ قرآن میں کیا گیا ہے۔ اس سے مسلمانوں کی ابتدائی تاریخ پر مبنی مسلمانوں کے درمیان تاریخی فقہی تنازعات کا بھی خاتمہ ہو سکتا ہے۔

اقبال نے اس عظیم کام کو آگے بڑھانے کے لئے علی گڑھ یونیورسٹی میں عربی زبان اور اسلامی تاریخ کے پروفیسر علامہ اسلم جئے راجپوری سے رابطہ کیا۔ لیکن وہ ریٹائر ہونے والے تھے  اور اپنا مدرسہ شروع کرنے کے لئے دہلی منتقل ہونے جا رہے تھے۔ کچھ سوچ بچار کے بعد علامہ جئے راجپوری اس عظیم منصوبے کا بوجھ اٹھانے کے لئے راضی ہو گئے۔

اقبال قرآنی زبان کی لغت تیار کرنے کے لئے جئے راجپوری کو مامور کر کے خوش تھے، لیکن ان کا خیال تھا کہ جب وہ تیار ہو جائے تو روایتی اسلامی تعلیم سے مزین (لیکن ترقی پسند فکر رکھنے والے) نوجوان افراد کی ضرورت ہو گی۔

ماخذ:

dailytimes.com.pk/329449/early-history-of-islam-needs-fresh-appraisal-viii/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-history/m-aamer-sarfraz/essence-of-the-quranic-message-is-‘lost-in-translation’--early-history-of-islam-needs-fresh-appraisal-—-viii/d/117102

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/m-aamer-sarfraz,-tr-new-age-islam/early-history-of-islam-needs-fresh-appraisal-—-viii--قرآنی-تعلیمات-کا-نچوڑٖ-ترجموں-میں-کھوگیا/d/117356

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Women in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Women In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism





TOTAL COMMENTS:-    


Compose Your Comments here:
Name
Email (Not to be published)
Comments
Fill the text
 
Disclaimer: The opinions expressed in the articles and comments are the opinions of the authors and do not necessarily reflect that of NewAgeIslam.com.

Content